واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب کا الزام

انجینئر محمد علی مرزا نے حال ہی میں اپنا ایک ریسرچ پیپر بعنوان “واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر (المعروف ہائیڈروجن بم)” پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر حافظ زبیر نے متذکرہ ریسرچ پیپر کے حوالے سے ان سے ایک طویل مکالمہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ :
انجینئر مرزا صاحب دین اور دینی علوم سے حد درجے دور ہیں۔
عربی میں اصول حدیث، اصول فقہ، اصول تفسیر، عقیدہ وغیرہ کی کسی کتاب کے نہ دو لفظ پڑھ سکتے اور نہ ہی ان کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔
مرزا صاحب ترجمے کی کتابوں سے کام چلاتے ہیں، عربی زبان کے علاوہ دینی علوم کی بنیادی اصطلاحات سے ناواقف ہیں۔

مرزا صاحب کی اس خودساختہ تحقیق کا جو حصہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے، اس کے کچھ جوابات تحریری شکل میں ذیل میں، ڈاکٹر زبیر کے شکریے کے ساتھ پیش ہیں۔

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم “واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر” کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت مسند احمد کی ایک روایت کے ترجمے میں خیانت کرتے ہوئے یہ الزام لگاتے ہیں کہ معاذ اللہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے بعد شراب پیتے تھے۔ مرزا صاحب نے مسند احمد کی روایت کا غلط ترجمہ یوں کیا ہے:

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ تابعی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملنے گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں فرشی نشست [یعنی قالین] پر بٹھایا، پھر کھانا لایا گیا جو ہم نے تناول کیا، پھر ہمارے سامنے ایک مشروب لایا گیا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کے بعد [وہ مشروب والا برتن] میرے والد کو پکڑا دیا تو انھوں نے [سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ] نے فرمایا: “جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔” پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: “میں قریشی نوجوانوں میں سب سے حسین ترین اور خوبصورت دانتوں والا نوجوان تھا اور جوانی کے ان دنوں میں میرے لیے دودھ اور اچھے قصہ گو آدمی سے بڑھ کر کوئی چیز لذت آور نہیں ہوتی تھی۔”

اس حدیث کا عربی متن یہ ہے:
“22941 – حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ “أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ

[مسند أحمد ط الرسالة (38/ 25)]

مرزا صاحب نے اپنے ترجمے میں بریکٹس میں جو اضافے کیے ہیں، وہ عربی متن میں نہیں ہیں۔ عربی متن میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ سیدنا بریدہ نے یہ کہا تھا: “جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔” عربی متن میں صرف یہ موجود ہے کہ “اُس” نے یہ کہا اور یہ “اُس” سے مراد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشروب پینے کے بعد برتن سیدنا بریدہ کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ “جب سے اُس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اُسے نوش نہیں کیا۔” اور یہاں “اس” سے مراد “اُس” ہے۔

اب اس حدیث کو سمجھیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جس برتن سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا تھا، اس میں شراب ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی یہ نہ کہتے کہ “جب سے اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا” کیونکہ شراب کو قرآن مجید نے حرام کیا ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے شربت کی بعض صورتوں سے منع کیا تھا کہ جسے “نبیذ” کہتے ہیں۔ تو اس حدیث میں مشروب سے مراد “نبیذ” یعنی کھجور کا مشروب ہے کہ جس میں کچھ خمار آ چکا ہو۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے مخالفین نے الزام لگایا تھا، شراب نوشی کا نہیں، اتنی جرات نہیں تھی کسی میں، بلکہ نبیذ پینے کا الزام تھا۔ اور نبیذ اصلا جائز تھی جیسا کہ آگے روایت آ رہی ہے کہ

عرب پانی میں کھجور یا انگور ڈال کر رکھ لیتے تھے تا کہ میٹھا شربت بن جائے لیکن بعض اوقات ایک خاص وقت کے بعد اس مشروب میں سکر یعنی مدہوشی آ جاتی تو اسے پینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا تھا۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس مشروب کو پیا، وہ دودھ تھا جیسا کہ اسی روایت کے آخر میں دودھ کا لفظوں میں ذکر موجود ہے۔ اور اسی دودھ کے برتن کو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ

“جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔” یعنی اے بریدہ، یہ دیکھ لیں کہ میرے گھر میں میرے دستر خوان پر وہ چیز نہیں پی جاتی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور میرے بارے یہ باتیں درست نہیں ہیں جو بعض لوگ پھیلا رہے ہیں کہ میں مدہوش کر دینے والی نبیذ پیتا ہوں۔

تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ اپنی صفائی میں کہا ہے۔ یہ جملہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا نہیں ہے۔ اسے بلاغت میں اصطلاحا استطراد کہتے ہیں۔

روایت کا آخری حصہ بتلاتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تو دور جاہلیت میں بھی دودھ کا شوقین تھا تو اے بریدہ، اسلام لانے کے بعد نبیذ میرا پسندیدہ مشروب کیسے ہو سکتا ہے؟

اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے:

فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «مَا شَيْءٌ كُنْتُ أَسْتَلِذُّهُ وَأَنَا شَابٌّ فَآخُذُهُ الْيَوْمَ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنِّي آخُذُهُ كَمَا كُنْتُ آخُذُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ»

[مصنف ابن أبي شيبة (6/ 188)]۔

ترجمہ: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے جوانی میں بھی دودھ سے زیادہ کچھ پسند نہ تھا اور آج بھی میں، دودھ ہی لے رہا ہوں جیسا کہ آج سے پہلے بھی میں دودھ ہی لیتا تھا۔

تو مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت میں اس مشروب کے لیے “دودھ” کے الفاظ واضح طور موجود ہیں۔ تو اتنے واضح الفاظ کے بعد کہ میں آج کے دن دودھ پی رہا ہوں، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا طعن کہ وہ شراب پیتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ، اور دلیل کیا ہے کہ اس روایت میں “شراب” کا لفظ ہے۔

اور عربی زبان میں شراب کے لیے “خمر” کا لفظ آتا ہے نہ کہ “شراب” کا۔

اردو میں شراب کے لیے “شراب” کا لفظ ہے۔ عربی میں شراب کسے کہتے ہیں؟

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ، وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ”۔

[صحيح مسلم (3/ 1591)]

ترجمہ: میں نے اپنے اس برتن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی شراب یعنی مشروب پلایا ہے؛ شہد بھی، نبیذ بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔ یہ تو اس روایت کا صحیح مفہوم ہوا۔ اور جہاں تک اس کی سند کی بات ہے تو اس کی صحت میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس روایت کو “منکر” کہا ہے۔

(بشکریہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)