مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبی اور شیعہ کتب

مکالمہ فدک تیسری قسط

(شیعہ کتب کے مطابق انبیاء کرام کی مالی میراث نہیں ہوتی)

جعفری: السلام وعلیکم ۔۔۔ کیا میں اندر آسکتا ہوں؟

صدیقی: وعلیکم السلام بھائی۔۔ آجاؤ  آجاؤ ۔۔ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔ 

جعفری: سوری یار۔۔ آج عین وقت پر ابو کے کچھ مہمان آگئے تھے، ان کی خدمت کرنے کی وجہ سے دیر ہوگئی۔

صدیقی: کوئی بات نہیں۔

جعفری: اچھا تمہیں یاد ہے نہ ۔۔آج تم نے میراث نبوی کے نہ ہونے پر شیعہ کتب سے امام معصوم کے اقوال دکھانے کو کہا تھا۔

صدیقی: جی جی بالکل بھائی۔۔ مجھے یاد ہے۔  صرف میراث نبوی نہ کہو، بلکہ یہ کہو کہ مالی میراث نبوی ، کیونکہ میراث تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، علم و حکمت، خاندانی ہنر و مہارت، ذرائع معاش ، مال و ملکیت وغیرہ ۔

اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں اصل وجہ اختلاف “مالی میراث نبوی” پر ہے۔ اہل سنت میراث نبوی میں دنیا کی مال و ملکیت کے قائل نہیں ہیں، اہل تشیع مالی میراث نبوی کے قائل ہیں، حالانکہ خود شیعہ کتب میں اس کے خلاف کئی روایات موجود ہیں۔

جعفری: یہی بات تو مجھے بھی حیران و پریشان کر رہی ہے کہ اگر ہماری کتب سے مالی میراث نبوی کی نفی ثابت ہے تو پھر ہمیں اس کے بارے میں تفصیل کیوں نہیں بتائی جاتی۔

خیر۔۔۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ تم مجھے واضح الفاظ سے امام معصوم کے فرامین دکھاؤ ، کسی بھی شیعہ عالم کی رائے میں ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ 

صدیقی:  جی بالکل۔۔ فکر نہ کرو۔۔کل میں نے میراث نبوی نہ ہونے پر اہل سنت کتب سے مختلف راویوں سے صحیح احادیث نبوی پیش کر کے ثابت کیا تھا کہ نبی اپنے ورثہ میں مال و ملکیت چھوڑ کر نہیں جاتے، جس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر سے مروی نہیں ہے۔

جعفری: میرے علم میں یہ نہیں تھا کہ اہل سنت کے ہاں حدیث لانورث مختلف طرق سے موجود ہے، ہمارے علمی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ حدیث لانورث فرد واحد یعنی صرف حضرت ابوبکر نے بیان کی ہے، بحرحال تم نے کئی اور راویوں سے بھی یہ حدیث دکھادی ہے، اس کے باوجود کتب سنت پر ہمارا یقین ہوتا تو پھر اتنے اختلافات کیوں ہوتے۔

صدیقی: درست کہا۔۔ اسی لئے آج میں تمہیں شیعہ معتبر کتب سے بھی دکھاتا ہوں کہ میراث نبوی میں مال ملکیت کے نہ ہونے پر خود اماموں سے بھی کئی روایات موجود ہیں۔

جعفری: یار۔۔۔ آپس کی بات ہے، ہماری کتب سے اگر واقعی انبیاء کرام کی مالی وراثت کا نہ ہونا ثابت ہوجاتا ہے تو پھر مسئلہ فدک کی بنیاد ہی ہل جاتی ہے!! پھر صدیوں سے ہم فدک کا رونا رو رو کر اپنی ہی کتب کے منکر کیوں بنتے رہے ہیں۔

صدیقی: یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ شیعہ اگر اپنی ہی کتب کا مطالعہ کرلیں تو کئی اہم مسائل آسانی سے حل ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ تم لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ تمہارے عالم کبھی بھی عام شیعوں کو اپنی کتب سے ان مسائل پر موجود روایات نہ دکھاتے ہیں اور نہ ہی بتاتے ہیں۔

1. پہلی روایت شیعہ کے اصول اربعہ کی اوّل کتاب اصول کافی میں موجود ہے۔

محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن خالد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين.

