کامل الزیارات نامی شیعہ کتاب میں خانہ کعبہ کی بدترین توہین اور کرب و بلا (کربلا) کا بلند مقام (نعوذبااللہ)

شیعیت کا چھوٹا سا تعارف

اس مضمون کو  پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ شیعہ مذہب میں اللہ عزوجل کے گھر خانہ کعبہ کی اہمیت سیدنا علی ؓ و حسین ؓ کے مقابلے میں ثانوی معیار بھی نہیں رکھتی۔ کربلا جو کے حقیقت میں کرب و بلا کی زمیں ہے بقول امام حسین ؓ کہ اس کے سامنے خانہ کعبہ کی کوئی حقیقت و حیثت نہیں ہے۔ شیعہ مذہب میں ایک زیارت کا مقام کئی حج مقبول  سے زیادہ ہے نعوذباللہ۔ اس لئے  مذہب شیعہ میں  جتنا حسین ؓ حسین ؓ کیا جاتا ہے اس کے مقابلہ میں اللہ  کے مقام کو بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اللہ پاک کی ذات ہی تیسرے درجہ کی حقیقت رکھتی ہے۔آپ نے کبھی شیعوں کو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے یا ان کو بیان کرتے نہیں سنا ہوگا لیکن اس کے برعکس آپ کو دو ماہ ایسے مل جاتے ہیں جس میں صرف اور صرف کربلا کی زیارت کی جاتی ہے
مولانا ڈاکڑ عبد اللہ عباس ندوی اپنی کتاب  مفصل تبصرہ میں لکھتے ہیں صفحہ نمبر ۶۵ پر ، میرے ایک  شیعہ دوست  جس کا تعلق لکھئو کے بہت اونچے شیعہ گھرانے سے تھا ایک دن اس سے گفتگو نکلی  تو اس نے کہا کہ ہمارا بس چلے تو ہم سب سے پہلے تبر ہ اللہ پاک پر کریں  (نعوذباللہ) اس لیے کہ کربلا کی قیامت گزر گئی اور نظام ارضی میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوئی


مولف کا تعارف
آپ کا نام ابولقاسم جعفر بن محمد بن جعفر بن موسی بن قولویہ القمی ہے۔آپ فقہ اور حدیث کے بہت بڑے شیعہ عالم تھے۔ رجال نجاشی نے اپنی رجال میں لکھا ہے کہ ان کے والد کا لقب مسلمہ تھا ابو القاسم ہمارے اور جلیل القدر ساتھوں میں
سے تھے۔۔۔۔ان میں جید عالم ومحدث کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔ شیعہ ٹاپ کلاس علامہ حلی نے اپنی رجال یعنی رجال حلی میں آپ کو جلیل القدر اور ثقہ راوی قرار دیا ہے ابن حجر نے لسان المیزان میں آپ کو شیعہ علماء میں شامل کیا ہے جو بہت مشہور اور معروف ہیں۔ طوسی نے رجال طوسی میں اور  علی بن حکم ن ابولقاسم کو شیوخ شیعہ میں شمار کیا ہے

امام حسین ؓ کی زیارت کی اہمیت بیت اللہ سے افضل

اگر آپ شیعہ مذہب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ شیعہ مذہب کے ۱۲ میں ۱۱ امام اپنی فضیلت کی داستان خود رقم کیا کرتے ہیں جیسے قیامت کے دن کے والی وارث ہم ہیں دنیا ہم چلاتے ہیں ۔ہماری وجہ سے دنیا  وجود میں آئی خدا کی معرفت ہمارے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے۔  دراصل یہ  وہ جعلی  روایات ہیں جس کی بنیاد شیعہ مذہب کےعلماء نے رکھی  تاکہ اسلام کے مقابلہ میں ایک نیا مذہب  تخلیق کیا جائے  جس کی  اصل  اسلام کے برعکس ہو۔ اصول اسلام ہو یا فروع اسلام شیعیت نے ہمیشہ اسلام کے خلاف جہاد ہی کیا۔تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ ۱۴۰۰ سالہ اسلامی تاریخ میں شیعہ کبھی بھی مسلمانوں کا دوست نہیں رہا   بلکہ اس نے ہر موقع پر اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائیت کا ساتھ  دیا ورنہ آج اسلام کم سے کم یورپ کا  سرکاری مذہب ہوتا۔ اس لیے سنی شیعہ اتحاد کبھی کامیاب نہیں ہوا اور جب شیعوں کا قائم مقام یعنی شیعوں کا امام مہدی ائے گا تو وہ بچائے امن قائم کرنے کے سنی علماء کا قتل عام کرے گا اور چن چن کر ان مسلما نوں کو شہید کرے گا جو حضرت ابوبکرؓ عمر ؓعثمان ؓ کو خلفاء تسلیم کریں گے۔ بقول شیعہ معتبر کتب امام مہدی شریعت محمدی ﷺ کو ختم کرکے توریت کا قانون نفاذ کرے گا۔ اس لیے کہ اس کی دشمنی صرف سنی مسلمانوں سے ہوگی جبکہ دنیا کا ہر بد عقیدہ مذہب کا وہ پیروکار ہوگا۔ یہ بات آج سنی مسلمانوں کو سمجھنی  چاہیئے کہ آخر شیعہ سنیوں کا کتنا بڑا دشمن ہے اور اگر سنیوں نے اس بات کو سنجیدہ نہ لیا تو کل ہوسکتا ہے کہ ہر سنی ملک کا حال شام عراق اور فلسطین سے بدتر ہوجائے۔

امام صاحب نے کیسے زیارت حسین ؓ کو کعبہ اللہ پر فضیلت دی




ابو یعفور نے امام سے یہ سوال کیا کہ اللہ تعائی نے بیت اللہ کا حج تو فرض کیا  ہے لیکن امام حسینؓ کی زیارت تو نہیں کی۔ ہونا تو  یہ چاہیئے تھا کہ امام صاحب یہ جواب دیتے کہ بے شک اللہ کے گھر کا ہماری زیارات سے افضل مقام ہے اور بے شک اللہ نے مسلمانوں کے لیے حج فرض کیا ہے لیکن کیونکہ یہان امام کو اللہ سے بڑا مقام دینا مقصود تھا وہ بھی امام صاحب کی زبان سے تو فورا امام نے  پیر کے ظاہری اور باطنی حصہ  پر مسح کا حوالہ دیا جس بات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔جبکہ اسلام میں پاوں  کودھونا  فرض ہے جیسے سورۃ  المائدة  میں ارشاد ربانی ہوا کہ

دوسری طرف ایک اور روایت صفوان الجمال سے ہے کہ  امام ابوعبداللہ یعنی (امام جعفر صادق ؒ)  نے مجھے فرمایا کہ جب تم حیرہ جاو  گئے تو کیا تم  حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرو گئے؟ جس پر صفوان الجمال کہتا ہے کہ کیا  آپ ؒ نے حضرت حسین ؓ کی قبر کی زیارت کی تو  امام جعفر صادق ؒ فرماتے ہیں کہ  نقل کفر کفر نا باشد بھلا میں کیسے ان کی زیارت نہ کرتا جبکہ  خود اللہ ہر شب جمعہ زیارت کرنے آتا ہے اس کے ساتھ فرشتے انبیا ؑ اوصیاء اور خود رسول خدا ﷺ بھی ہوتے ہیں (نعوذباللہ)
اس جعلی روایات سے کئی چیزیں ثابت ہوئی ایک تو یہ کہ امام حسین ؓ  کا مقام اللہ
تعا ئی اور اس کے نبی ﷺ انبیا ؑ   فرشتوں سے افضل ہے (نعوذباللہ) دوسرا یہ کہ امام حسین ؓ جن کو اللہ کے پاس ہونا چاہیئے تھا وہ خود کربلا میں آج تک موجود ہیں  جس کے لیےخاص طور پر اللہ تعائی زمیں میں اترتے ہیں۔اگلی بات امام صاحب نے  فرمائی جو خود شیعہ مذہب کے بھی خلاف ہے کہ اگر کوئی انسان جمعے کو زیارت حسین ؓ کرئے تو وہ  اپنے اللہ کا دیدار کرسکتا ہے جبکہ  شیعہ مذہب میں اللہ کا دیدار کرنا  نا ممکن ہے۔
شیعہ کتاب نہج البلاغہ ۔پہلا خطبہ میں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ
ہمت کتنی ہی بلند پروازی سے کام لے اورعقل کتنی ہی گہرائی میں غوطے لگائے ، اللہ کی ذات کا ادراک ناممکن ہے ۔ اس کی صفات کی کوئی حد نہیں اور نہ اس کی تعریف ممکن ہے نہ اس کا وقت متعین ہے اورنہ زمانہ مقررہے
ایسے ہی ایک اور روایات امام باقر ؒ سے  نقل کی گئی ہے عقائد الامامیہ ۔شیخ مظفر  کی کتاب سے کہ
تجسیم الہی کی تردید کرتے ہوئے کتنی فلسفیانہ ،علمی ،نازک اور جچی تلی بات کہتے ہیں : “ہم چاہے جس چیز کا تصور ذہن میں لائیں اور اس کے بارے میں جتنا بھی سوچیں ہمارے ذہن میں جو بھی تصویر ابھرے گی وہ ہماری طرح کی مخلوق ہوگی
اب سوال یہ ہے کہ
جہاں امام حسین  ؓ  کی زیارت  کی فضیلت کا سوال ہے وہاں خود اللہ پاک زمیں پر  آجاتا ہے اور زیارات کرنے والا اللہ کو دیکھ بھی سکتا ہے دوسری طرف شیعہ مذہب کے مطابق انسان اللہ  کو  نہ قیامت میں دیکھ سکے گا اور نہ ہی جنت میں۔آپ اس روایات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امام حسین ؓ کا مقام کتنا افضل ہے اللہ پاک سے مذہب شیعہ میں (نعوذباللہ)
آپ نے اوپر پڑھ لیا ہوگا کہ خود اللہ ہر شب جمعہ زیارت کرنے آتا ہے اس کے ساتھ فرشتے انبیا ؑ اوصیاء اور خود رسول خدا ﷺ بھی ہوتے ہیں اب کسر حضرت بی بی فاطمہ ؓ کی رہے گئی تھی تو   وہ بھی امام حسین ؓ کے زائرین کے لیے حاضر ہوتی ہیں نعوذ باللہ۔  اب کوئی ان عقل سے پیدل شیعوں سے پوچھے کہ امام حسین ؓ کو تم جنت کے شہزادے کہتے ہو اور حضرت بی بی فاطمہ ؓ کو جنت   کی سردار خاتوں کہتے ہو تو وہ کیون دنیا میں واپس آکر  لوگون  کے لیے حاضر ہوتی ہوہیں گئی جبکہ   تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ حسین ؓ جنت کے افصل ترین مقام پر فائز ہیں۔ دراصل ان جعلی حدیثوں سے شیعوں نے یہ ثابت کرنا تھا کہ ہم شیعوں کی  قدر اہل بیت ؓ کی نظروں میں اتنی ہیں کہ وہ خود  ہمارے لیے آکر دنیا میں دعا کرتے ہیں ایسا ہی ایک عقید بلویری مذہب کا بھی ہے کہ جب محفل میلاد کی تقریب  کا انعقاد ہوتا ہے تو   خد رسول اللہ ﷺ اس محفل میں حاضر ہوتے ہیں  (نعوذباللہ) یعنی رسول خدا ﷺ جیسی اعظیم شخصیت اور حضرت بی بی فاطمہ ؓ جیسی اعظیم خاتون  ان لوگوں کی وجہ سے تشریف لاتی ہیں جبکہ  ایسی سوچ رکھنا ہی کتنی بڑھی توہین ہیں ان پاک ہستوں  کی (نعوذباللہ)


