واقعہِ شہادتِ شبیرؓ (ابواسواہ توقیر احمد)

 کتاب کا نام۔۔۔ 

🏵واقعہ شہادت شبیرؓ

تالیف۔۔۔۔

🏵 ابواسواہ توقیر احمد

🏵بنام ۔۔۔مفتی عبدالعزیز عزیزی صاحب دامت برکات ھم ۔

فہرست

تمہید

مقدمہ

بنات رسول اللہ

اولاد حضرت فاطمہؓ

پیدائش حضرات حسنینؓ

صحابی کی تعریف

موروثی خلافت و تاریخ اسلامی

حضرات حسنین کا مزاج

حسنینؓ کے جنگی معرکے

ولی عہدی یزید

وفات حضرت امیر معاویہ ؓ

بیعت خلافت یزید

روانگی مکہ

کوفہ والوں کے خطوط کی تعداد

مسلم ابن عقیلؓ کی روانگی

کوفہ میں مسلم ؓ کی حالت

حضرت مسلم ابن عقیلؓ کا گھیراو 

موقف اصحابؓ رسولؐ۔

روانگی کوفہ پر صحابہؓ کا موقف

مقدمہ

دعوی

پہلی دلیل مدعی 

شبیرؓ کا شہادت سے پہلے بیان حلفی  

شبیرؓ کی پہلی گواہی

شبیرؓ کی دوسری گواہی 

شبیرؓ کی تیسری گواہی

شبیرؓ کی چوتھی گواہی

موقف شبیرؓ

شبیرؓ کی پانچویں گواہی

شبیرؓکی چھٹی گواہی

حضرت شبیر ؓکی  شخصیت

حضرت شبیر ؓ کی کوفہ کی طرف روانگی

شبیرؓ کی ساتویں گواہی

حضرت شبیرؓ کی عبیداللہ ابن زیاد سے خط وکتابت

حر بن یزید کے الفاظ بطور گواہی 

شبیرؓ کی آٹھویں  گواہی

شبیرؓ کی نوویں گواہی

شبیرؓ کی دسویں گواہی 

عمربن سعدکی گواہی

قاتلین شبیرؓتھے کون

خلاصہ

گواہ نمبر1

گواہ نمبر 2

گواہ نمبر 3

گواہ نمبر 4

سابقہ کینہ

اقرارجرم

فیصلہ ؟؟؟؟؟

🏵تمہید۔۔۔

آج کل سوشل میڈیاپر شہادت حضرت شبیر یعنی (حسینؓ) کے نام پر صحابہؓ تابعین وتبع تابعین پر تبراء کی جاتی ہے تو ہم نے سوچا کہ کیوں نا جو صحیح ترین روایات ہیں ہم ان کو جمع کریں اور حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں 

تویہ ایک کاوش ہے اہل سنت عوام کو حقیقت سے اگاہ کرنے کی اللہ کریم سے قبولیت کی دعا ہے 

🏵والسلام ابو اسواہ توقیر احمد

مقدمہ

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((حسین مني و أنا من حسین، أحبّ اللہ من أحبّ حسیناً، حسین بن سبط من الأسباط)) حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے ۔ (سنن الترمذی : 3377، وقال : ھذا حدیث حسن،

 مسند احمد 4/182

یہ روایت حسن لذاتہ ہے 

🏵بنات رسول اللہ 
حضرت خدیجہؓ کے بطن سےحضرت محمدصلی 

اللہ علیہ وسلم  کی اولاد

وتزوج الخديجة وهو ابن بضع وعشرین سنة فولدہ منهاقبل مبعثه القاسم ورقیة وزینب وام کلثوم وولدلہ بعد المبعث  الطیب والطاهر وفاطمةعليها السلام”
(اصول کافی ص439 طبع بازار سلطانی تہران۔ایران)

1۔۔۔۔۔قاسمؓ
1۔۔۔۔۔حضرت زینبؓ
2۔۔۔۔۔حضرت رقیہؓ

3۔۔۔۔۔حضرت فاطمہؓ

4۔۔۔۔۔حضرت ام کلثوم ؓ
حوالاجات
طبقات ابن سعد ج1 ص 207
ج8 ص32
فقہ اکبری ص133
بیان الازہرص46
البدایہ ج5ص307
طبری ج1ص 491
محاضرات ج1ص154
سیرت النبی ج2ص401
الشافی ج1ص544
قرب الاسناد ص 6
مراة العقول ج1ص352
منتہی الامال ج1ص79
حیات القلوب ج2ص82
حیات القلوب ج2ص169
حیات القلوب ج2ص869
حیات القلوب ج2 ص 870
حیات القلوب ج2ص269
🏵قدیم اور جدید مسلم وسبائی مورخین اور محققین کے حوالاجات سے معلوم ہوا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارصلبی بیٹیاں تھیں لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنا چاہتے ہیں۔تو جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی چارصلبی بیٹیاں ہونے کے انکاری ہیں اکثر حوالاجات ان کی کتابوں سے ہیں
اولاد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  
سیدہ فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے غزوہ احد کے بعد ہوا
غزوہ احد ہجرت کے تیسرے سال شوال میں ہوا اس سے ثابت ہوا کہ نکاح ہجرت کے چوتھے سال ہوا
آپکی اولاد
حضرت ام کلثومؓ
حضرت حسنؓ
حضرت حسینؓ
حضرت زینبؓ
حضرت ام کلثوم ؓ کا نکاح حضرت عمرؓ سے ہوا اوران کے دو بچے حضرت زیدؓاورحضرت رقیہؓ پیدا ہوے اور اس نکاح سے حضرت علی ؓ اور حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ سب خوش تھے  یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے اب اس سے ملتے جلتے مفہوم کے حوالے پیشے خدمت ہیں
1کرمانی ج1ص532
2جلاءالعیون ج1ص166
3جلاءالعیون ج1ص217۔218
4کتاب السنن ج1ص 130
5مستدرک ج3ص142
6کنزل العمال ج7ص98
7طبقات ابن سعدج8ص8
8المعارف ص92
9المعارف ص 79
10انساب الاشراف ص428
11کتاب نسب قریش ص41
12کتاب المحبرص56۔437
13المحبرص 54۔101
14جمہرة النساب  37۔38
15البدایہ ج 7ص139 ۔332
16بخاری ج1ص 403
17طبقات ج8ص482
18طبری ج3ص84
19طبری ج3ص 248
20حیات فاروق اعظم ص418
21عمربن خطاب ص488
22رحمة العالمیں ج2ص105
23تاریخ اسلام ج1ص199
24محاضرات ج2ص19
25مسالک الافہام ج 1
26رحمابینہم ج2ص240
27فروع کافی ج2ص311
28الاستبصار ج3ص185
29الکافی ج 2 ص211
30تہزیب الاحکام 238
31تہزیب الاحکام ص38

32شرح ابن ابی حدیدج4ص575۔576
پیدائش حضرات حسنینؓ

حضرات حسنینؓ کے سن ولادت اور عمر کے تعین وغیرہ کے سلسلے میں بےتکی اور واہی تباہی کہانیوں نے انتہا درجے کی دشواریاں کھڑی کر دی ہیں
انہیں تاریخی روایات کے انبار میں سے ایسے ناقابل انکار قرائن و شواہد بھی پائے جاتے ہیں جو حق اور صداقت پر مبنی ہیں اور دیانتداری کے ساتھ ان پر غوروفکر کرکے حقائق کا کھوج لگایا جا سکتا ہے
حضرت حسنؓ جب سات دن کے ہوئے توحضرت  محمد ؐ نے دوابلق گوسفند عقیقہ میں ذبح کیے اور حضرت اسماء بنت عمیسؓ دائیہ کو ایک ران اور ایک اشرفی عطا فرمائی
سر کے بال کٹوا کر برابر چاندی تصدق کردی اور سر مبارک پر خوشبو لگائی اور فرمایا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر ملنا
جلاءالعیون ج1 ص370
🏵حضرت اسماء بنت عمیس ؓ حضرت جعفر طیارؓ کی بیوی ہیں اور یہ میاں بیوی فتح خیبر کے بعد مدینہ تشریف لاے 

غزوہ خیبرمحرم 7ھ (مئی 628ء) میں ہوا کیوں کہ فتح خیبر کے موقع پر حضرت جعفرؓاورحضرت اسماء بنت عمیس ؓ حبشہ میں تھے اور انہوں نے مدینے کی ہجرت سے پہلے حبشہ کی ہجرت کی تھی تو حضرت جعفر ؓ اور حضرت اسماء بنت عمیسؓ غزوہ خیبر کے بعد مدینہ تشریف لائے    

1بخاری ج2 ص670
2حیات القلوب ج1 ص669
3المعارف ص96 

 بلاتفاق 

١۔۔۔حضرت اسماء بنت عمیس ؓ دائیا ہیں 

٢۔۔۔حضرت اسماء اور حضرت جعفرؓ طیار  خیبر کے بعد مدینہ آئے 

٣۔۔۔غزوہ خیبر محرم 7ہجری میں ہوا  

 تو اس اعتبار سے ولادت حضرت حسن ؓ  ۔ آٹھ ہجری کی ہوئی  

  حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کی کہ میں نے بہت برا خواب دیکھا آپؐ کے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر میری جھولی میں ڈالا گیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا یہ خواب بہت اچھا ہے حضرت فاطمہؓ کے ہاں لڑکا ہو گا اور وہ تری گود میں رہے گا جب شبیرؓ (حسینؓ) پیدا ہوے تو وہ میری گود میں رہے

1 بخاری ج2 ص572
2طبقات ج8 ص365
١۔۔حضرت عباس ؓاور ام فضل ؓ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لاے

٢۔۔۔فتح مکہ کے بعد مدینہ آئے یہ واقعہ 8 ہجری کا ہے اس کے بعدحضرت حسینؓ پیدا ہوے

٣۔۔۔20رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی

۴۔۔۔۔مطلب یہ کہ حضرت شبیر ؓ کی ولادت 9ہجری میں ہوئی کیوں کہ حضرت عباسؓ اور حضرت ام فضل مدینہ میں فتح مکہ کے بعد تشریف لائے ۔۔

حضرات حسنین ؓ کی کم عمری کا اندازہ مختلف روایات سے ہوتا ہے
حضرت ابوبکرصدیقؓ اپنےدورخلافت میں عصر پڑھ کر تشریف لے جا رہے تھے کہ اچانک آپ نے حضرت حسنؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا یہ نبی کریم علیہ صلاۃ و سلام کے ہمشکل ہیں نہ کہ حضرت علیؓ کے اس پر حضرت علیؓ ہنس دیے
1بخاری ج1 ص 501۔530

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے ماموں ہند بن  ابی ہالہ کے ساتھ رہتا تھا وہ رسول اللہ ؐ کا حلیہ مبارک بیان کرتے تھے
1طبرانی ج1 ص386

 طبقات ابن سعد ص2 /172
حضرات حسنینؓ
حضرت فاطمہؓ فرماتی ہیں جب حسنؓ  متولد ہوا میرے پدر بزرگوار نے مجھے حکم فرمایا جو کپڑا مجھے اچھا معلوم ہو وہ پہنوں جب تک حسنؓ کا دودھ بڑھے بعد اس کے پدربزرگوار مجھے دیکھنے آئے اور دیکھا کہ حسنؓ میرا دودھ پی رہا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا اس کا دودھ چھڑا دو میں نے عرض کیا بہت اچھا پھر فرمایا اگر علی ؓ تمہارے پاس آئے تو منع نہ کرنا اس لئے کہ میں تمہارے چہرے پر ایک نوروضیاء مشاہدہ کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ بہت جلد تم سے ایک فرزند پیدا ہوگا
جلاءالعیون ج2 ص 5
  فاصلہ میان امام حسنؓ اور امام حسینؓ بقدر مدت حمل تھا اور  مدت ایام حمل امام حسینؓ 6مہینے تھی کوئی فرزند جو چھے ماہ کا پیدا ہوا ہو زندہ نہیں رہا مگر حسین ؓ اور عیسیؑ بن مریم
جلاء العیون ج2 ص۔50۔51
🏵موضوعین وسبائیت زدہ تاریخ نوسیوں نے اپنا پورا زور لگایا ہے کہ کسی طرح حضرات حسنینؓ کی عمر کو زیادہ سے زیادہ ثابت کیا جا سکے
اب چاہے تو اس کو ثابت کرنے میں حضرات حسنین ؓ حضرت فاطمہؓ حضرت علی ؓ یا نانا ؑ کی شان میں گستاخی ہو بس کسی طرح ان کی عمر دوچار مہینے زیادہ ثابت کی جا سکےتا کہ جو باتیں  ان کی طرف منسوب ہیں ان کو قابل اعتبار
بنایا جا سکے اور کمسنی کی وجہ سے ان کا انکارناکیا جا سکے اب چاہے تو وہ باتیں انسانی شرافت کے خلاف ہی کیوں نا ہوں عقل سلیم کے خلاف ہی کیوں نا ہوں اور اس قسم کی روایات کثرت سے موجود ہیں
صحابی کی تعریف 

صحابی کی تعریف پر اہل سنت کا جو اجماع ہے وہ یہاں بیان کردیتے ہیں
اس تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ :
ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔
بحوالہ : الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8
بخاری اور مسلم میں کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی “صحابی” کے لفظ سے یاد کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے اور جن سے خلیفۂ راشد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جنگ کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافقین یا مرتدین ۔۔۔۔ ان احادیث کی رو سے “صحابی” کی اصطلاحی تعریف میں شمار ہوتے ہیں؟
یعنی ۔۔۔۔
اسی سوال کے ایک دوسرے رُخ کے مطابق ۔۔۔۔
کیا بعض صحابہ منافق تھے ؟؟
صحیح بخاری سے اسی سلسلے کی ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں:
النبي صلى الله عليه وسلم قال
يرد على الحوض رجال من اصحابي فيحلئون عنه فاقول يا رب اصحابي‏.‏ فيقول انك لا علم لك بما احدثوا بعدك، انهم ارتدوا على ادبارهم القهقرى.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
حوض (کوثر) پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ میں عرض کروں گا ، میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں ، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے (مرتد ہو گئے)۔
صحيح البخاري , كتاب الرقاق , باب في الحوض حدیث نمبر: 6585

وقال احمد بن شبيب بن سعيد الحبطي: حدثنا ابي، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:” يرد علي يوم القيامة رهط من اصحابي، فيحلئون عن الحوض، فاقول: يا رب، اصحابي، فيقول:” إنك لا علم لك بما احدثوا بعدك، إنهم ارتدوا على ادبارهم القهقرى”.

احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں؟ یہ لوگ (دین سے) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔“ (دوسری سند) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے «فيجلون» (بجائے «فيحلؤون») کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل «فيحلؤون» بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

 اس طرح ان منافقین کے “صحابی” ہونے کی گواہی دیں گے
تو اس کا جواب درج ذیل قرآنی آیت ہے :
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے :
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْاور
آپ کے گرد وپیش اعرابیوں میں سے منافقین بھی ہیں اور اہل مدینہ میں سے بھی چند لوگ نفاق تک پہنچ چکے ہیں ، تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیںں
افراط و تفریط غلو و توہین اورتنقیص سے بچتے ہوے ہم حقیقت کی طرف آتے ہیں جیسا اہلتشیع کتب سے ثابت ہے حضرات حسنینؓ کی پیدائش بلترتیب 8و9  ہجری کی ہوئی حضورؐ کی وفات کے وقت حد سے حد عمر سوا تین اور سوا دو سال بنتی ہے جب کہ صحابی کی تعریف
ایک جماعت نے صحابی کی تعریف میں وسعت دی ہے کہ جس نے بھی حضور ؐ کو دیکھا  ہاں اگر سن شعور کو نا پہنچا ہو تو اس کی طرف روایت کی نسبت کرنا درست نہیں
الاصابہ فی تمیز الصحابہ ج1 ص5
سعید بن مسیب ایک سال سے کم صحبت کو صحابیت نہیں مانتے تھے
فتح الباری ج7 ص6
قاضی ابو بکر محمد بن طیب صحبت کو عام مانتے ہیں چاہیے ایک مرتبہ زیارت کی ہو
اس کے باوجود  صحابی کا لفظ خاص ہے جس کو لوگ کثرت صحبت کے لیے استعمال کرتے ہیں
اس اصولی گفتگو سے ثابت ہوا حضرات حسنین ؓ اور بہت سارے لوگ جو سن بلوغت وتمیز کو حضورؐ کی زندگی میں نا پہنچ سکے اور انہوں نے دینی اور عملی زندگی میں حصہ نہیں لیا ان کو کیسے صحابہ کے درجے میں مانا جاے
مقدمہ اسد الغابہ ص 12

تکوین ربانی

یاد رہے کسی خاص انسان کا کسی خاص وقت میں پیدا ہونا  تکوین ربانی ہے جسے کسی کے لیے بھی ٹالنا یا اس سے انکار کرنا ممکن نہیں
اذاارادہ اللہ شیاء ان یقول لہ کن فیکون

 تو حضرات حسنین ؓ کا نبوت کے آخری سالوں میں پیدا ہونا تکوین ربانی ہے 

مثال دیتے چلیں 

حضرت ابو بکر ؓ کا خلیفہ بننا۔ نبی ناہوتےہوئے کار نبوت کو نہج نبوت پر ہوبہو ادا کرنا اور نبوت کے بعد جو کجی پیدا ہورہی تھی اس کو سیدھا کرنا 

مثال۔ ۔ ۔جو زکوةمیں جانورکے ساتھ رسی دیتا تھارسول اللہ ؐکے وصال کے بعداگر رسی نادی تو اس سے رسی لینے کے لیے لڑنے کا عزم کرنا

حضرت عمر ؓ کا کار نبوت کو نہج نبوت پر وسعت دینا اور صحابہؓ کے ساتھ مل کر اسلامی اصلاحات لانا 

حضرت عثمان ؓکاکارنبوت کو نہج نبوت پر وسعت دینا اور تزکیةالنفس کی ضرورت پیش آنا جس کی وجہ سے انتشاراورافتراق کا پیدا ہونا

ایک بات خاص یاد رکھنے کی ہے 

حضرت علیؓ حضرات شخین ؓ کے دور میں قضاوت وتحکیم کے فیصلوں کے ساتھ خاص منسلک رہیے اور یہ ہی سابقہ چاروں (رسول اللہؐ وابوبکرؓوعمروعثمانؓ)  ادوار ان کی تربیت کے تھے کیوں کہ انہوں نے امت کو انتہائی مشکل دور میں سنبھالنا تھا 

حضرت علیؓ نے کارنبوت کو نہج نبوت پر تزکیةالنفس کے ساتھ پوراکیااور امت کو سنبھالا اور اسی وقت کے لیے اللہ نے آپ ؓ کی تربیت فرمائی تھی  اور تزکیة النفس کے جتنے سلسلے ہیں وہ حضرت علی ؓ سے اسی وجہ سے منسلک ہیں کہ پہلے تینوں خلفاء کے ادوار میں کارنبوت کو نہج نبوت پر پھیلاناتھا اور نبوت کا زمانہ قریب تر ہونےکی وجہ سے تزکیة النفس کی  ضرورت نہیں تھی لیکن وسعت اسلام کی وجہ سےاورنبوت کےزمانےکے دور ہونےکی وجہ سے اب تزکیةالنفس کی ضرورت محسوس ہوئی اور یہی وہ تکوین ربانی تھی جس کے لیے حضرت علی ؓ کی تربیت کی گئی تھی
حضرات حسنین ؓ کی ثابت شدہ کم عمری کے باوجود انہیں جلیل قدر صحابہؓ ابوبکر ؓ عمرؓ عثمانؓ اور علی ؓ سے کیسے افضل وعظیم قرار دیا جاےکیا یہ تکوین ربانی پر اعتراض نہیں 

حضرت علیؓ کا بیعت کرنا

اُسد الغابة میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا تو مجھے یہ خیال تھا کہ خلافت کا میں زیادہ مستحق ہوں لیکن تمام مسلمان حضرت ابوبکر صدیقرض کی خلافت پر متفق ہوگئے تو میں  نے ان کو امیر و خلیفہ مان کر ان کی اطاعت کی، پھر جب حضرت ابوبکر صدیق رض مرض الموت میں مبتلا ہوگئے تو میرا گمان تھا کہ وہ خلافت میرے علاوہ کو نہیں دیں گے تو انھوں نے حضرت عمر فاروق رض کو خلیفہ مقرر فرمادیا تو میں نے ان کو خلیفہ تسلیم کرکے ان کی اطاعت کی۔ پھر جب حضرت عمر رض مرض الموت میں تھے تو میرا خیال  تھا کہ وہ معاملہٴ خلافت کو میرے علاوہ کے سپرد نہیں کریں گے۔ انھوں نے اس معاملہ کو چھ حضرات کے سپرد فرمادیا، ان چھ میں سے میں ایک تھا انھوں نے حضرت عثمان رض کو خلیفہ بنادیا تو میں نے ان کو بھی خلیفہ تسلیم کرکے ان کی اطاعت کرلی، پھر جب حضرت عثمان رض کو شہید کردیا کیا تو لوگوں نے بلا کسی جبر و اکراہ کے مطیع ہوکر مجھ سے بیعت خلافت کرلی۔ اُسد الغابة: 4/31، ط. بیروت موروثی خلافت و تاریخ اسلامی
تاریخ عالم میں آپ کسی بھی تحریک کا بغور مطالعہ کریں اس کی راہ میں ہمیشہ اپنے ہی رکاوٹ ہوتے ہیں اسی طرح بنوہاشم نے رسول اللہ ؐ کی انتہادرجے مخالفت کی 

یہاں تک کہ قرآن نے ابولھب کا نام لے کر زکر کیا جب تحریکیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بانی تحریک اس کو عروج کی طرف لے جانے کا سوچتا ہے اور ان لوگوں کو زمہ داریاں دی جاتی  ہیں جنہوں نے تن من لگا کر تحریک کو کامیاب کیا اسی طرح کچھ اسلامی تحریک میں ہوا رسول اللہ ؐنے اکثر مناصب پر بنوامیہ کے لوگوں کو ذمہ داریاں دی جیسے 

عتابؓ ابن اسید اموی مکہ کے عامل خالد ؓابن سعید

 ابان ابن سعید 

ؓ سعیدؓ  ابن ابی العاص

ابوسفیان ؓ 

یزید ابن ابو سفیان

 سب کو حضور ؐ نے عامل بنایااور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک عامل رہے
منہاج السنہ ج2ص145
رسول اللہؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو امام بنا کر خلافت کا اشارہ دے دیا اور صحابہؓ نے بلاتفاق بیعت کی سواے حضرت علی ؓ کے اب جوروایات شیعہ کتب میں اس وقت کے اعتبار سے ہمیں ملی وہ پیش کرتے ہیں
موروثی خلافت کے لیے سب سے پہلے جو تحریک چلائی وہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب اور حضرت علی ؓ نے چلائی اب اس سے ایک بات تو ثابت ہوئی  کہ مسلمانوں کی فلاح بہبود کو سامنے رکھتے ہوے ایسی کوی بھی تحریک چلانا ناجائز نہیں کیوں کہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تربیت یافتہ ہیں
روایت ترجمہ
میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا جائیں گے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ عبدالمطلب کی اولاد کے چہرے مرتے وقت کیسے ہو جاتے ہیں وہی کیفیت اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے  لہذا تم ان کے پاس جاؤ اور پوچھ لوں کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا تاکہ اگر امارت ہم کو ملتی ہے تو ہم کو ابھی معلوم ہو جائے اور اگر وہ کسی اور کو کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں تاکہ اطمینان ہوجائے  اس بات کی بجاآوری کی جائےحضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے کہا بخدا میں ہرگز یہ بات رسولؐ اللہ سے دریافت نہیں کروں گا اگر انہوں نے خود ہم کو اس سے محروم کردیا تو پھر عمر بھر لوگ ہم کو امارت نہ دیں گے
1بخاری ج2 ص639
2البدایہ ج5 ص215
3طبری ج1ص521
4طبقات ابن سعدج2 ص348

🏵 اس روایت سے ثابت ہوا کہ موروثی خلافت میں کوئی قباحت نہیں اگر وارث خلافت کے لائق ہوں اور خلافت کرنے کی صلاحیت رکھتےہوں 
رسول اللہؐ  کے وصال کے بعد حضرت عباسؓ ابن عبدالمطلب نے حضرت علی رضی اللہ سے کہا آپ اپنا ہاتھ پھیلائیں میں بیعت کر لوں تاکہ لوگ بھی بیعت کر لیں لیکن حضرت علی ؓ نے منع کیا
5طبقات ابن سعد ج2ص349 

🏵اس روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے
حضرت علی ؓ نے فرمایا مرے چچا یہ حکومت تو آپ ہی کی ہو گی کون ہے جو ہم سے جھگڑا کرے کا اس کے بعد سب منتشر ہو گیے
طبقات ابن سعد ج2 ص349۔350
7طبقات ج2 ص350
8قسطلانی حاشیہ بخاری ج2ص339

اس روایت سے بھی مورثی خلافت کا جواز نکلتا ہے
حضرت فاطمہؓ  کی زندگی میں حضرت علیؓ کا بڑا وقار تھا لیکن جب حضرت فاطمہؓ  انتقال فرما گئیں تو حضرت علیؓ نے محسوس کیا کہ لوگوں کے چہروں میں پہلی سی بات نہ رہی تو اب انہوں نے صلح وبیعت کر لینی چاہی حالانکے انہوں نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی چناچہ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہلا بھیجا کہ آپ ہمارے ہاں آئے اور آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نہ آئے حضرت عمرؓ نے کہا آپ تنہا نہ جائیں حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں ان کے پاس اکیلا ہی جاؤں گا مجھے امید نہیں کہ وہ لوگ میرے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئیں گے پھر حضرت ابوبکرؓتشریف لے گئے حضرت علیؓ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی فضیلت اور جو کچھ اللہ نے آپ کو عنایت فرمایا ہے اسے پہچانتے ہے
جو بھلائی اللہ نے آپ کو دی اس پر حسد نہیں کرتے تاہم آپ نےخلافت کے معاملے میں ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا اس لیے کہ ہم قرابتِ رسول اللہؐ کی وجہ سے اسے اپنا حصہ خیال کرتے تھے
1بخاری ج2 ص690
2ہمعنی طبری ج1/ 369
🏵امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے اور قومی خدمت کے جزبے سے اپنے لیے خلافت کی تگ ودو کرنا کوی ناجائز بات نہیں اور حضرت علی ؓ نے جب اپنے لیے اور امت کے لیے بہتر سمجھا حضرت ابوبکر ؓ سے مل کر بیعت کر لی اور شکوہ و شکایت دور کیں لیکن اس میں ایک بات ثابت ہوی حضرت علی ؓ خلافت کو رسول اللہؐ کی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے جس کے اثرات ان کی اپنی زندگی اور اولاد کی زندگی پر بھی پڑے
لیکن جب بیعت کرلی تو حضرت ابو بکر ؓ کے بہترین مشیر رہے ان کی وفات کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے حضرت علی ؓ بہترین مشیر رہے یہاں تک کہ ایک قضاوت کے فیصلے پر حضرت عمر ؓ کے خلاف فیصلہ دیا اور جب حضرت عمر ؓکو سمجھ آی تو بے اختیار پکارا اگر علی نا ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا 

اعتراض شیعہ امیر معاویہؓ نے یزید کو خلیفہ بنایا جو کہ ناجائز اور حرام تھا 

اس کا جواب ماقبل میں بیان ہو چکا ہے
اسی طرح جنگ یرموک سے قاصد آیا تو اس کو واپس جاتے ہوے حضرت علی ؓ نے فرمایا
اے عبداللہ ابن قرطؓ اگر لڑائ کا معاملہ بھاری محسوس ہو تو امیر المومینین کو لکھ بھیجنا میں انصار اور مہاجرین کے ساتھ آوں گا شام کی زمین دشمنوں پر پلٹ دوں گا
حضرت عمرؓ کے زخمی ہونے کے بعد جو چھ نام حضرت عمرؓ نے خلافت کے لیے دیے ان میں حضرت علیؓ کا بھی تھا ان چھ میں سے چار اپنا نام واپس لے چکے باقی رہ گیے حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے نام
اس وقت حضرت علی ؓ نے پھر سیاسی کوشش شروع کی خلافت کے حصول کے لیے لیکن فیصلہ ان چار لوگوں کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے فیصلہ کرنا تھا عوامی راے کے ساتھ
یہاں ہم چند روایات پر اکتفا کرتے ہیں
یہ حقائق ہیں تماشاے لب بام نہیں ہے
حضرت مسورؓ بن مخرمہ فرماتے ہیں
حضرت عبدالرحمن ؓبن عوف
رات گئے میرے پاس تشریف لائے  دروازے پر دستک دی تو میں بیدار ہوا انہوں نے کہا کہ تم سو رہے ہو جبکہ ان تین راتوں میں معمولی سا سو سکا ہوں تم جاؤ اور زبیرؓ اور سعدؓ کو میرے پاس بلا لاؤ حضرت عبدالرحمنؓ نے ان سے مشورہ کیا پھر مجھ سے کہا کہ علیؓ کو بلا لاؤ چناچہ میں لے آیا وہ ان سے آدھی رات تک باتیں کرتے رہے حضرت علیؓ ان کے پاس سے خلافت کے خواہش و توقع  لیے ہوئے اٹھے
نیز حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت عبدالرحمنؓ مخالفت کا خطرہ محسوس کرتے تھے
اسکے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ عثمانؓ کو بلاؤ  پھر ان سے صبح مؤذن کی اذان تک مشورہ کرتے رہے پھر جب لوگ جمع ہوئے انتخابی کمیٹی کے ممبران ممبررسول اللہؐ کے پاس جمع ہوئے حضرت عبدالرحمنؓ نے مہاجرین اور انصار اور ان تمام امراء ولشکر وغیرہ لوگوں کو اکٹھا کیا جو اس سال حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کے لئے آئے تھے جب سب جمع ہو گئے تو حضرت عبدالرحمن ؓنے حمدو ثناء کے بعد کہا اے علیؓ میں نے لوگوں کی رائے پر غوروفکر کیا وہ عثمان ؓکے علاوہ کسی بھی دوسرے کی تائید نہیں کرتے اس لیے اب تم کوئی مخالفت نا کرنا اسکے بعد انہوں نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ میں تمہارے ہاتھ پر اللہ اس کے رسول ؐاور ان کے بعد دونوں خلفاءؓ کے طریقے کی بیعت کرتا ہوں پس مہاجرین و انصار امرائے لشکر اور تمام مسلمانوں نے حضرت عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی
1بخاری ج2 ص1 070 
حضرت علی نے اپنے بنو ہاشم کے ساتھیوں سے کہا اگر میں تمہارے مشورے پر عمل کروں تو تم کبھی خلیفہ نہیں ہوسکتے اتنے میں  ان کی ملاقات حضرت عباسؓ سے ہوگی حضرت علی نے فرمایا وہ ہمارے پاس سے چلی گئی حضرت عباس نے فرمایا جب میں نے تم سے کوئی بات کہی قبول نہیں کی تم آخر میں وہی بات لے کر آتے ہو جو مجھے ناپسند ہوتی ہے وفات سے پہلے میں نے رسول اللہؐ سے پوچھنے کا کہا تو منع کردیا حضرت عمرؓ نے تمھارا نام مجلس شوریٰ میں شامل کیا تھا اس وقت بھی میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ تم اس میں شامل نا ہونا مگر اس سے بھی تم نے انکار کیا اب میری اس بات کو ذہن نشین کرلو یہ جماعت جو بات پیش کرے تو تم اپنی خلافت کے علاوہ اور کسی بات کو تسلیم نہ کرو
تاریخ طبری ج3 ص292۔393
محاضرات 2/ 411
حضرت علی ؓ کی سیاسی زندگی کے بچوں پر اثرات اسکے لیے آپ کی خدمت میں 

