ًماتم پر شیعہ کے دس دلائل کا علمی رد

ماتم کے دلائل اور انکے جوابات
ماتم کے حق میں دی گئ دلیلوں کے آسان اور عام فہم شافی جوابات نوجوان حضرات پڑھ کر رٹ لیں شيعوں کا منہ بند کرنے کے کام آئیں گی.
دلیل نمبر1:
یعقوب علیہ السلام بھی تو یوسف علیہ السلام کے غم میں روئے تھے یہاں تک کہ رو رو کر ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی، چنانچہ قرآن پاک میں آتا ہے کہ:
’’وتولی عنھم وقال یا اسفا علی یوسف وابیضت عیناہ من الحزن فھو کظیم‘‘:
”اور اس نے منہ پھیر لیا اور کہنے لگا ہائے افسوس! یوسف پر اور غم واندوہ کی وجہ سے اس کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں۔”
تو جب ایک نبی دوسرے نبی کے غم میں رو رو کر آنکھیں سفید کرسکتا ہے تو امام عالی مقام کا غم منانے پر کیا اعتراض ہے؟
جواب:
ماتمیوں نے اس آیت کے لفظ ’’فھو کظیم‘‘ پر غور نہیں کیا، جس کا ترجمہ ہے کہ ’’وہ اپنے غم کو روکنے والے تھے‘‘
معلوم ہوا کہ غم لاحق ہونا حضرت یعقوب علیہ السلام کا غیر اختیاری فعل تھا اور انہوں نے اپنا ارادہ و اختیار غم منانے پر نہیں بلکہ غم ختم کرنے پر صرف کیا۔ اسی کو صبر جمیل کہتے ہیں جس پر انعامات کی بشارتیں اللہ کا قرآن سناتا ہے۔۔
(2) آیت میں نہ ”منہ پیٹنے” کا لفظ ہے نہ ”سینہ کوبی” اور ”ماتم” کا بلکہ صرف ”حزن” کا لفظ ہے جس کا معنی صرف ”غم واندوہ” ہے۔
(3) حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق کا صدمہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو مسلسل رہا۔ لیکن جب دور فراق ختم ہوا اور آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے تخت ِمصر پر متمکن ہونے کی بشارت ملی تو پھر آپ کا غم بھی جاتا رہا اور آنکھوں کی روشنی بھی واپس لوٹ آئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک کسی محبوب کی مصیبت باقی ہو اور اس کا صدمہ لاحق رہے لیکن صبر کے خلاف کوئی حرکت نہ کرے تو یہ غیر اختیاری ”غم و اندوہ ”گناہ نہیں اور جب وہ مصیبت ختم ہو جائے تو پھر غم بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ میدان کربلا میں حضرت امام عالی مقام اور آپ کے اعزہ واحباب پر جو مصیبت نازل ہوئی وہ وقتی تھی۔ شہادت کا درجہ پانے کے بعد جب آپ کو جنت مل گئی تو پہلی مصیبت ختم ہوگئی۔
اب شہدائے کربلا کی روحوں کو حسبِ آیاتِ قرآنی جنت کا رزق ملتا ہے اور وہ وہاں خوش ہیں تو اب رونے اور ماتم کرنے کا کیا موقعہ ہے؟ ہم تو حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں کہ جب تک آپ مصیبت میں مبتلا تھے اس وقت بھی صبر کیا اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بلند مقام کی بشارت ملی تو پہلا غم بھی بالکل ختم ہوگیا۔ مصر کے تخت سے جنت کا مقام تو اعلیٰ درجہ رکھتا ہے کیا ماتمیوں کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے اور وہاں خوشیاں منانے کا یقین نہیں ہے اور اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جنت میں بھی وہ مصیبت میں ہیں۔
(4) حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کی سلطنت ملنے کے بعد بھی کیا حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس گزری ہوئی مصیبت کی یادگار میں ہر سال غم کی مجلس منعقد کی تھی؟
(5) حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے سانحہ کربلا ایک بہت بڑا ایمانی امتحان تھا۔ جس میں آپ اعلیٰ نمبروںمیں پاس ہوئے تو اب ”واہ واہ حسین” امام کربلا کی شان کے مناسب ہے یا ”ہائے حسین، ہائے حسین” جو امام عالی مقام کو پاس سمجھتا ہے وہ ”واہ واہ” کرے اور جو نعوذ باللہ فیل سمجھتا ہے وہ ”ہائے ہائے” کرتا رہے ۔ نگاہ اپنی اپنی، پسند اپنی اپنی.
