کیا اہل سنت احادیث کے راوی اور محدثین شیعہ ہیں؟

بسم الله الرحمن الرحيم

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه

امابعد اکثر اثنا عشری رافضہ اہل سنت عوام میں یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ اہل سنت کی احادیث کی کتب مثلا صحیح بخاری، مسلم کے کچھ راوی اور کچھ محدثین شیعہ تھے۔ حالانکہ یہ ایک بہ بڑا بہتان ہے کیونکہ محدثین کی اصطلاحات میں شیعہ ہونا اور اثنا عشری رافضی ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔

محدثین کی اصطلاحات میں شیعہ ہونے سے مراد تشیع صرف اتنی ہے کہ کوئی شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل سمجھے۔ یعنی اس کے نزدیک صحابہ کا مرتبہ اس طرح ہو۔۔

1۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ

۔ عمر رضی اللہ عنہ 3

۔ علی رضی اللہ عنہ 4

عثمان رضی اللہ عنہ اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ تو محدثین کے نزدیک اس شخص کو شیعہ کہا جاتا ہے جو اس ترتیب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بدل دے۔

اب آگے چلیے۔۔۔ ایسا شخص جس کو محدثین شیعہ کہیں اس میں تشیع صرف اتنا ہے کہ وہ “سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل جانتا ہے”۔۔ لیکن وہ تمام صحابہ کے فضائل اور مناقب کو  مانتا۔ سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو انبیاء کے بعد سب سے افضل انسانوں میں مانتا ہے۔۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ سیدنا ابو بکر اور عمر سے کم سمجھتا ہے۔۔ اس کا ثبوت درج ذیل ہے۔۔۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔۔۔ فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان, وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما متقدمین کے نزدیک تشیع یہ ہے کہ وہ سیدنا علی کی سیدنا عثمان پر فضیلت کا اعتقاد رکھیں اور یہ سمجھیں کہ سیدنا علی جنگوں میں حق پر تھے اور ان کے مخالف غلطی پر تھے۔،  اور ساتھ ساتھ شیخین کو مقدم اور افضل رکھیں  (یعنی ابو بکر اور عمر کو علی سے افضل رکھیں رضی اللہ عنھم)۔۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں۔۔ أما التشيع في عرف المتأخرين فهو الرفض المحض اور متاخرین کی نزدیک رفض محض ہی تشیع ہے۔ (تهذیب التهذیب۔ جلد 1۔ صفحہ 53)۔

یعنی متاخرین یعنی آج کل کے علماء کے نزدیک شیعہ بمعنی رافضی استعمال ہوتا ہے۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی بات سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔

محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک شیعہ وہ شخص ہے جو شیخین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل جانے لیکن سیدنا علی کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے افضل جانے۔۔ بس ختم لیکن  آج کل شیعہ کا عرف عام میں استعمال تبدیل ہو گیا ہے اور لوگ رافضیوں کو شیعہ کہتے ہیں۔۔

اب رافضی کون ہیں۔۔ 1

۔ جو اللہ کی توحید ربوبیت، الوہیت، اور اسماء و صفات کا انکار کرے

2۔ جو ابو بکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ کافر کہے اور مانے کہ سوائے تین کے باقی سب معاذ اللہ ایمان سے پھر گئے۔

3۔ جو امہات المومنین کی شان میں بکواس کرے 4

۔ جو قرآن کی تحریف کا عقیدہ رکھے یا اخوان المسلمین۔

رافضیوں کے دھوکہ میں مت آئیں۔ اگر محدثین نے کسی شخص ،راوی، یا محدث کو شیعہ لکھا ہے تو  اس سے مراد موجودہ دور کا اثنا عشری رافضی قطعا نہیں ہے۔ وہ لوگ اہل سنت ہی تھے اور الحمد للہ ثقہ اور سچے تھے۔

اثنا عشری رافضی اور محدثین کے نزدیک شیعہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کی صرف ایک مثال حاظر ہے۔

رافضہ ہمیشہ یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ امام حاکم رحمہ اللہ شیعہ تھے۔مثلا علام ذھبی رحمہ اللہ سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔۔ و کان من بحور العلم علی تشیع قلیل فیه یعنی وہ علم کا سمندر تھے لیکن ان میں قلیل تشیع تھا۔ (سیر اعلام النبلاء۔ جلد 17۔ صفحہ 165)۔

اثنا عشری رافضی اس طرح کے دوسرے اقوال نقل کر کے امام حاکم کو شیعہ ثابت کرتے ہیں۔ تو ہم مانتے ہیں وہ شیعہ تھے لیکن محدثین کی اصطلاحات میں شیعہ تھے لیکن اثنا عشری رافضی نہ تھے۔

امام حاکم رحمہ اللہ کی کتاب مستدرک حاکم میں وہ  سیدنا ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے مناقب پر ابواب قائم کیے اور ان کے مناقب اور فضیلیت پر روایات نقل کیں۔ امام حاکم نے باب باندھا۔۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «فَمِنْ فَضَائِلِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»

پھر سیدنا عمر کے مناقب پر باب باندھا

[accordions id=”6887″]