مورخین کی چندروایات  پیش کرتے ہیں
حضرت حسینؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر ؓسے کہا میرے ابّا کے ممبر سے اترو اور اپنے آباء کے ممبر پر چلے جاؤ انہوں نے کہا میرے باپ کا تو کوئی ممبر ہے نہیں پھر انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور جب ممبر سے اترے تو مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے اور مجھ سے معلوم کیا کہ بیٹے یہ تو بتلاؤ کہ یہ بات تمہیں کس نے سکھائی تھی میں نے کہا کہ کسی نے بھی نہیں
اسی قسم کی روایت حضرت حسنؓ کی بھی ہے حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ
تاریخ خلفاءص7 5 ۔141
تارخ اسلام ج3 ص9
اصابہ ج2 /157
حضرات حسنین کا مزاج
حضرت حسنؓ حضرت علی ؓ کو جنگ سے روکتے تھے اور ہمیشہ امن وسلامتی اتحاد محبت کو ترجیح دیتے تھے جس کی وجہ سے جب ان کو حکومت پہنچی تو حضرت امیر معاویہ ؓ سے صلح کی
حضرت علی ؓ سے مکالمہ ہوا جس کا زکر
ابن کثیر ۔طبری ج 4ص83۔84
حضرت حسین ؓ کے مزاج میں تندی وتیزی کے نقوش نمایاں تھے
جیسے حضرت امیر معاویہ ؓ کے دور میں یمن سے خراج کا مال جا رہا تھا جب مدینہ کے قریب پہنچا تو سارے کو قبضے میں کر کے اپنے رشتے داروں اور موالیوں میں تقسیم کر دیا اور قاصد کے زریعے حضرت امیر معاویہ ؓ کو اطلاع دی یہ واقع حضرت حسن ؓ کی وفات کے بعد پیش آیا سنہ 54ہ میں
حضرت امیر معاویہؓ نے جوابا حضرت حسین ؓ کو لکھا اے مرے بھتیجے والی اور حاکم کو اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ اس کو وصول کرے اور حق داروں کو پنہچاے اور جو حصہ اس میں آپ کا بنتا ہے وہ آپ کو مل جاتا آپ مرے پاس آنے دیتے تو ہمیشہ کی طرح آپ کو آپ کا حصہ مل جاتا لیکن مرے بھتیجے میں خیال کرتا ہوں تمہارے دماغ میں حدت وجوش ہے مرے زمانے میں تم ایسا عمل کر بھی گزرو تو خیر میں تمہاری قدر کرتا ہوں لیکن مرے بعد کسی ایسے سے وسطہ پڑے جو تمہاری قدر نا کرے
شرح ابن ابی حدید
ناسخ تواریخ
خلافت معاویہ ویزید ص137
حسنینؓ کے جنگی معرکے
حضرت حسنین ؓ کے طبرستان کے معرکوں میں شمولیت اختیار کی اور جنگ قسطنطنیہ یزید رحمہ اللہ  کی قیادت میں اس کے علاوہ کسی بھی معرکے میں شمولیت نہیں ملتی 

ولی عہدی یزید 
اس وقت مناسب ہے کہ مختصر ساحال یزید ابن معاویہؓ کی ولی عہدی کی بیعت کا کیا جاے حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت ؓ عمر کی طرح چھ اشخاص کو چنا اور فرمایا مرے بعد ان میں سے خلیفہ بنایا جاے
1سعید ابن العاصؓ
2حسن ابن علیؓ
3عبداللہ ابن عمر ؓ
4عبداللہ ابن عامر ؓ
5مروان ابن حکمؓ
6عبداللہ ابن زبیر ؓ
البدایہ ج8ص85
لیکن حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ جو محدث وحافظ فقیہ فہم فراست وحسن تدبیر کے مالک تھے نیز تمام غزوات اور شام وعراق ایران کی فتوحات میں ہر مشکل محاز پر موجود تھے انہوں نے یزید ابن معاویہؓ کی ولی عہدی کا مشہورہ دیا جس کو حضرت امیر معاویہؓ نے سارے صوبوں کے نمائندہ اجلاس پر موقوف کر دیا اور اسکے بعد اجلاس ہوا مسعودی نے اس کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے
امیر معاویہؓ کے پاس عراق اور مملکت اسلامیہ کے دوسرے تمام شہروں سے وفد آے عراق کے وفد میں احنف ابن قیس دوسروں کے ساتھ موجود تھا
مروج الزہب ج3ص36۔37

🏵 ولی عہدی کی بیعت
حضرت امیر معاویہؓ کو اطلاع ملی کہ مدینہ کے کچھ لوگوں نے اختلاف کیا ہے تو امیر معاویہؓ خود حج کے لیے تشریف لے گیے اور لوگوں سے راے لی اور ولی عہدی کی بیعت لی اب ولی عہدی کی بیعت سے پانچ آدمیوں نے اختلاف کیا
1۔۔۔عبدالرحمان ابن ابوبکرؓ
لیکن ان کا انتقال سنہ 53ہ میں ہوگیا تھا
2۔۔۔۔عبداللہ ابن عمر ؓ کہ ان کو حضرت حفصہ ؓ نے سمجھایا اور یزید کی بیعت کی
اور فرماتے تھے ہم نے یزید کے ہاتھ پر اللہ ورسول ؐ کی بیعت کی ہے
بخاری ج2ص1053
3عبداللہ ابن عباس ؓکا نام خوامخواہ لیا جاتا ہیں ورنہ روایت سے ثابت ہے وہ مرنے تک بیعت یزید پر رہے اور لوگوں کوبیعت کی تلقین کرتے تھے
4۔۔۔۔عبداللہ ابن زبیر ؓ نے اختلاف کیا لیکن پھر ولی عہدی کی بیعت کی ہاں بیعت خلافت میں اختلاف کیا اور تجدیدبیعت  ناکی
5۔۔۔۔۔حضرت حسین ؓ نے بھی ولی عہدی کی بیعت سے اختلاف کیا لیکن بیعت کی
یزید کی بیعت میں
1چھ امہات مومنینؓ شامل تھی سیدہ حفصہؓ وفات54ہ۔سیدہ جویریہؓ56ہ ۔سیدہ عائشہ ؓ 58ہ۔سیدہ ام سلمہؓ 59ہ۔سیدہ میمونہؓ61ہ
عشرہ مبشرہؓ 2
اصحاب بدرؓ 6
بیعت رضوانؓ 14
دیگر صحابہؓ 233
273صحابہؓ نے یزید کی خلافت کی بیعت کی

تحقیق المزید 58

 اور اس وقت اسلامی سلطنت 64 لاکھ 65ہزارمربع میل پر پھیلی ہوئی تھی
یزید ولی عہدی کی بیعت کے بعد تین سال مسلسل حج کے امیر رہے اس کے بعد حمص کے گورنر بناے گیے جو حضرت امیر معاویہؓ کی وفات تک رہے
مقتل حسین ص50 

 یزید کی ولی عہدی کی بیعت متفقہ کی گئی کسی کا کوئی اختلاف نا رہا اور جنہوں نے اختلاف کیا انہوں نے بھی ولی عہدی یزید کی بیعت کر لی تھی
وفات حضرت امیر معاویہ ؓ
چند دن بیمار رہنے کے بعد حضرت امیر معاویہ ؓ 22رجب سنہ 60ہجری کو وفات پا گیے
البدایہ ج8ص143
آپ کی نماز جنازہ  یزید نے پڑھائی 

 البدیہ ج8ص143
اور آپ نے وفات سے پہلے یزید کو نصیحت کی
جسے تاریخ کی سب کتابوں میں بیان کیا گیا ہے
البدایہ ج8ص229۔230
العقد الفرید ج2ص378
ابومخنف کی طرف سے ایک وصیت نامہ جو حضرت معاویہ ؓ نے امیر یزید کو لکھویا یا ان کو وصیت کی
تمہارے خلاف مجھے چار آدمیوں سے خطرہ ہے ایک عبدالرحمان ابن ابو بکر ؓ وہ دنیا راد ہیں ان کو دنیا میں منہمک رکھنا دوسرے عبداللہ ابن عمر ؓ وہ اتنے خطرناک نہیں وہ آخرت کی طرف منہمک رہتے ہیں تو اس سےبھی خطرہ نہیں تیسرے عبداللہ ابن زبیر ؓ وہ لومڑی کی طرح چلاک ہیں لیکن لڑای میں شیر ہیں اگر وہ کوی مشہورہ دیں تو قبول کرنا
چوتھے شخص ہیں حضرت حسین ابن علی ؓ لوگ ان کو تمہارے مقابلے پر لا کھڑا کریں گے اگر قابو پا لو تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اسکا باپ تمہارے باپ سے اس کا نانا تمہارے نانا سےاس کی ماں تمہاری ماں سے بہتر ہیں
مقتل حسین ص51
اسی طرح عبداللہ ابن عباسؓ اور عبداللہ ابن عمرؓ کا بھی زکر کیا گیا ہے جب کہ یہ روایت جھوٹ پر مبنی ہے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اور عبداللہ ابن عباس نے فورا بیعت کر لی اور حضرت عبدالرحمان ابن ابو بکر ؓ سنہ 53ہ میں فوت ہو چکے تھے
اب ان دو واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے اس کے موضوع ہونے کے لیے اور بہت ساری روایت دال ہیں 

بیعت خلافت یزید
اب ہم آتے ہیں بیعت خلافت کی طرف 
خلیفہ یزید کی خلافت کا آغاز دارالخلافہ دمشق سے اس عام اجلاس سے ہوا جس میں  یزید نے پہلا خطبہ دیا اور اس کے بعد عام بیعت کی گی چونسٹھ لاکھ مربع میل سے زیادہ رقبے پر پھیلی اسلامی دنیا کے لا کھو ں کروڑوں لوگوں نےیزید کی بیعت کی جن میں سینکڑوں صحابہؓ اور ہزاروں تابعین موجود تھے
البتہ حضرت حسین ابن علی ؓ اور حضرت عبداللہ ابن زبیر نے بیعت نا کی
اور ہم عصر صحابہ ؓ اور تابعین کے اجماع کے برخلاف راہ عمل کو پسند کیا  

لیکن حضرت حسین ؓ نے کسی قسم کی مخالفت ناکی ۔
ہم حضرت علی ؓ کے سیاسی کاوشوں کے حوالے سے زکر کر آے ہیں کہ امت مسلمہ کی بھلائی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے کسی بھی اعلی عہدے کے لیے کوشش کرنا کوئ ناحائز بات نہیں بشرط کہ شرعی دائرہ کار میں ہو
اب ہم اس کو دونوں کی سیاسی واجتہادی سوچ کہیں گے  ۔
شیعہ عالم ابومخنف لوط ابن یحی کا بیان
حضرت حسینؓ نے فرمایا مجھ جیسا شخص خفیہ بیعت نہیں کر سکتا اور نہ ہی آپ اس پر مطمئن ہوں گے لیکن جب بھی آپ نکلے اور لوگوں کو بیعت کے لئے طلب کریں تو ان کے ساتھ ہمیں بھی بلا لیجیے اور میں بیعت کرنے والوں میں پہلا شخص ہوں گا
مقتل حسین اردوص5 6
الاخبار الطوال اردوص490
تاریخ طبری ج5 ص177
البدیہ ج8 ص174
طبری ج5 ص178
البدایہ ج8 ص162
اب اس روایت پر ہم اعتراض کرتے ہیں اور اہلسنت کا حق ہے اعتراض کرنا
کہ دونوں حضرات مدینہ چھوڑ کر مکہ آے کیا مکہ میں خلیفہ یزید کی بیعت نہی لی جارہی تھی یا وہاں یزید کی حکومت نہیں تھی
دوسرا اعتراض
کیا ان دونوں حضرات ؓ کے شایان شان دھوکا دینا اور جھوٹ بولنا تھا
ہم اہل سنت اس روایت کو سچ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ دونوں باتیں ان دونوں حضرات کے شایانِ شان نہیں اب ہم یہاں ایک بات ذکر کرتے چلیں کہ جس طرح انہوں نے حضرت ولید ابن عتبہ اور مروان ابن حکم پر جھوٹی تہمت لگای اسی طرح ان دونوں حضرات پر لگائی
اس جھوٹ کی تائیدمیں ہم ایک روایت بیان کرتے ہیں
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے بیعت کا کہا گہا انہوں نے انکار کر دیا اور کہا جب سب کر لیں گے تو کروں گا ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا جب سب شہروں کی بیعت کرنے کی خبر آی تو حضرت ولید ابن عتبہ ؓ کے ہاتھ پر جا کر بیعت کر لی
طبری ج 5ص 181
البدیہ ج8  ص148
حقیت حال یہ ہے کسی کے ساتھ کوی زبردستی نا کی گئی ورنہ مکہ میں بھی خلیفہ یزید کی حکومت تھی وہاں بھی ان حضرات ؓ پر سختی کی جا سکتی تھی
  روانگی مکہ
جب حضرت حسین ؓ مکہ روانہ ہوئے تو راستے میں حضرت عبداللہ ابن مطیعؓ ملے انہوں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے فرمایا ابھی تو مکہ کی طرف جاتا ہوں پھر رب تعالی سے استخارہ کرکے فیصلہ ہو گا ابن مطیع ؓ نے فرمایا اللہ آپ پر ہم کو تصدق کرے اور آپ کو خیریت سے رکھے آپ کوفہ کا قصد بلکل نا کیجیے گا وہ شہر شوم اور نجس ہے آپ کے والد بزرگوار وہاں قتل ہوے آپ کے بھای وہاں بے بس وبے کس ہوے اور زخمی ہوے اور جان جاتے بچی آپ حرم کعبہ کو نا چھوڑیے
طبری ج5ص190
اخبارالاطوال ص410

1۔۔۔۔۔اس روایت سے مختلف پہلو سامنے آئے 

2۔۔۔۔صحابہؓ پہلے سے جانتے تھے کوفہ والوں کی غداری ودھوکا دہی ۔

3۔۔۔۔حضرت علیؓ .  کےقاتل بھی کوفہ والے ہیں 

4۔۔۔حضرت حسن ؓکو دھوکا دینے والےاورزخمی کرنے والےاور ان کا سامان لوٹنےوالے بھی یہی لوگ ہیں 

5۔۔۔جب کہ ابھی تک حضرت حسینؓ نے فیصلہ نہیں کیا تھا کوفہ جانے کا اس سے پہلے ان کو روکا گیا