(6) پاکستان میں کتنے ماتمی ایسے ہیں جو امام حسین رضی اللہ عنہ کے غم میں اندھے ہوئے ہیں؟؟؟
دلیل نمبر2:
ماتمی حضرات اپنے ماتم کی حمایت میں پارہ ٧المائدہ آیت ٨٣ بھی پیش کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
“اور جب وہ سنتے ہیں اس کو جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اتارا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے حق پہچان لیا۔” الخ۔
الجواب!
(1) یہ آیت ان عیسائیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ملک حبشہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینے شریف پہنچے تھے اور جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ مسلمان ہوگئے۔ یہاں تو صرف آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی قرآن سننے پر۔ اس کو تمہارے ماتم سے کیا تعلق ہے۔
(2) اگر ماتمیوں کے نزدیک اس آیت کا مطلب ماتم کرنا ہے تو پھر قرآن سننے پر ماتم کیوں نہیں کرتے؟
دلیل نمبر3:
ماتمی حضرات کا ایک استدلال یہ بھی ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے واقعے کے دوران اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ:
’’فما بکت علیھم السماء والارض وما کانوا منظرین‘‘:
”نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین نے گریہ کیا۔ اور نہ انہیں اللہ کی طرف سے مہلت دی گئی۔”
معلوم ہوا کہ جوبرے لوگ ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان پر رویا جائے، اس کے بالمقابل ثابت ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں پر رونا چاہئیے۔”
الجواب!
(1) اس آیت میں نہ شہادت کا ذکر ہے نہ ماتم کا تو اس سے مروجہ ماتم کیسے ثابت ہوگیا۔
(2) اس آیت میں کوئی حکم نہیں ہے کہ نیک لوگوں پر رونا چاہیے۔
(3) کیا ماتمی لوگ زمین وآسمان کے مذہب کے پیرو ہیں؟
(4) اگر اللہ کے مقبول اور صالح بندے مستحق گریہ ہیں تو پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور دیگر صلحائے امت کی وفات پر ہر سال کیوں گریہ وماتم کی مجلس بپا نہیں کرتے؟
(5) نیک لوگوں کی وفات پر طبعا انسان کو افسوس ہوتا ہے اور غیر اختیاری طور پر رونا بھی آتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں، اعتراض تو سال بسال اس دن کی یادگار منانے اور بے صبری و نوحے کے اعمال کرنے پر ہے جن کے کسی ثبوت کا اشارہ بھی اس آیت سے نہیں نکلتا.
دلیل نمبر4:
بعض ماتمی تفسیر ابن کثیر کے ایک حوالے سے بھی اپنے مروجہ ماتم کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تفسیر ابن کثیر میں ہابیل و قابیل کے واقعہ کے تحت لکھا ہے کہ:
”کہتے ہیں کہ اس صدمہ سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی۔ آخر فرشتوں نے ان کے غم دور ہونے اور ہنسی آنے کی دعا کی۔”الخ
(تفسیر ابن کثیر مترجم جلد اول صفحہ٨٦)
الجواب:
(1) فرمائیے! کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہر سال”غم کی مجلس” قائم کرتے تھے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرشتوں نے ان کے غم کو دور کرنے کی دعا کی تھی؟ اس سے معلوم ہوا کہ غم دور کرنا ضروری ہے نہ کہ باقی رکھنا۔
(2) حضرت آدم علیہ السلام نے ”منہ پیٹا” اور نہ ”سینہ کوبی” کی اور نہ کالے کپڑے پہنے تو ماتمی لوگ یہ کام کر کے کس کی سنت کی پیروی کرتے ہیں؟
دلیل نمبر5:
”حضرت نوح علیہ السلام کا اصلی نام عبد الغفار تھا اور نوحہ کرنے کی وجہ سے نوح کہلاتے ہیں۔ ”(الصاوی علی الجلالین، جلد دوم صفحہ ١٣٣مطبوعہ مصر)
الجواب!