ایک اور حدیث کا جعلی پس منظر  صرف اس لیے کہ زیارت حسین ؓ کو حج اور عمرہ پر فوقیت  دی جائے کہ جو لوگوں امام حسین ؓ کی زیارت کے لیے آتے ہیں ان کو حضرت جبرائیل ؑ  اور میکائیل ؑ گھر تک چھوڑ کر جاتے ہیں جب کہ حضرت جبرائیل ؑ  اور میکائیل ؑ  تمام ملائکہ سے افضل و مقر ب ہیں اس جعلی رویات سے نہ صرف حضرت جبرائیل ؑ  اور میکائیل ؑ   کی  بد تر ین تذلیل  ہوتی ہے بلکہ شیعوں نے  اپنا یہ عقیدہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ دونوں    پاک ہستیاں  امام حسین ؓ  کے در کی غلام ہیں(نعوذباللہ) جبکہ ان دونوں ہستیاہوں کا مقام حضرت حسین ؓ سے زیادہ افضل و مقرب ہے۔دوسری بات شیعوں نے یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جیسے یہ دونوں مقرب  فرشتے اللہ کے حکم کے تابے ہیں ویسے ہی یہ امام حسین ؓ کے زائرین کے بھی تابے ہیں (نعوذباللہ)

رسول خدا ﷺ کے بعد حضرت جبرائیل ؑ کا  زمین پروحی کے ساتھ آنا بند ہوگیااور آپ ﷺ پر ختم نبوت کا اختتام ہوگیا۔لیکن شیعہ مذہب کے مطابق  شیعہ امامت کو کار نبوت و رسالت کا استمرار و تسلسل سمجھتے ہیں اور اسے مسئلہ الٰہی قرار دیتے ہیں۔ امام پیغمبر اور نبی کی طرح خداوند تعالی کی طرف سے مقرر ومعین ہوتا ہے۔ اسی لئے امام اور پیغمبر میں کوئی فرق نہیں ہے، سوائے اس کے کہ پیغمبر پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ لوگوں کو وحی الٰہی پہنچاتا ہے، لیکن امام پر وحی نازل نہیں ہوتی۔

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی(شیعہ)
https://iircenter.net/articles/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%88-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA/?lang=ur

اگرچہ اماموں پر خدائی وحی نازل نہیں ہوتی ہے ولایت کے اقرار کے بغیر کوئی نبی بھی نہیں بنتا ہے لیکن انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے خدا اما م کی اور امام لوگوں کی ہدایت کرتا ہے۔ نیز اماموں کی ہدایت ایک خاص کتاب الجفر اور الجامیہ کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ امامت پر یقین رکھنا شیعہ اعتقاد میں ایک اہم جز ہے

https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%D8%AA_(%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81)
جس سے یہ ثابت ہوا کہ  نبوت اور امامت میں فرق صرف وحی کا ہے اور بعض کے نادیک شاید وہ بھی نہیں ورنہ سب ایک برابر (نعوذباللہ)اس لیے حضرت جبرائیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ بھی آسمان سے زمین پر آکر امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرتے ہیں (نعوذباللہ) یعنی عقیدہ تو یہ رکھا کہ وحی کا دروازہ بند ہوگیا لیکن حضرت جبرائیل ؑ جن  کا کام اللہ کے پیغام کو انبیاؑ تک لانا تھا  ان کے ذمہ حسین ؓ کی زیارت لگا ڈالی ( بکواس)

قول مترجم
شیعہ مذہب میں اس اللہ کی تلاش کرنا فرض ہے جو امام حسین ؓ کے لیے زمین پر آتا ہے

شیعہ مذہب میں اس اللہ کی تلاش کرنا فرض ہے جو امام حسین ؓ کی قبر کی زیارات کے لیے زمین پر آتا ہے (نعوذباللہ)

صفحہ نمبر ۱۸ کی روایات کا شیعہ نااہل اب کیا  جواب دیتے کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق  اللہ کو نہ کیسی نے دیکھا  ہے ا ور نہ ہی کبھی دیکھ سکے گا سو اب اس جعلی روایات کی  حقیقت کو شیعہ نے ہر حال میں تسلیم کرنا تھا تو فورا اس کتاب کے  مترجم سید اقرار حسین زیدی لکھتا ہے کہ  اب یہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس اللہ کی تلاش کریں جو حسین ؓ کی قبر پر آتا ہے (نعوذباللہ) یعنی اب شیعوں کی نظر میں اللہ کتنے ہیں یہ شیعہ ہی جانے بقول نجم الحسن کراروی کے ہمارے ۱۴ معصوم کی مثال بھی اللہ پاک کی طرح ہیں یعنی شیعیت کے 14 خدا(نعوذباللہ)

کامل الزیارات صفحہ نمبر ۱۹ پر  ائمہ  ؒطاہری خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم توحید کے ارکان ہیں یعنی کہ مسلمانوں کا سب سے بنیادی عقیدہ کھڑا ہی توحید پر ہے جبکہ شیعہ مذہب کے مطابق وہ خود تو حید ہیں (نعوذباللہ)  جس انسان کو بھی عقیدہ توحید حاصل کرنا ہے اس پر لازمی ہے کہ وہ ائمہ  معصومیں  ؒ کی معروفت کو سمجھے۔ جبکہ   ائمہ  معصومیںؒ کو توحید میں شامل کرنا خود ایک شرک اعظیم ہے  جبکہ  اللہ پاک قرآن میں سورۃ اخلاص میں فرماتا ہے کہ
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
معبود برحق جو بےنیاز ہے
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
جبکہ امام ؒ خود بشر اور حضرت علی ؓ کی نسل سے ہیں۔

مسجد کوفہ کی اہمیت حج کے برابر




اسلام میں تین مساجد ایسی ہیں  جن کو افضل ترین مقام حاصل ہے یعنی
مسجد الحرام، مکہ جہاں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ایک نماز کا ثواب ہے
مسجد نبوی میں ایک نماز کاثواب ایک ہزار(۱۰۰۰) نمازوں کے برابرہے۔(بخاری:۱۱۹۰،مسلم:۱۳۹۴)
مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کااجروثواب دوپچاس (۲۵۰)نمازوں کے برابرہے۔
اب جب کہ تین مساجد کی فضیلت قران و حدیث سے ثابت ہے توکیا شیعہ اس معاملہ میں پیچھے رہ سکتے تھے اس لیے انہون نے فورا مسجد کوفہ کو شامل کرکے اس کا مقام بھی کم سے کم رسول خدا ﷺ کی مسجد کے برابر کردیا اور زیادہ سے زیادہ  حج کے برابر کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعائی اور مقام رسول ﷺ حضرت علی ؓ سے بڑھ جائے۔
.
اس لیے شیعوں نے مسجد کوفہ کو بھی  افضل ترین مساجد میں شامل  کردیا ۔ (شیخ صدوق، من لایحضره الفقیہ، طبع 1413ھ، ج1 ص29 کامل الزیارات صفحہ نمبر ۷۴،۷۵۷۶) جبکہ اس مسجد کی کوئی حقیقت اسلام میں نہیں ہے علاوہ اس کہ وہ ایک عام مسجد ہے۔ پھر  شیعوں کو مکہ و مدینہ کے متبادل ایک ایسی جگہ بھی درکار تھی کہ جس سے وہ  خانہ کعبہ اور مسجد نبی ﷺ کا مقابلہ بھی کر سکیں سو انہوں نے کوفہ میں ایک نماز کا ثواب سو رکعت  کے برابر کردیا اور دوسری روایات میں امام جعفر ؒ سے حدیث بیان کی ہے کہ ایک فرص نماز کا ثواب مسجد کوفہ میں حج کے برابر ہےاور نفل نماز کا ثواب عمرہ کے برابر ہے نعوذباللہ

