ہر گھڑی آپؐ کی مدحت کا جنوں ہے

غیر کا ذکر نہ قصّہ نہ فسوں ہے، یوں ہے

ہر گھڑی آپؐ کی مدحت کا جنوں ہے، یوں ہے

مدحِ خواں آپؐ کا ہوں مجھ کو کمی کیا ہوگی

قلب وجاں کو مِرے جتنا بھی سکوں ہے، یوں ہے

حشر میں پیش کروں نعتِ نبیؐ  صلّیِ علٰی

اپنی بخشش کا میں امکان کہوں ہے، یوں ہے

لگتا ہے تم نے کبھی طیبہ نگر دیکھا تھا

جو تِرا آج یہ کم سوزِ  دروں ہے یوں ہے

پار سدرہ کے گئے کیسے رسولِ اکرمؐ 

ّحکمِ باری ہاں، یہی کن فیکوں ہے، یوں ہے

سیرتِ پاکؐ سے ہٹ کر نئے اپنائے طریق

آج مسلم جو یہاں خوار و زٙبوں ہے، یوں ہے

آپؐ نے ساتھ سلائے ہیں ابوبکرؓ و عمرؓ 

کیوں بگڑتا ہے رے نادان کہ یوں ہے یوں ہے

مصطفیٰ ؐ  آپؐ کی ناموس پہ صائم قربان

اک اسی جہد میں ہر قطرہءخوں ہے یوں ہے

ملک مبشرصائم علوی