مکالمہ فدک (چوتھی قسط) میراث انبیاء کرام پر شیعہ دلائل اور رد

جعفری: السلام وعلیکم بھائی جان کیا حال ہیں؟

صدیقی: وعلیکم السلام بھائی ۔۔۔ اللہ کا کرم ہے۔۔ تم سناؤ ۔۔۔

جعفری: مولا کا کرم ہے، آج جشن ولادت مولا علی تھا۔

صدیقی: بالکل۔۔۔ امت مسلمہ کے لئے خوشی کا موقعہ ہے ، تو کیا خیال ہے آج اس خوشی کے موقعہ پر تم میراث انبیاء کرام کو ثابت کر رہے ہو نہ ؟

جعفری: بیشک۔۔۔ تین دن سے دیکھ رہا ہوں، تمہارہ پلڑہ بھاری ہے، آج نبیوں کی میراث کو قرآن کریم سے ثابت کر کے دکھاؤں گا۔

صدیقی: بہت خوب۔۔۔ لیکن یہ ذہن میں رہے کہ میراث انبیاء کرام میں تمہیں “مالی میراث” ثابت کرنی ہے، کیونکہ علمی میراث کا اہل سنت انکار نہیں کرتے۔

جعفری: میری پہلی دلیل یہ آیت قرآنی ہے جس میں واضح طور پر بیان ہے کہ حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کی وراثت ملی تھی۔

شیعہ کی دلیل 1️⃣ سوره النمل:16

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ

سلیمان کو داود کی وراثت ملی اور انہوں نے کہا: اے لوگو!ہمیں پرندوں کی زبان کا علم ملا ہےاور ہمیں ہر شئے میں سے کچھ نہ کچھ حصّہ ملا ہے یقینًا یہ اس کا ہم پر واضح فضل ہے۔

استدلال: دیکھو آیت میں کتنے صاف الفاظ ہیں، وورث سلیمان داؤد وارث ہوئے سلیمان داؤد کے ، اس سے ثابت ہوتا ہے نبیوں کی وراثت ہوتی ہے ، اگر انبیاء کرام علیہم السلام کا مالی ترکہ تقسیم نہیں ہوتا تو حضرت دائود علیہ السلام کے حق میں قرآن مجید نے یہ کیوں فرمایا؟

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث جاری ہوتی ہے۔

صدیقی: بیشک سورت النمل آیت 16 کے مطابق حضرت سلیمان حضرت داؤد کی وارث بنے تھے ، لیکن یہ وراثت دنیا کی مال و ملکیت تھوڑی تھی۔

جعفری: ہاں۔۔ تم لوگ تو یہی کہو گے! اگر میراث انبیاء کرام تسلیم ہو جائے تو فدک پر غاصبانہ قبضہ ثابت ہوجائے گا ، اس لئے تم لوگوں نے سرے سے میراث نبی کا ہی انکار کردیا ہے!

صدیقی: ارے بھائی۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ کل میں نے شیعہ معتبر کتب سے کئی روایات پیش بھی کی تھیں۔

اگر نبیوں کی مالی میراث واقعی ہوتی تو شیعہ معتبر کتب میں ایسی بیشمار روایات کیوں ہوتیں، جن میں واضح بیان کیا گیا ہے نبی بطور ورثہ درھم و دینار چھوڑ کر نہیں جاتے۔

جعفری: ہمارہ اصول ہے کہ وہ تمام روایات دیوار پر مارو جو قرآن کے خلاف ہوں۔

صدیقی: اہل سنت اور اہل تشیع کتب میں وہ تمام روایات ہرگز قرآن کریم کے خلاف نہیں ہیں۔

جعفری: کمال ہے۔۔ میں نے اتنی واضح آیت قرآن سے دکھا دی ہے اور تم اب بھی تسلیم نہیں کر رہے، چلو دلیل دو کہ اس آیت میں حضرت داؤد کی مالی وراثت کا ذکر نہیں ہے۔

صدیقی: اس آیت میں ہرگز ہرگز حضرت داؤد کی مالی وراثت کا ذکر نہیں ہے۔

اس آیت میں نبوت و بادشاہت کی وراثت مراد ہے کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو وراثت علمی ملی تھی، مالی نہیں۔ چنانچہ اس کے چند دلائل یہ ہیں۔