اگئے ایک اور حدیث  ہے امام جعفرؒ سے جس سے مزید اس حدیث کو تقویت ملتی ہے کہ مسجد کوفہ میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب  حج مقبول اور ایک مستحب عمرہ مقبولہ کے برابر ہوگا یعنی اگر ایک شیعہ کوفہ میں ایک نماز ادا کررئے تو اس کو نہ حج کی ضرورت ہے اور نہ ہی عمرہ مقبولہ کی
ایک اور جعلی روایات کا پس منظر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مسجد کوفہ میں نفل نماز  کا ثواب رسول خدا ﷺ کے ساتھ عمرہ کرنے کے برابر ہے  جبکہ  ایسی کوئی روایات خود رسول خداﷺ نے اپنی مسجد کے بارے میں نہیں  فرمائی اور وہ خود با شمول حضرت علی ؓ کے خانہ کعبہ ہی جا کر عمرہ کیا لیکن کیونکہ کوفہ کے مکاروں کو عراق میں بھی ایک کعبہ کی ضرورت تھی تو انہوں نے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ایک جھوٹی روایات حضرت علی ؓ کی جانب منصب کردی۔پھر ایک شوشہ مزید چھوڑدیا کہ مسجد کوفہ میں  ایک ہزار انبیا ءؑ ایک ہزار اوصیا ء نے نماز ادا کی جبکہ یہ مسجد تعمیر  ہی  حضرت علی ؓ کے دور میں ہوئی ہے تو اس میں انبیاء کہاں سے آگئے۔پھر مزید یہ کہ یہاں ایک فرض نماز کا ثواب ایک حج کے برابر ہوتا ہے۔جبکہ خود حضرت علی ؓ  نے حج مکہ میں ہی کیا۔

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
سورہ بنی اسرائیل، آیت: 1
اللہ پاک نے قرآن پاک میں  ارشاد فرمایا  کہ  رسول اللہ کا سفر  خانہ کعبہ سے  بیت المقدس تک کا تھا  لیکن شیعوں نے ایک جھوٹی روایات گھڑی کہ آپ ﷺ کا گزر مسجد کوفہ کے سامنے سے ہوا جبکہ  مسجد کوفہ تو  ۷ ھ میں تعمیر ہوئی اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ  اس روایات کے دوسرے حصہ میں مسجد کوفہ کو وہ ہی مقام دیا گیا جو مسجد نبی ﷺ  میں  ریاض الجنہ کا ہے یعنی جنت کے   ٹکڑے کا  اس لیے رسول پاک ﷺ  نے   فرمایا تھا  کہ میرے گھر اور منبر کے درمیان جو جگہ ھے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ  ہے یعنی (ریاض الجنہ ) جبکہ دوسری طرف شیعوں نے  ایک جعلی روایات کے  ذریعے سے مسجد کوفہ کو بھی مسجد نبی ﷺ کے برابر لاکر کھڑا کردیا کیونکہ ان کو ایک اور  (ریاض الجنہ ) کوفہ میں بھی درکار تھا۔


بقول شیعیت روایات کہ امام حسین ؓ  کی قبر مبارک جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے لیکن خود شیعہ کتاب  (لھوف  یعنی امام حسین ؓ کی سوانح حیات   تالیف  سید ابن طاوس صفحہ نمبر ۴۸) پر یہ درج ہے کہ جب امام اعلی مقام کربلا پہنچے تو آپ ؓ نے فرمایا  کہ خداوند غم اور بلاوں  میں تجھ سے  پناہ مانگتا ہوں اس کے بعد کہا کہ (یہ خوفناک اور بلاو کی جگہ ہے) امام ؓ کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ کربلا  بلاوں اور خوف کی جگہ ہے بلکہ ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو جانے سے پہلے بھی پناہ مانگنا چاہیئے سو وہ کیسے جنت کا باغ ہوسکتی ہے

شیعہ مذہب میں حضرت حسین ؓ سے رسول خدا ﷺ کی نفرت کا اظہار (نعوذباللہ) ایک تیر سے دو شکار


مذہب شیعہ کی دشمنی صرف سنی  اسلام اور صحابہ ؓ  تک  محدود نہیں ہے بلکہ جہاں بھی شیعوں کو موقعہ ملا شیعوں نے اہل بیت ؓ کی توہین کرنے میں بھی عمدہ کردار ادا کیا  جو درحقیقت شیعہ مذہب کی بنیاد ہے  کہ صحابہ ؓ اور اہل بیت ؓ کی آپس میں دشمنی ثابت کرکے صحابہ ؓ پر تبرہ کرو اور اہل بیت کے ایسے واقعے کتاب میں لکھو جس سے اندازہ ہو کہ حضرت علی ؓ و فاطمہ ؓ کے درمیاں تعلقات میں  نا خوشی کا عنصر غالب تھا۔ یہ روایات بھی  اس ہی بات پر دلالت کرتی ہے کہ  جب حضرت جبرائیل ؑ  رسول اللہ ﷺ کے پاس امام حسین ؓ کے پیدا ہونے کا پیغام لےکر آئے  کہ میں آپ ﷺ کو ایک بچے کے پیدا ہونے کی خوشخبری  دیتا ہوں  جس کو
آپ ﷺ کی امت  بے دردی سے قتل کردئے گئی توآپﷺ  ایسے بچے یعنی (حضرت حسین ؓ) کو لینے سے صاف انکار کردیا  اور جب حضرت جبرا ئیل ؑ تیسری مرتبہ آئے اور آکر یہ کہا کہ آپ ﷺ کے رب کی یہ ہی منشا ہی تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کے  فیصلہ پر رضی ہوئے۔ روایات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آپ ﷺ ایسے بچے کی خواہش نہیں رکھتے تھے کہ جو امت کے ہاتھوں شہید ہوں۔اس جعلی حدیث کو لکھنے کا مقصد صرف اور صرف امام حسین ؓ کی تزلیل کرنا تھا (نعوذباللہ)۔۔
ایسے ہی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ   رسول خدا ﷺ اور حضرت فاطمہ ؓ غم زادہ ہوہیں یہ سن کر کہ ان کی بچے کو امت  بے دردی سے قتل کردے گئی جس کے بعد اللہ کی طرف سے یہ پیغام آیا کہ ہم اس بچے  (حضرت حسین ؓ) کے ذریعے سے   ان کی اولا د میں   امامت و صایت اور ولایت ُُٰپیدا کرہیں گئے۔یعنی ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ حضرت حسین ؓ کے پیدا ہونے سے پہلے  شیعہ مذہب میں کوئی امامت کا تصور نہیں تھا۔دوسرا یہ کہ آپ کوقبول کرنے کی اصلی وجہ آپ سے امامت  کا  چلنا تھا نہ کہ آپ کی عظیم شہادت۔ جس کا رونہ شیعہ آج روتے ہیں.یہ ہے شیعہ مذہیب کا اصلی روپ۔


شیعوں کے ۱۲ امام یعنی امام مہدی کے آنے کا اصل مقصد
شیعہ مذہب میں  ان کے ۱۲ امام کے اہمیت رسول خدا ﷺ اور علی ؓ سے  کہیں زیادہ ہے اس لیے جب امام کا خروج ہوگا تو یہ دونوں پاک ہستیاں شیعوں کے ۱۲ امام کی بیعت کرہیں گئی۔ اس وقت بقول شیعوں کے امام مہدی سنہ 329 ھ سے  غیبت کبری میں ہیں یعنی موجود تو ہیں لیکن   انسانوں سے اوجھل ہیں۔ شیعہ مذہب میں اما م مہدی کے مختلف نام ہیں  صاحب الزمان، منتَظَر، حجت اللہ، بقیۃ اللہ، منتقم، موعود، خاتم الاوصیا، غائب، مأمول، اور مضطر مشہور ترین القاب اور ابو صالح، ابو القاسم و غیرہ
(ابن طاؤس، رضي الدين علي بن موسى الحلي، مذاهب الطرائف في معرفة الطوائف، مطبعة الخيام – قم 1399ھ)
شیعہ مذہب کے مطابق امام مہدی کے  آنے کا بنیادی مقصد  زمین  میں  فساد برپا کرنا ہوگا جس کے لیے وہ تمام سنی علما ء اور مسلمانوں کو قتل کرئے گا  اور توریت کا قانون نافذ کررہے گا شریعت محمدی ﷺ کو ختم کردے گا۔ ایسے ہی ایک روایات ہم کو کامل الزیارات میں بھی ملتی ہے کہ  قائم خروج کررہے گا تو  وہ حسین ؓ کے خون کا بدلہ لے گا سوال یہ ہے کہ حسین ؓ کے اب کون سے دشمن ہیں کہ جس نے وہ بدلہ لیے گا جبکہ سنی شیعہ دونوں ہی حسین ؓ کے قاتلوں پر لعنت کرتے ہیں۔لیکن  کیونکہ شیعہ حضرات یزیدی سنیوں کو کہتے ہیں اس لیے ان کے ۱۲ امام نے آکر تمام سنی مسلمانوں کا صافایہ کر دینا ہے۔دوسری طرف اس روایات سے یہ  بھی معلوم ہوتا ہے کہ  روئے زمین میں بسنے والے تمام ہی انسا ن کو وہ قتل کردے گا جس کے لیے قرآن کی ایک آیت کے جھوٹے سے حصہ کو راوی نے بنیاد بنایا تاکہ اس فسادی قاتل کے قتل عام  کو فساد نہ کہا جائے پھر اس کے بعد امام جعفر ؒ فرماتے ہیں کہ امام مہدی  حسین ؒ کے قاتلوں کی اولادوں کو قتل کررہے گا اس لیے کہ ان کے اباو اجداد نے  حسین ؒ کو قتل کیا تھا۔ایک تو یہ کہ یزید کی کون سے اولاد اب زندہ ہے دوسرا یہ کہ اگر زندہ بھی ہوتئ تو اس کا کیا قصور تھا  حسین ؒ کئ شہادت میں۔بحث کا حاصل یہ کہ اس انسان کے آنے کا  اصل مقصد  فساد فی الارض کرنا ہے۔

