واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر پرحرام اشیا مثلا ریشم، سونا اور درندوں کی کھال بطور قالین کا الزام

واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر پرحرام اشیا مثلا ریشم، سونا اور درندوں کی کھال بطور قالین کا الزام

انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت سنن ابو داود کی ایک روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں حرام اشیا مثلا ریشم، سونا اور درندوں کی کھال بطور قالین استعمال ہوتی تھی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس حدیث کی تحقیق میں علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی رحمہما اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو “اسنادہ صحیح” کہا ہے۔ ہم نے اپنی ویڈیوز میں تفصیل سے یہ بات واضح کی ہے کہ

جب محدثین کسی حدیث کے بارے “اسنادہ صحیح” کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ حدیث “صحیح” ہے۔

اور یہ مرزا صاحب کی بنیادی ترین غلطی ہے کہ وہ “صحیح الاسناد” اور “صحیح” حدیث کا فرق بھی نہیں جانتے  اور اپنی اسی جہالت کے سبب اپنے کتابچے کا عنوان “واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر، 72۔ صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں” رکھ بیٹھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک “اسنادہ صحیح” کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ حدیث “صحیح” بھی ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ “صحیح” حدیث کی پانچ شرائط میں سے ان تین شرائط کی ہم نے اس روایت میں تحقیق کر لی ہے کہ جن کا تعلق صرف سند سے ہے، باقی کی دو شرائط کہ جن کا تعلق سند اور متن سے ہے، اس کو دیکھنے کی ہمیں فرصت نہیں ملی، وہ تم دیکھ لو۔ یا آسان الفاظ میں ہم نے اس روایت کی آدھی تحقیق مکمل کر لی ہے، باقی کی دوسرے محققین پر چھوڑتے ہیں۔ تو ایسی حدیث کہ جس کی تحقیق ابھی نامکمل ہے، اسے آپ اپنے دعوی کی دلیل بنا رہے ہیں؟ یا تو پہلے اس کی تحقیق مکمل کرتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کے اس کتابچے میں حدیث کی تحقیق کے ضمن میں انہوں نے چند محققین کی تحقیقات کو اپنا مصدر بنایا ہے مثلا علامہ البانی، شیخ شعیب ارنووط، شیخ زبیر علی زئی وغیرہ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ان حضرات میں کسی حدیث کی تحقیق میں اختلاف ہو جاتا ہے تو پھر مرزا صاحب کے ہاں ذاتی عصبیت کے علاوہ کوئی دوسرا اصول نظر نہیں آتا کہ جس کے تحت وہ ایک محقق کی تحقیق قبول کر رہے ہوں اور دوسرے کی چھوڑ دیں۔

مثال کے طور پر اسی روایت کو علامہ البانی نے اگر “صحیح الاسناد” کہا ہے تو شیخ شعیب ارنووط نے اسی روایت کو “إسناده ضعيف” کہا ہے یعنی اس کی سند ضعیف ہے لیکن مرزا صاحب نے شیخ شعیب ارنووط کی تحقیق نہیں لی ؟ کیونکہ وہ ان کے سوچے سمجھے نتائج کے خلاف تھی۔

اگر یہاں اس روایت میں علامہ البانی کی تحقیق لی ہے تو بعض مقامات پر علامہ البانی کی تحقیق چھوڑ دی ہے کیونکہ وہ ان کے نتائج کے خلاف تھی۔  تو یہ ساری تحقیق pick and choose کے اصول پر کھڑی ہے

اور اس میں بائیسنیس (ٰغلطیاں)  بہت زیادہ موجود ہے۔ پھر امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو “منکر” کہا ہے، چلیں امام کثیر تو آپ کے کتابچے کے مصادر میں نہیں ہیں لیکن شیخ شعیب ارنووط تو ہیں ناں۔ تو جو شخص آپ کے مصادر میں ہے، اسے بھی آپ مکمل نقل نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کے نتائج کے لیے نقل کرتے ہیں، بھلے وہ علامہ البانی ہو، شیخ شعیب ارنووط ہو، یا شیخ زبیر علی زئی ہوں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ معجم الطبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دے کر کہا کہ اے لوگو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو چیزوں سے منع کیا اور میں بھی تمہیں ان نو چیزوں سے منع کرتا ہوں؛ نوحہ کرنے سے، شعر سے، دور جاہلیت کی طرح عورتوں کے بن سنور کر باہر نکلنے سے، تصاویر سے، دردندوں کی کھالوں سے، موسیقی سے، سونے سے، بدکاری سے اور ریشم سے۔

اس روایت کو علامہ البانی نے “صحیح” کہا ہے۔ لیکن مرزا صاحب کو اپنے کتابچے میں یہ روایت نقل کرنے کی توفیق نہ ہوئی کیونکہ یہ ان کے مقصد کے خلاف جا رہی ہے۔ پھر اس روایت کو علامہ البانی نے “صحیح الاسناد” بھی نہیں بلکہ “صحیح” کہا ہے اور علامہ البانی آپ کے کتابچے کے مصادر میں ہیں۔ تو ایک ہی موضوع پر ایک ہی محقق سے “صحیح” روایت آپ نے نہ لی لیکن اس سے درجے میں کم “صحیح الاسناد” روایت لے لی، کیوں ؟

جب ایک موضوع پر ایک روایت آپ لے آئے ہیں تو دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کے خلاف اگر کوئی روایت موجود ہے تو اس کا بھی ذکر کریں اور حق بات نہ چھپائیں۔ لیکن مرزا صاحب سے ملاقات میں بھی میں نے کھل کر یہ کہا تھا کہ آپ کے بقول آپ نے بھی اس کتابچے میں وہ تمام روایات چھپانے کا جرم کیا ہے جو آپ کے دعوے اور مقدمے کے خلاف جاتی ہیں لہذا اس کتابچے کے پہلے پیج پر جو طعنہ آپ نے علما کو دیا ہے کہ وہ حق بات چھپاتے ہیں، تو اس کتابچے کے مطالعے سے صاف نظر آ رہا ہے، کہ یہی کام آپ نے پورے دھڑلے سے اس کتابچے میں کیا ہے۔ تو یہ کتابچہ تحقیق کے کن اصولوں پر مرتب ہوا ہے؟

.ایک ہی اصول ہے؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی طرح سے گندا کرنا ہے، by hook and by crook ۔۔۔

**** (بشکریہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)***