کیوں کہ صحابہ ؓ پہلے سے جانتےتھے کوفہ والوں کی غداریوں بے وفایوں اور مکروفریب کو
اس روایت سے آئندہ حالات کا پتہ چلتا ہے
ابوحنیفہ دینوری کی روایت جو سب روایا ت کا مجموعہ
جب اہل کوفہ حضرت معاویہؓ کی وفات سے آگاہ ہوئے اور اطلاع ملی کہ حضرت حسینؓ مکے کی جانب چلے گئے ہیں
تو اہل کوفہ کا ایک گروہ سلیمان ابن صرد کے گھر پہنچا اور بالاتفاق طے کیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط لکھ کر گزارش کی جائے وہ کوفہ میں تشریف لے آئے تاکہ زمام ِخلافت ان کے ہاتھ میں دے دی جائے اور نعمان بن بشیرؓ انصاری کو وہاں سے نکال دیا جائے  انہوں نے خط لکھا اور عبداللہ سبع ہمدانی اور عبداللہ ابن وداک سلمی کے ہاتھ روانہ کر دیا جب یہ لوگ مکہ پہنچے اس وقت رمضان کہ دس دن گزر چکے تھے دن ڈھلنے سے پہلے مسہر سیداوی اور عبدالرحمان ارجی بھی اس مضمون کا خط لے آے ان دونوں کے پاس پچاس پچاس خط تھے جو روساء کوفہ کی طرف سے تھے اور ہر خط دو دو تین تین اور کئی کئی لوگوں کی طرف سے تھا صبح ہوی تو حضرت حسین ؓ کے پاس ہانی ابن ہانی سعید ابن عبداللہ خشعمی آن پہنچے ان کے پاس پچاس خط تھے جب شام ہوگئی تو ان کی خدمت میں سعید بن عبداللہ ثقفی آن پہنچا  اس کے ہمراہ ایک ہی خط تھا اور وہ تھا سبط بن ربیعی حجار ابن الجر یزید ابن حارث عزرہ ابن قیس عمر ابن حجاج محمد ابن عمیر ابن عطارد کا یہ سب روساء کوفہ تھے اہل کوفہ کے قاصد پے قاصد آتے رہے حتی کہ حضرت حسین ؓنے خرجیاں بھر لیں
آخر حضرت حسین ؓ سب کے نام ایک خط لکھا اور ہانی ابن ہانی اور سعید ابن عبداللہ کے سپرد کر دیا مضمون یہ تھا
بسم اللہ۔۔۔۔۔۔ الی آخر
حضرت حسین ؓ نے جو خط کوفہ والوں کو لکھا
بسم اللہ الی آخرحسین ابن علی کی طرف سے اس کے ہر کوفی دوست کے نام جس تک یہ خط  پہنچے اسلام وعلیکم
امابعد
مجھے آپ کے خطوط مل گئے ہیں اور مجھ پر واضح ہو گیا ہے کہ آپ اس امر کے کس قدر مشتاق ہیں کہ میں آپ کے پاس پہنچ جاؤں لہذا میں مسلم ابن عقیل کو بھیج رہا ہوں جو میرا بھائی میرا ابن عم اور میرے کنبے کے معتمد افراد میں سے ہے تاکہ وہ میری طرف سے آپ کا احوال معلوم کرے اور آپ کی جمیعت کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوگا  اس سے آگاہ کرے اگر حقیقت حال ویسی ہی ہے جیسی آپ کے خطوط سے ظاہر ہے اور جس طرح آپ کے قاصدوں نے بیان کیے ہیں تو پھر میں جلدازجلد پہنچ جاؤں گا انشاءاللہ والسلام
الاخبارالطوال ص411۔412

1۔۔۔۔اس خط سے مختلف باتیں سامنے آئیں 

2۔۔۔۔آپ نے کسی بھی سیاسی کارروائی کا زکر نہیں کیا 

3۔۔۔۔اپنے ملنے کا ذکر کیا ہے 

4۔۔۔۔حضرت مسلم بن عقیلؓ کو ان کے احوال معلوم کرنے کا لکھا ۔

5۔۔۔۔خطوط سے حضرت حسینؓ نے اعتماد نہیں کیا
کوفہ والوں کے خطوط کی تعداد
1۔۔150خط لکھے 

ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج 5، ص 29

شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج 2، ص38

 ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج 4، ص 98

 ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج 5 ص327

خوارزمی، مقتل الحسین (علیہ السلام)، ج 1، ص 283۔

 اربلی، کشف الغمہ، ج 2، ص 253

محمد بن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، ج 2، ص 71

سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص من الامۃ بذکر خصائص الائمۃ (علیہم السلام)، ج 2، ص 146

ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج 8، ص 162

ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 2، ص 302

2۔۔۔۔طبری خطوط کی تعداد 53 لکھتے ہیں۔”… فحملوا معہم نحواً من ثلاثۃ و خمسین صحیفۃ‎ ​

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 4، ص262

3۔۔۔۔بلاذری نے خطوط کی تعداد 50 بتائی ہے

بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص370

4۔۔۔۔محمد ابن سعد نے خطوط لکھنے والے افراد کی تعداد 18000 ذکر کی ہے

محمد بن سعد، ترجمۃ الحسین (علیہ السلام) و مقتلہ، تحقیق سید عبد العزیز طباطبائى، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شماره 10، 1408 ھ، ص 174

5۔۔۔۔سید ابن طاؤوس لکھتے ہیں ایک دن میں 600 خطوط امام حسین کو موصول ہوئے یہاں تک کہ ان کی تعداد 12000 تک پہنچ گئی۔

محمد بن سعد، ترجمۃ الحسین (علیہ السلام) و مقتلہ، تحقیق سید عبد العزیز طباطبائى، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شماره 10، 1408 ھ، ص 174
جلاالعیون نے 600اور پھر 12000
ان خطوط کو ابو مخنف ابن جریر طبری باقر مجلسی سب نے اپنے گورے اور کالے الفاظ میں زکر کیا ہے
یہاں ہم ایک خط کے مختصر الفاظ زکر کرتے ہیں حضرت حسین ابن علیؓ کی خدمت میں سلیمان ابن صرد ۔مسیب ابن نجیہ۔ رفاع ابن شداد حبیب ابن مظاہر اور سب مسلمانوں کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے علاوہ ہمارہ کوی امام نہیں جوحال آپ کا وہ ہمارا اورجو ہمارہ وہ آپ کا آپ یہاں تشریف لے آئیے لشکر تیار ہیں نہریں ابلی جاتی ہیں میوے پکے ہوے ہیں آپ تشریف لے آئیں یا اپنے کسی ابن عم کو بھیج دیں جو ہمیں تعلیم دے اور ہم ہدایت پا جائیں
یہ بات آپ کے علم میں آنی چاہیے کہ نعمان ابن بشیر قصر امارت میں رہتا ہے آپ یا آپ کے نائب کے آنے سے ہم اس کو نکال باہر کریں گے والسلام
مقتل حسین ص62۔63
شیث ابن ربعی جمار ابن الحر یزید ابن حارث عروہ ابن قیس عمروابن حجاج محمد ابن عمرو وغیرہ نے بھی اسی مضمون کا خط لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جلاالعیون ج2 ص139
طبری ج5 ص1 92
البدایہ ج8 ص1 51
البدایہ ج8 ص151۔152
ایک خاص بات
جلاءالعیون طبری الاخبارطوال نے یہ خاص طور زکر کیا ہے جو قاصد کوفہ سے خط لےکر آے تھے اکثر مکہ میں ہی حضرت حسین ؓ کے پاس رکے ہوے تھے
جلاءالعیون ج2ص140

ان خطوط سے مختلف پہلو سامنے آئے

1۔۔۔وہ یزید کی بیعت کو نہیں مانتے تھے اور ان کی بیعت فسخ کر دی 

2۔۔۔۔تمام اہل کوفہ تیار ہیں حضرت حسینؓ کی بیعت کرنے کو 

3۔۔۔۔۔اور اگر نائب کو بھیجتے ہیں تو اس کی بھی بیعت کر لیں گے اور امیر تسلیم کریں گے

4۔۔۔۔اور خلیفہ کے گورنر کو نکال دیں گے
ہم پہلے بیان کر آے ہیں کہ
اسلام اسلامی معاشرے کی اصلاح وسربلندی کے لیے سیاسی اجتہادی سوچ رکھنا شرعی لحاظ سے ناجائز نہیں ہے جیسے کہ صحابہ ؓ کے واقعات ہیں ایک طرف خلیفہ وقت کے ہاتھ پر ولی عہدی کی بیعت کرنے والے272 صحابہؓ کرام
جن میں  امھات المومینین 5
عشرہ مبشرہ میں سے 2
بیعت رضوان 14
بدری 18
دیگر 233
اور تابعین کی ہزاروں کی تعداد
تحقیق المزید 58
بیعت خلافت کے وقت سنہ 60ہجری میں ان میں سے 189 صحابہؓ موجود تھے باقی دارفانی سے کوچ کر چکے تھے اب دوسری طرف اقابر صحابہ ؓ کے بیٹے نواسے رسول ؐ اور حضور ؐ کی پھپی کے بیٹے کا بیٹا
اعلی دماغوں کے تربیت یافتہ اور نیک متقی پرہیز گار راتوں کو نماز پڑھنے والے دن کو روزہ رکھنے والے محدث فقیہ حافظ حضورؐ کی زندگی کو بڑی غور فکر سے نقل کرنے والے
بلفرض اگر سیاسی اجتہادی اختلاف کر بھی لیں تو کون سی ناجائز بات ہے
لیکن یہاں سبائیت کے ہرکارے اور تربیت یافتہ صفین اور جمل والا کھیل کھیلنے کو تیار تھے کیونکہ اس سیاسی واجتہادی اختلاف کے زریعے وہ آگ جو امت مسلمہ میں شہادت عثمان ؓ سے لگائی گئی تھی وہ بجھ چکی تھی لیکن دشمن اسلام سبائیت کے پیروکار اس کے لیے تانے بانے بن رہے تھے اور خیبر اور دوسرے غزوات کا بدلہ لینے کے تانے بانے بنے جا رہے تھے 
اور اپنے خطوط کے زریعے اور قاصدوں کے زریعے اپنا کھیل کھیل رہے تھے ۔اور اپنی بغاوت کا اقرار اپنے خطوط کے ذریعے سے حضرت حسینؓ کے سامنے کر چکے تھے اور ان کی بغاوت کے ثبوت بھی یہی خطوط تھے 

مسلم ابن عقیلؓ کی روانگی
حضرت حسین ؓ کا مسلم ابن عقیل ؓ کو کوفہ کی طرف روانہ کرنا اور یزید کا ابن عباسؓ کو خط
ہم آپ کے گوشگزار کرتے چلیں کہ حضرت عمرؓ نے جاسوسی کا ایسا خفیہ نظام بنایا ہوا تھا کہ ان کے اپنے
گورنروں کو بھی پتہ نہیں چلتا تھا کی ہماری جاسوسی ہو رہی ہے اسی طرح دارالحرب کی پوری جاسوسی ہوتی تھیں اور جو کمانڑر اس علاقے میں ہوتا اس کو باقاعدہ ہدایات ومعلومات دربارخلافت سے ملتی تھی اور یہ سلسلہ حجاج ابن یوسف تک چلتا رہا دمشق میں بیٹھا ہوا خود محمد ابن قاسم کو سندھ میں موسی ابن نصیر کو افریقہ میں قتیبہ ابن مسلم کو طبرستان میں خود بتاتے کہ کہاں حملہ کرنا ہے کس طرح کرنا ہے
یزید ابن معاویہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کو خط لکھا اور مکہ میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کی تفصیل لکھی اور کہا
کہ حضرت حسینؓ مکہ چلے آے ہیں اور ان کے پاس عراقیوں نے آکر ان کو خلافت کے حصول کے لیے تیار کر لیا ہے آپ بڑے ہیں آپ کو کوفیوں کا علم اور تجربہ ہے اگرحسین ؓ نے ایسا فیصلہ کیا ہے تو انہوں نے قرابت کے مستحکم تعلق کو منقطع کر ڈالا آپ خاندان کے بڑے ہیں اور بااثر شخصیت کے مالک اس لیے آپ  انہیں تفرقہ ڈالنے سے روکیں
البدایہ ج8ص164
حضرت ابن عباسؓ کا جوابی خط
مجھے پوری امید ہے کہ حسین ؓ ایسا کوئی اقدام خروج نہ کریں گے جو آپ کو ناپسند ہو اور میں بھی اس کو نصیحت کرنے میں کوتاہی نہ کروں گا جس سے الفت ورشتہ   قائم رہے اور افتراق کی آگ بجھ جاے
البدایہ ج8ص 164 

1۔۔۔۔حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا جائے گا 

2۔۔۔۔خود ذمہ داری سے کہ رہیے ہیں کہ ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہو گا جو آپ کو ناگوار گزرے 

3۔۔۔۔ہمارا الفت ومحبت کا رشتہ قائم رہیے گا افتراق نہیں ہو گا 

 حضرت حسین ؓ کوئی  اقدامی قدم اٹھانے کوفہ کی تیاری نہیں کر رہیے تھے بلکہ کوئی مصلحانہ اقدام تھا ۔
یہ خط بلکل اسی طرح لکھا گیا حضرت ابن عباس ؓ کو جس طرح حضرت امیر معاویہ ؓ نے حضرت حسین ؓ کو اس وقت لکھا جب حضرت حسینؓ نے یمن سے خراج کا مال دمشق جاتے ہوے جب مدینہ کے قریب سے گزرا تو قبضے میں کر کے اس کو رشتے داروں اور موالی میں تقسیم کر دیا  تھا
حضرت حسینؓ نے مسلم ابن عقیل ؓ کو کوفہ کی طرف خط جس کا ہم پہلے زکر کر آے ہیں دے کر روانہ کر دیا
قابل غور بات یہ ہے کہ اس سب سیاسی واجتہادی مصروفیات کے باوجود حکومت کی طرف سے کوی پابندی نا تھی یہ ثبوت ہے اس چیز کا کہ اس وقت حریت فکر ونظر اور آزادی اظہارراے کی کس قدر شخصی آزادی تھی

ابھی تک ہمارے سامنے حضرت حسین ؓ کی کوئی اقدامی رائے سامنے نہیں آئی

 کوفہ میں مسلم ؓ کی حالت
حضرت مسلم ابن عقیلؓ جب کوفہ پہنچے تو بیعت کرنے والوں کی تعداد متعدد مورخین نے متعدد بتائی ہے 

1۔۔۔۔بہت سے مآخذ میں بیعت کرنے والے افراد کی تعداد 18000 بتائی گئی

سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، ص188

مجلسی، بحار الانوار، ج27، ص212

تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر، ج2، ص42

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص275۔

 ابوحنیفہ دینوری، الاخبار الطوال، ص235۔

 شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص41۔

 ابن جوزی،  ج5، ص325۔

سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص141۔

  حلی، مثیر الاحزان، ص21۔

 سید ابن طاؤوس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ص25۔

 ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص299۔

 ابن عنبہ، عمدۃ الطالب فی انساب آل 

ابی طالب، ص191ـ 192 

2۔۔۔۔بعض دیگر نے تعداد 12000 ذکر کی

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص259 بحوالہ از عمار دہنی۔

 ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین(علیہ‌السلام)، ص302۔

 ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص99۔

 ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص306۔

 احمد بن حجر ہیتمی، الصواعق المحرقۃ فی ردّ اہل البدع و الزندقہ، ص196۔

مسعودی نے دیگرکے لفظ سے نقل کی ہے مروج الذہب و معادن الجوہر، ج3، ص65۔

3۔۔۔۔امام باقر سے منقول روایت میں بیعت کرنے والوں کی تعداد 20000 بیان ہوئی ہے

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج11، ص43۔

مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص68۔

4۔۔۔۔۔۔ابن اعثم اور خوارزمی کے مطابق بیعت کنندگان کی تعداد 20000 سے زائد تھی۔

ابن اعثم،  ج5، ص40۔

خوارزمی، مقتل الحسین (علیہ‌السلام)، ج1، ص290۔

5۔۔۔ابن شہر آشوب کے بقول یہ تعداد 25000 تھی۔ انہوں نے مسلم بن عقیل کا ہانی بن عروہ کے گھر میں قیام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد یہ تعداد لکھی ہے۔ابن شہرآشوب،  ج4، ص99۔

6۔۔۔۔۔۔ابن قتیبہ دینوری اور ابن عبد ربہ نے لکھا ہے کہ ان کی تعداد 30000 تھی۔

ابن قتیبہ، الامامۃ والسیاسۃ، ج2، ص8

 حمد بن محمد بن عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، ج4، ص354۔

7۔۔۔۔۔ابن عساکر اور  حلی نے (کسی دوسرے حوالے سے ) یہ تعداد 40000 بھی بیان کی ہے

ایک روایت کے مطابق زید بن علی نے “سلمہ بن کہیل” کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 80000 افراد نے ان کے جد امجد امام حسین کی بیعت کی تھی یہ تعداد یزیدی لشکر کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنے والوں کی تعداد کے قریب ہے۔

ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین (علیہ‌السلام)، ص284۔

 حلی، مثیر الاحزان، ص16 

طبری،  ج5، ص489 (سنہ 121ھ کے واقعات)

حضرت مسلم ابن عقیلؓ کی بیعت کے بعد جو لوگ لڑنے کو تیار تھے ان کی تعداد 100000بتائی جاتی ہے 

ابن سعد، ترجمۃ الحسین ومقتلہ، ص174۔

 بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص422

 طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص294۔

 شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص71۔

 ابن نما حلی، مثیرالاحزان، ص16۔

 سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص133

ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص299۔

قیام مسلم کا ساتھ دینے والے

1۔۔۔۔۔ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں: مسلم بن عقیل کے قیام کے وقت اہل کوفہ ان کے گرد جمع ہونے لگے یہاں تک کہ کوفہ کے بازار اور مسجد میں سوئی پھینکنے کی جگہ تک نہ رہی۔

ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص70ـ71۔

2۔۔۔۔۔ابن سعد  اور ذہبی لکھتے ہیں کہ مسلم کے ساتھ اٹھنےبیٹھنے والے کوفیوں کی تعداد 4000 تھی۔ طبری نے بھی یہ قول عمار دہنی سے بحوالۂ ابو مخنف اور شیخ مفید  نقل کیا ہے۔

ابن سعد،  ص175۔

 ذہبی، سیراعلام النبلاء، ج3، ص299۔

 طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص260۔

 3۔۔۔۔۔۔شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص52۔

ابن اعثم، مسعودی اور خوارزمی نے یہ تعداد 18000 بیان کی ہے۔

ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص49۔

مسعودی، مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج3، ص68۔

خوارزمی، مقتل الحسین(علیہ‌السلام)، ج1، ص297۔

5۔۔۔۔۔ابن شہرآشوب، کے مطابق ان کی تعداد 8000 تھی۔

ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص101

6۔۔۔۔۔ابن حجر عسقلانی کے بقول مسلم کے ساتھ قیام کرنے والے افراد کی تعداد 40000 تھی۔

عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج2، ص303

حضرت مسلم ابن عقیلؓ کا گھیراو 

حضرت مسلم ابن عقیلؓ کا گھیراو کرنے والوں کی تعداد مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے 

1۔۔۔بعض مورخین نے تعداد 60۔70بتائی ہے 

طبری،  ج4، ص279۔

 ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص69۔

 مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص69۔

 شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص57۔

 طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص443۔

 ابن نما حلی، مثیرالاحزان، ص24۔

2۔۔۔بعض مورخین نے 100بتائی ہے 

دینوری، الاخبار الطوال، ص240۔

3۔۔۔بعض مورخین نے 300بتائی ہے 

ابن اعثم، ج5، ص53

صرف حضرت مسلم ابن عقیلؓ کی بیعت کرنے والوں قیام کا انتظام کرنے والوں لڑنے کا وعدہ و ارادہ کرنے والوں 

اور پھر گرفتار کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد ہی سے کوفہ والوں کی غداریوں مکاریوں و عیاریوں کا اندازہ نہیں ہو جاتا؟؟؟؟ کہ یہ لوگ گھرانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو نیست ونابود کرنے پر تلے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کے سر ایسے الزام آئیں کہ وہ دنیا سے ختم ہو جائیں 

موقف اصحابؓ رسولؐ۔

ہم ایک بات کا زکر کرتے چلیں اس کوفی گروہ کو تمام کالے گورے جدید اور قدیم مورخین نے شیعہ یا کوفی کے  لفظ سے زکر کیا ہے
حضرت حسین ؓ نے کوفہ سے آے ہوے لوگوں کے علاوہ مکہ میں موجود اپنے خاندان اور جلیل قدر صحابہ ؓ کو بھی اپنےکوفہ روانہ ہونے کے بارے میں کہا تو اب ہم آپ کے سامنے ان کا موقف بیان کرتے ہیں  

روانگی کوفہ پر صحابہؓ کا موقف
  ہم حاضر ہوےحضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی خدمت میں ان سے موقف سنا
غلبناحسین ابن علی الخروج ولعمری لقد رای فی ابیہ واخیہ عبرة فرای من الفتنة وخذ لان الناس لھما ماکان ینبغی لہ ان لایتحرک ماعاش وان یدخل فی صالح مادخل فیہ الناس فان الجماعة خیر
البدایہ ج8ص163
عبداللہ ابن عمر ؓفرماتے ہیں حسینؓ نے مجھ پر اپنی معیت کا زور دیا حالانکہ اس کو اپنے والد اوربھائی کے حالات اور انسانی جانوں کے ضیاع سے عبرت حاصل کرنی تھی اور زندگی بھر اپنی جگہ سے نا ہلتے لوگوں کی طرح بیعت کرتے اور جماعت کے ساتھ رہتے

یہ رائے عبداللہ ابن عمر ؓ کی حضرت حسینؓ کے بارےمیں کوفہ روانگی سے پہلے
اب حاضر ہوے سیدنا واقدیشی ؓ کی خدمت میں فرمایا
ان لا یخرج فانہ من یخرج فی غیر وجہ خروج انما خرج یقتل نفسہ
البدایہ ج8ص163

یہ رائے واقدیشیؓ کی حضرت حسینؓ کی کوفہ روانگی سے پہلے
  جابرابن عبداللہؓ کی خدمت میں
کلمت حسینا ؓ فقلتہ اتق اللہ ولاتضرب الناس بعضھم ببعض الی آخر
یہ رائے حضرت حسین ؓ کے بارے جابرابن عبداللہؓ کی 

البدایہ ج8ص163
ہم حاضر ہوے عبداللہ ابن عباسؓ کی خدمت میں کہ آپ کیا فرماتے ہیں جناب
این ترید یا ابن فاطمةؓ فقال العراق وشیعتی فقال انی لکارہ لوجھک ھذا تخرج الی قوم قتلوا اباک وطعنوا اخاک حتی ترکھم سخطتہ وملالتہ اذکرک اللہ ان تذر بنفسک 
حضرت ابن عباس کی رائے حضرت حسین ؓ کی کوفہ روانگی سے پہلے اور کوفہ والوں کے بارے میں 

ج8ص163
سیدنا عبداللہ ابن جعفر ؓ
یخطرہ اہل العراق ویناشدہ اللہ ان شخص الیھم 

عبداللہ ابن حعفرؓ کی رائے کوفہ روانگی سے پہلے
البدایہ ج8ص1 63

یہ ان صحابہؓ واہل بیت رشتے داروں کی رائے تھی جن کو موقف حسین ؓ کا یا تو علم نہیں تھا اور وہ کوفہ والوں کی سابقہ غداریوں چیرہ دستیوں اور بے وفائیوں کی وجہ سے روکتے تھے ایک روایت ان کی غدرایوں کی تصدیق کے لیے 

نہج البلاغہ ص149

فاخذ منی عشرة واعطانی رجلامنھم 

مجھ سے دس لوگ مرے شیعہ میں سے لے لو اور اپنا ایک دے دو

یہ حضرت علی ؓ کا فرمان تھا

مصری مورخ محمد خضری لکھتے ہیں
وقد کان فی ذالک العصر کثیر من الصحابةبلحجازوالشام والبصرة والکوفة ومصروکلھم لم يخرج علی یزید لا وحدہ مع الحسین
اتمام الوفا ص1 4
یزید کی ولی عہدی اور خلافت کی بیعت کتنے صحابہؓ نے کی وہ ہم زکر کر آے ہیں 

اور ماقبل روایات میں ہم نے حضرت حسین ؓ کے کوفہ روانہ ہونے کے بارے صحابہؓ کا موقف بھی بیان کر دیا 

جو مندرجہ ذیل ہے 

1۔۔۔آپ مکہ مت چھوڑیں 

2۔۔۔۔کوفہ کی طرف ہر گز مت جائیں 

3۔۔۔آپ عام لوگوں کی طرح بیعت کریں اور ساری زندگی گھر میں بیٹھے رہیں 

4 ۔۔آپ کو اہل عراق سے خطرہ ہے وہ با وفا نہیں ہیں 

5۔۔۔۔آپ کو خطرہ ہے اہل عراق سے 

6۔۔۔۔آپ کے والد کو شہید کرچکے 

7۔۔۔۔آپ کے بھائی کو زخمی کر چکے 

8۔۔۔۔آپ کے خاندان کو دھوکا دے چکے

9۔۔۔وہ ایسی قوم ہیں جس کو آپ کے بھائی نے ملامت کیا 

10۔۔۔۔وہ ایسی قوم ہے جس کو آپ کے بھائی نے چھوڑ دیا 

یہ موقف تھا صحابہؓ کا حضرت حسین ؓ کے کوفہ روانہ ہوتے ہوے 

اب ہم اصل مقدمے کی طرف آتے ہیں کیوں کہ

مقدمہ  

1۔۔ہم اہل سنت   مدعی ہیں 

2۔۔۔۔حضرت حسین ؓ مقتول ہیں 

3۔۔۔۔۔اہل بیت جو کہ امام اہلسنت ہیں   وہ گواہ ہیں 

4….اہل تشیع قاتل یعنی مدعی علیہ 

دعوی 

جناب جن لوگوں نے حضرت شبیر ؓ کو بلایا خط لکھے وہی قاتل شبیر  ؓ ہیں 

اب ہم سب سے پہلے سفیر حضرت شبیرؓ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی روداد جو ہم ماقبل بیان کر چکے ہیں وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں 

جو خط حضرت شبیرؓ کو کوفہ والوں کی طرف سے ملا اس میں انہوں نے سفیر بھیجنے کی استدعا کی اور عہد بیعت اور امر نہی کا حکم کرنے کا کہا جو ماقبل مذکور ہے تو حضرت شبیرؓ  نے سفیر بھیجا جوکہ حضرت مسلم ابن عقیلؓ تھے ان کا واقعہ پہلی دلیل ہے کہ خط لکھنے والے ہی آل رسول کے قاتل ہیں 

پہلی دلیل مدعی 

حضرت مسلم ابن عقیل ؓ کا سارا واقعہ آپ غور وخوض سے دیکھیں  

1۔۔۔۔خط لکھنے والوں کی تعداد

2۔۔۔حضرت مسلم ابن عقیل ؓ کی بیعت کرنے والوں کی تعداد

3۔۔۔حضرت مسلم ابن عقیلؓ و حضرت حسین ؓکے لیے لڑنے والوں کی تعداد

4۔۔۔۔کوفہ میں حضرت مسلم ابن عقیلؓ کی رہائش میں مدد کرنے والوں کی تعداد 

5۔۔۔اب حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو بغاوت پر اکسایا اور پھر سب نے ساتھ چھوڑ دیا یہاں تک کہ سرکاری سپاہیوں سے مڈ بھیڑ ہوئی  جو ان کو گرفتار کرنے آئے تھے کئی سپاہی قتل ہوئے جن کے قصاص کی وجہ سے حضرت مسلم ابن عقیل ؓ کو شہید کیا گیا 

(یہ الگ بحث ہے) 

6۔۔۔۔۔جو لوگ حضرت مسلم ابن عقیلؓ کو گرفتار کرنے آئے ان کی تعداد 

7….حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ شہید ہونے والے لوگوں کی تعداد 

١۔۔۔ تو جناب قاضی وقت زرا غور فرمائیے کہاں تھے خط لکھنے والے؟؟؟؟

٢۔۔۔۔کہاں تھے بیعت کرنے والے؟؟؟؟

٣۔۔۔۔کہاں تھے لڑنے مرنے اور حفاظت کے وعدے کرنے والے ؟؟؟؟

۴۔۔۔۔ کیالاکھوں لوگوں نے بیعت نہیں کی تھی ؟؟؟؟؟

۵۔۔۔کیا ان سب دلائل کی روشنی میں خط لکھنے والے ہی حضرت  حسینؓ کے قاتل نہیں ہیں جناب قاضی وقت؟؟؟؟؟  

شبیرؓ کا شہادت سے پہلے بیان حلفی  

 مقتول کے قتل ہونے سے پہلے کے بیانات قلم بند کرتے ہیں اور وقت کے قاضی کے سامنے ان بیانات پے جرح کرتے ہیں جی جناب شبیر ؓ آپ کو کس سے خطرہ ہے اور کون آپ کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے  

شبیرؓشہید کی پہلی گواہی
حضرت شبیر ؓ کا موقف کوفہ والوں کے بارے

حضرت شبیر ؓ نے اپنے ارداےقتل کی نشاندہی ان الفاظ میں کی 
کان اہل الکوفة یکتبون الیہ یدعونہ الی الخروج الیھم فی خلافة معاویة کل ذالک یابی علیھم فقدم منھم قوم الی محمد ابن الحنفیة یطلبون الیہ ان یخرج منھم فابی وجاء الی الحسین یعرض علیہ امرھم فقال لہ الحسین ان قوم انما یریدون ان یاکلوابنا ویستطیلوابنا ویستنبطوا دماءنا ودماءالناس فاقام الحسین علی ما ھو علیہ من الھموم مرة یرید ان یسیرہ الیھم مرة یجمع اقامة علیھم
حضرتؓ معاویہؓ کے دور میں اہل کوفہ حضرت شبیرؓ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی بار بار دعوت دیتے رہے لیکن حضرت شبیر ؓ انکار کرتے رہے پھر کچھ کوفی محمد ابن حنفیہ کےپاس آے اور ان سے یہ مطالبہ کیا انہوں نے بھی انکار کیا اور سارامعاملہ حضرت شبیرؓکو بتایا تو
🎆حضرت شبیر ؓ نے فرمایا یہ لوگ ہمیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اورہمارے ذریعے لوگوں میں خونریزی چاہتے ہیں اور ہمیں بھی قتل کرنا چاہتے ہین 🎇
اس کے بعد حضرت شبیر ؓبہت فکر مند ہوے اور کبھی سوچتے ان کے پاس جا کر اس فتنے کو ختم کیا جاے اور کبھی سوچتے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاے
البدایہ ج8ص184

یہ شہیدکربلاؓکا قتل ہونے سے پہلے کا بیان ہے

1۔۔۔۔خلافت امیر معاویہؓ میں ہی کوشش شروع کر چکے تھے 

2۔۔۔ حضرت شبیرؓ کے انکار پر محمد ابن حنفیہ رح کو بلانے کی کوشش کی

3۔۔۔۔۔محمد بن ابن حنفیہ رح نے حضرت شبیرؓ کو خبر دی 

 4۔۔۔۔۔شبیرؓ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ ہمیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں 

5۔۔۔۔یہ لوگ ہمارے ذریعے سے لوگوں میں آپس میں خونریزی کرنا چاہتے ہیں 

6۔۔۔۔۔یہ لوگ ہمیں بھی قتل کرنا چاہتے ہیں 

7۔۔۔۔حضرت شبیر رضی اللہ تعالی عنہ سوچتے ہیں کہ ان کے پاس جا کر اس فتنے کو ختم کیا جائے 

8۔۔۔۔حضرت شبیرؓ رضی اللہ تعالی عنہ سوچتے ہیں کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے 

اب اس روایت سے ہمارے سامنے یہ باتیں سامنے آئیں  وہ بہت پہلے سے کوشش میں تھے کہ خاندان نبوت کو کسی نا کسی طرح اپنے جال میں پھنسا دیں اور خاندان نبوت کو نیست و نابود کر دیں. 

شہیدؓ شہید  کی دوسری گواہی 

 .  ھذہ کتب اہل الکوفة الی وھم قاتلی فاذافعلواذالک لم یترکواللہ حرمة الا انتھکواھا
یہ مرے نام اہل کوفہ کے خط ہیں وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ کی تمام حرمات کو پامال کر ڈالیں گے
بغیة الطلب فی تاریخ الحلب ج6 ص266  

1۔۔۔۔۔یہ اہل کوفہ کے خط ہیں 

2۔۔۔۔وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں 

3۔۔۔۔۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ تمام حرمات کو پامال کر دیں گے 

جناب اس سے بڑی گواہی کیا ہو سکتی ہے کہ مقتول اپنے قتل ہونے سے پہلے قاتل کی نشان دہی کر تا ہے مرے خیال میں اس سے آگے ہمیں کسی بھی گواہ اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم مزید دلائل وگواہ پیش کرتے ہیں

شبیرؓشہید کی تیسری گواہی  

تیسرا بیان مقتول کا قتل سے پہلے اس میں بھی انہیں قاتلوں کی طرف قتل کا دعوی ظاہر کیا جا رہا ہے
ان ھولاءاخافونی ھذہ کتب اہل الکوفة وھم قاتلی
یہ لوگ مجھے خوف ذدہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ اہل کوفہ کے خط ہیں یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں
مقتل الحسین للمقرم ص 175

1۔۔۔۔یہ خطوط اہل کوفہ کے ہیں 

2۔۔۔۔یہ مجھے خوف زدہ کر رہیے ہیں 

3۔۔۔۔یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں 

یہ تیسرا دعوی ہے مقتول کا قتل سے پہلے کہ کون لوگ قتل کی دھمکی دے رہیے ہیں

شبیرؓشہیدکی چوتھی گواہی
درمیان میں تصدیق کے لیے ایک موقف مقتول کے رشتے دار کا جس کے ساتھ مختلف رشتے داریاں اور اس وقت قبیلے کا بڑا شمار ہوتا ہے
مقتول کی طرف سے اپنے قاتلوں کی طرف ایک اور دعوی
قال عبداللہ ابن عباس استازننی حسین فی الخروج فقلت لولاان یزری ذالک بی اوبک لشبکت بیدی فی راسک قال فکان الزی رد علی ان قال لان اقتل بمکان کزا وکزا احب الیی من ان یستحل بی حرم اللہ ورسولہ قال فزالک الزی سلی بنفسی عنہ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں  جب حسین ؓ کوفہ روانہ ہونے لگے تو مرے پاس اجازت کے لیے آے میں نے کہا اگر یہ مری اور تری شان کے خلاف نا ہوتا تو میں تجھے پکڑ کر رکھتا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حسینؓ نے فرمایا کہ میں فلاں فلاں جگہ قتل ہو جاو یہ بہتر ہے اس سے کہ مری وجہ سے کعبہ کی حرمت پامال نا ہو ابن عباسؓ کہتے ہیں یہ بات کہ کر حسین ؓ نے مجھے مطمن کر دیا 

معجم الکبیر ۔طبرانی ج3ص414

اس روایت سے جہاں اور باتیں سامنے آئیں وہاں اپنے قتل کا خدشہ بھی ظاہر فرما رہیے ہیں 

مختصرا موقف حسینؓ بیان کرتے ہیں تاکہ آسانی ہو سمجھنے میں 

موقف شبیر ؓ 

یزید نے عبداللہ ابن عباسؓ کو خط لکھا حضرت حسینؓ کے بارے میں جس کا زکر ہم کر چکے ہیں اس کا جواب بھی زکر کر دیا گیا ہے لیکن جو جواب عبداللہ ابن عباسؓ نے یزید کو لکھا ہم دوبارہ تحریر کر رہے ہیں
دلیل۔۔۔ 

فکتب الیہ عبداللہ ابن عباس انی ارجوا ان لایکون خروج الحسین لامر تکرھة ولست ادع النصیحة لہ  اللہ بہ الالفة ویطفی بہ النائرة
عبداللہ ابن عباسؓ نے یزید کو لکھا حسین ؓ کوفہ کی طرف ایسے مقصد کی طرف نہیں نکل رہے جو آپ کو نا پسند ہو اور میں ان کو پوری طرح ایسی چیزوں کی نصیحت کر دوں گا جن سے اتحاد واتفاق قائم ہو گا اور آگ بجھ جاے گی
طبقات ج1ص450
تاریخ مدینہ وکوفہ ج14ص210
بغیةالطالب ج6ص2611
البدایہ ج 8 ص184
تھزیب الکمال ج6ص460
سیر اعلام ج3ص304  

1۔۔۔یہ حضرت شبیرؓ  کے موقف کی دلیل ہے کہ وہ کیوں نکلے 

2۔۔۔۔۔جیسا کہ اہل کوفہ کے خطوط سے بغاوت ظاہر ہے حضرت ابن عباسؓ اس کے بھی انکاری ہیں کہ وہ کسی خروج یا بغاوت کے لیے نہیں نکلے بلکہ یہ موقف حضرت شبیرؓ کے اپنے الفاظ سے ہی ثابت ہو گا 

دلیل۔ ۔۔۔2
عبیداللہ ابن زیاد کی گواہی کربلا سے لکھا جانے والا خط۔ ۔۔جس کو عبیداللہ ابن زیاد نے پڑھا اور جواب دیا

فلماقراعبیداللہ ابن زیادالکتاب
قال ھذاکتاب رجل ناصح لامیرہ مشفق علی قومہ نعم قد قبلت
عبیداللہ ابن زیاد نے حضرت حسین ؓ کا خط  اور کہا یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر کے لیے ناصح ہے اور اپنی قوم پر شفیق ہے ہاں میں نے قبول کیا 

یہ عبیداللہ ابن زیاد کا جواب تھا حضرت شبیرؓ کے خط کو پڑھ کر ۔جو ہم مابعد زکر کر رہیے ہیں ۔
طبری ج5ص414

یہ خط عمر ابن سعد جب کربلا میں پہنچے اور وہاں کاروان حسینؓ کو روکا تو اس وقت خط لکھا جس کے جواب میں عبیداللہ ابن زیاد نے کہا کہ میں نے قبول کیا
دلیل۔۔۔ 3

خود موقف   

انی لم اخرج اشراولا مفسدا ۔ولاظالما۔وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان آمربالمعروف وانھی عن المنکر
مراخروج کسی شرپسندی یا تکبر کی وجہ سے نہیں اور نا ہی ظلم اور فساد برپا کرنا چاہتا ہوں بلکہ مرا نکلناتو صرف اپنی نانا کی امت میں اصلاح کرنا ہے میں چاہتا ہو ں نیکی کا حکم کروں اور مفسدات سے روکوں
مقتل الحسین للخوارزمی ج1 ص179 

دلیل۔۔۔4

 مقتول کی گواہی نمبر ایک میں موجود ہےکہ کبھی سوچتے ان کے پاس جا کر معاملے کو نمٹا دوں اور کبھی سوچتے اپنے حال پر چھوڑ دوں  

تو جناب ان تمام بیانات سے کیا ثابت ہوا اور خاص طور پر حضرت شبیر ؓ کے آخری بیان سے کہ اہل تشیع اور ہمارے بہت سارے اہل سنت حضرات کہتے ہیں کہ یہ حق وباطل کا معرکہ تھا جس کو لڑنے کے لیے حضرت شبیر ؓ نکلے تھے لیکن حضرت حسینؓ بلکل جہاد کی نیت سے نہیں نکلے تھے 

اور قاتل کی بھی نشان دہی ہو گئی کہ قاتل کون ہے کہ کوفہ والے حضرت شبیر ؓ کی وفات کے بعد سے ہی قتل کی دھمکیاں دینا شروع ہو گئے تھے 

یہ وہ موقف ہے جس کو شیعہ اور سنی مورخین نے نقل کیا ہے

اب ہم حضرت حسین ؓ کے وہ خطبات جو دس محرم کو دیے بطور دلیل شہادت دیتے ہیں 

 شبیرؓشہیدکی پانچویں گواہی 

پہلا خطبہ ۔۔۔۔۔ اے شیث ابن ربعی اے حجازابن الحجر اے قیس ابن الاشعث اے زید ابن الحرث تم لوگوں نے نہیں لکھا تھاکہ پھل پک چکے ہیں نہریں ابل رہی ہیں آپ آئیں گے تو اپنا لشکر جرار پائیں گے 

خلاصةالمصائب ص148

1۔۔۔۔اس خطبے سے بھی بھی بغاوت ثابت ہو رہی ہے 

2۔۔۔۔اہل کوفہ کی طرف سےحضرت حسینؓ کی نا فرمانی ثابت ہو رہی ہے 

3۔۔۔۔اور حضرت شبیرؓ کی بے بسی ثابت ہو رہی ہے کہ حضرت جس مقصد کے لیے آئے تھے کوفہ والے ماننے کو تیار نہیں ہیں

4۔۔۔۔حضرت شبیرؓ نام لے کر خط لکھنے والوں کی نشان دہی کر رہیے ہیں  

شبیرؓشہید کی چھٹی گواہی

دوسرا خطبہ ۔۔ویلکم یا اھلہ الکوفة انسیتم کتبکم عھودکم التی اعطیتموھا واشھدتھم اللہ علیھاویلکم دعوتھم ذریة اہل بیت نبیکم وزعتم انکم تقتلون انفسکم ۔۔۔۔۔۔الآخر۔

افسوس ہو تم پر اے اہل کوفہ تم اپنے خطوں کو اور وہ وعدے جو تم نے کیے تھے سب بھول کو گیے اور خدا تعالی کو ان پر گواہ ٹہرایا تھا تم پر افسوس ہو تم نے لکھا تھا اہل بیت آئیں ہم ان کی حفاظت اور وفاداری میں جانیں لٹا دیں گے ۔جب وہ آئے یعنی اہل بیت تو ان کو ابن زیاد کے حوالے کیے دیتے ہو اوران پر دریافرات کا پانی بند کرتے ہوواقعی تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے  برے اخلاف والے ہو کہ ان کی اولادکے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہوخداتعالی تم کو سیراب نا کرے 

ذبح عظیم بحوالہ ناسخ التواریخ ص335  

  اس خطبے سے بھی یہی ظاہر ہو رہا ہے

1۔۔۔۔خط لکھنے والے ہی مقابلے پر موجود ہیں 

2۔۔۔۔قرآن پر کیے ہوے وعدے اہل کوفہ نے توڑے 

3۔۔۔۔حفاظت کی قسمیں کھائیں جو سب بھول گیے 

4۔۔۔۔اور اہل بیت کے مقابلے پر آ کھڑے ہوے 

تبصرہ
حضرت شبیرؓ اپنی شہادت کے بارے جانتے تھے 

جس کی خوشخبری زبان نبوتؐ سے دی گیی تھی
پھر مقتول یعنی حضرت شبیرؓ خود اپنے قتل کے بارے میں بتا رہیے ہیں 
اور جو لوگ قتل کی دھمکی دے رہے ہیں ان کی نشان دہی خود مقتول یعنی حضرت شبیرؓ  کر رہیں ہیں

تو مرے خیال میں مزید گواہوں کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھربھی شہادت شبیرؓ کے بعد چشم دید گواہوں کی گواہی بھی ہم پیش کر دیں کہ قاتل کون ہے
حضرت شبیر ؓکی  شخصیت
حضرت شبیرؓ کی عمر اس وقت تقریبا 53سال سے زیادہ تھی وہ چار خلفاءراشدین کے تر بیت یافتہ تھے وہ جنت کی بشارت یافتہ تھے وہ مسلمان کے عروج وزوال کے گواہ تھے قسطنطنیہ اور طبرستان کی جنگوں کے آزمودہ تھے قرآن وسنت کے پابند تھیں باہمت وباحوصلہ شخصیت کے مالک تھے اب اتنی خوبیوں کا مالک شخص خود دعوی کرتا ہے کہ کون لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے تو ان سب باتوں کو سامنے رکھتے اور انہوں نے خود اس کی وضاحت کی
انی لم اخرج اشرا ۔ولابطرا۔ولامفسدا۔ولاظالما۔وانماخرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان آمربالمعروف وانھی عن المنکر
مراخروج کسی شرپسندی یا تکبر کی وجہ سے نہیں اور نا ہی ظلم اور فساد برپا کرنا چاہتا ہوں بلکہ
مرا نکلناتو صرف اپنی نانا کی امت میں اصلاح کرنا ہے میں چاہتا ہو ں نیکی کا حکم کروں اور مفسدات سے روکوں
مقتل الحسین للخوارزمی ج1 ص 179  

یہ وہ موقف ہے جو حضرت شبیرؓ کی شہادت کا سبب ہے 

جس کی تائید میں ہم ماقبل حضرت ابن عباسؓ کا خط اور عبداللہ ابن زیاد کا جواب زکر کر چکے ہیں 

اب ہم مقدمے سے ہٹ کر تھوڑا حال حضرت حسینؓ کی کوفہ کی طرف راونگی کا بیان کرتے ہیں
🏵حضرت شبیرؓ کی کوفہ کی طرف روانگی
ماقبل جو روایات پیش کی گیی ہیں ان سے حضرت شبیر ؓ کے موقف کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ ان کی غرض صرف اور صرف اصلاح امت تھی
🏵حضرت شبیر ؓ نے خود وضاحت کی کہ کون لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں اور اس کی وضاحت حضرت امیر معاویہ ؓ کے دور سے ہی کرتے چلے آے ہیں 

اب ہم واقع کی طرف آتے ہیں
حضرت شبیرؓ 3 دوالحجہ سنہ 60ہ کومکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ((باختلاف روایت ))وہ لوگ جو کوفیوں کے خط لے کر آے تھے وہ حضرت شبیر ؓ کے ساتھ تھے اس کے علاوہ بنوہاشم کے 18 لوگ(( باختلاف روایت))
حضرت حسین ؓ نے راستے میں جو پڑاو کیے ان کی تفصیل 18 سے 60 تک روایات میں ملتی ہے

مکہ تا کوفہ منازل کی تعداد

امام حسین نے مکہ سے کوفہ تک 18 منزلیں طے کیں۔ ایک منزل یا منزلگاہ سے دوسری منزل تک کا فاصلہ 3 فرسخ (= 18.72 کلومیٹر) تھا۔

مکہ سے کربلا منزل بہ منزل کی تفصیل بہت سی کتب میں موجود ہے۔ جو 18 سے 40 منازل تک کے اختلاف کو پیش کرتی ہیں۔

مکہ مکرمہ سے احرام حج توڑ کر عمرہ انجام دیا اور ذوالحجہ 60 ھ میں مکہ سے حضرت شبیرؓ کی روانگی ہوئی 

 1-بستان بنی عامر،

2-تنعیم (یمن میں یزیدی کارگزار بحیر بن ریسان حمیری کی طرف سے شام کی طرف بھیجے ہوئے صفایا کے منتخب جنگی غنائم کے قافلے کو اپنی تحویل میں لیا)،

3-صفاح شبیرؓ کی فرزدق شاعر سے ملاقات)،

4-ذات العرق شبیرؓ کی بشر بن غالب نیز عون بن عبد اللہ بن جعفر سے ملاقات)،

5-وادی عقیق،

6-غمرہ،

7-ام خرمان،

8-سلح،

9-افیعیہ،

10-معدن فزان،

11-عمق،

12-سلیلیہ،

13-مغیثہ ماوان،

14-نقرہ،

15-حاجز شبیرؓنے یہیں سے قیس بن مسہر کو کوفہ روانہ کیا

16-سمیراء،

17-توز،

18-اجفر ( یہاں حضرت شبیرؓ کا سامنا عبد اللہ بن مطیع عدوی سے ہوا جس نے حضرت شبیرؓ کو واپسی کا مشورہ دیا)،

19-خزیمیہ،

20-زرود ( اس مقام پر 9 ذی الحجہ، زہیر بن قیس کا قافلہ، قافلۂ حسینی سے جا ملا اور مسلم ؓ اور عروہ کی شہادت کی خبر کی ملی،

شبیرؓشہیدکی ساتویں گواہی 

 جب امام شبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے امام مسلمؓ کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا 

قدخذلتنا شیعتنا

ہمیں ہمارے شیعوں نے رسواکر دیا 

مقتل ابی مخنف صفحہ  43

ناسخ التواریخ ج 3/137

جناب ہماری ایک دلیل یہ ہے کہ حضرت شبیر ؓ خود فرما رہیے ہیں کہ ہمارے شیعوں نے ہمیں دھوکا دیا 

 دوسری روایت
انک وللہ ماانت مثل مسلم ابن عقیل ولوقدمت الکوفة لکان الناس الیک اسرع
اللہ کی قسم آپ مسلم ابن عقیلؓ کے مثل نہیں آپ کوفہ پہچیں گے تو لوگ آپ کی اطاعت کے لیے ٹوٹ پڑیں گے
طبری ج5ص398
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ یہ دونوں روایت حضرت شبیر ؓ کی واپسی کی دلیل ہیں 

