کیا سیدہ فاطمہؓ حضرت ابو بکر صدیق سے ناراض فوت ہوئیں؟

کیا سیدہ فاطمہؓ حضرت ابو بکر صدیق سے ناراض فوت ہوئیں؟

 شیعہ رافضی تفضیلیوں کے مکر وفریب کا منہ توڑ جواب

شیعہ رافضی اور ان کا جھوٹا چاٹنے والے تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی

یہ شیعیوں کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے
رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں

“اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق.بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں.

ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسولﷺ کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں

اور شیعہ میں زیدیہ تو نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے یو روایت کرتے ہیں

ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله ﷺ يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسولﷺ یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل
ترجمہ

(حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئ بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے

حوالہ یہ عبارت شعیہ کتاب محجاج السالکین اور دوسری معتبر کتابوں کی عبارت ہے

اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبرﷺ کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی

خدا کا شکر ہے خود روایات شیعہ (امامیہ) کی رو سے حق منکشف ہوگیا اور تہمت جو حضرت ابوبکرصدیق رضی للہ عنہ پر لگائ تھی کہ آپ نے شہادت کو رد کیا اور دعوے کو کیا سراسر جھوٹ ثابت ہوئی

والله يحق الحق ويبطل الباطل

ترجمہ:اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل

ہم یہاں علماء اہل سنت کی شہرہ آفاق کتاب البدایہ والنہایۃ اور دیگر کتب ِاہل سنت کی روایات بھی پیش کر رہے ہیں۔

1۔حافظ ابن کثیر ( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں:

فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت
’’جب فاطمہ ؓ بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکرؓ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہؓ ان سے راضی ہوگئیں۔‘‘
البدایۃ والنھایۃ: 6؍33… نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38

2۔امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح:

أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه
’’حضرت عامر شعبیؓ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراءؓ بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکرؓ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علیؓ نے کہا: اے فاطمہؓ! ابوبکرؓ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہؓ نے فرمایا: اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ تب ابوبکر صدیقؓ اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے۔ حضرت فاطمہؓ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں۔‘‘
طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147؛ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115

3۔امام بیہقی کی تصریح :

عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت. هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح
’’جب حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علیؓ نے حضر ت فاطمہؓ سےکہا کہ ابوبکر صدیقؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیقؓ اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہؓ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں۔‘‘

السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301 ؛فتح الباری : 6 ؍151

4۔امام اوزاعی کی تصریح:

عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله ﷺ فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت
’’امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہؓ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علیؓ حضر ت فاطمہؓ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکرؓ سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہؓ راضی ہوگئیں۔‘‘

أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم

اگر بالفرض حضرت فاطمہؓ واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان چاروں روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہورہا ہے۔