کیا سقیفہ بنی ساعدہ کی کارروائی ایک ڈھونگ تھا؟

 ۔۔۔۔۔عقیدہ شیعان علی

🔷 سقیفہ بنی سعد کی کارروائی ایک ڈھونگ تھا۔🔷
شیعہ کہتے ہیں کہ “پھر وہ فرصت کو غنیمت سمجھ کر کہ امیر المومنین حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں مشغول ہیں اور بنی ہاشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غم میں گرفتار ہیں بنی سقیفہ میں چلے گئے اور آپس میں اتفاق کیا کہ ابوبکر کو خلیفہ قرار دیں۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسی ھی سازش تیار کی گئی تھی۔۔۔۔ جب ابوبکر کی بیعت تمام ہوگئ تو ایک شخص امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ منافقوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی ہے۔ اس لیے کہ آپ رضی اللہ عنہ فارغ ہوجائیں تو آپ کا حق غصب نہ کر سکیں گے۔
( حیات القلوب ج2 ص1027)


♦️جواب اہلسنّت♦️
یوں تو اس بے بنیاد الزام کا ذکر شیعانِ علی کی ہر کتاب، ہر تفسیر ،اور ہر محفل میں ہوتا ہے لیکن یہاں اختصار سے کام لیتے  ہوئے صرف ایک ہی حوالہ دینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
📌 اب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں کیا فرماتے ہیں!
⭕️ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:-
” اپنی جان کی قسم اگر خلافت کا انعقاد تمام افرادِ امت کے ایک جگہ اکٹھا ہونے سے ہو تو اس کی کوئی سبیل ہی نہیں۔ بلکہ اس  کی صورت انہوں ( اصحابِ سقیفہ) نے رکھی تھی کہ اس کے کرتا دھرتا لوگ اپنے فیصلے کا ان لوگوں کو بھی پابند بنائیں گے جو بیعت کے وقت موجود نہ ہوں گے پھر موجود کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ وہ بیعت سے انحراف کرے اور نہ غیر موجود کو یہ حق ہوگا کہ وہ کسی اور کو منتخب کرے۔”
( نہج البلاغہ:463)
⭕️دوسری جگہ فرماتے ہیں:-
” جن لوگوں نے ابو بکر ،عمر ور عثمان رضی اللہ عنہم کی بیعت کی تھی انہوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول کے مطابق  بیعت کی جس اصول پر وہ ان (ثلاثہ) کے ہاتھ بیعت کر چکے تھے اور اس کی بنا پر جو حاضر ہیں انہیں نظر ثانی کا حق نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد کرنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین اور انصار کو ہے۔ وہ اگر کسی پر ایکا کریں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا اور خوشنودی سمجھی جائے گی۔ اب جو کوئی اس شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کرتا ہوا الگ ہو جائے تو اسے  وہ سب اسی طرف واپس لائیں گے جدھر سے وہ منحرف ہوا ہے اور اگر انکار کرے تو اس سے لڑیں۔ کیونکہ وہ مؤمنوں ( ثلاثہ) کے طریقے سے ہٹ کر دوسری راہ پر ہو لیا ہے اور جدھر وہ پھر گیا ہے اللہ تعالی بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا۔”( نہج البلاغہ 657)


⭕️ ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:-
” کیونکہ یہ بیعت ایک دفعہ ہوتی ہے نہ پھر اس میں نظر ثانی کی  گنجائش ہوتی ہے، ورنہ پھر سے چناؤ ہو سکتا ہے۔ اسے منحرف ہونے والا نظام اسلامی پر منحرف قرار پاتا ہے اور غور اور تامل کرنے والا منافق سمجھا جاتا ہے”۔
( نہج البلاغہ 659)
وائے ناکامی شیعانِ علی!
خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے زور دار طمانچے ان کی عقل کے چہرے پر لگاتے جا رہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں
“مدعی سست گواہ چست” جس معاملہ کی وجہ سے تمام اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نظر میں مرتد قرار پائے۔ اس معاملے کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کس اعلی انداز میں اپناتے ہیں۔ قربان جاؤں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جو دین اسلام کی شان ہیں اور اللہ تعالی رافضی بدبختوں کو ہدایت نصیب فرمائے جو فرضی کہانیوں پر بھروسہ کر کے جلیل القدر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کفر اور ارتداد کا نہ صرف فتویٰ لگاتے ہیں بلکہ ان کی اصولِ کافی، اسرار آلِ محمد، جلاء العیون، الانوار النعمانیہ، حق الیقین، تحقیق المتین، حیات القلوب، عین الحیاۃ، تذکرہ آئمہ، بحار الانوار، کاشف الاسرار، چراغ مصطفوی، اور شرا ابولہبی جیسی سینکڑوں کتب میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شرمناک گالیاں دی گئی ہیں زبان بولنے سے گنگ ہو جائے۔ دماغ پاگل ہو جاۓ۔ اگر ایک نظر بھی کوئی صاحب ان کو دیکھ لے ان ظالموں نے نہ صرف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا بلکہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو بھی نہیں بخشا۔ خدایا تو خود انصاف پر فیصلہ فرما۔
صاحبانِ بصیرت میری خواہش ہے کہ ایک اندرونی اور فطری شہادت بھی دیتا چلوں۔ دیکھئے لوگ اپنے بچوں کے نام کیسے لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ،یوسف، یعقوب، محمد حسین ،محمد حسن یعنی اچھے اور قابلِ تقلید شخصیات کے ناموں پر نہ کہ ہامان، فرعون ، شدّاد اور قارون حتیٰ کہ حضرت یزید نام بھی رکھنا کوئی گوارا نہیں کرتا، اسی طرح بعض لوگ اپنی سوچ اور معاشرت کے مطابق نام رکھتے ہیں۔ نیک اور خدا ترس لوگ  عبداللہ،عبدالحکیم ،عبدالرشید جیسے نام رکھنا پسند کرتے ہیں۔ جب کہ فلم بین اور کرکٹ کے شوقین اپنے نام فلم کے ہیرو اور کرکٹ کے ستاروں پر رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح آج تک کسی پاکستانی مسلمان میں کبھی اپنے بچے کا نام پرکاش پرتھوی نہیں رکھا اور نہ ہندوؤں نے اپنے بیٹوں کے نام غوری،محمد بن قاسم جیسے رکھے ہیں۔

اس ساری بحث کا مطلب یہ تھا کہ والدین اپنے بچوں کے نام اپنی پسندیدہ، قابلِ احترام اور قابلِ تقلید شخصیات کے نام پر رکھنا پسند کرتے ہیں۔
🎗چنانچہ آئیے ایک اقتباس پڑھتے ہیں:-
” پس برادران بزرگوان امام اخیار نے رخصت جہاد طلب کی اول عبداللہ فرزند جناب امیر کہ ان کو “ابوبکر” کہتے تھے میدان کارزار میں پہنچے اور ایک گروہ کافران کو جہنم واصل کر کے تیغ عبداللہ بن عقبیٰ یارجز بن بدر کی تلوار سے شہید ہوگئے۔ ان کے بعد عمر بن علی رضی اللہ عنہ ان کے برادر بزرگ نے عزمِ میدان کیا اور معرکہ کارزار میں پہنچنے کے بعد اپنے بھائی کے قاتل کو جہنم واصل کیا۔ پھر رجزخواں صفوف مخالفین پر جا پڑے اور اکثر مخالفین کو جہنم واصل کر کے آپ بھی اپنے پدر بزرگوار کے پاس پہنچے۔
ان کے بعد عثمان بن علی رضی اللہ عنہ میدان میں گئے اور بہت ظالموں کو قتل کیا”۔
( جلاء العیون ج2 ص244)


برائے مہربانی اس ساری بحث کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے پھر جلاء العیون کا اقتباس پڑھئے ، امید ہے کہ درج ذیل نکات کی حقانیت منصف مزاج ذہنوں میں واضح ہوجائے گی:-
🔹1۔۔ خلفائے ثلاثہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔
🔹2۔۔ شیعانِ علی کی کتب جن کا تذکرہ پیچھے گزر چکا ہے یا ان کے علاوہ دوسری کتب کا مطالعہ کرنے سے یا ان کی محفلوں میں خلفاءثلاثہ کے بارے میں استعمال ہونے والی زبان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اللہ کی مخلوق میں سب سے کم تر اور گمراہ ترین لوگ خلفائے ثلاثہ ہی تھے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کے نام ان کے ناموں پر رکھ کر یہ ثابت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی انہیں کی طرح تھے جیسا کہ شیعہ خلفائے ثلاثہ کو سمجھتے ہیں یا وہ ان کے ساتھ بہت محبت و عقیدت رکھنے والے تھے۔ کیونکہ بہت زیادہ عقیدت و محبت کے بغیر کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام اس کے نام پر نہیں رکھتا ہے۔
🔹3۔۔۔ خلفائے ثلاثہ کے بارے میں شیعانِ علی کی تمام روایات جھوٹی، من گھڑت اور شیاطین کی ذہنی خباثت کا مظہر ہیں ان تمام روایات کا مقصد صرف اور صرف اسلام دشمنی ہے۔
جس کا اندازہ آپ مشہور شیعہ مورخ حسین کاظم زادہ کے اس اقتباس سے  خودکر سکتے ہیں:-
🎗”جس دن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہ دوم کی جانب سے ایران کو فتح کیا۔ ایرانی اپنے دلوں میں کینہ و انتقام کا جذبہ پالتے رہے۔ یہاں تک کہ شیعہ فرقے کی بنیاد پر جانے سے پورے طور پر اس کا اظہار کرنے لگے۔۔۔۔ ایرانی ہرگز اس بات کو کبھی نہ بھول سکتے تھے کہ مٹی پر ننگے پاؤں پھرنے والے  عربوں نے جو جنگل و صحرا کے رہنے والے تھے ان کی مملکت پر تسلط کر لیا اور ان کے قدیم خزانوں کو لوٹ کر غارت کر دیا اور ہزاروں کو قتل کر دیا۔۔۔ اس معاملے نے ایرانیوں کے دلوں میں عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف غصہ اور کینہ کو بھڑکا دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی محبت کو اور زیادہ کر دیا”۔
جب کہ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام نے ان نفوس قدسیہ کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے۔ وہ حرف بہ حرف سچ ہے ۔اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دل سے قدر کرتے تھے اور انہیں  قابلِ تقلیدسمجھتے تھے۔ جن کا ثبوت طریقہ خلافت کے  ذیل میں نہج البلاغہ کے اقتباسات اور اپنے بیٹوں کے نام اصحابِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی پر رکھنے سے ملتا ہے اور یہ ایسا ثبوت ہے جس کی تردید نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ لہذا ہمیں اپنا فرض سمجھتے ہوئے انہیں ایرانی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو اپنے قدیم تعصب کی وجہ سے دین اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
خلاصہ:*
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے طریقہ کار کو پسند فرما کر اپنے مخالفین کو بطور دلیل حوالہ دے کے ساتھ دینے کا حکم دیا۔