حضرت امام حسین ؓ کی زیارات کا ثواب ۹۰ حج اور عمرہ کے برابر(أستغفر الله)
اس جعلی  حدیث کی بنیاد دراصل حضرت عائشہ ؓ سے دشمنی  اور عناد پر مشتمل ہے  جس میں آپ ؓ رسول خدا ﷺ سے پوچھتی ہیں کہ  یہ بچہ یعنی (امام حسین ؓ) آپ ﷺ کو اتنا زیادہ کیوں پسند ہے جس کا جواب رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں کہ  تیرے لیے افسوس ہو کہ کیسے میں اس کو پسند نہ کروں  اول تو یہ سوال  ایسا نہیں تھا کہ جس سے کوئی بغض یا عناد ظاہر ہوتی ہو یہ تو ایک سیدھا سادہ سوال تھا جس پر افسوس کرنے کا کوئی جواز  نہیں بنتا  پھر رسول اللہ ﷺ نے امام حسین ؓ کی زیارات کی فضیلت صرف حضرت عائشہ ؓ کے پوچھنے کی وجہ سے بڑھاتے چلے گئے اور ثواب زیارات کو ۹۰ حج و عمرہ کے برابر کردیا۔ا ب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ثواب  تو صرف اللہ دیتا ہے۔ پھر ثواب ۹۰ حج کے برابر کیسے ہو گیا  پھر  شیعوں نے اس جعلی حدیث سے یہ بھی بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ رسول اللہ ﷺ دراصل  اپنی زوجہ سے خوش نہ تھے نعوذباللہ  اور ناراض ہو کر وہ امام حسین ؓ کی زیارت کا ثواب بڑھاتے جا رہے تھے۔ اس روایات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شیعہ مذہب میں اللہ کے گھر کا کیا مقام ہے امام حسین ؓ کی زیارت  کے مقابلے میں


دریائے فرات کا کعبہ کے صحن سے افضل ہونا نعوذباللہ
امام جعفر ؒ سے منصوب ایک اور جعلی حدیث کا پس منظرعبداللہ ابن زبیر ؓ  ٓامام جعفر ؒ سے پوچھتے ہیں کہ حج کا موسم آرہا ہے اور آپ  یہ علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے دریائے فرات کے پاس دفن ہونا  کعبہ کے صحن میں دفن ہونے  سے زیادہ پسند ہے  یعنی اس سے ثابت ہوا کہ امام صاحب کی نظر میں حج اور کعبہ کے صحن  کی کوئی اہمیت نہ تھی بلکہ تھی تو فرات کے دریائے کے   کنارے کی جبکہ  حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب آج خود  جنت البقیع میں میں دفن ہیں( جہان امام ربانی،اقلیم ہشتم،صفحہ 377،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی ) سو اس طرح کی بکواس کا بھی کوئی سر پیر نہیں ہے۔

ایک ۤآنسوں پر ایک جنت کا کمرہ
امام جعفر  صادق ؒ فرماتے ہیں کہ  جو آنکھ غم حسین ؓ پر روئے اور ایک قطرہ آنسو اس کے رخسا پر آگرے تو  اللہ تعائی اس کے لیے جنت میں ایک کمرہ دے  گا۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ امام جعفر ؒ کو یہ وحی کہاں سے آئی جبکہ وحی کے تمام دروازے تو رسول خدا ﷺ کے بعد بند ہوگئے۔ پھر یہ آزمایا ہوا  فارمولہ ہے شیعہ مولائیوں کا کہ کربلا کی فر ضی داستانیں سنوا کر اپنی عوام کو الو بناؤ اور خود پیسہ لوٹو اپنی جاہل عوام سے سو جب ایک آنسو سے  ایک کمرہ مل رہا ہے  وہ بھی جنت کا تو کون  پا گل ہوگا کہ وہ اپنے آنسو قربان نہ کرے۔


زیارت حسین ؓ حج  سے افضل عبادت عظیم (نعوذباللہ)
امام جعفر ؒ کی اپنے صحابی معاویہ بن وھب  کو نصیحت جس  سے   ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کے ۱۱ امام کے ساتھیوں میں جیسے یزید نام کے افراد موجود تھے۔ ویسے ہی معاویہ  نام کے بھی افراد موجود تھے ۔ جو ان کی رجال کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں ۔امام جعفر ؒ اپنے صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام حسین ؓ کی زیارت کبھی نہ چھوڑنا اس کی وجہ ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ۷۰ سال کے گناہ اللہ عزوجل معاف کردے گا اور جب تم دنیا سے جاؤ گے تو ایسا کوئی گناہ نہیں ہوگا جس پر تم کو سزا دی جائے۔ جبکہ اس رویات  کے مترجم یہ بیان فرماتے ہیں کہ  حج کیلئے تو یہ حکم ہے کہ آپ ساقط کرسکتے ہیں اگر آپ کو جان کا خطرہ یا خوف ہو تو لیکن زیارت حسین ؓ ایسی عظیم عبادت ہے کہ باوجود خوف ہوتے ہوئے بھی کرنا لازمی ہے  یعنی اس کو آپ ترک نہیں کرسکتے ہیں۔
جس سے آپ مذہب شیعہ میں اللہ کے گھر کا مقام اور شیعہ مذہب میں اللہ کی ہستی کو باخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جو حسین ؓ کی زیارت کے لیے خود حاضر ہوتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ شیعہ زیارات کےمقابلہ میں حرم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ کربلا کی اہمیت کی  اصل وجہ امام حسین ؓ کا روضہ ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کی ا صل وجہ یہ ہے کہ یہ  شہر شیعوں کے لیے  قبلہ اول جیسی حقیقت رکھتا ہے کیونکہ یہ پہلا شہر تھا جہاں  شیعہ آباد ہوئے تھے اور کربلا اس لیے بھی شیعوں کے لیے اہمیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ  یہاں شیعوں نے امام  حسین ؓ کو بلا کر شہید کیا تھا۔  ایک وجہ اس کی اور بھی ہے کہ شیعہ  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دشمنی میں ایک ایسے قبلے کی تلاش میں  تھے کہ جہاں وہ خانہ کعبہ کے برعکس اس کو  وقار دے سکیں سو وہ  اس حقیقت کو تو تبدیل نہیں کرسکتے تھے کہ کوئی انسان کربلا کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ سکے لیکن انھون نے اتنا ضرور کیا کہ کربلا کی اہمیت خانہ کعبہ سے بڑھا دی



دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے اب شیعہ کیسے  پیچھے رہے سکتے تھے اپنی مکاری سے تو فورا انہوں نے امام جعفر ؒ سے ایک رویات گھڑی کہ  ہر شیعہ مومن کاقبر حسین ؓ پر آنا فرض ہے  یعنی حج تو ایک بار فرض ہوا لیکن کربلا  کی زیارت کرنا شیعہ مذہب میں بار بار فرض ہوا جیسے دوسری حدیث سے ثابت ہے پھر یہ کہ  امام جعفر ؒ فضائل زیارت اپنے ساتھوں سے عرض کر رہے ہیں جب کہ  حضر ت امام جعفر صادق ؒ اسلام میں   کوئی ایسی  پوزیشن نہیں کہ وہ   اسلام میں  فرضیا ت کا تعین خود سے کریں۔
اس حدیث کو مزید تقویت دینے کے لیے ابوعبدللہ ؒ سے  ایک اور حدیث گھڑی گئی  کہ جو شخص قبر حسین ؓ پر نہ آئے یہاں تک کے وہ فوت ہوجائے تو اس کا ایمان ناقص ہے۔یعنی اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہر وہ انسان جو خود کو مسلمان کہتا ہے اس پر یہ فرض ہے کہ وہ امام حسین ؓ کی قبر مبارک کی زیارت کرئے ورنہ اس کا اسلام مکمل نہیں ہوگا اور جنت میں اس کا درجہ شیعہ مومنوں سے کم ہوگا دوسری بات یہ کہ  دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے ۔
دراصل یہ حدیث اس حدیث کا  نعم البدل ہے
ترمذی شریف باب ماجاءمن التعلیظ فی ترک الحج میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ملک زاداً وراحلۃ تبلغہ الی بیت اللہ ولم یحج فلا علیہ ان یموت یہودیاً اونصرانیا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص کو خرچ اخراجات سواری وغیرہ سفربیت اللہ کے لیے روپیہ میسر ہو ( اور وہ تندرست بھی ہو ) پھر اس نے حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر
حج کے لیے تو  پھر  صاحب استطاعت بالغ مسلمان  ہونا لازمی ہے چند اور شرائط کے ساتھ لیکن  زیارت کے لیے ایسی بھی کوئی شرائط نہیں سو وہ تو  کرنا ہی کرنا ہے ورنہ اس کا ایمان ناقص قرار پیائے گا