جب کہ ہم کوفہ والوں کے خطوط میں ذکر کر آئے ہیں کہ انہوں نے خود لکھا کی آپ اپنا ابن عم یا نائب بھیج دیں جس کو ہم امیر بنائیں اور بیعت کریں لیکن مسلم ابن عقیل کو دھوکا دیا اور وہ شہید ہوئے 

دوسری روایت میں بھی کوفی پھر کوشش کرتے ہیں اور حضرت حسین ؓ اپنے اہل بیت کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں 

حضرت مسلم بن عقیلؓ کے بھائی کہتے ہیں 
لاوللہ لانبرح حتی ندرک ثارنا اونذوق ماذاق اخونا
اللہ کی قسم ہم نہیں پلٹیں گے واپس یہاں تک کہ ہم بدلہ نا لے لیں یا ہمارا بھی وہی انجام ہو جو ہمارے بھای کا ہوا
طبری ج5ص397

21 -ثعلبیہ،

22-بطان،

23-شقوق،

24-زبالہ ( اس منزل پر امام علیہ السلام کو قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر موصول ہوئی اور نافع بن ہلال سمیت چند افراد کا قافلہ، حسینی قافلے میں شامل ہوا)،

25-بطن العقبہ شبیرؓ کی عمرو بن لوزان سے ملاقات اور عمرو کا آپؓ کو واپسی کا مشورہ)

26-عمیہ،

27-واقصہ،

28-شراف،

29-تالاب ابومسک،

30-جبل ذی حم حضرت شبیرؓ کا حُر کے لشکرّ سے سامنا ہوتاہے تو آپ نے فرمایامیں خود نہیں آیا بلکہ بلایاگیاہواور اہل کوفہ کے خطوط کا زکر کرتے ہیں جس کا جواب حر ابن یزید نے یہ دیا

حرابن یزید کا جواب خطوط کے بارے
اناوللہ لاندری ما ھذہ الکتب التی تذکر
حر ابن یزید نے کہا اللہ کی قسم میں کچھ نہیں جانتا آپ کن خطوط کا زکر کر رہے ہیں 

طبری ج3ص 303
حضرت حسینؓ مقام جبل زی رحم    
فقال الحسین یا عقبة ابن سمعان اخرج الخرجیین الزین فیھما کتبھم الی فاخرج خرجیین مملوءین صفحا فنشر بین ایدیھم
حضرت حسین ؓ نے عقبہ ابن سمعان سے کہا کہ کہ خطوط سے بھری دونوں بوریاں نکال لاو جو کوفہ والوں نے مجھے لکھے تھے وہ خطوں سے بھری ہوی.  دو بوریاں نکال لاے اور حر ابن یزید اور کوفہ والوں کے سامنے ڈال دیےطبری ج506/5  

31-بیضہ 

32-مسیجد،

33-حمام،

34-مغیثہ،

35-ام قرون،

36-عذیب قادسیہ کی وادی ہے اورقادسیہ اور کوفہ صوبہ نجف کے شہر ہیں حضرت حسینؓ نے کوفہ کا راستہ ترک کرکے دمشق کا قصد کیا اور دمشق کی طرف روانہ ہوے اگے پڑاو اس دمشق کے راستے کے ہیں  

37-قصر بنی مقاتل 

38-قطقطانہ،

کربلائے معلی یعنی (وادی طَفّ) آخری منزل تھی اور یہ دمشق کی طرف کوفہ سے 40کلومیٹر  الگ صوبہ ہے

اس جغرافیائی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ حضرت حسینؓ کی شہادت کی وجہ اہل کوفہ کے بغاوت کے موقف کو تسلیم نا کرنا اور ان کی بغاوت کے ثبوت وہ خطوط جو انہوں نے حضرت حسینؓ کو لکھے 

تھے اس کی دلیل میں روایت  

جب کربلا میں پہنچتے ہیں تو عمربن سعدسے ملاقات ہوتی ہے اور عمربن سعدکے زریعے عبیداللہ ابن زیادسے خط وکتابت ہوتی ہے 

حضرت حسینؓ کی عبیداللہ ابن زیاد سے خط وکتابت
حضرت حسین ؓ نے عمرو ابن سعد کو تین باتیں پیش کی
فقال الحسین یا عمر اختر منی احدی ثلاث
1۔۔۔۔ تترکنی ارجع کماجئت
2۔۔۔۔۔۔ان ابیت ھذہ فسیرنی الی الترک اقاتلھم حتی اموت
3۔۔۔۔۔۔ان ابیت ھذہ فابعث بی الی یزید۔۔(یزیدامیرالمومینین  عند الطبری )لاضع یدی فی یدہ وارسل الی ابن زیاد بذالک
حضرت حسین ؓ نے تین باتیں عمر ابن سعد کے سامنے پیش کیں

   ۔ 1۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ دوکہ میں  جہاں سے آیا ہوں وہیں لوٹ جاوں
2۔۔۔۔۔اگر یہ قبول نہیں تو دشمن کی طرف بھیج دیں میں ان ںسے اس وقت تک جہاد کروں گا جب تک شہید نا ہو جاو
3۔۔۔۔۔اگر یہ بھی قبول نہیں تو مجھے یزید (طبری میں امیر المومنین ) کے پاس بھیج دیں
یہ تینوں باتیں لکھ کر ابن زیاد کو بھیج دیں
طبری ج 5۔۔/44۔46۔235۔257

یہاں حال تھوڑا سا ابن سعد کے لشکر کا جو کہ کم سے کم روایات میں 4000 ہزار کا بتایا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 30000 ہزار کا زکر  
ہم نے پہلے زکر کیا عمر ابن سعد کے لشکر کی 

تعداد مختلف روایات میں مختلف ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے اس کے میمنہ ومیسرہ ساقہ پر جو لوگ امیر مقرر تھے وہ وہی لوگ روساءے کوفہ تھے جنہوں نے خط لکھ کر حضرت حسینؓ کو کوفہ بلایا تھا طبری البدایہ باقر مجلسی نے ان کا خاص زکر کیا ہے
جو خط عبیداللہ ابن زیاد کو لکھا اور جو شرائط لکھیں تھیں ان کا جواب ابن زیاد نے یہ دیا
ھذاکتاب رجل  ناصح لامیرہ ومشفق علی قومہ نعم قد قبلت
یہ خط  ایسے آدمی کا ہے جو اپنے امیر کے لیے ناصح ہے اور اپنی قوم کے لیے شفیق ہے میں نے اس کو قبول کیا
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوفی سردار کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ہماری ملت وملک واسلامی غداری کے ۔گواہ اور جو ثبوت اہل بیت کے پاس ہیں وہ خلیفہ وقت کے کیوکرہاتھ لگیں یہ بلکل وہی صورت حال تھیں جس کے متعلق مالک اشتر نخعی نے حضرت  علی ؓ کے بارے جنگ جمل میں کہا کہ ہم نے علی ؓ کو خلیفہ بنایا ہے اور یہ بھی خون عثمان ؓ کا مطالبہ کرتا ہے
کیوں نا ہم سب سے پہلے علیؓ کا کام تمام کریں
اب یہاں بھی وہی صورت حال تھی
کہ کسی صورت حضرت حسینؓ دمشق نا جا سکیں اور وہ کوفی جو مکہ سے قافلے کے ساتھ تھے پوری کوشش میں تھے کہ خط ان کے ہاتھ لگیں اور وہ ان کو لے کر فرار ہو جائیں لیکن ایک طرف حرابن یزید اور دوسری طرف عمرابن سعد حفاظت پر تھے
کوفی شاطر تھے اور انہوں نے پڑاو کے وقت ظہر کے بعد کا وقت چنا ساری کاروائ کے لیے کیونکہ اس وقت عموما لوگ آرام کرتے ہیں
اب میں ایک بات وضاحت کردوں کہ جو مطالبات حضرت حسینؓ نے رکھے ان کے الفاظ پر غور کریں
1۔۔۔۔مجھے واپس بھیج دیں
2 ۔۔۔۔۔جہاد پر بھج دیں
3 ۔۔۔۔مجھے دمشق بھیج دیں
یہ دستے ان کی حفاظت پر تھے
اور کوی امکان لڑائی کا نہیں تھا
جسے کہ نقشے میں دیکھایا ہے
قادسیہ سے پہلے حرابن یزید سے ملاقات ہوتی ہے صوبہ نجف کی آخری وادی میں عمر ابن سعد سے ملاقات ہوتی ہے پھر سارے صوبہ نجف سے گزر کر تیسرے صوبے یعنی کربلا میں داخل ہوتے ہیں اور کربلا میں حادثہ پیش آتا ہے
حادثہ اس وقت ہوا جب سب لوگ اپنے انفرادی کاموں میں مصروف تھے جو ساٹھ کوفی حضرت حسینؓ کے ساتھ تھے انہوں نے وہ خط چھیننے کی کوشش کی اہل بیت ان کو وہ خط نہیں دے رہے تھے اس سے شور وغوغہ ہوا گرد اڑنے لگی تو حر ابن یزید اور عمر ابن سعد دوڑے
یہاں ایک بات زہن نشین کریں ابومخنف نے جو روایات پانی کے بارے اور سارہ دن دوبدو لڑائی کےبارےمیں ذکر کی ہیں ان کی حقیقت کے لیے دو روایات آپ کی نظر کی جاتی ہیں . 
یا اھل الکوفہ ادعوتم الحسین الیکم حتٰی اذا اتٰکم وحلتم بینہ وبین الماء الفرات الذی یشرب منہ الکلب والخنزیر وقد صرعنھم العطش    
اے اہل کوفہ تم نے حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا یہاں تک کہ وہ تمہارے پاس آگئے تو تم ان کو اورماء فرات کے درمیان حائل ہوگئے جس پانی میں سے کُتے اور خنزیر بھی پیتے ہیں البدایہ والنہایہ ص 7/267   
فعدل الحسین الٰی خمیۃ قد نصیت فاغتسل فیھا وتطیب بمسک کثیر ودخل بعدہ بعض الامراء فعلوا کما فعل۔
پس حسین رضی اللہ عنہ خیمے کی طرف آئے جو نصب کیا گیا تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے غسل فرمایا اور بہت سی مشک کی خوشبو لگائی اور ان کے بعد بہت سے امراء داخل ہوئے جنہوں نے آپ کی طرح کیا (یعنی غسل کیا اور خوشبو لگائی ) ۔    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البدایہ والنہایہ۔8/164
🏵ان کی سچای کے لیے یہ دو روایات کافی ہیں ایک طرف پیاس ہے اور دوسری طرف اتنا پانی کہ سب امیروں نے غسل کیا

ایک روایت میں ہے کہ فرات کا پانی بند کر دیا

جس میں سے کتےاور خنزیر تک پیتے ہیں
جب حر ابن یزید اور عمر ابن سعد قریب پہچتے ہیں تو حر ابن یزید  کوفیوں کو مخاطب کرتے ہیں     

حر ابن یزید کے الفاظ بطور گواہی   

یااہل الکوفة لامکمالھبل ادعوتم 

الحسین الیکم حتی اذااتاکم اسلمتموہ زعتم انکم قاتلوا انفسکم دونہ ثم عدوتم علیہ لتقتلواہ
اے اہل کوفہ تمہارابرا ہو تم حسینؓ کو اپنے پاس بلاتے ہو اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تم ان کو بے یارومددگارچھوڑ دیتے ہو پہلے تم نے خیال کیا ان کی حفاظت کے لیے جانیں لڑاو گے اور پھر ان کو قتل کرنے کے لیے حملہ کر دیا

تو جناب اس روایت سے بھی قاتل
البدایہ ج8ص180  

حرابن یزید کی گواہی کہ خود کوفہ والوں نے بلایا اور پھر خود ہی قتل کے در پے ہو گئے

 کوفہ والے ہی ثابت ہو رہیے ہیں جنہوں نے خط لکھے اور بلایا بلکہ صریح الفاظ موجود ہیں خود ہی بلاتے ہو اور خود ہی قتل کے درپے ہواس میں وضاحت ہے کہ پہلے خود بلایا گمان 

 یہ تھا کہ ان کی حفاظت کریں گے  جب حالات دیکھے اور حضرت حسینؓ کا اپنا قصد دیکھا تو پھر خود ہی قتل کے در پر ہو گیے

 حضرت حسین ؓ کا موقف یہاں جس کو طبری نے روایت کیا ہے

شبیرؓشہید کی آٹھویں گواہی 

کربلامیں موقف حسین 
اللھم احکم بینناوبین قوم دعونا لینصروانا فقتلونا
اے اللہ تو فیصلہ کر دے ہمارے اور اس قوم کے درمیان میں جس نے ہمیں بلایا تاکہ ہماری وہ مدد کریں  لیکن وہ ہمیں قتل کر رہے ہیں
طبری ج5ص389
🏵اس سے زیادہ مظبوط اور کیا ہو سکتا ہے کہ مقتول خود قاتل کا پتہ دے رہا ہے 

شبیرؓشہید کی نوویں گواہی 

تم پراور  تمہارے ارادے پر لعنت ہو اے بے  ۔      

وفایان نے جفا کارو غدارو تم پر واے  ہو تم نے ہنگامِ اضطرار میں ہمیں بلایاجب میں تمہارا کہنا مان کر تمہاری مدد و نصرت وہدایت کے لئے آیاتو تم نے شمشیر کینہ مجھ پر رکھی اور اپنے دشمنوں کے مددگار ہوے اپنے دوستوں سے دستبردار ہوے 

جلاالعیون ص 2/182۔183

1۔۔۔اس روایت سے بھی خود بلایا 

2۔۔۔۔بے وفائی کی 

3۔۔۔دھوکا دیا 

4۔۔۔حضرت حسینؓ خود فرما رہیے ہیں کہ مجھی پر تلوار رکھ دی 

عمر ابن سعد کی گواہی 

عمرابن سعد کے الفاظ بطور گواہی
وقددنا عمرابن سعد من حسین فقالت یاعمرو ابن سعدایقتل ابوعبداللہ انت تنظر الیہ فقال فکانی دموع عمرو تسیل خدیہ ولحیتہ جب تک عمر ابن سعد حضرت حسین ؓ تک پہنچے تو کسی عورت نے کہا کیا حسینؓ قتل کر دیے جائیں گے اور آپ دیکھتے رہ جاو گے روای کا بیان ہے اس وقت آنسو  عمر ابن سعد کے گال اور داڑھی پر بہ رہے تھے
طبری ج5ص456

تو جناب یہ وہ دلیل ہیں جو ثابت کرت ی ہیں کہ حضرت حسینؓ کے قاتل وہی لوگ ہیں جنہوں نے خط لکھ کر بلایا 

  شبیرؓشہید کی دسویں گواہی 

قدخذلتنا شیعتنا

ہمیں ہمارے شیعوں نے رسواکر دیا 

مقتل ابی مخنف صفحہ  43

ناسخ التواریخ ج 3/137

شیخ ارشاد المفید صفحہ 223 

قاتلین شبیرؓ تھے کون

میدان کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے شیعوں کو کیے ہوئے وعدے اور محبت یاد دلائے لیکن وہ مکر گئے 

مقتل ابی مخنف صفحہ 44 

جلاء العیون صفحہ375  

شوستری کے نزدیک تمام اہل قوفہ شیعہ تھے مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 25 

تو گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلانے والے تمام کے تمام شیعہ تھے ملاباقرمجلسی نے آپ کے بلانے والوں کو آپ کے مخلص شیعہ قرار دیا ہے جلاء العیون صفحہ 356 

ارشاد شیخ مفید صفحہ 202  

مقتل ابی مخنف صفحہ 18 

خط لکھنے والے بھی شیعہ تھے 

مقتل ابی مخنف صفحہ 18 

جلاء العیون صفحہ 356 

مناقب شہر آشوب جلد 1 صفحہ 90

اخبار الطوال 229 

ذبح عظیم صفحہ146 

ابن زیادکی دھمکیوں سے کوفہ والوں نے حضرت امام حسین ؓکی بیعت توڑ ڈالی 

مقتل ابی مخنف صفحہ 25 اور 26 

جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے امام مسلمؓ کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا  