1️⃣ اہل تاریخ کا اجماع ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے کم و بیش انیس فرزند تھے (کتاب ناسخ التواریخ، جلد اول، ص 270 پر حضرت دائود علیہ السلام کے سترہ بیٹوں کے نام لکھے ہیں) اور قرآن نے یہ بتایا کہ ان میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو میراث ملی اور باقی افراد محروم رہے تو اگر یہاں میراث سے مالی میراث مراد ہوتی تو ان کے تمام فرزندوں کو ملنی چاہئے تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہاں میراث سے علم اور نبوت مراد ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کو تو ملی مگر ان کے دوسرے بھائی محروم رہے۔

2️⃣ یہاں اگر میراث سے مالی میراث مراد لی جائے تو کلام الٰہی کا لغویت پر مشتمل ہونا لازم آتا ہے، کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کی میراث پاتا ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کا یہ خبر دینا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت دائود علیہ السلام کے وارث ہوئے، بالکل لغو ہے۔ اور کلام الٰہی لغویت سے پاک ہوتا ہے لہذا ماننا پڑے گا کہ اس آیت میں میراث علمی ہی مراد ہے۔

3️⃣ اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے فضائل و مراتب کا اظہار کیا گیا ہے اور اگر اس سے مراد وراثت مالی ہو تو یہ کوئی فضیلت کی بات نہیں ہے۔ میراث تو آخر سبھی کو ملتی ہے۔ اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے۔ اس لئے یہاں میراث سے مراد علمی میراث ہی ہے اور اسی بات کو قرآن مجید نے مقام مدح میں بیان کرکے اس کا اظہار کیا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے انیس بیٹوں میں سے یہ شرف صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کو حاصل ہوا کہ وہ منصب نبوت پر فائز ہوئے اور انہوں نے اپنے والد حضرت دائود علیہ السلام کی میراث نبوت کو پالیا ، چنانچہ آیت زیر بحث کے آخری جملے ’’ان ہذا الہو الفضل المبین‘‘ کی تفسیر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نبوت اور بادشاہت سے کی ہے۔

♦️ تفسیر صافی جلد پنجم ص 366

في جوامع الجامع (ان هذا لهو الفضل المبين) وعن الصادق (عليه السلام) يعنى الملك والنبوة۔

♦️ تفسیر نور الثقلین جز 4 ص 81

امام جعفر صادق کی اس تفسیر سے واضح ہوا کہ اس آیت میں نبوت و بادشاہت کی میراث مراد ہے، مالی میراث مراد نہیں ہے، چنانچہ اس کی تائید آیت سے بھی ہوتی ہے۔

القرآن: وورث سلیمان داؤد قال یاایھا الناس علمنا منطق الطیر

ترجمہ: وارث ہوئے سلیمان دائود کے۔ پھر کہا سلیمان نے اے لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔

اور اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہر چیز کا علم دیا ہے۔ آیت کا یہ حصہ بھی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت دائود علیہ السلام کی میراث میں علم اور نبوت ہی پایا تھا۔

جعفری: تم نے پوری آیت پر غور نہیں کیا، قرآنی آیت میں واضح بیان کیا گیا ہے حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کے علم اور ہر شے سے وراثت میں حصہ ملا ، ظاہر ہے مال بھی شے ہے۔

تم نے دلیل یہ دینی ہے کہ مال کل شئ میں شامل نہیں؟ اور کل شئ سے مراد صرف علم ہے۔

صدیقی: بیشک کل شی میں مال ملکیت بھی شامل ہے، لیکن اس آیت میں حضرت داؤد کا وارث صرف ایک بیٹے حضرت سلیمان کو بنایا گیا ہے،

اگر آیت میں کل شی میں مال ملکیت بھی مراد ہوتا تو صرف ایک بیٹے کو وارث بنانے سے دوسرے بیٹوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔

اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر شئے میں مال ملکیت کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے۔