ایک انسان ساری زندگی حج کرتا رہے اور حسین ؓ کی زیارت نہ کرے تو اس نے  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا  حق تارک ( چھوڑ) کر دیا نعوذباللہ
ایک اور حدیث ابو عبداللہ ؒ سے ہے کہ  اگر کوئی انسان تمام زندگی حج کرے  لیکن اس نے حضرت حسین ؓ کی قبر کی زیارت نہ کی تو اس کے تمام اعمال  ختم کردئے جائیں گے یعنی کہ اس کی تمام زندگی کے حج جو اس نے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کیے وہ برباد ہوجاہیں گے  اگر اس نے جا کر کربلا میں زیارت حسین ؓ نہیں کی تو ۔اس لیے کہ  حسین ؓ کا حق  اللہ کے  فرائض میں سے ہے جو ہر مسلمان پر  فرض ہے (نعوذباللہ)  اس رویات سے بھی آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ  امام حسین ؓ کا مقام اللہ کے مقام سے کس قدر بلند و بالہ ہے۔ یعنی ایک مسلمان زندگی بھر  حج کرے اللہ اللہ کرے لیکن اس کا حج قبول نہیں ہوسکتا جب تک وہ کربلا جا کر امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کر کے نہ ائے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کو شیعہ کے گھر گھر یا  حسین ؓ یا حسین ؓ  اور نوحہ چلتے ہوئے تو سنا ئی دیں گے لیکن کہیں کسی شیعہ کے گھر میں آپ کو قرآن کی تلاوت سنائی نہیں دے گی۔


ایک اور جعلی حدیث



زیارت حسین ؓ کرنے والوں  کو ثواب ہزار حج مقبول شہدا ء بدر  وغیرہ جیسا ملتا ہے
امام جعفر ؒ رویات کرتے ہیں کہ  اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ قبر حسین ؓ کی زیارت کی کتنی فصیلت ہے تو وہ شوق سے مرجاہیں
اب فصیلت کی طرف آتے ہیں
ہزار حج  مقبول کے برابر ثواب
ہزار مبرور عمرہ کے برابر ثواپ
شہداءبدر جیسےشہیدوں  کے برابر ثواب (نعوذباللہ)
ہزرا مقبول صدقوں کے برابر ثواب
ہزار غلام آزاد کرنے کا ثواب
جس سے اللہ رضامند ہو
وہ سال بھر آفات سے محفوظ رہے گا
جس کےساتھ ایک معزز فرشتہ ہو جو اس کے لیے استعفار کرئے۔ وغیرہ و غیرہ
اللہ تعائی قرآن سورۃ  الحديد آیت نمبر ۱۰ میں فرماتا ہے کہ
تم میں سے جن لوگوں نے فتح (مکہ)  سے پہلے اللہ کی راہ  میں اپنا مال) خرچ کیا اور(حق  کے لیے) قتال کیا وہ (اور تمہارے) برابر نہیں ہو سکتے
وہ ان لوگوں سے درجہ میں بہت بلند ہیں جنہوں نے  بعد  میں مال خرچ کیا اور قتال  کیا ہے۔۔۔۔۔
اب  قرآن کی آیت سے تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں  جن لوگوں نے  فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں مال اور جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر درجہ میں نہیں ہوسکتے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد  مال اور جہاد کیا۔جب کے اللہ کا فضل دونوں طبقات پر  رہا، لیکن یہاں  سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام حسین ؓ فتح مکہ سے پہلے پیدا ہوئے یا بعد تو یقین  تین سال پہلے پیدا ہوئے لیکن وہ بچے تھے اس لیے نہ   ان پر مال خرچ کرنا لازمی تھا اور نہ جہاد پر جانا اس عمر میں ۔لیکن جو  شہداء  بدر  احد اور فتح مکہ سے پہلے شہید ہوئے  یا غازی بنے تو یقین ان کا مقام بلند ہوا بعد میں انے والوں سے۔تو  پھر یہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے کہ ایک عام انسان وہ بھی رافضی جو خود اہل بیت ؓ کا دشمن ہو اس کو اتنہا ثواب ملے گا  امام حسین ؓ کی  زیارت کرنے سے جبکہ  اس کا اپنا ایمان  بھی تبرے پر مبنی ہے۔۔دراصل اس جعلی حدیث سے شیعوں نے شہداء بدر کے افضل شہداء کو اپنے  عام ملنگی  بھنگی چورا چمار سے ملا کر  شہداءبدر کی سخت تزلیل کی (نعوذباللہ) اور پھر سے ایک بار اما م حسین ؓ کی زیارت  کو ہزار حج اور عمرہ پر فضیلت دی جو  اللہ کے ہاں مقبول بھی ہوں (نعوذباللہ)





امام جعفر صادق ؒ سے روایت ہے کہ جب حسین ؓ شہید ہوئےتو اللہ پاک نے ہزار  غبار آلود گندہ حال فرشتے بھیجے  جو قیامت تک روتے رہیں گئے۔۔۔اور جو ان کی زیارت کرئے گا  اس کے تمام گناہ معاف ہوجاہیں گئے اور اس کے لیے اللہ ایک حج بھی لکھ دے گا اس حدیث کو مزید تقویت دی امام  عبداللہ ؒ نے فرمایا کہ اس انسان کے لیے حج کے ساتھ عمرہ کا ثواب بھی موجود ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر فرشتے  کس بات کا غم منا رہے  ہیں   جبکہ حضر ت حسین ؓ  تو شہید ہونے کے بعد دنیا سے افضل مقام پر پہنچ گئے ۔پھر اس روایت سے امام حسین ؓ کی زیارت اور  اللہ کا حج اور عمرہ ایک برابر ہوگئے ( نعوذباللہ)
امام باقرؒ و ابوعبداللہ سے کچھ  مزید جعلی   احادیث اس کتاب سے امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت  کرنے کے بعد ایک انسان قبر حسین ؓ پر جا کر چار رکعت نماز ادا کرئے اور دعا مانگے تو وہ دعا اس لیے قبول کرلی جاتی ہے کیونکہ وہاں ایک فرض  نماز  کا ثواب حج اور عمرہ کے برابر ہے (نعوذباللہ) یعنی جتنی  فرض نمازیں اتنے حج و عمرے (توبہ)

کربلا  کو حج کے برابر لانے کی ناکام کوشش

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (وہ تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا”۔
بخاری، الصحيح، 2 : 645، رقم : 1723، دار ابن کثير اليمامة، بيروت.
مسلم، الصحيح، 2 : 983، رقم : 1350، دار احياء التراث العربی، بيروت.
اب اس روایت کے مقابلہ میں شیعوں   پر یہ فرض تھا کہ وہ ایک جعلی روایت پیدا کرہیں جس کے لیے  انہوں نے پھر امام جعفرصادق ؒ کو چنا  اور انہون نے  یہ حدیث اپنے دادا  علی بن حسین ؓ سے کی کہ اگر کیسی نے   اللہ کی رضا  کے لیے زیارات   کی یعنی (میری قبر ) کی تو یہ ایسا ہی ہوگا  جیسے  ایک  نومولودبچے کو اس کی ماں نے ابھی جنم دیا ہے یعنی اس کے تمام گناہ معاف ہوجاہیں گئے۔

کربلا میں امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرنا اللہ کے عرش کی زیارت کرنے کے برابر ہے (نعوذباللہ)

کامل الزرات شیعہ مذہب کی  زیارت کے  موضوع پر سب سے زیادہ مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے  امام حسین ؓ کی زیارت پر ہر آنے والی کتاب میں اس کی حدیث اور روایت موجود ہوتی ہیں ۔مذہب شیعہ میں حدیث  صرف رسول پاک ﷺ سے نہیں لی جاتی ہے بلکہ ان کے ۱۲ امام کے قول کو بھی حدیث کہا جاتا ہے اس لیے شیعہ مذہب کے مطابق امام پر بھی وحی جارہی ہوتی تھی (آواز اعلان غدیر تالیف عبدالکریم مشتاق صفحہ نمبر ۳۳۵)
اب آئے  اس جعلی حدیث کی طرف کہ جس نے امام حسین ؓ کی قبر مبارک کی زیارت کی اس نے اللہ کے عرش کی زیارت کی (نعوذباللہ) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ  اللہ کے عرش کی قدر حسین ؓ کی قبر کے برابر ہے جبکہ  اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا عرش پر اللہ تعالی کا علو ( بلندی) ذاتی اور علو خاص ہے جس طرح کہ اللہ تعالی کی عظمت وجلال کے شایان شان اور لائق ہے جس کا علم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو نہیں  ۔اب اللہ کی عظمت کے مقام کو امام حسین ؓ کی قبر کے ساتھ ملا دینا خود اللہ پاک کی شان میں شیعوں کی گستاخی ہے

مذہب شیعہ میں رسول اللہ ﷺ ٓاور امام حسین ؓ کا مقام برابر


شیعہ مذہب میں جیسے ۱۴ امام کو خالق کائنات کی طرح بے مثل اور بے نظیر سمجھا گیا ہے ویسے ہی  تمام ائمہ کی زیارات کی فضیلت بھی رسول خدا ﷺ  کی زیارت کے  برابر سمجھی جاتی ہے۔اب ظاہر سی بات ہے کہ اگر مدینہ کا مقام باقی اماموں کی زیارات سے بلند ہوجائے تو  پھر کربلا اور دوسری زیارات کا مقام روضہ رسول ﷺ سے کم ہوجائے گا جو شیعوں کو کیسی صورت  اس لیے بھی قابل قبول نہیں  کیونکہ  اس سے عرب اور مدینہ کا مقام کربلا سے بلند ہوجائے گا اور مجوسی کیسے  یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں یہ سب

حضرت امام الر ضا ؒ نے شیعوں کے لیے آسانی پیدا کردی  اب شیعہ مکہ جا کر حج کرہیں یا پھر  امام حسین ؓ کی زیارت کرکے حج مبرور کا ثواب حاصل یہ جعلی رویات اس لیے بھی گھڑی گئی کیونکہ شیعوں کو معلوم ہے کہ ان کا  حج تو ویسے بھی قبول نہیں ہوتا ہے اس لیے انہوں نے  حج مبرور کا ثواب حاصل کرنے کے لیے امام حسین ؓ کی قبر مبارک کا رخ کیا

