واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کا گھسا پٹا الزام

واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کا گھسا پٹا الزام

انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے چوتھے باب بعنوان “چوتھے خلیفہ راشد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان اور ان پر منبروں سے لعنت کرنے کی بدعت کب اور کس نے ایجاد کی ؟” میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ان کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر گالیاں دی جاتی تھیں۔

مرزا صاحب کا یہ کتابچہ چھ ابواب پر مشتمل ہے کہ جس کا دوسرا بڑا باب یہ ہے جبکہ اس کتابچے کے سب سے بڑے باب میں مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی اور بدعتی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور دونوں ابواب مل کر نصف سے زیادہ کتابچے کے مواد پر مشتمل ہیں کہ کتابچہ 32 صفحات کا ہے اور دونوں ابواب 17 صفحات کے ہیں اور بقیہ ابواب میں بھی روایات کی بڑی تعداد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے کہ جنہیں مرزا صاحب سے کھینچ تان کر، کبھی بریکٹس کی صورت ترجمے میں مذموم اضافے کر کے اور کبھی گھٹیا قسم کے فٹ نوٹس لگا کر، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے ہر مثبت بات کو بھی منفی بنا دیا ہے۔

کتابچہ واقعہ کربلا کا پس منظر کم اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ زیادہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کتابچے کا صحیح عنوان “امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ” ہی بنتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے تئیں، اس امت میں پیدا ہونے والے ہر فساد کی جڑ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے رد میں ہم سلسلہ وار گفتگو کر رہے ہیں۔

اپنے اس دعوی کے ثبوت میں مرزا صاحب نے جن روایات کو نقل کیا ہے، انہیں ہم راویوں کے اعتبار سے پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

پہلی قسم کی روایات سعد بن ابی وقاص رضی عنہ سے ہیں۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے؛ “أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟

اس روایت کا غلط ترجمہ مرزا صاحب یوں کرتے ہیں کہ امیر معاویہ نے، سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہیں

حالانکہ روایت میں یہ کہیں موجود نہیں ہے۔

“أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا” کا معنی یہ ہے کہ امیر معاویہ نے، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کو امیر حج مقرر کیا۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص سے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ “مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟”

کہ آپ کو ابو تراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟

تو یہ ایک سوال ہے نہ کہ کوئی حکم۔

دوسرا یہ کہ “سب” کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ جس کا معنی نامناسب الفاظ میں تذکرہ کرنا ہے جیسا کہ “سبابہ” شہادت کی انگلی کو کہتے ہیں اور عرب کسی کو عار دلانے کے لیے اس انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:

“أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا”

ترجمہ: اے اللہ، جس مسلمان کو بھی میں نے سب وشتم کیا یعنی اس پر تنقید کی، تو میرے اس عمل کو اس کے لیے گناہوں کی معافی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔ تو سب وشتم کا معنی تنقید بھی ہے۔

اب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیوں پوچھا؟

تو اس کی توجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وہ کیا خواص ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ ان پر نقد نہیں کرتے جبکہ کچھ اور لوگ کر رہے ہیں؟

سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ امیر معاویہ حج کے لیے تشریف لائے تھے تو ایک مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہما کا ذکر چھڑ گیا تو روایت کے الفاظ ہیں:

“فَذَكَرُوا عَلِيًّا، فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ۔”

ترجمہ: لوگوں نے حضرت علی کا ذکر کیا تو امیر معاویہ نے ان پر تنقید کی ہے تو اس سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سخت غصے ہو گئے۔

تو اس کے جواب میں اسی روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے تین فضاٗئل بیان فرمائے کہ جن کی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نقد نہیں کرتے تھے۔

تو اہم بات یہ بھی ہے کہ خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں ایسے صحابہ موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید برداشت نہیں کرتے تھے۔

تو پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے یا ان پر تنقید کرنے کا حکم دیا ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ سب وشتم تھا کیا جو کبھی منبر پر کسی کی طرف سے ہو گیا تو یہ دوسری قسم کی روایات سے واضح ہوتا ہے جو سہل بن سعد سے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آ کر کہنے لگا کہ مدینے کا گورنر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر برا بھلا کہتا ہے تو سہل بن سعد نے کہا:

“فَيَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: يَقُولُ لَهُ: أَبُو تُرَابٍ فَضَحِكَ،”۔

وہ کیا برا بھلا کہتا ہے؟

تو اس شخص نے کہا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہتا ہے۔ تو سہل بن سعد یہ سن کر مسکرا پڑے۔ اور انہوں نے بعد میں کہا کہ یہ نام تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بہت محبوب تھا۔ تو یہ بات درست ہے کہ امیر مدینہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ الفاظ بطور نقد استعمال کیے تھے لہذا اس کا یہ عمل بالکل غیر مناسب تھا۔

لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب جو یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برسر منبر گالیاں دی جاتی تھیں اور لوگوں کے ذہنوں میں پنجابی کی گالیاں آ جاتی ہیں کہ جن میں کسی کی ماں بہن ایک کر دی جاتی ہے تو وہ یہ کام بالکل غلط کرتے ہیں۔

اکا دکا ایسے واقعات ضرور ہوئے ہیں کہ کسی مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید ہوئی ہے لیکن بر سر منبر گالیاں دینے کا کوئی اسٹیٹ آڈر جاری ہوا تھا تو یہ بہتان عظیم ہے اور اس بہتان کو ثابت کرنے کے لیے جس انجینیئرنگ کی ضرورت ہے، وہ کمال درجے میں مرزا صاحب میں موجود ہے  اور ویسے وہ خود بھی اس کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ انجینئرنگ کرتے ہیں۔ تو دینی معاملات میں انجینیئرنگ کیا کوئی اچھی چیز ہے کیا؟

تیسری قسم کی روایات کا مرکزی راوی عبد اللہ بن ظالم ہے جو سعید بن زید سے روایت کرتا ہے، عبد اللہ بن ظالم کی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خطبا مقرر کیے ہوئے تھے جو لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے کا حکم کرتے تھے۔ لیکن اس معاملے میں عبد اللہ بن ظالم کی روایات قابل قبول نہیں ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا کہنا ہے:

“عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ”۔

عبد اللہ بن ظالم کی سعد بن زید سے روایات، صحیح نہیں ہیں۔

چوتھی قسم کی روایات کا مرکزی راوی ابو عبد اللہ الجدلی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا عام فعل تھا۔ ابو عبد اللہ الجدلی کے بارے ابن سعد لکھتے ہیں:

“وكان شديد التشيع.”

کہ وہ کٹر شیعہ ہے۔

امام ذہبی اس کے بارے میں کہتے ہیں: “شيعي بغيض.” یعنی بغض رکھنے والا شیعہ ہے۔

اور راوی اگر بدعتی ہو اور اس کی روایت اس کی بدعت کے حق میں ہو تو اس کی ایسی روایت قابل قبول نہیں ہوتی، یہ محدثین کا اتفاقی کلیہ ہے لہذا اس مسئلے میں اس راوی کی روایات مردود ہیں۔

پانچویں قسم کی روایت قیس بن ابی حازم کی ہیں جو خود مرزا صاحب کے موقف کے خلاف دلیل بن رہی ہیں۔

رہی یہ منطقی دلیل کہ انہوں نے آپس میں جنگ وجدال کر لیا تو گالم گلوچ کیوں نہ کی ہو گی؟ تو اس سے فضول کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا دنیا میں ہر قتل کرنے والا اپنے مقتول کو پہلے گالی دیتا ہے؟ اور جنگ وجدال بھی کن غلط فہمیوں سے ہوا، اس کی تفصیل کے لیے ہماری پہلی چار ویڈیوز ملاحظہ فرمائیں۔ اور سب وشتم کے موضوع پر مزید تفصیل جاننے کے لیے ملحق ویڈیو ۔ملاحظہ فرمائیں جو اس سلسلے کی پانچویں ویڈیو ہے.

(بشکریہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)