کیا ماتم کرنا کار ثواب ہے؟

 ۔۔۔۔۔۔ عقیدہ شیعان علی
🔷 ماتم کرنا کار ثواب ہے🔷
جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شریک ہوۓ ملائکہ رونے لگے اور کہا اے خدا ہمارے تو کیوں  غفلت کرتا ہے اور ان سے انتقام نہیں لیتا۔(جلاءالعیون ج2 ص 310)
” کربلا کے پیاسوں کا خوب ماتم کرو۔ شام کے قیدیوں پر دل کھول کر آنسو بہاؤ۔
(جلاءالعیون ص45)

♦️جواب اہلسنّت♦️
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں خود ملاحظہ فرمائیں:-
⭕️رسولﷺ کی رحلت پر  ارشاد فرماتے ہیں:-
” اگر آپﷺ نے صبر کا حکم اور نالہ و فریاد سے نہ روکا ہوتا تو ہم آپﷺ کے غم میں آنسوؤں کا ذخیرہ ختم کر دیتے ”
(نہج البلاغہ صفحہ 640 641)


⭕️ جب سے صفین کے مقتولوں پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی اتنے میں حرب ابن شرجیل شیامی جو اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں میں سے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تمہارا ان عورتوں پر بس نہیں چلتا جو میں رونے کی آوازیں سن رہا ہوں۔ اس رونے چلانے سے  تم انہیں منع نہیں کرتے؟
حرب آگے بڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم رکاب ہوگۓ درحقیقت حضرت سوار تھے آپ نے فرمایا پلٹ جاؤ تم ایسے کا مجھ جیسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔
(نہج البلاغہ صفحہ 914)۔
⭕️ “جو شخص مصیبت میں ران پر ہاتھ مارے اس کا عامل  اکارت جاتا ہے”
( نہج البلاغہ صفحہ853)
اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے سید رضی کو یہ توفیق بخشی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات کو جمع کر کے تحریر کریں اس طرح اہل تشیع کے بعد نظریات کا رد انتہائی معتبر ذریعہ سے کرنے میں آئے آسانی میسر آئی
خلاصہ:-
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مصیبت میں رونے چلانے والوں پر سخت ناراضگی کا اظہار فرما کر ماتم حسین رضی اللہ تعالی عنہ کرنے والوں کو یہ درس دیا ہے کہ رونا چلانا کوئی ثواب کا کام نہیں بلکہ خسارے کا سودا ہے۔