جعفری: تمہارہ استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں حضرت سلیمان کا ذکر ہے ، لیکن “صرف” وہی وارث بنے یہ ضروری نہیں، ہوسکتا ہے دوسرے بیٹوں کو بھی حصہ ملا ہو۔

صدیقی: بیشک مال ہر شئے میں داخل ہے، لیکن یہاں استشناء ہے۔ کیونکہ مال بھی شامل ہوتا تو دوسرے وارث بھی مذکور ہوتے ، ایک بیٹے کا نام بتانے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت داؤد کی مالی وراثت کا ذکر نہیں ورنہ قرآن میں معاذاللہ نقص ہوجائے گا۔ وورث سلیمان داؤد ۔۔ سلیمان وارث بنے داؤد کے، ان الفاظ سے ہم یہ کیسے سمجھ لیں کہ حضرت داؤد کے تمام بیٹے ہی وارث بنے؟ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر قرآن میں کیوں بیان ہوتا؟ والد کے وارث تمام اولاد بنتی ہے، خاص حضرت سلیمان کا نام بیان کرنے کی ضرورت کیوں آئی؟ دوسرے بیٹوں کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟

بالفرض دوسرے بیٹے بھی وارث بنے تھے تو پھر حضرت سلیمان کو ہی وارث بنانے کا ذکر کیوں؟

بھائی۔۔ تمہارے استدلال سے معاذاللہ قرآن کریم میں نقص ہوجاتا ہے جبکہ ہمارہ ایمان ہے کہ قرآن ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔

جعفری: میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ کل شی میں مال ملکیت بھی شامل ہے۔

صدیقی: عجیب ہٹ دھرمی ہے۔ فرض کرو۔۔ اگر یہاں کل شئے میں مال بھی شامل ہے۔ تو تمہیں حیرانگی نہیں ہو رہی کہ والد کے کئی بیٹے ہوں لیکن مال حضرت سلیمان کو ورثہ میں دیا جا رہا ہے۔

اچھا میں اگر تمہارے امام معصوم سے واضح دکھادوں کہ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان بنے تھے تو اس وراثت میں مال ملکیت شامل نہیں تھی ، تو تسلیم کر لوگے؟

جعفری: ہمارے علماء کرام سورت النمل کی یہ آیت میراث انبیاء کرام کے حق میں دیتے رہے ہیں، اگر کسی امام معصوم کا قول ہوگا بھی تو کسی غیر معتبر کتاب میں ہوگا۔

صدیقی: اگر اہل تشیع کی اصول اربعہ میں شامل کتاب ہو؟ بلکہ اوّل نمبر کی کتاب سے دکھادوں تو؟

جعفری: کیا مطلب؟ الکافی کی بات کر رہے ہو؟

صدیقی: جی بالکل۔۔ ٹھیک سمجھے ہو۔

جعفری: تعجب ہے!!! الکافی میں کس امام معصوم کا قول ہے کہ حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کی مالی میراث نہیں ملی تھی؟ واضح روایت دکھاؤ، تاویل کر کے من مانی تشریح کا تسلیم نہیں کروں گا۔

صدیقی: بالکل۔۔ واضح الفاظ سے ثابت کرتا ہوں۔ الکافی جلد 1 سامنے ہی شیلف میں پڑی ہے، خود اٹھا کر لاؤ۔۔۔

(جعفری فورآ اٹھ کر الکافی جلد 1 اٹھا کر لاتا ہے۔)

جعفری: بتاؤ۔۔۔ کس صفحہ پر امام معصوم کا قول ہے؟

صدیقی: صفحہ نمبر 133 کھولو۔۔

اور اس کا آخری پیراگراف پڑھو۔

جعفری پڑھنے لگا

محمد بن يحيى، عن سلمة بن الخطاب، عن عبد الله بن محمد، عن عبد الله بن القاسم، عن زرعة بن محمد، عن المفضل بن عمر قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: إن سليمان ورث داود، وإن محمدا ورث سليمان، وإنا ورثنا محمدا، وإن عندنا علم التوراة والإنجيل والزبور، وتبيان ما في الألواح (1)، قال: قلت: إن هذا لهو العلم؟ قال: ليس هذا هو العلم، إن العلم الذي يحدث يوما بعد يوم وساعة بعد ساعة

