1.معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے دور حکومت میں حضرت علی ع کی توہین کی جاتی تھی۔ (کتاب آثار قیامت) 2.امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) اسلام پر کاری ضرب لگائی۔ (سنت کی آئینی حیثیت)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر شیعہ روافض کا الزام نمبر 55

🔺شیعہ الزام🔺

🔸1.معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے دور حکومت میں حضرت علی ع کی توہین کی جاتی تھی۔ (کتاب آثار قیامت)

🔸2.امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) اسلام پر کاری ضرب لگائی۔ (سنت کی آئینی حیثیت)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
یہ دونوں لوگ جناب نواب صدیق حسن خان اور جناب ابو الاعلیٰ مودودی نہ تو اہلسنّت کے نمائندہ و ترجمان نہ ہی انکی کوئی قابل قبول حیثیت ہے متنازعہ ترین حضرات ہیں ان کی کتابیں بطور الزام کے پیش کرنا بلکل درست نہیں اور نہ ہی ان کا جواب دینے کی ضرورت ہے جو لچر اعتراضات ان کتابوں میں اٹھائے گئے ہیں ان کی بنیاد بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا مسئلہ ہے مگر یہ لوگ بھول رہے ہیں اور غلط پروپیگنڈہ کر رہے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اپنا جانشین بیٹے کو بنایا حالانکہ ہر دماغ رکھنے اور ماضی سے کچھ واقفیت رکھنے والا شخص بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے جو حیدرکرار رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے والد گرامی کی مسند خلافت پر فائز ہوئے اگر باپ کے بعد اس کے بیٹے کا خلیفہ ہونا درست نہیں تو یہ کام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے شروع ہوا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنت کو زندہ کر کے اپنے بیٹے کو اپنی جگہ امیر نامزد کر دیا یا لہذا یہ بدعت نہ ہوئی اور نہ ہی سنت خلفاء راشدین سے خلاف کوئی کام ہوا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہیں اور خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرنا بالکل جائز اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے خلفائے راشدین کی سنت کو اپنانے کا خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا ہے۔