(١)حضرت عثمان نے سنت رسول کے خلاف قصر نماز کی بجائے پوری پڑھی۔ (حضرت عثمان از طہ حسین)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر۔9

🔺شیعہ الزام 👇👇
(١)حضرت عثمان نے سنت رسول کے خلاف قصر نماز کی بجائے پوری پڑھی۔
(٢) حضرت عثمان نے سنت رسول کو چھوڑ دیا۔
(حضرت عثمان از طہ حسین)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

(١) نماز قصر کب، کہاں اور کس وقت تک پڑھنا جائز ہے اور کس صورت میں مکمل نماز پڑھنے کا حکم ہے،
یہ فقہی مسئلہ ہے اہلسنّت فقہ کا مسئلہ معلوم کرنے کیلئے صحافی برادری کے حضور جمع نہیں ہوتے بلکہ قحط الرجال اور بے دینی کے اس دور میں بھی فقہ کا مسئلہ معلوم کرنے کیلئے لوگ روز نامہ جنگ با نوائے وقت کے دفتر فون نہیں کرتے بلکہ محلے کی مسجد میں حاضری دیتے اورتسلی کرتے ہیں۔ کیسے افسوس کی بات ہے کہ فقہی مسئلہ کی بابت الزام دینے کیلئے مصر کے نابینا صحافی ڈاکٹر طہٰ حسین مصری کی جابا ترا کی حالانکہ یہ صاحب نہ فقیہ ہیں اور نہ ہی عالم دین بلکہ آزاد خیال صحافیوں کا
ایک رکن ہے لکھنا جن کا پیشہ اور ذریعہ معاش ہے گویا قلم کے ہتھیار سے یہ لوگ روزی کماتے ہیں جیسا کہ اس بات کا اقرار ابوالاعلی مودودی نے کیا ہے۔( کتاب خمینی، مودودی دو بھائی میں دیکھیئے) ایسے لوگوں سے فقہ کے مسائل حل کروانا اہل سنت والجماعت کے ہاں مقبول نہیں ہے۔ ہاں امام محمد، ابو یوسف، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم اجمعین یا ان کے سلسلہ سے متعلق ارباب علم کا اس مسئلہ پر کوئی اختلاف بیان کیا جاتا تو حق بنتا تھا کہ ہم وضاحت کرتے کہ اس شرعی فقہی مسئلہ کی نوعیت کیا ہے بالفرض کوئی کمی کوتاہی ہوئی ہوتی تو اعتراف کرتے مگر ایک صحافی کے فقہ میں رائے زنی کو ایک طفل ناداں کی حرکت کہہ کر نذر انداز کرنے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔ جو اس فن کی الف باء سے بھی واقف نہیں.
🔸(٢) باقی رہا یہ سوال کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق منیٰ میں نماز قصر کی بجائے پوری نماز کیوں پڑھی۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جب کوئی مسافر کی جگہ ١٥ دن یا اس سے زائد ایام قیام کی نیت کر لیتا ہے تو یہ مسافر نہیں رہتا بلکہ مقیم بن جاتا ہے اور مقیم جب ظہر، عصر اور عشاء کی نماز پڑھے گا تو پوری نماز ادا کرے گا۔ اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو ایام حج میں نماز پوری ادا کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قیام کی نیت فرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جب منیٰ میں نماز پوری ادا کرنے کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن کے کچھ لوگ گزشتہ حج کے موقعہ پر آئے تھے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ منٰی میں ہر شخص نماز قصر ادا کرے گا اگرچہ
وہ مقیم ہی ہو اس لیے میں نے مکہ میں اس سال شادی کر لی ہے اور اقامت کی نیت کر چکا ہوں تا کہ یہاں پوری نماز پڑھا کر اس غلط خیال کی تردید کر دوں۔
👈(العواصم من القواصم 79)6