حضرت عثمان میدان جنگ سے بھاگے تین دن کے بعد واپس آئے۔ (تاریخ طبری)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر۔1

🔺شیعہ الزام👇👇

🔸(١)حضرت عثمان میدان جنگ سے بھاگے تین دن کے بعد واپس آئے۔ (تاریخ طبری)
🔸(٢)حضرت عمر و عثمان دونوں میدان جنگ سے بھاگ گئے۔ (تفسیر کبیر)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

مذکورہ دونوں کتابوں کی روایات کی تاریخی اقوال ہیں نہ یہ حدیث ہیں اور نہ ہی قرآن پاک کی کسی آیت کا ترجمہ اور یہ بات دنیا کے ہر مکتب فکر میں مسلم ہے کہ روایت کو قبول کرنے یا رد کرنے کا ہر مکتب فکر کے نزدیک کوئی نہ کوئی معیار ضرور ہوتا ہے ورنہ تو کوئی مکتب فکر اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکے گا چنانچہ کسی بھی روایت کو قبول کرنے کا معیار ہمارے ہاں یہ ہے کہ اگر وہ روایت کتاب اللہ یا سنت مشہورہ کے موافق ہے تو مقبول ہوگی ورنہ اس روایت کی تاویل و تطبیق یا موافقت کی کوئی صورت نکالی جائے گی اگر تطبیق و تاویل اور موافقت کی کوئی صورت نہ نکل سکے تو ایسی روایت مردود نا قابل تسلیم اور واجب الرد ہوگی چنانچہ یہ مسئلہ اصول حدیث پاک سے ثابت ہے۔
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله وسلم أنه قال سيأتيكم عني احاديثاً مختلفة فما جا کم موافقاء لكتاب الله و سنتی فهو مني و ما جاء کم مخالفاً لكتاب الله و سنتی فليس مني
👈 «الکفایہ في علم الرولیتہ ٤٣٠ للخطیب بغدادی) حاصل روایت یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس میری طرف منسوب شده مختلف قسم کی روایات پہنچیں گی پس جو (روایت) کتاب اللہ اور میری سنت مشہورہ) کے مطابق ہو تو وہ میری ہی) احادیث ہوں گی اور جو کتاب اللہ اور میری سنت (مشہورہ) کے خلاف ہوں تو وہ میری احادیث نہ ہوں گی۔

🔸(٢) درس نظامی کے نصاب تعلیم میں شامل اصول فقہ کی مشہور و معروف کتاب توضیح تلویح کی بحث سنہ فصل في الانقطاع میں حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: (اختصار کے پیش نظر صرف ترجمہ لکھا جاتا ہے کہ اس حدیث (تکثیر الأحاديث لكم بعدی“ کہ میرے بعد کثیر تعداد میں احادیث تمہارے سامنے لائی جائیں گی) نے بتا دیا کہ جس روایت میں کتاب اللہ کے خلاف مضمون وارد ہے وہ فرمان نبوی نہیں بلکہ خود ساختہ اور مصنوعی چیز ہے (توضیح تلویح بحث السنہ ) اصول فقہ کی درسی وغیرہ درسی کتابوں میں روایت کے معیار رد و قبول کو بیان کرتے ہوئے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ اگر وہ روایت کتاب اللہ کے خلاف ہو تو مردود ہے۔

مذکورہ روایت کی پوزیشن

🔸(١) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکورہ تاریخی روایت محض’’قال ابوجعفر ہے نہ یہ کسی صحابی کا ارشاد ہے اور نہ ہی فرمان رسول ہے

🔸(٢) تفسیر کبیر کے عکسی صفحہ کی پہلی سطر میں محمد ابن اسحاق کا قول موجود ہے جس میں انہوں نے صحابہ کرام کو احد کی جنگ میں تین حصوں میں تقسیم کیا
🔸(الف) میدان جنگ میں شہید یا زخمی ہوئے
🔸(ب) میدان جنگ میں ثابت قدم رہے
🔸(ج) پسپائی اختیار کی۔

ان تینوں اقسام کیلئے ابن اسحاق کا لفظ ثلہثم ہے یعنی ایک ثلث تیسرا حصہ۔
ملاحظہ فرمائیں ثابت قدم رہنے والے ثلث میں تمام اکابر صحابہ ہیں تو لا محالہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ضرور ہوں گے کہ ان کا شمار اجل صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔
🔸(٣) بالفرض اس “قال ابوجعفر‘‘ کو مان لیں تو بھی یہ روایت کسی کام کی نہیں کہ جس سے حضرت عثمان وغیر ہم صحابه کرام پر طعن کیا جائے کہ یہ روایت سراسر قرآن مجید کے خلاف ہے ملاحظہ ہو۔ قرآن پاک نے جہاں اس واقعہ احد کو بیان فرمایا وہاں اس قسم کی کھسی پٹی روایات کا ناس کرتے ہوئے اور روندتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا ولقد عفاءالله عنهم إن الله غفور حلیم
(ال عمران آیت نمبر ٥٥)

اور تحقیق اللہ تعالی نے انہیں معاف فرما دیا اور بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا بردبار ہے اس ارشاد ربانی کے بعد مذکورہ روایت کی حیثیت ردی کی ٹوکری میں پڑے اس انگریزی لکھے کاغذ جتنی بھی نہیں رہتی جو ایک آنا کا بھی نہ ہو۔
اس لئے کہ ممکن ہے اے، بی، سی یاد کرنے والا بچہ انگریزی لکھے ان ردی کاغذ سے کچھ نفع پالے مگر مذکورہ روایت سے کچھ نفع تو کیا الٹا اپنے ایمان کی بربادی کا خطرہ ہے۔

🔸(٢)اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مذکورہ عمل واقعی معرض وجود میں آیا ہوتا اور قابل گرفت صورت حال پیدا ہوتی تو ضرور غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے کعب بن مالک، بلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع کی طرح ان کو بھی تنبیہ کی جاتی مگر ذخیرہ احادیث میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تنبہ فرمانے کا کوئی ایک لفظ بھی موجود نہیں جس میں سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو جنگ سے بھاگنے پر ملامت کیا گیا ہو۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مذکورہ واقعہ بس ہوائی کہانی ہے۔