شیعوں کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام کی گستاخی (اہل تشیع کی صحیح روایت)

 رافضیوں کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کافر ھیں ,, العیاذ بااللہ (باب) * (في أصول الكفر وأركانه)  1 – الحسين بن محمد، عن أحمد بن إسحاق، عن بكر بن محمد، عن أبي بصير قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): أصول الكفر ثلاثة: الحرص، والاستكبار، والحسد، فأما الحرص فان آدم (عليه السلام) حين نهي عن الشجرة، حمله الحرص على أن أكل منها وأما الاستكبار فإبليس حيث أمر بالسجود لآدم مزید پڑھیں

شیعہ محدث علامہ مجلسی کے مطابق انبیاء اور رسولوں میں فرق کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بس یہی فرق سمجھ آتا ہے کہ امام کو نبی نہیں کہا جاتا!! (بحار الانوار علامہ باقر مجلسی)

شیعہ محدث علامہ مجلسی کے مطابق انبیاء اور رسولوں میں فرق کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بس یہی فرق سمجھ آتا ہے کہ امام کو نبی نہیں کہا جاتا!! (بحار الانوار علامہ باقر مجلسی)

شیعہ کے نزدیک امامت وہ منصب ہے جو نبوت کی طرح پروردگار عالم کی جانب سے ہدایت خلق کے لئے عطا ہوتا ہے! معاذاللہ (اصل و اصول شیعہ شیخ محمد حسین کاشف ترجمہ علامہ سید ابن حسن نجفی)

شیعہ کے نزدیک امامت وہ منصب ہے جو نبوت کی طرح پروردگار عالم کی جانب سے ہدایت خلق کے لئے عطا ہوتا ہے! معاذاللہ (اصل و اصول شیعہ شیخ محمد حسین کاشف ترجمہ علامہ سید ابن حسن نجفی)

امام مثل پیغمبر کی طرح ابتدائے عمر سے آخر تک تمام صغییرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک و معصوم ہوتا ہے! (حق الیقین علامہ باور مجلسی)

اہل تشیع امامیہ کے ہاں اجماع ہے کہ امام بھی مثل پیغمبر کی طرح ابتدائے عمر سے آخر تک (پیدائشی، وھبی) (حق الیقین علامہ باور مجلسی)تمام صغییرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک و معصوم ہوتا ہے! اس موضوع پر احادیث متواترہ ہیں۔