شیعہ سنی مناظرہ *تحریف قرآن*‌ علی معاویہ/علی عریش

شیعہ سنی مناظرہ
*تحریف قرآن*

ہفتہ بتاریخ 13 جولائی 2019
گروپ: ” *تحفظ عقائد تشیع* ”
🔶 *شیعہ مناظر* :جناب علی عریش قمی صاحب
🔷 *سنی مناظر* :جناب فخر الزمان عرف علی معاویہ صاحب

(پہلے دن کی گفتگو اور مختصر تبصرہ)

🔴دعوی اہل سنت🔴
شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔

📣 شرائط و اصول:
شرائط مناظرہ بر موضوع تحریف قرآن…

1️⃣ اھل السنت مناظر شیعہ کی معتبر کتب سے اپنا دعوٰی ثابت کرے گا کہ شیعہ کا ایمان موجودہ قرآن پر نہیں..

2️⃣ شیعہ مناظر اھل السنت مناظر کے دلائل کا جواب دینے کے بعد الزامی حوالاجات پیش کرے گا، اس سے پہلے الزامی حوالاجات قابل قبول نہیں ھونگے.

3️⃣ شیعہ مناظر تحریف کے قائلین پر حکم واضح کرے گا..

4️⃣ ہر مناظر کو پانچ پانچ منٹ بات کرنے کا وقت دیا جائے گا، اس دوران دوسرا مناظر بیچ میں نہیں بولے گا..

5️⃣ ایک وائس 2 منٹ سے اوپر کی نہیں بھیجی جائے گی..

6️⃣ مناظرہ کے دوران ایڈمن صرف مناظرین ھونگے.

🌷 الحمدللّٰہ۔۔۔ شرائط و اصول طئے کرتے ہوئے سنی مناظر نے %50فیصد کامیابی حاصل کرلی ہے۔

شرط تین کو شیعہ مناظر علی عریش نے تسلیم نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایک الگ موضوع یا دعوی ہے۔
حالانکہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب بار بار کہتے رہے کہ وہ صرف تحریف قرآن کے قائلین پر شیعہ مناظر کا مؤقف واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ مناظرہ کا اختتام بامقصد ہوسکے اور جب وہ اپنا دعوی ثابت کردیں گے تو تمام قارئین اور سامعین تک شیعوں کی حقیقت پہنچ جائے گی۔
علی معاویہ صاحب کے بار بار کہنے کے باوجود شیعہ مناظر اس بارے میں دو ٹوک مؤقف بتانے کے بجائے یہی کہتے رہے کہ اس نکتہ پر الگ سے مناظرہ کرنا ہوگا، جبکہ یہ نکتہ تو اختلافی نہیں تھا، پوری امت مسلمہ کے نزدیک تحریف قرآن کا قائل کافر ہے، بلکہ کم علم شیعہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریف کا قائل کافر ہوجاتا ہے۔

بحرحال سنی مناظر نے تیسری شرط پیش کر کے پہلے دن یہ کامیابی حاصل کرلی کہ شیعہ واقعی تحریف کے قائل ہیں۔
شیعہ مناظر علی عریش نے پہلے دن کی گفتگو میں دو ٹوک الفاظ میں اپنے مؤقف کا اظہار نہ کیا بلکہ مسلسل دو گھنٹے صرف یہی کہتے رہے کہ یہ ایک مختلف مطالبہ ہے، یا ایک نیا دعوی ہے اور اس پر الگ سے مناظرہ ہوگا!!!

📣 شیعہ مناظر علی عریش کی اس روش سے سامعین تک اہل سنت کا دعوی کسی حد درست ثابت ہوگیا۔

مناظرے کے اس موڑ پر تمام پڑھنے اور سننے والوں تک یہ حقیقت پہنچ گئی کہ تحریف قرآن کے قائلین پر اہل تشیع کا مؤقف پوری امت مسلمہ سے مختلف ہے۔

❤️ اس پر دو دلائل:

1️⃣ شیعہ قائلین تحریف قرآن کو کافر نہیں سمجھتے ، اسی لئے شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے ایک سادہ جملہ میں اپنا مؤقف بیان نہیں کیا۔

2️⃣ شیعہ مناظر علی عریش تحریف بالقرآن پر الگ سے مناظرہ کرنے کا کہتے رہے یعنی ان کے نزدیک پوری امت مسلمہ کا مؤقف (تحریف قرآن کے قائلین کو کافر کہنا) درست نہیں ہے بلکہ اہل تشیع اس کے متعلق کچھ اور حکم لگاتے ہیں، ظاہر ہے شیعہ کا مؤقف اہل سنت سے مختلف ہے اسی لئے تو وہ الگ مناظرہ کی دعوت دیتے رہے۔

🔴اہل تشیع جواب دعوی🔴
جواب دعوی
جمہور علماء تشیع آیات قرآنی
( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )
الحجر (9) Al-Hijr
( لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ )

اور طبق روایہ ائمہ معصومین (ما لم يوافق من الحديث القرآن فهو زخرف)
کی روشنی میں قرآن کے ایک ایک لفظ کو حجت مانتے ہیں اور جتنی روایات اس کے مقابلہ میں ہوں مردود ہونگیں .

🔴شیعہ مناظر کی شرائط و اصول🔴

1️⃣ دوران مناظرہ قرآن کی آیت اور روایت صحیحہ ہونگیں ..
2️⃣ کسی بھی عالم کا دعوٰی اجماع یا دعوی تواتر طرفین کے لئے حجت نہیں ہوگا بلکہ خود مدعی کو اجماع اور تواتر ثابت کرنا ہوگا۔

سنی مناظر نے دوسرے اصول پر اشکال پیش کیا کہ اگر کسی عالم کا قول حجت نہیں تو پھر یہ اصول دونوں پر لاگو ہوگا اور کوئی بھی فریق کسی عالم، مولوی یعنی غیر معصوم کا قول پیش نہیں کرے گا، جسے شیعہ مناظر نے بھی تسلیم کیا کہ ان اصولوں پر دونوں فریقین عمل کریں گے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ کسی شیعہ عالم کا اقرار تواتر یا اجماع قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ سنی مناظر کو تواتر اور اجماع ثابت کرنا پڑے گا، لیکن انہیں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آخر کتنی روایات یا کتنے علماء کے اقرار سے اجماع یا تواتر تسلیم کریں گے، اگرچہ سنی مناظر نے پانچ علماء کے اقرار کا ذکر بھی کیا ، لیکن اسے بھی شیعہ مناظر علی عریش نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ پانچ کا اقرار بھی تواتر یا اجماع نہیں ہے۔
بحرحال آخر میں یہی بات طئے کی گئی کہ دوران مناظرہ صرف ائمہ معصومین سے ہی ثابت کیا جائے گا کہ اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں یا نہیں۔