(1) حضرت نوح علیہ السلام کسی مقبول بندے کی مصیبت،بشارت کی وجہ سے سے نہیں روئے بلکہ اس کی وجہ سے خود صاوی حاشیہ جلالین میں یہ لکھی ہے :
”لقب نوح لکثرة نوحة علی نفسہ حیث دعا علی قومہ فھلکوا ۔وقیل لمراجعتہ ربہ فی شان ولدہ کنعان۔
آپ کا لقب نوح اس لیے ہوا کہ آپ اس بنا پر زیادہ روتے رہے کہ آپ نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی تھی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ اپنے بیٹے کے بارے میں آپ نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا تھا۔
(2) اس نوحہ (رونے) سے منہ پیٹنا او رسینہ کوبی کرنا کیسے ثابت ہوگیا۔
دلیل نمبر6:
حضرت ابراہیم بن محمد ۖنے انتقال کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف لائے۔ نزع کی حالت تھی گود میں اٹھا لیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (سیرت النبی حصہ اول صفحہ ٧٢٨)
الجواب!
(1) اس کے بعد یہ الفاظ بھی ہیں کہ:
”عبد الرحمن بن عوف نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی یہ حالت؟ آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے۔”
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے فرزندحضرت ابراہیم کے انتقال پر رحمت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے تھے لیکن اس سے ماتم مروّجہ کیسے ثابت ہوا۔؟
(2) اور اس گریہ کی بھی کیا ہر سال ابراہیم کی وفات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مجلس بپا کیا تھی؟
(3) حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت ابراہیم بن محمد ۖ کے ماتم کی مجلس بپا کی ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس چیز سے استدلال کرتے ہیں خود اسی پر عمل نہیں۔
دلیل نمبر7:
حضرت حمزہ کی شہادت پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور فرمایا۔ ہائے آج حمزہ کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس پر صحابہ نے اپنی عورتوں سے کہا کہ تم حضرت حمزہ کا ماتم کرو اور عورتوں نے گریہ کیا اور صف ماتم بچھائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا گریہ سن کر خود گریہ کیا اور عورتوں کو ماتم کرنے کی وجہ سے دعائے خیر دی۔ (کتاب مغازی فتوح الشام صفحہ١٠٨، سیرة ابن ہشام ،سیرة النبی شبلی نعمانی جلد اول)
الجواب!
(1) اس عبارت میں بھی منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا ثابت نہیں جس سے مروجہ ماتم ثابت ہوتا ہے۔
(2) سیرة النبی شبلی نعمانی حصہ اول ٣٨٧میں تو یہ الفاظ ہیں۔
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو دروازہ پرپردہ نشینان انصار کی بھیڑ تھی اور حضرت حمزہ کا ماتم بلند تھا۔ ان کے حق میں دعائے خیر کی اور فرمایا تمہارے ہمدردی کا شکرگزار ہوں لیکن مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں”
اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حمزہ کے ماتم میں عورتوں نے رواج کے تحت نوحہ (بین کرکے رونا)شروع کر دیا تھا جس سے رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمادیا۔
(4) کیا پھر ہر سال حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم و گریہ کی مجلس بھی قائم کی گئی تھی؟
(5) اور کیا آج کل کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی مجالسِ ماتم بپا کی ہیں۔اگر نہیں تو کیوں؟
دلیل نمبر8:
حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات کے سال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام الحزن یعنی غم کا سال کے نام سے یاد کیا ہے۔
الجواب!