ترجمہ: امام جعفر صادق (رضی الله تعالی عنہ) نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں، اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا، اس نے کافی حصہ پا لیا۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے

ہو۔ ہم اہل بیت کےخلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اورجابلوں کی تاویلوں کو۔

(اصول الکافی الشیخ الکلینی ج 1 ص 17)

♦️ یہی روایت شیعہ کے جیّد عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب “الخصاص” میں بھی بیان کی ہے۔

وعنه، عن محمد بن الحسن بن أحمد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن السندي بن محمد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما ” ولا دينارا ” وإنما ورثوا أحاديث من أحاديثهم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا “، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين

ترجمہ: امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء بیں اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بنانے دربم یا دینار کا، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا، اس نے کافی حصہ پا لیا۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو۔ ہم اہل بیت کے خلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو۔

(كتاب الاختصاص – الشيخ المفيد – الصفحة 16)

2️⃣ یہ دیکھو دوسری روایت بھی اصول الکافی میں موجود ہے جس میں نبی کریم سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑتے۔

محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به (3) طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به (4) وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر.

ترجمہ: رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم و دینار ، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا ، اس نے بڑا حصہ پا لیا۔

(کتاب اصول الكافي – الشيخ الكليني – ج ۱ – الصفحة ۱۹)

اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔

👇👇👇👇👇👇

3️⃣ یہ تیسری روایت شیعہ کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے۔

304 – جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله۔

ترجمہ: حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے۔ 

قرب الاسناد الحمیری القمی ص 91,92

 بحوالہ المجلسي في البحار 16: 219 / 8.

جعفری: یہ حوالے ہماری کتب میں ہیں اور تعجب ہے کہ پھر بھی ہمیں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ انبیاء کرام کی میراث میں مال ملکیت بھی شامل ہے۔

صدیقی: تم خود سوچو۔۔ ایک طرف تم لوگ حضرت ابوبکر صدیق پر تہمت لگاتے ہو کہ اس نے انبیاء کرام کی مالی میراث نہ ہونے کی حدیث خود گھڑی ہے، اور دوسری طرف خود شیعہ معتبر کتب میں اماموں سے یہی حقیقت کئی روایات میں بیان کی گئی ہے۔

جعفری: لیکن پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ باغ فدک سیدہ کا حق تھا اور بطور میراث انہیں ملنا چاہئے تھا۔

صدیقی: یار۔۔تمہیں پتہ ہے کہ اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث بنتی ہی نہیں ہے؟

جعفری: کیا مطلب؟ 

صدیقی: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق باغ فدک بطور میراث سیدہ کا حق نہیں بنتا، کیونکہ غیر منقولہ جائداد یعنی زمین، گھر  اور باغات وغیرہ عورت کو وراثت میں نہیں دئے جاتے۔

جعفری: کمال ہے۔ تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ وہ روایات ہماری کتب سے دکھاؤ ۔۔ ایسے تھوڑی یقین کرلوں گا۔

صدیقی: جی بالکل ۔۔ میں تمہیں کئی روایات دکھاتا ہوں، شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائیداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا ، شیعہ محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت مختلف معتبر کتب میں بیان کیا ہے ۔۔!!!

یہ دیکھو۔۔

کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے۔۔!!

باب * (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا۔

عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا 

اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں ، ان کے چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔۔!!!

(الفروع من الکافی کتاب المواریث ج ۷ ص ۱۳۷)

(1066) 26 يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا.

حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں۔

(کتاب تھذیب الاحکام الشیخ الطوسی ج 9 ص 254)

جہاں تک ان کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہے، اس بارے میں مجلسی باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:

’’ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا۔ 

👈 حق الیقین‘‘ ص ۲۰۱، ۲۰۲ ترجمہ از فارسی۔

اب تم خود سوچو۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق کو اگر مال ملکیت کی لالچ ہوتی اور فدک اپنی ذات کے لئے حاصل کرنا مقصود ہوتا تو اپنی دولت سیدہ کی خدمت میں کیوں پیش کرتے؟ اتنی عاجزی سے سیدہ کی فضیلت کا اقرار کیوں کرتے؟ کیا ظالم حکمراں اس طرح حقوق غصب کرتے ہیں؟ 

جعفری: فدک اہل بیت سے غصب کر کے انہیں مفلس کرنا اصل مقصد تھا تاکہ وہ خلافت کے لئے کوششیں نہ کرسکیں اور عام لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کی مدد ہی نہ کریں۔

صدیقی: یار۔۔ یہ بات اس وقت درست مان لیتا جب تم خلفاء ثلاثہ کو دولت مند ثابت کردو گے۔۔۔ 

تاریخ اسلام ، اہل سنت اور اہل تشیع تمام کتب کے مطابق کسی خلیفہ رسول نے اپنے بعد کوئی جاگیر، مال ملکیت ورثہ میں نہیں چھوڑی۔ چاروں خلیفہ رسول نے عین سنت نبوی کے مطابق فقر و افلاس میں زندگی گذاری۔ نبی کریم کی تربیت یافتہ جماعت نے دنیاوی مال و دولت کبھی جمع نہ کی۔

اس لئے یہ کہنا کہ فدک کو غصب کرنے کا مقصد اہل بیت کو معاشی طور پر کمزور کرنا تھا، حقیقت کے منافی ہے، حضرت ابوبکر صدیق نے مال فے سے حاصل شدہ آمدنی کو من وعن نبی کریم کے مطابق خرچ کیا، ان کے بعد دوسرے خلفاء رسول نے بھی صدیقی فیصلے کو قبول کیا اور اسی پر عمل کیا۔ فدک خلفاء راشدہ کے دور میں کسی کی بھی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا گیا، ہر دور میں اس کے متولی ضرور بدلتے رہے۔

جعفری: یار۔۔تمہاری کئی باتیں درست ہیں، مجھے لگتا ہے کہ فدک پر میرا علم محدود ہے،مجھے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ 

صدیقی: میں نے تمہیں صرف چند روایات دکھائی ہیں، درحقیقت شیعہ معتبر کتب میں بیشمار روایات سے بھی یہی حقائق ثابت ہوتے ہیں۔

جعفری: مجھے یاد آ رہا ہے ایک بار ایران میں یہ مسئلہ دوران کلاس زیر بحث آیا تھا ، ہمارے استاد محترم نے ان روایات کو رد کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگرچہ یہ روایات ائمہ معصومین سے صحیح السند روایات ہیں لیکن قابل حجت نہیں بن سکتیں کیونکہ یہ روایات قرآن کریم سے متعارض ہیں۔

صدیقی: بیشک یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ قرآن کریم سے متعارض کوئی روایت قابل قبول نہیں ہوتی ، تم دلیل دو کہ یہ روایات قرآن کریم سے متعارض ہیں۔

جعفری: کئی آیات قرآنی میں انبیاء کرام کے ورثہ کا ذکر کیا گیا ہے ،

اگر انبیاء کرام کی واقعی میراث نہ ہوتی تو پھر قرآن کریم میں میراث انبیاء کا ذکر بھی نہ کیا جاتا۔

میں تمہیںُ کل تفصیل سے بتا آؤں گا، آج ہم یہیں پر گفتگو ختم کرتے ہیں۔ 

صدیقی: چلو ٹھیک ہے ، کل ہم میراث انبیاء کو قرآن کریم کی روشنی میں معلوم کریں گے۔ 

تم جو بھی آیات قرآنی پیش کروگے ، ہم انہیں اہل سنت تفاسیر اور شیعہ تفاسیر سے بھی دیکھیں گے ، اور ان شاء اللہ اس مسئلہ کا حل قرآن کریم سے ہی تلاش کریں گے۔

جعفری: بالکل ٹھیک ہے۔

میں اب چلتا ہوں۔ یا علی مدد 

صدیقی: ٹھیک ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