امام ابو جعفر ؒ سے روایت ہے کہ  امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرنا نبی ﷺ کے ساتھ حج مبرور کرنے کے برابر ہے  گویا  رسول خدا ﷺ آج ہم میں موجود نہیں ہیں اس لیے امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرکے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج جتنا ثواب حاصل کرسکتے ہیں (نعوذباللہ) اپنے شیعوں کو خوش کرنے کی ایک اور ترغیب۔


امام عبد اللہ  ؒ سے یہاں مزید اضافہ کے ساتھ ایک اور حدیث درج ہے کہ  قبر حسین ؓ کی زیارت حج کے برابر تو ہے لیکن  مزید بھی ثواب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ توبہ

اگر سعودی عرب والے رافضیوں کو حج کا  ویزا نہ دین تو وہ کیا کریں؟

امام ابو عبداللہ  ؒ   نے ایک پوچھنے والے  کو جواب دیا کہ  اگر تمہارا ارادہ حج کرنے کا  ہو مگر تم اس کی تیاری نہ کرسکو تو  حسین ؓ کی قبر پر چلے جانا  تو تم کو ایک حج مبرور کا ثواب مل جائے گا اور اگر عمرہ کا ارادہ رکھا اور تم نہ جاسکے تو عمرہ کا  ثواب مل جائے گا۔سبحان اللہ  اب حج وعمرہ سستے  میں ہوجائے گا بغیر کوئی تکلیف اٹھائے

امام رضا ؒ سے ایک اور حدیث درج ہے صفحہ نمبر ۳۸۵ اور ۳۸۶ پر کہ

واقعہ معراج  کی طویل حدیث سے اقتباس ۔ ساتویں آسمان پر نبی اکرم ﷺ جب تشریف لائے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ جو ایک بار آتے ہیں دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے (مسلم شریف)
اب ظاہر سی بات ہے کہ شیعوں کو کہاں یہ برداشت ہونا تھا کہ روزانہ   ستر ہزار فرشتے  جوبیت المعمور میں طواف کرتے ہیں پھر نہیں آتے ہیں۔سو شیعوں نے  امام حسین ؓ کا مقام اللہ تعائی سے بلند کرنے کے لیے (نعوذباللہ) ایک جعلی حدیث کا سہارا لیا کہ  اللہ کے پاس زیارت حسین ؓ  زیادہ عزت وتکریم  رکھتی ہے بمقابل بیت اللہ سے ۔شاہد جاہل مولائی اس جھوٹی حدیث سے یہ ثابت کرنا چارہے ہیں کہ اللہ کے پاس اپنا مقام امام حسین ؓ سے کم ہے (استغفر الله) پھر  ان کو اس بات کی تکلیف تھی کہ کیسے  ۷۰ ہزار  فرشتے طواف کرتے ہیں اور ایک ہی دفہ وہ یہ عمل کرتے ہیں تو فورا   شیعوں نے بھی ۷۰ ہزار فرشتے کربلا میں اتردئے  ساتھ اس اضافہ کہ  وہ سترہ ہزار فرشتے غبار آلود ہوتے ہیں  پھر آخر میں وہی بات کہ وہ فرشتے دوبارہ نہیں آتے ہیں  قبر حسین ؓ پر (نعوذباللہ)




امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرنے کے درجات سینکڑوں حجوں سے کچھ کم

دی گئی چند جعلی حدیث  سے  یہ  ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب میں حج کرنے کا کوئی خاص مقام اور مرتبہ نہیں بلکہ اس سے کئی گناہ اچھا ہے کہ انسان  امام حسین ؓ کی  قبر کی زیارت کرلے  جس سے اس کو  کم سے کم بھی بیس سے زیادہ  مقبول حج وعمرہ کا ثواب میلے گا۔
ایک اور  حدیث میں امام ابو عبداللہ ؒ فرماتے ہیں کہ  امام حسین ؓ کی زیارت کرنے سے تم کو پچیس حج لکھ دے گا۔ حیرت ہے اتنے عظیم فرض کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں

اکیس حج ایک زیارت کے برابر
بقول ایک اور من گھڑت اور باطل حدیث جو امام ابو عبداللہ ؒ  سے منصوب ہے کہ  اکیس حج کرنا یا ایک دفعہ امام حسین کی قبر کی زیارت کرنا  دونوں برابر ہیں یعنی کے کوئی شیعہ پاگل ہی ہوگا جو ۲۱ دفع حج کرے گا جب کہ اس کو  اتنا ثواب ایک دفع امام حسین ؓ کی قبر کی زیارت کرنے سے مل جاتا ہے. آگے ایک اور من گھڑت حدیث پیش کی گئی ہے کہ   امام حسین ؓ کی زیارت کا ثواب ۸۰ حج کے برابر کردیا گیا۔ تاکہ  مولائی  امام حسین ؓ کی زیارت کرکے اپنے تمام گناہ بخشوالیں  جس سے حکومت کو بھی مالی فائدہ حاصل ہو اور مولائیوں کی جان تمام دینی اعمال کرنے سے چھوٹ جائے پھر اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس کا آنا اما م حسین ؓ کی قبر پر رسول خدا ﷺ کے ساتھ ۱۰۰ حج کرنے کے برابر ہے تو شاہد ہی دنیا کا کوئی ایک  بھی مسلمان  ایسا ہو جو اس  مو قع سے فائدہ نہ اٹھائے


سنی مسلمان جو حج کرتے ہیں ان میں ولد الزنا بھی ہوتے ہیں جبکہ جو شیعہ زیارت حسین ؓ کرتے ہیں وہ حلالی ہوتے ہیں
امام عبدابو اللہ سے یہ سخت  گستاخانہ حدیث  صرف اس لیے نقل کی گئی تاکہ  تم سنی مسلمانوں کو (ولد الزنا   یعنی  حرم کا جنا یا تمام سنی مسلمانوں کو فاحشہ عورت کا بچہ یا پھر حرم زادہ ) کہا جائے  کیونکہ اسلام میں ایک تو حج فرض ہے اور پھر حج کی فضیلت تمام زیارتوں سے افضل ہے اس لیے شیعوں نے  ایک من گھڑٹ  حدیث کے ذریعہ سے  نہ صرف سنی مسلمانوں کو جو حج کرتے ہیں  بالواسطہ حرامی  کہا بلکہ اس سے انھون نے اپنا مقام بھی بڑھا ڈالا کہ  شیعوں میں کوئی بھی حرام زادہ نہیں ہوتا ہے بلکہ سب کے سب سچے اور پکے نسلی متعہ زادے مومن ہوتے ہیں۔ سو یہ خاص روایت سنیوں کونطفۂ بے تحقیق ثابت کرنے کے لیے ہے (نعوذباللہ)




عرفہ کے دن امام حسین ؓ کی زیارت کرنے کا ثواب 20 لاکھ حج  وغیرہ کے برابر
امام ابو عبداللہ ؒ فرماتے ہیں کہ جس نے   عرفہ کے دن امام حسین ؓ کی زیارت  کی تو اللہ  اس کے لیے قائم ؑ  کے ساتھ دس لاکھ حج  ثواب  رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دس لاکھ عمرے لکھ دے گا مزید یہ کہ دس لاکھ غلام آزاد کرنے لکھ دے گا  و غیرہ و  غیرہ ۔۔(نعوذباللہ) یہاں یہ بات قبل غور ہے کہ عرفہ کے دن کو کیون چنا گیا   اس کی وجہ یہ ہے کہ کیسی طرح مسلمانوں  کو عرفہ کے دن حج سے روک  جائے ۔ظاہر سی بات ہے کہ جب  اتنا ثواب اگر کیسی انسان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے تو کون حج پر جائے گا (نعو ذباللہ) پھر زیارت   بھی ایسی جس میں  جو قائم مقام یعنی ۱۲ امام کے ساتھ ہو اور عمرہ کا ثواب رسول اللہ کے ساتھ (نعوذباللہ)

ایک اور جعلی حدیث اما جعفر ؒ سے   منصوب   جو شخص محرم  الحرام  میں عشورہ والے دن امام حسین ؓ کی زیارت کرئے گا اس کو ۲۰ لاکھ حجوں  بیس لاکھ عمرے اور بیس لاکھ غزوات کا ثواب ملے گا۔ ان تمام بکواس کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امام حسین ؓ کی زیارت کو افضل ترین عبادت  شمار کیا جائے لوگ تمام دینی   فرائض کو چھوڑ کر صرف امام حسین ؓ کی  زیارت کو ہی اسلام سمجھے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر صرف یہ ٖفضلیت  امام حسین ؓ کے  نصیب میں کیوں آٗئی کیا شیعہ مذہب میں رسول پاک ﷺ  یا حضرت علی ؓ کا مقام امام حسین ؓ سے کم ہے  جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ  رسول خدا ﷺ کے روضہ مبارک  کی زیارت کا ثواب  امام حسین ؓ کی زیارت سے کہیں درجہ افضل ہونا چاہیئے تھا لیکن    ایسا نہیں ہو جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب میں جو درجہ امام حسین ؓ اور شیعہ حسینت ؓ کا ہی اس درجہ کے  مقابلہ میں رسول خدا ﷺ کے روضہ مبارک کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔(نعوذباللہ)

ایک اور حدیث کے مطابق  امام الرضاؒ کے نزدیک  کربلا کی زیارت کا ثواب ۱۰ ہزار حج  کے برابر ہے جبکہ  امام محمد نقی ؒ کے مطابق  زیارت کا ثواب ۱۰ لاکھ حج کے برابر ہے ( نعوذباللہ) زیارت کے   ثواب کے معاملہ میں آئمہ ؒ کا آپس میں اختلاف  کھل کر واضح