(1) اگر اس سال کو عام الحزن کا نام دینے کا مطلب یہی ہے کہ ہر سال ان کی وفات کے دن ماتم کی مجالس قائم کی جائیں تو کیا حضرت علی المرتضیٰ،حضڑت فاطمہ الزہرائ،حضرت حسن اور حضرت حسین نے بھی ہر سال کوئی مجلس غم بپا کی تھی؟ اور کیا رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے مہربان چچا ابو طالب اور اپنی پیاری بیوی خدیجة الکبریٰ کی وفات کا دن ہر سال مجلس ماتم کی صورت میں منایا تھا؟ اگر نہیں تو پھر کس کی پیروی کرتے ہو؟
دلیل نمبر9:
جنگ احد میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہوگیا۔ جس کی خبر سن کر خواجہ اویس قرنی نے اپنے دانت توڑ دیے۔ آنحضرت ۖنے اس فعل کو پسند فرمایا اور خواجہ کے لیے دعا دی۔
الجواب!
(1) ماتمی حضرات کی پیش کردہ یہ روایت بے سند ہے اس لیے اس کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
(2) اگر اس طرح اپنے دانت توڑنا صحیح اور کارِ ثواب ہوتا تو پھر حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا بھی اپنے دانت توڑ دیتے۔ کیا ماتمیوں کے نزدیک خواجہ اویس قرنی کا عشقِ رسالت حضرت علی سے زیادہ تھا؟
(3) اگر خواجہ اویس قرنی کی یہ سنت ماتمیوں کو پسند ہے تو پھر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کے دانت شہید ہونے کی یادگار میں اپنے دانت کیوں نہیں توڑ دیتے۔ سارا قصہ ہی ختم ہوجائے، نہ مرثیہ خوان رہیں اور نہ سوز خواں،
نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔
دلیل نمبر10:
اسلام دین فطرت ہے رونا فطرت انسانی ہے بچہ پیدائش کے بعد زندگی کا آغاز رونے سے کرتا ہے۔
الجواب!
(1) پیدائش کے بعد بچے کا رونا مروّجہ ماتم کی دلیل کیسے بن گیا؟ بچہ کس کے ماتم میں روتا ہے؟
(2) اگر بچہ روتا ہے تو پیشاب پاخانہ بھی کرتا ہے، تو اس فطرت انسانی کے پیشِ نظر پیشاب پاخانہ کی مجالس بھی قائم ہونی چاہئیں؟ واہ کیا خوب عقل ہے۔ سبحان اللہ۔
یہ اور اسی قسم کی بے ڈھنگی بے سروپا دلیلیں ماتمی ٹولے کے ذاکروں کی کل کائنات ہیں جن کو راگنی و سر کے ساتھ سنا کر گرمی محفل کا سامان کیا جاتا اور مگر مچھ کے آنسو بہا کر سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے، کیا ہمارا پیارا دین اسلام یہی کہتا ہے اور کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی پیغام لے کر دنیا میں آئے تھے کہ سارا سال جو مرضی کرتے رہو، نہ نماز نہ روزہ نہ تراویح نہ قرآن، بس سال میں ایک دو دن سینہ کوبی اور دیگر جاہلانہ افعال انجام دے لو جنت کے پکے ٹھے حق دار بن جاؤ؟ حاشا وکلا ثم حاشا وکلا، یہ ہرگز ہمارا دین نہیں ہے اور نہ اس جہالت کو دین اور اسلام کے ساتھ کچھ واسطہ ہے۔ اللہ جل شانہ کم فاہم ماتمیوں کو عقل سلیم اور ہدایت عطاء فرمائیں۔ آمین
نوٹ: یہ پوسٹ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ کے رسالہ ’’ہم ماتم کیوں نہیں کرتے‘‘ سے ماخوذ ہے.
ردِ ماتم ہی کے موضوع پر حضرت رحمہ اللہ کی ایک ضخیم کتاب بھی ہے جس کا نام ہے “بشارت الدارین بالصبر علی شہادۃ الحسین” سنی مسلمانوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے.