واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق صحابیت کے سوا فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے.

واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق صحابیت کے سوا فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے.

انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے تیسرے باب میں ص 14 پر، حدیث نمبر 27 کے تحت لکھتے ہیں “یعنی صحابیت کے سوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے۔”

سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا:

“اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به.”

اے اللہ، انہیں ہادی بھی بنا اور مہدی بھی، یعنی ہدایت کا رستہ دکھانے والا بھی، اور وہ بھی کہ جسے ہدایت کا رستہ دکھایا گیا ہو، اور ان کے ذریعے خلق خدا کو ہدایت دے۔

امام بخاری بھی اس روایت کو اپنی کتاب “التاریخ الکبیر” میں لے کر آئے ہیں۔

امام ترمذی نے اس روایت کو “حسن” کہا ہے۔

علامہ الجورقانی نے کہا کہ یہ روایت “حسن” ہے۔

امام ذہبی نے کہا کہ اس کی سند “قوی” ہے۔

ابن حجر الہیثمی نے اسے “حسن” کہا ہے۔

علامہ آلوسی نے بھی “صحیح” کہا ہے۔

علامہ البانی نے بھی “صحیح” کہا ہے۔

دوسری روایت المعجم الکبیر للطبرانی اور مسند احمد وغیرہ کی ہے کہ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللَّهمّ علّمه الكتاب والحساب، وقه العذاب۔

اے اللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب اور فرائض کا علم سکھا اور انہیں عذاب سے بچا۔

اس رواٰیت کے پہلے حصے کو سنن ابو داود اور سنن النسائی نے بھی نقل کیا ہے۔

ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس روایت کو “صحیح” کہا ہے۔

بعض معاصر محققین نے اس روایت کو مسلم کی شرط پر “صحیح” قرار دیا ہے۔

مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں امام اسحاق بن راہویہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی ایک روایت بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قول ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کب سے “بابی” یعنی بابوں کو ماننے والے ہو گئے؟

ان کا تو نعرہ ہی یہی ہے: “نہ میں وہابی، نہ میں بابی، میں ہوں مسلم، علمی کتابی”۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا صاحب سے بڑھ کر کوئی “بابی” نہیں ہے۔

باقیوں کے ہاں تو پھر “بابوں” کو نقل کرنے کا کوئی ضابطہ ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے لیکن یہاں تو وہ بھی نہیں ہے۔

مرزا صاحب جب چاہتے ہیں، اپنے مقصد کے لیے بابوں کو نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس کتابچے میں اپنے موقف کی دلیل کے طور پر بابوں کے بیسیوں اقوال جمع کر دیے ہیں۔ اور جب چاہتے ہیں، بابوں پر نقد شروع کر دیتے ہیں جبکہ وہ ان کے موقف کے خلاف جا رہے ہوں۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں “بابوں” کو اس لیے نقل کرتا ہوں کہ یہ لوگ “بابوں” کو مانتے ہیں۔ تو بھئی، پھر یہاں بھی علامہ البانی کو نقل کرو ناں اپنے کتابچے میں کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی روایت “اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به.” کو “صحیح” کہہ رہے ہیں۔

کیا یہ لوگ جن کے لیے آپ بابوں کو نقل کرتے ہیں، یہاں علامہ البانی کو نہیں مانتے؟

تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرزا صاحب اپنی تحقیق میں “خائن” ہیں، حق بات کو چھپاتے ہیں، تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہر منفی بات، جہاں سے انہیں ملی، بھلے تاریخ کی کتابوں سے، اپنے کتابچے میں جمع کر دی ہے جبکہ ان کے بارے ہر مثبت بات چھپا لی ہے، بھلے حدیث کی کتابوں میں موجود ہو۔ تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہتے ہیں؟ رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل، تو وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہیں، اپنے مناقب میں بھی اور درجات میں بھی، اور یہ سب صحیح روایات سے ثابت ہے۔

**** (بشکریہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)***