شیعہ مذہب میں  حسین ؓ مقام محمود پر فا ئز  اور انبیا ء ان کے در کے غلام (نعوذباللہ )


امام علی بن حسین ؓ   سے روایت ہے کہ جو انسان یہ چاہیئے کہ اس سے  ۱ لاکھ چوبیس  ہزار انبیاء مصافحہ  کر یں تو اس کو چاہیئے ہے کہ وہ نصف شعبان  میں  امام ابو عبداللہ الحسینؓ کی زیارت کر ےکیونکہ انبیاء ؑ  کی روحیں اللہ سے اجازت مانگتی  ہیں ان کی زیارت کریں۔۔۔۔۔۔
شیعہ مذہب میں تمام انبیا ءاکرام ؑ کا درجہ ماسوائے رسول پاک ﷺ کہ ان کے ۱۲ اماموں سے   نہایت ادنا ہےجس پر تمام شیعہ متفق ہیں۔اس لیے یہاں بھی شیعوں نے  انبیاءؑ کی سخت توہین کی  کہ وہ اللہ کی اجازت سے دنیا میں امام حسین ؓ کی زیارت کے لیے آتے ہیں  شیعہ جیسے صحابہ ؓ کا دشمن ہے اس سے کہیں زیادہ
انبیا ء اور خود رسول خداﷺ کا دشمن بھی ہے

شیعہ مذہب میں کربلا کی افضیلت مکہ پر


امام ابو عبداللہ ؒ سے ایک طویل حدیث  نقل کی گئی ہے جس میں قبر حسین ؒکی فضیلت اس قدر بیان کی گئی ہے کہ انسان حج کو ترک کردے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امام حسین ؓ کی زیارت کی اتنی ہی فضیلت تھی تو کتنی بار رسول خدا ﷺ خود حج چھوڑ کر کربلا گئے یا کتنی بار  آپ ﷺ نے یا حضرت علی ؓ نے اپنی زندگی میں جا کر کربلا کے اس مقام کی خود زیارت کی جہاں آج آپ ؓ موجود ہیں  بقول شیعوں کہ۔
سوال یہ ہے کہ اتنی فضیلتوں والے گھر میں آج تک کتنے انبیا ءؑ اکرام نے جا کر نماز پڑھی جبکہ کرہ ارض پر عبادت کے لئے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ کعبة اللہ ہے یہ ہی وہ گھر تھا کہ جس کی بنیاد حضرت آدمؑ  نے رکھی تھی۔ امام نوویؒ نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ خانہ کعبہ پہلا گھر ہے جسے حضرت آدم ؑ نے زمین میں تعمیر کیا۔جبکہ کربلا نام کی کیسی جگہ کی اسلام میں کوئی فضیلت نہ تھی اور نہ ہے۔

خانہ کعبہ کی بد ترین توہین (نعوذباللہ)
امام ابو عبداللہ ؒ  سے رویات ہے کہ  کعبہ کی زمیں نے کہا کہ میرے مثل کون ہے تو ۔۔۔۔۔اللہ نے اس کی طرف وحی  کی کہ  تو رک اور  ٹھہرجا میری عزت اور جلال کی قسم جو عزت میں نے کربلا کو دی ہے وہ فضیلت میں نے زمین پر موجود کسی ٹکڑے کو نہیں دی یعنی  کربلا کی نسبت خانہ کعبہ کی اہمیت ایسی ہے کہ جیسے سمندر میں سے سوئی کو ڈبو کر نکال لیا جائے یعنی  کربلا کے مقابلہ میں کعبہ کی اہمیت سمندر کے ایک قطرہ کے برابر ہے (نعوذباللہ)۔

اگر کربلا نہ ہوتی تو میں کعبہ کو بھی کویہ فضیلت نہ دیتا اور نہ ہی اپنا گھر بناتا ۔۔۔اور پھر اللہ تعائی نےخود خانہ کعبہ پر تبرہ کیا  (نعوذباللہ) اور کہا کہ کمتربن،متواضح  ذلیل  اور مہین بن اور کربلا کی فضیلت  کی منکراور کربلا پر تکبر والی نہ بن ورنہ  میں تجھے زمین میں دھنسادوں گا اور تجھے جہنم کی آگ میں  پھینک دوں گا أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ

اس بکواس  کی ویسے تو کوئی بھی عقل مند اور سمجھدار انسان  حقیقت کو تسلیم نہیں کرسکتا ہے ۔اس لیے کہ اللہ خود اپنے گھر کی تذلیل  کیوں کرے گا کرب و بلا کا اتنا ہی مقام ہوتا تو یقینآ اللہ اپنا گھر کربلا میں تعمیر کرلیتا۔پھر آخر کربلا میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ اللہ اپنی قسم کہا کر کعبہ کو کربلا کے مقابلہ میں کمتراور ذلیل کئے رہا ہے  اگر کربلا کی قیمت اس لئے بڑھ جاتئ ہے کہ وہاں امام حسین ؓ موجو د ہیں تو پھر امام حسین ؓ سے زیادہ محبوب اللہ کو رسول پاک ﷺ تھے تو پھر آپﷺ کی قبر مبارک کو آج کربلا میں ہونا چاہیئے تھا۔کیونکہ اللہ نے مکہ کو تمام زمیں پر فضیلت دئ جو عرب میں موجود ہے تو یہ بات کیسے ایران کے مجوسیوں کو  ہضم  ہوسکتئ تھی اس لیے انہوں نے نہ صرف اللہ کی جھوٹی قسم کہا کراپنے شیعوں کو کربلا  کی جعلی فضیلت کا یقین دلویا بلکہ   مزید یہ کہ  خانہ کعبہ کی بدترین تو ہین کی جبکہ خانہ کعبہ ہی وہ جگہ ہے جہاں آج حج عمرہ اور   طواف ہوتا ہے اور جہاں ایک نماز کا ثواب ۱ لاکھ نماز کے برابر ہے۔صرف اس حدیث سے آپ شیعیت کی اللہ اور اسلام سے  دشمنی کو سمجھ سکتے ہیں۔

امام جعفر صادق ؒ سے ایک اور جعلی حدیث کا پس منظر اوپر موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  کربلا  کعبہ سے ۲۴ہزار سال پہلے پیدا کیا گیا تھا جس کو اللہ نے جنت کی زمین سے افضل قرار دیا۔(نعوذباللہ)
جبکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے عرش اور پانی کوپیداکیاتو اس کا عرش پانی پر تھا( یعنی اس پانی اور عرش کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی) پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی۔ (بخاری،۴/۵۴۶،حدیث:۷۴۱۸)
یہ بات بھی یاد رہے کہ عرش اور پانی سب سے پہلے پیدا ہوئےپھر پانی میں حرکت پیدا ہوئی جس سے جھاگ پیدا ہوااوروہ جھاگ ایک عرصہ تک زمین کے اس حصے میں محفوظ رہا جہاں آج ’’خانہ کعبہ‘‘ ہے پھر اسی جھاگ کو پھیلادیا گیا وہ زمین ہے۔ (مراٰۃ،۵/۵۶۲، ملخصاً)
حضرت سیدنا امام مجاہد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے خانۂ کعبہ کو پیدا فرمایا پھر پوری زمین خانۂ کعبہ کے نیچے سے پھیلائی گئی۔ (تفسیر طبری،۳/۳۵۵،رقم:۷۴۲۷)
نبیٔ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ معظّم ہے:جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیّدنا آدم علیہ السلام کو جنّت سے اُتارا تو ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے ساتھ ایک گھر اُتار رہا ہوں، اس کے گرد اسی طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس اسی طرح نماز پڑھی جائے گی جس طرح میرے عرش کے گرد نماز پڑھی جاتی ہے۔‘‘ پھر جب طوفانِ نوح کا زمانہ آیا تو اسے اٹھا لیا گیا، انبیا ء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام اس کا حج تو کیا کرتے تھے مگر اس کی جگہ نامعلوم تھی ، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر اسے ظاہر فرمایا تو انہوں نے اسے پانچ پہاڑوں کے پتھروں سےتعمیر کیا: وہ پہاڑ (۱)جبل حراء(۲)جبلِ ثَبِيْر(۳)جبلِ لُبْنان (۴)جبل طور اور (۵)جبل خَير ہيں، لہٰذا تم سے جتنا ہو سکے اس سے نفع اٹھا لو ۔ ( الترغیب وا لترھیب،۲/۱۰۸، حدیث:۲۵)
سو رسول اللہ ﷺ کی ان حدیث کی روح سے اوپر والی شیعہ حدیث جعلی ثابت ہوجاتی ہے

ایسے ہی ایک اور حدیث


اب شیعوں نے خانہ کعبہ کی توہین کے بعد کربلا کو روضہ رسول ﷺ کے بھی برابر لاکر کھڑا کرنا تھا سو انھوں نے یہ جعلی حدیث گھڑی کہ کربلا قیامت والے دن  اپنی شفاف مٹی کے ساتھ بلند ہوگا اور اس کو بہشت  کے بہترین باغ میں قرار دیا  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
منبر ِ رسول ﷺ اور حجرہ مبارک کے درمیان کا حصہ ریاض الجنتہ کہلاتا ہے۔اس مقام کی نسبت حدیث میں آیا ہے: ‘‘ جو جگہ میرے گھر اور منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔’’
یعنی یہ جگہ حقیقت میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے جو اس دنیا میں منتقل کیا گیا ہے اور قیامت کے دن یہ ٹکڑا جنت میں چلا جائے گا۔اسی ریاض الجنتہ میں حضورِ پاک ﷺ کا مصلیٰ بھی ہے ، جہاں آپ  ﷺ کھڑے ہو کر امامت کیا  کرتے تھے۔