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے مخالف میدان کربلا میں تمام کے تمام کوفی تھے کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا 

مقتل ابی مخنف صفحہ 52 

شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد قافلہ کربلا کو لوٹنے والے اور اور رونے والے تمام کے تمام محبین شیعہ تھے 

مقتل ابی مخنف صفحہ 96 

نورالعین صفحہ 137 

انوار النعمانیہ جلد 3 صفحہ246 

اگلی روایت مسعودی کی ہم پیش کر

 رہے ہیں وکان جمیع من حضر مقتل حسین من العساکر والحاربہ وتولی قتلہ من اہل الکوفة خاصة ولم یحضر ہ من اہل الشام
وہ تمام لوگ جو حملہ کر رہے تھے اور لڑ رہے تھے اور جنہوں نے حسین ؓ کو قتل کیا سارے کوفی تھے ان میں ایک بھی شامی نہیں تھا
المسعودی ج3ص81
باقر مجلسی
وتولی قتلہ من اہل الکوفة خاصة لم یحضرھم الشامی
حضرت حسینؓ کو خالص کوفیوں نے قتل کیا ان میں ایک بھی شامی نہیں تھا
بحار انوارج1ص111
ان روایات سے سارا معاملہ سلجھ جاتا ہے

ان ساری روایات سے قاتلین حسینؓ کی نشاندہی ہوجاتی ہے

۔1۔۔کوفی وفات امیر معاویہؓ سے پہلے ہی  حضرت حسینؓ سے خط وکتابت رکھتے تھے

2۔۔۔محمد ابن حنفیہ سے بھی رابطے میں تھے 

3۔۔روایات میں حضرت حسین کااس بات کا 

اقرار موجود ہے کہ وہ انہیں قتل کرناچاہتےہیں 

4۔۔۔خط لکھنے والے تمام کے تمام کوفی تھے 

5۔۔۔۔مسلم ابن عقیل کو کوفہ والوں کے کہنے پر بھیجا۔

6۔۔۔نوراللہ شوستری مجالس المومنین ص25پر لکھتے ہیں کوفہ والوں کے شیعہ ہونے کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں اگرچہ ابو حنیفہ کوفی ہیں ۔۔

7۔۔۔طبری کی روایت میں خود حضرت حسین ؓ کو بلایا اور خود ہی قتل کے در پے ہوے 

خلاصہ ۔

اب وقت کا قاضی ان تمام بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں قاتل کس کو ٹھہرائے گا کیا کوفی شیعوں کے علاوہ کوئی اور قاتل ہو سکتا ہے 

اب ہم ان لوگوں کووقت کے قاضی کی  عدالت

 میں پیش کرتےہیں جو قافلے کے ساتھ آئے اور حضرت حسین ؓ کے رشتے دار اور اہلبیت ہیں اور گواہ ہیں  شہادت شبیرؓ کے اور دوسرے اہل بیت کے  

تاکہ وقت کے قاضی اور سامعین کو مزید تسلی ہو جائے    
جب قافلہ حسینؓ کے باقی لوگوں کوکوفہ لایا گیا تو علی ابن حسینؓ نے لوگوں کے رونے کی آواز سنی

گواہ نمبر1

پہلی روایت 

حضرت علی ابن حسین ؓ(زین العابدین  کی گواہی لمادخل علی ابن الحسین الکوفة رای نساءھایبکین ویصرخن فقال ھولاءیبکین علینا فمن قتلنا؟ای من قتلنا غیرھم 

تو کہا جب یہ رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والا کون ہے

کوفہ میں روتا اور ماتم کرتا دیکھ کر امام زین العابدین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوفہ والو تمہارے سوا ہمارا قاتل کون ہے 

جلاء العیون صفحہ 423 

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 165 

یعقوبی 1/235
اس معنی کی روایت
عقد الفرید 5/277پر سکینہ بنت حسینؓ
اسی کی مثل ام سلمہؓ
فضائل الصحابة 2/782

دوسری روایت

یہ پہلے شخص کی گواہی ہے

  ہیہات ہیہات اے کوفہ والو۔اے غدارو مکارو۔تمہاری مرادیں پوری نا ہوں تم چاہتے ہوں مجھے بھی فریب دو جیسے مرے باپ داداکو دیا قسم ہے 

گردش والے آسمان کے رب کی مرے والد کی شہادت کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے ۔

احتجاج طبرسی 158

شہادت حسین کے بعد جب شیعوں نے وفاداری اور اطاعت کا اظہار کیا ۔۔۔تو امام زین العابدین کا یہ کہنا تھا جو ماقبل زکر ہوا 

1۔۔۔اہل کوفہ نے خط لکھے 

2۔۔۔اہل کوفہ نے ہی حضرت حسینؓ کو دھوکادیا۔۔

3۔۔۔اہل کوفہ نے ہی حضرت حسینؓ کو شہید کیا

4۔۔۔۔قاتلین حسینؓ ہی شیعہ اور امت رسول اللہ ؐسے خارج ہیں ۔

5۔۔۔۔قاتلین حسینؓ خود بھی روے اور پشیمان ہوے اور اس کو مستقل عبادت بنایا 

6۔۔۔۔قاتلین حضرت حسینؓ ہی مستقل اہل بیت 

کو دھوکہ دیتے رہیے ۔

گواہ نمبر 2

حضرت زینب بنت علیؓ کی گواہی۔

حمد اللہ الصلواة علی رسولہ امابعد یا اہل لکوفة یا اہل القتل والخدروالغذل الی ان قالت الابئس ماقدمت لکم انفسکم ان سخط اللہ علیکم وفی العذاب انتم خالدون تبکون لی اجل واللہ فابکوا انکم حق بالبکاءفابکوا کثیراواضحکوا قلیلا ماذا تقولون ان قال النبی لکم ماذا نعلتم وانتم اخبر الامم باھل بیتی اولادی بعد مفتتعد منھم اساری منھم ضرجوابدم ۔

ترجمہ۔ ۔۔حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا اے اہل کوفہ اے ظالموں اے غدارو۔ اے رسوا کرنے والو۔ بہت برا ہے جو تم نے اپنے لیے آگے بھیجا ہے یہ کہ اللہ تم پر ناراض ہوا اور تم ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہو تم روتے رہو ہاں روتے رہو کیونکہ تمہیں رونا ہی زیب دیتا ہےخوب روو اور کم ہنسو کل رسول اللہ کو کیا جواب دو گے جب آپ پوچھیں گے تم آخری امت ہو تم نے میرے بعد میری اولاد اور میرے اہل بیت سے کیا سلوک کیا ان میں سے بعض کو قیدی بنایا اور بعض کو قتل کیا 

ملا باقر مجلسی نے یوں ترجمہ کیا ہے روایت کا ص 503 پر

اما بعد اے اہل کوفہ اے اہل غدرو مکر و حیلہ 

تم ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو خود تم نے ہمیں قتل کیا ہے اورتمہارے ستم سے ہمارا فریادونالہ ساکن نہیں ہوا ہے تم نے اپنے لئے آخرت میں توشہ و ذخیرہ خراب بھیجا ہے اور اپنے آپ کو ابدالاباد جہنم کا سزاوار بنایا ہے ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو جبکہ تم لوگوں نے خود ہی ہم کو قتل کیا ہے تمہارے ہاتھ قطع کیے جائیں اے اہل کوفہ تم نے جگر گوشہ رسول ؐکو قتل کیا اور باپردہ اہل بیت کو بے پردہ کیا کس قدر فرزندان رسول اللہؐ کی خون ریزی کی اور حرمت کو ضائع کیا 

1۔۔۔اہل کوفہ نے امام حسین کو مکروحیلہ سے بلایا 

2۔۔۔حضرت حسین سے غداری کی 

3۔۔۔اور حضرت حسین اور اہل بیت کو قتل کیا 

4۔۔۔اس روایت میں ان کو ابدی جہنم کی خوشخبری سنائی گئی 

5۔۔۔خود انہوں نے اور ان کی عورتوں نے رونا پیٹنا شروع کر دیا 

6۔۔۔۔قاتل بھی اہل کوفہ یعنی شیعہ بلانے والے بھی اہل کوفہ یعنی شیعہ۔ اور ابدی جہنم کا حقدار بھی اہل کوفہ یعنی شیعہ ٹھہرے۔ 

 گواہ نمبر 3

حضرت فاطمہ بنت حسینؓ 

امابعد یا اہل الکوفة یا اهل المکر والغدر والخیلاء فکذبتمونا ووکفرتموناوورایتم قتالناحلالاواموالنانھاکانااولادالترکاوکابل قتلتم جدنابالامس وسیرفکم  یقطرمن دمائنااہل بیت لحقدمتقدم قرت بذالک عیونکم فرحت قلوبکم اجتراء منکم علی اللہ مکرتم اللہ خیر الماکرین

ترجمہ۔ ۔اما بعد اے اہل کوفہ اور اہل مکر وفریب تم نے ہمیں جھٹلایا اور ہمیں کافر سمجھا ہمارے قتل کو حلال اور ہمارے مال کو غنیمت سمجھا جیسا کہ ہم ترکوں اور کابل کی نسل سے تھے جیسا کہ تم نے کل ہمارے دادا علیؓ کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپک رہا ہے سابقہ کینہ کی وجہ سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوئی دل خوش ہوا اور تم نے خدا کے مقابلے میں جرات کی اور مکر کیا اور اللہ مکر کرنے والوں کو خوب سزا دینے والا ہے 

احتجاج طبرسی ص157

1۔۔۔اہل کوفہ نے اہل بیت کو کافر سمجھا  

2۔۔۔اہل بیت کے قتل کو حلال سمجھا 

3۔۔۔ان کے مال کو مال غنیمت سمجھا 

4۔۔۔حضرت علی کو بھی انہوں نے ہی قتل کیا 

5۔۔۔اہل بیت سے ان کو پرانی دشمنی تھی 

6۔۔۔اہل بیت کو قتل کرکے یہ خوش ہوئے اور رونا پیٹنا ایک دکھلاوا تھا 

گواہ نمبر 4

ام کلثوم ہمشیرہ امام حسینؓ 

جب اہل کوفہ نے بچوں کو صدقے کی کھجوریں دینا شروع کی تو مائی نے فرمایا کہ صدقہ ہم پر حرام ہے یہ سن کر کوفی عورتیں رونے پیٹنے لگی اس پر مائی صاحبہ نے فرمایا اے اہل کوفہ صدقہ ہم پر حرام ہے اےزنان اہل کوفہ تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا ہم اہل بیت کو اسیر بنایا اور  اب تم کیوں روتی ہو۔ ؟؟؟؟؟؟

جلاءالعیون ص705

1۔۔۔عالم کوفہ نے امام حسین کو خط لکھ کر بلایا 

2۔۔۔ان کے ساتھ غداری کی اور ان کو شہید کیا 

3۔۔ان کو صدقے کی کھجوریں کھلانے کی کوشش کی 

4۔۔۔اور اہل کوفہ کی عورتوں نے خود ہی رونا پیٹنا شروع کر دیا 

خود مقتول کے بیان سے اوراس وقت کائناتکے ان معتبر ترین گواہوں  کے بیان سے ثابت ہوا 

حضرت امام حسینؓ کےقاتل خود بلانے والے تھے 

سابقہ کینہ ۔۔۔

ام کلثوم ؓ کے بیان سے بھی سابقہ کینے کے شواہد ملتے ہیں 

عبدالرحمن ابن ملجم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی اور ان کو شہید کیا 

جلاء العیون صفحہ 230 

 حضرت حسن ؓخدا کی قسم میں معاویہ کو ان اپنے شیعوں سے بہتر سمجھتا ہوں انہوں نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی اور میرا مال لوٹ لیا 

احتجاج طبرسی ص150

گویا کہ امیر معاویہ کے ساتھ ہی اتنے وفادار ہیں کہ میں اپنے دس شیعہ دے کر ان سے ایک آدمی لے لو یہ زیادہ بہتر ہے 

نہج البلاغہ 189

یہ بیانات  حضرات اہل بیت کے اپنے شیعوں کے بارے میں ہیں  

حضرات حسنین ؓ نے امیر معاویہؓ کی بیعت بھی کی حضرت امیرمعاویہؓ نے ان کی حفاظت بھی کی ان کو سالانہ وظائف بھی دیے جبکہ ان کے شیعوں نے ایک بھائی کو شہید کرنے کی کوشش کی اور دوسرے کو شہید کر دیا  

اقرارجرم

اب ہم قاتل کا اقرار جرم کابیان پیش کرتے ہیں 

اب ہم اپنے بداعمالیوں پر نادم ہیں اور چاہتے ہیں کہ توبہ کرلیں خدا تعالی ہم پر رحمت فرما کر ہماری توبہ قبول کر لے اور ہماری جماعت میں سے جتنے لوگ ابن زیاد کی فوج کیساتھ ملکر امام کوکربلا میں قتل کرنے گئے تھے  سب عذر کرنے لگے سلیمان ابن صرد کہنے لگا اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو تیغ بدست میدان میں لا ئیں جیسے بنی اسرائیل نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھاکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یہ کہہ کر تمام شیعہ استغفارکرتےہوے اپنے زانوں پر زمین پر گر پڑے  

مجالس المومنین نوراللہ شوستری  صفحہ241

سلیمان ابن صرد وہی شیعہ ہے جس کے گھر جمع ہو کر تمام شیعہ نے حضرت حسینؓ کو خط لکھا تھا ۔

قاتل اپنے قتل کا اقرار کر چکا ہے یہی قاتل ہے جس نے حضرت حسین ؓ کو اپنے گھر بلایا 

بیعت کا وعدہ کیا اور آنے کے بعد شہید کروا دیا 
حضرت حسینؓ کا سر مبارک ۔

حضرت حسین ؓ کا سر مبارک عبید اللہ ابن زیاد

 کے سامنے پیش کیا گیا تو
۔۔۔۔۔۔۔۔راسہ واتی بہ عبیداللہ ویقول اوقررکابی زھبا وفضةاناقتلت الملک المحجبا۔ خیرعباداللہ اباوامی فلم قتلتہ؟فقدموا فضربواعنقہ فضربت عنقہ
حضرت حسین ؓ کا قاتل آپ کا سر مبارک لے کر عبیداللہ ابن زیاد کے پاس پہنچا اور کہا آج میں اپنی پیالی سونے اور چاندی سے بھر لوں گا کیونکہ میں نےچھپے ہوے بادشاہ کو قتل کیا ہے جو لوگوں میں ماں باپ کے اعتبار سے سب سے بہتر تھا کہا ابن زیاد نے جب وہ بہتر تھا تو تو نے قتل کیوں کیا اور حکم دیا اس کو قتل کر دو لے جا کر پس اس کو قتل کر دیا گیا
عقدالفرید 5/30
العاصم من القواصم 64
صواق المحرقة 5/577
سمط النجوم3/375
مروج الزھب  3/148 

فیصلہ  

 جی ہم سوال کرتے ہیں وقت کے

 قاضی  سے کہ جناب ہمارے مقدمے کا فیصلہ سنایےکیا فیصلہ ہے جناب کا۔

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 55 

اعتبار سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو لوگ شہید ہوئے وہ تمام کے تمام اہل سنت تھےآپ کوخط لکھنے والے بھی شیعہ تھے  آپ کو بلانے والےبھی شیعہ تھے آپ کے مدمقابل بھی شیعہ تھے اور آپ کے قاتل بھی شیعہ تھے

 ۔؟؟؟؟؟؟؟؟
ہم نے ان روایات کو زکر کیا ہے جو اصح ترین ہیں
اللہ کے فضل سے ہمارا یہ سلسلہ مکمل ہوا ہے 
واللہ اعلم بثواب
وآخر دعوانا انالحمدللہ رب العالمین