ترجمہ: حضرت امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ سلیمان علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور محمد علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور ہم وارث ہوئے محمد علیہ السلام کے ، بیشک ہمارے پاس توریت زبور انجیل کا علم ہے اور الواح موسی کا بیان ہے ، راوی نے کہا علم اسی کا نام ہے فرمایا یہ وہ علم ہے جس کا تعلق ہر روز ہر گھڑی کے واقعات سے ہے۔

( اصول الکافی الشیخ الکلینی ج 1 ص 133)

یہی روایات الکافی کے علاوہ دوسری شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔

1️⃣ أحمد بن إدريس، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن شعيب الحداد، عن ضريس الكناسي قال: كنت عند أبي عبد الله عليه السلام وعنده أبو بصير فقال أبو عبد الله عليه السلام: إن داود ورث علم الأنبياء، وإن سليمان ورث داود، وإن محمدا صلى الله عليه وآله ورث سليمان، وإنا ورثنا محمدا صلى الله عليه وآله وإن عندنا صحف إبراهيم وألواح موسى، فقال أبو بصير: إن هذا لهو العلم ، فقال: يا أبا محمد ليس هذا هو العلم، إنما العلم ما يحدث بالليل والنهار، يوما بيوم وساعة بساعة۔

(الکافی جلد 1 ص 225)

2️⃣ حدثنا سلمة بن الخطاب عن عبد الله بن القاسم عن ذرعة عن المفضل قال قال أبو عبد الله عليه السلام ورث سليمان داود وأن محمدا ورث سليمان وانا ورثنا محمدا صلى الله عليه وآله وانا عنده علم التورية والأنجيل والزبور وتبيان ما في الألواح قال قلت إن هذا لهو العلم قال ليس هذا العلم إنما العلم ما يحدث يوما بيوم وساعة بساعة۔

(بصائر الدرجات ص 158,159)

3️⃣ عن أحمد بن إدريس، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن شعيب الحداد، عن ضريس الكناسي، قال: كنت عند أبي عبد الله × و عنده أبو بصير، فقال أبو عبد الله × : «إن داود ورث علم الأنبياء، و إن سليمان ورث داود، و إن محمدا | ورث سليمان، و إنا ورثنا محمدا | ، و إن عندنا صحف إبراهيم، و ألواح موسى ’ » .

فقال أبو بصير: إن هذا لهو العلم فقال: «يا أبا محمد، ليس هذا هو العلم، إنما العلم ما يحدث بالليل و النهار، يوما بيوم، و ساعة بساعة» .

(البرھان فی تفسیر القرآن)

جعفری: اوہ ۔۔۔میرے مولا !!!

یار۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا!!

صدیقی: آرام سے تصدیق کرلو۔۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ واضح الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث بنے اور ہم نبی کریم کے وارث بنے آگے اس وراثت کی تفصیل کو بھی بیان کیا ہے ، یعنی توریت، زبور، انجیل کا علم اور الواح موسی وغیرہ ۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سورت النمل کی اس آیت میں مالی وراثت کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کی علمی وراثت ملی تھی۔

الحمدللّٰہ میں تمہاری پہلی دلیل سے پیش کیا گیا استدلال مختلف دلائل سے اور امام کے واضح قول سے رد کرچکا ہوں۔ تمہیں چاہئے کہ میرے دلائل کا جوابی رد کرو یا کوئی اور دلیل پیش کرو۔

جعفری: میرے پاس قرآن پاک سے اور بھی دلائل ہیں، آج کے لئے اتنا کافی ہے، کل میں ایک اور آیت سے ثابت کروں گا کہ انبیاء کرام کی مالی وراثت ہوتی ہے۔

صدیقی: ٹھیک ہے بھائی۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں۔۔ میراث نبوی کے حق میں موجود قرآن پاک سے تمہارے پاس جو بھی دلائل ہیں ہم باری باری سب کو زیر بحث لائیں گے۔ ان شاء اللہ

جعفری: چلو پھر ٹھیک ہے۔۔ کل ملتے ہیں۔۔ یا علی مدد۔

صدیقی: ٹھیک ہے۔۔ اللہ حامی و ناصر۔