وہ دنیا اور عقبیٰ کے خزانوں کے بنے مالک

علَم اسلام کا لہرایا

صحابہؓ نے علَم اسلام کا ہر سمت لہرایا

صحابہؓ نے نبیؐ کا دین عالَم میں ہے پہنچایا

نہ آتی ان کے زیرِ سایہ کھنچ کر کس لئے دنیا

رسولِ پاکؐ کا ان کے سروں پر جب رہا سایا

وہ دنیا اور عقبیٰ کے خزانوں کے بنے مالک

لٹایا سرورِ کونینؐ پر جب اپنا سرمایا

انہیں ہر موڑ پرکرب و ستم کا سامنا رہتا

مگر صد آفریں ان پر کبھی کوئی نہ گھبرایا

مِٹی بدعت کی تاریکی جلیں سنت کی قندیلیں

پلٹ دی تھی صحابہؓ نے جہاں کی اس طرح کایا

خدا کو اس طرح بھائی ادا صدیق اکبرؓ کی

فرشتوں کو بھی رب نے ٹاٹ کا ملبوس پہنایا

فدا تیرے لبوں پر میں عمرؓ! کیا شان ہے تیری

تری تائید کرنے بارہا جبریلؑ ہے آیا

تری قسمت پہ نازاں ہیں اے ذی النورینؓسب انساں

وہ جس کے ہاتھ کو آقا نے اپنا ہاتھ ٹھہرایا

وہ بابِ علم و حکمت اور خیبر کے وہ فاتح بھی

علیؓ جیسا جمیلؔ اب تک بہادر کب کہاں آیا