کیا حضرت امیر معاویہ رض باغی تھے؟ رافضیو جواب دو!

باغی باغی کھیلنے والوں رافضیوں سے چند سوالات 

*از قلم محمد عیش ابراہیم*

✍سوال نمبر 1
معاویہ رضی اللہ عنہ کتنی دیر کیلئے باغی تھے ؟

سوال نمبر 2
کیا تحکیم کے بعد بھی باغی تھے؟؟؟ یا نہیں؟؟

سوال نمبر 3
باغی کے ساتھ تحکیم کرنا خلاف قرآن ہے یا عین قرآن؟

سوال نمبر 4
اس آیت کے مطابق شیر خدا نے عمل کیا یا نہیں👇؟
القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات

آیت نمبر 9 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور اگر ایمان والوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کرنے لگیں تو ان کے درمیان صلح کرادو، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس سے جنگ کرو جو زیادتی کررہا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ سو وہ رجوع کرے تو ان دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

سوال نمبر 5

کیا صلح حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے بھی وە باغی تھے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو بتائیے حسن رضی اللہ عنہ نے اس آیت پر عمل کیا یا نہیں؟

اگر صلح سے پہلے باغی نہیں تھے تو انکی بغاوت کب ختم ہوئی تھی؟

سوال نمبر 6
کیا صفین میں تحکیم قبول کرنے سے پہلے معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟
اگر ہاں تو علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے خلاف کیوں کیا؟

سوال نمبر 7
کیا معاویہ رضی اللہ عنہ ساری زندگی باغی رہے وفات تک؟
اگر ہاں تو بتائیے حسنین کریمین رضی اللہ عنہ نے کیوں ایک باغی سے وظائف لئے؟

سوال نمبر 8
اگر کوئی صحابی پہلے کافر ہو بعد میں مسلمان ہو جائے تو اسکو کافر کہنا چاہیے یا مسلمان ؟
اگر کوئی صحابی پہلے باغی ہو بعد میں اس سے حاکمین وقت صلح و بیعت کرلیں تو اسے باغی کہنا چاہیے یا نہیں؟

سوال نمبر 9
کیا صفین کا پورا لشکر ہی باغی تھا یا یە حکم صرف معاویہ رضی اللہ عنہ کو لیکر خاص ہے؟
عقیل بن ابی طالب رض کو بھی باغی بولتے ہیں آپ یا نہیں؟ جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے صفین میں؟

سوال نمبر 10
اس حدیث کا مفہوم بیان کیجئے👇
صحیح مسلم
کتاب: زکوۃ کا بیان
باب: خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَکُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ
ترجمہ:
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو گروہ ہوجائیں گے تو ان میں سے مارقہ فرقہ نکلے گا ان خوارج سے وہ جہاد کرے گا جو سب سے زیادہ حق کے قریب ہوگا۔

سوال نمبر 11
حدیث عمار رضی اللہ عنہ کا رٹہ لگانے والوں کو یہ حدیث نظر کیوں نہیں آتی؟

اگر اہلسنت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کی روشنی میں ادنیٰ بالحق کہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے؟

سوال نمبر 12
اگر چند لوگوں کا باغی ہونا پورے لشکر کو باغی کرتا ہے تو دوسرے لشکر میں چند سبائی اشتری جہنمی قاتل زبیر رضی اللہ عنہ پورے لشکر کو جہنمی کیوں نہیں کرتے؟

براہ کرم انکے مدلل جوابات دیکر ہمیں لاجواب کریں