شیعہ روایت کے بقول امام جعفر ؒ نے اپنے ایک مرید کو امانت میں خیانت کا درس دیا

ایک شخص نے امام جعفر صادق ؒ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک عورت نے مجھے  کاتا ہوا سوت دیا اور کہا کہ مکہ کے حجوں کو دے دو وہ اس سے غلاف کعبہ بنالیں گئے۔تو میں نے  یہ کپڑا ان لوگوں کو دینا مناسب نہیں سمجھا  ۔آپ ؒ نے ارشاد فرمایا کہ اس سے شہداور زعفران خرید لواور قبر حسین ؓ کی مٹی لے لواس کو بارش کے پانی سے گوند  کر اس میں شہد اورزعفران ملا دواور اس سے اپنی بیماریوں میں شفا حاصل کرو۔اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امام جعفر ؒفرماتے کہ جس کام کے لیے اس عورت نے تم کو کپڑا دیا تھا تم اس کپڑا کا استعمال اس ہی کام کے لیے کرو یعنی (غلاف کعبہ بنانے کے لیے ان کو دے دو) لیکن یہاں امام ؒصاحب نے ایک نیانسخہ بتا دیا۔جبکہ شیعہ مذہب میں
ائمۂ معصومین ؒ  سے منقول احادیث سے استناد کرتے ہوئے یہ تفسیر تأکید کرتی ہے کہ آیت مجیدہ إِنَّ اللَّہَ یأْمُرُکمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَیٰ أَہْلِہَا(ترجمہ: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو۔)
ابوالفتوح رازی، روح الجنان، ج۱، ص۷۸۳_۷۸۴؛طبرسی، مجمع البیان، ج۳، ص۹۸
یہ بھی یاد رکھیں کہ خود امام جعفر ؒ کی اپنی قبر مبارک بھی  جنت  بقیع میں  موجود ہے ۔اگر کربلا کی اسلام میں کوئی اہمیت ہوتی خود ان کی نظر میں تو آپ ؒ یقین وہان دفن ہوتے
المفید، ۱۳۸۰ش. صص۵۲۶-۵۲۷.

کربلا کی مٹی میں ہر  بیماری کا علاج

اکژ شیعہ حضرات کو آپ نے یہ  کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ  اور یہ ان کا ایمان  بھی ہے کہ  کربلا کی مٹی میں ہر بیماری کی شفا بھی ہے جبکہ اگر یہ حقیقت کے ذرہ بھی نزدیک ہوتا تو آجکل کی وبا   19 کووڈ کورونا سے اب تک عراق میں ۷۵۰۰ سے زیادہ لوگ نہیں مرتے اور نہ ۱ لاکھ کے قریب ایران میں جو ان کی حکومت چھپارہی ہے۔


امام  علی الرضاؒ  کی زیارت کی تو اس کے لیے جنت ہے


امام  علی الرضاؒ  کی زیارت کی تو اس کے لیے جنت ہے  ۔جتنی فضیلت امام علی ؒ کی مسجد حسین ؓ کی زیارت یا امام علی الر ضا  ؒ کی زیارت کی ہے  کہ ثواب ۲۴ لاکھ حج کے برابر تک پہنچا جاتا ہے اتنہا ثواب امام حسن ؒ  ، زین العابدینؒ باقرؒو جعفر ؒ کی قبور مبارک کا کیوں نہیں جبکہ فقہ جعفریہ ؒ تو کھڑی ہی امام جعفر ؒ کے نام سے ہے تو اس کا جواب یہ کہ ان  کی قبور ایران و عراق میں موجود نہیں ہے بلکہ عرب میں ہے۔

ایک اور جعلی حدیث ابوالحن موسی بن جعفر یعنی امام جعفر ؒ  کے فرزند اور اہل تشیع کے ساتویں امام  فرماتے ہیں اپنے بیٹے   عَلِيّ ٱبْن مُوسَىٰ ٱلرِّضَاؒ کے بارے میں جن  سے حدیث اوپر درج ہے کہ جس  نے میرے بیٹے کی زیارت کی اس کو ستر ہزار حج مبرور کا ثواب میلے گا جس کی اصل وجہ ان کا  مشهد ایران میں مزار ہونا ہے۔یعنی شیعوں نے مکہ (عرب ) کے مقابلہ میں مشھد  ایران میں امام الر ضا ؒ کی زیارت کا ثواب ستر ہزار حج مبرور کے برابر کردیا صرف ایران کی مکہ سے شان بڑھانے کے لیے۔

شیعہ مذہب میں  علی اللہ کے ولی ہیں اس شہادت کے بغیر کلمہ ناقص ہے۔

مسلمانوں اور شیعہ کے کلمہ کا فرق ایک شیعہ کتاب سے


شیعوں کا الگ کلمہ پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگیا  ہوگا  کہ شیعہ مذہب  کے مطابق سنی  مذہب ایک ناقص مذہب ہے جس کی  کوئی اہمیت نہیں شیعہ مذہب کی بنیاد ہی علی ولی اللہ پر ہے اس لیے مذہب شیعہ میں  نہ توحید کی اہمیت ہے اور نہ  نبوت کی اس لیے شیعوں نے اپنے اماموں کا درجہ نہ صرف انبیا اکرام ؑ سے بلند کیا بلکہ انھون نے توحید پر بھی اپنے اماموں کو فضیلت دی۔شیعہ مذہب درحقیقت اسلام کی سچی تعلیمات کے خلاف  ایک ضد اور نفرت کا دوسرا نام ہے جس کا مطلب اسلام کے بھائی چارے کو پار پار کردینا ہے۔

آخری کلام
کامل الزیارات نامی یہ کتاب شیعہ مذہب کی معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے اور جتنی بھی شیعہ کتاہیں اس موضوع پر آج تک لکھی گئی ہیں یہ کتاب اس کی بنیاد ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ  بھی کراچی سے ہوا جس کے حوالہ اوپر اسکین  پیج کی صورت میں درج ہیں۔اس کتاب کے آخر میں بھی مترجم نےاللہ کے بجائے اما م زمانہ (۱۲امام) کا شکریہ ادا کرکے ثابت کیا کہ شیعوں کا یقین اللہ سے زیادہ ان کے اماموں پر ہیں جن میں ان کے امام زمانہ کا اول درجہ ہے اور بقول شیعہ روایتوں کے وہ ہی آکر شیعوں کو دنیا میں غلبہ دلائے گا۔ اس کتاب کو لکھنے  کا مقصد صرف اور صرف اللہ کے گھر خانہ کعبہ اور حج کی تذلیل کرکے کربلا کا مقام بلند کرنا تھا جبکہ امام اعلی مقام شہید کربلا امام حسین ؓ فرما گئے کہ کربلا  اصل میں کرب یعنی تکلیف اور بلا  مصیبت کی زمین ہے۔

خدا مسلمانوں کو شیعوں کے شرسے دور رکھے امین۔

آخر میں ہم حکومت پاکستان سے یہ  مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ  اس کتاب پر فورا پابندی لگائے اور اس کو ناشر کرنے والے ادارے پر بھی۔ یاد رہے ہم نے اس گستاخی سے بھرپور کتاب کے صرف چند نمونہ ہی اس مضمون کی زینت کئے ہیں ورنہ اس کتاب میں ایسے کئی اور حوالے بھی موجود ہیں.

دیے گے صفحات کے نمبر
۲۳،۲۴،۱۷،۱۸،۲۸۰،۳۴۹،۵۹۷،۲۷۰،۱۹،۷۴،۷۴،۷۵،۷۵،۷۶،۲۶۹،۱۳۷،۱۳۸،۱۵۲،۱۶۸،۱۷۶،۲۳۸،۲۷۹،۲۷۹،
۲۸۸،۴۵۸،۲۸۹،۳۴۴،۳۴۵،۳۴۹،۵۶۴،۳۴۹،۳۵۰،۴۵۶،۵۰۳،۵۶۴،۳۵۶،۳۶۲،۳۸۰،۳۸۰،۳۸۱،۳۸۵،۳۸۶،
۳۸۸،۳۸۹،۳۹۲،۳۹۳،۳۹۳،۴۱۱،۴۱۴،۴۲۰،۴۴۲،۶۷۹،۵۹۴،۵۹۴،۵۹۵،۵۹۵،۶۰۱،۵۹۵،۵۹۶،۶۱۲،۶۱۳،۶۷۶،۶۸۰،۶۸۶،۷۴۱

یہ   مضمون  شیعہ مستند کتاب کامل الزیارات کے بارے میں جس کو بقول شیعوں کہ علم و محبت و معرفت کا وہ خزانہ ہے جس سے بعد میں آنے والے تمام علماء نے خوشہ چینی کی ہے اور  آج تک جتنی بھی کتابیں شیعہ الزیارات پر لکھی گئی ہیں یہ کتاب ان سب کتابیوں  کا سر چشمہ ہے جو ۳۶۸ ھ میں مرتب کی گئی .اس کتاب کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ  اس کتاب کے مختلف زبانوں میں کئی تراجم موجود ہیں جس میں فارسی عربی انگلیش اور اردو شامل ہیں جبکہ معلوم نہیں کہ کتنے مزید اور تراجم کئے جا رہے ہیں۔   یہ  ضخیم  کتاب ۷۴۰ صفحات پر مشتمل  ہے۔ جس کو ابولقاسم جعفر بن محمد بن جعفر بن موسی بن قولویہ القمی  متوفی نے ۳۶۸ میں تالیف کیا تھا۔ اس کتاب کے ناشر ر حمت  اللہ بک یجنسی  کاغذی بازار میٹھادر  کراچی  والے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں