مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبی اور صحیح احادیث

جعفری: السلام وعلیکم بھائی، کیا حال ہیں ؟

صدیقی: وعلیکم السلام اللہ کا بڑا کرم ہے۔ تم سناؤ ۔۔ آج کا دن کیسا گذرا؟

جعفری: بہت مصروف۔۔ آج کل شہادت زہرہ کے ایام ہیں، اسی سلسلے میں ایک مجلس میں خطاب کیا، اور پھر امام بارگاہ میں نذر نیاز کا انتظام بھی سنبھالنا تھا۔ شکر ہے مولا کا۔ سب کام خیر خوبی سے انجام پذیر ہوئے۔

صدیقی: اچھا ٹھیک ہے بھائی۔۔
آج کی گفتگو سے پہلے کل جن نکات کو ہم نے کلیئر کیا تھا، ان کا مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔

تم نے جو دو اہم اعتراض کئے تھے

1️⃣ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم نے سیدہ فاطمہ کا حق فدک انہیں نہیں دیا۔
2️⃣ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دربار میں کھڑے رکھا اور خالی واپس بھیجا۔

اس میں سے پہلے اعتراض پر ہم نے تفصیلی نکتہ بہ نکتہ گفتگو کی تھی، اور آج بھی اسی پہلے اعتراض کے بقیہ نکتے کلیئر کریں گے۔

کل میں نے دو اہم دلائل سے ثابت کیا کہ فدک مال فئے تھا اور نبی کریم کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

1️⃣ شیعہ علماء کرام نے باغ فدک کو مال فئے تسلیم کیا ہے اور مال فئے کے متعلق قرآن کریم کی سورت الحشر آیات 6 اور 7 میں واضح الفاظ میں اس کے حصیدار بھی متعین کردئے گئے ہیں۔

2️⃣ مال فئے ذاتی ملکیت نہیں بلکہ حکومت وقت کی ملکیت ہے۔ اس کی تائید میں تفسیر نمونہ سے شیعہ مفسر کا واضح مؤقف اور حضرت امام باقر کی ایک روایت بھی پیش کی تھی۔

جب ایک ملکیت کے کئی حصیدار ہوں اور یہ بات قرآن پاک سے ثابت ہوجائے تو پھر اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صرف ایک کی ذاتی ملکیت ہے، بالکل بھی درست نہیں ہوگا، بلکہ صریح قرآن کریم کی خلاف ورزی ہوگی۔

الحمدللّٰہ ۔۔ قرآن پاک اور امام باقر کی روایت کا رد کرنے سے تم عاجز ہوگئے تھے، اس کے بعد تم نے دو اور اشکال پیش کئے۔

1️⃣ سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ فدک نبی کریم کی ذاتی ملکیت تھا اور ان کے بعد بطور وراثت سیدہ فاطمہ کی ملکیت تھا۔

2️⃣ انبیائے کرام کی وراثت نہیں ہوتی اس کے متعلق نبی کریم نے صرف حضرت ابوبکر صدیق کو کیوں سنائی ، دوسرے جلیل القدر صحابہ نے یہ فرمان نبوی کیوں نہیں سنا۔

کل میں نے تفصیل سے سیدہ فاطمہ کے مطالبہ فدک کی وجہ بیان کی تھی۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ مطالبہ فدک کی وجہ فدک کی آمدنی سے ملنے والا وہ خرچہ حاصل کرنا تھا جو نبی کریم خود اہل بیت کو تقسیم فرماتے تھے، جب حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم کے طریقہ پر من وعن عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تو سیدہ فاطمہ راضی ہوگئیں۔ اس بات کی تائید میں حوالے بھی شیعہ و سنی کتب سے دکھائے تھے۔

آج میں تمہارے دوسرے مؤقف کا رد کر رہا ہوں کہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر صدیق سے مروی ہے یا دوسرے صحابہ نے بھی اسے بیان کیا ہے۔

جعفری: جی بھائی ٹھیک ہے۔۔
ویسے تمہارہ یہ طریقہ بھی پسند آیا کہ نکتہ بہ نکتہ بات کرتے ہو، اور کل کی گفتگو کا خلاصہ بھی بیان کردیا۔

اس وقت مجھے صرف یہ بتاؤ کہ انبیائے کرام کی مالی میراث نہیں ہوتی ، یہ حدیث دوسرے صحابہ نے روایت کی ہے یا نہیں؟ اور براہ کرام صحیح احادیث پیش کرنا کیونکہ ضعیف احادیث سے اس اہم مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاسکتا، سیدہ ع کا مطالبہ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق پر غضبناک ہونا اہل سنت کی صحیح روایات سے ثابت ہے۔ لھاذا صحیح روایات کے سامنے ضعیف روایات قبول نہیں کی جاسکتیں۔

صدیقی: تم بے فکر رہو، میں صحیح احادیث ہی پیش کروں گا۔

1️⃣ سب سے پہلے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی چند صحیح احادیث سے ثابت کرتا ہوں کہ انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔
👇👇👇👇

Sahih Bukhari – 6730
کتاب:کتاب فرائض یعنی ترکہ کے حصوں کے بیان میں

باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے

ARABIC:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ مَالِكٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عُرْوَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا””أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‌‌‌‏ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ””.

TRANSLATION:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، اپنی میراث طلب کرنے کے لیے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلایا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے؟

Sahih Bukhari – 4034
کتاب:کتاب غزوات کے بیان میں
باب:بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
ARABIC:
قَالَ:‌‌‌‏ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏تَقُولُ:‌‌‌‏ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ لَهُنَّ:‌‌‌‏ أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ،‌‌‌‏ أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، ‌‌‌‌‌‏يَقُولُ:‌‌‌‏ “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ””،‌‌‌‏ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ،‌‌‌‏ فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا أَخْبَرَتْهُنَّ،‌‌‌‏ قَالَ:‌‌‌‏ فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا،‌‌‌‏ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا””.

TRANSLATION:
مالک بن اوس نے یہ روایت تم سے صحیح بیان کی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ نے جو فئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اس میں سے ان کے حصے دیئے جائیں، لیکن میں نے انہیں روکا اور ان سے کہا تم اللہ سے نہیں ڈرتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا؟ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس ارشاد میں خود اپنی ذات کی طرف تھا۔ البتہ آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس جائیداد میں سے تا زندگی ( ان کی ضروریات کے لیے ) ملتا رہے گا۔ جب میں نے ازواج مطہرات کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے بھی اپنا خیال بدل دیا۔ عروہ نے کہا کہ یہی وہ صدقہ ہے جس کا انتظام پہلے علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ کو اس کے انتظام میں شریک نہیں کیا تھا بلکہ خود اس کا انتظام کرتے تھے ( اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خرچ کیا تھا، اسی طرح انہیں مصارف میں وہ بھی خرچ کرتے تھے ) اس کے بعد وہ صدقہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے انتظام میں آ گیا تھا۔ پھر حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے انتظام میں رہا۔ پھر جناب علی بن حسین اور حسن بن حسن کے انتظام میں آ گیا تھا اور یہ حق ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ تھا۔

Sunnan e Abu Dawood – 2976
کتاب:محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب:باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان ۔
ARABIC:
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ مَالِكٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عُرْوَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَائِشَةَ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّهَا قَالَتْ:‌‌‌‏ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ:‌‌‌‏ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ .
TRANSLATION:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سب سے کہا ( کیا تمہیں یاد نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔

Musnad Ahmed – 6350
کتاب:فرائض کے ابواب
باب:اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا

ARABIC:
۔ (۶۳۵۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹۰)

TRANSLATION:
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

Musnad Ahmed – 11072
کتاب:سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
باب:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
ARABIC:
۔ (۱۱۰۷۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِیِّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹۰)
TRANSLATION:
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

Musnad Ahmed – 11076
کتاب:سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
باب:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
ARABIC:
۔ (۱۱۰۷۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ فَاطِمَۃَ وَالْعَبَّاسَ أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ یَلْتَمِسَانِ مِیرَاثَہُمَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُمَا حِینَئِذٍیَطْلُبَانِ أَرْضَہُ مِنْ فَدَکَ وَسَہْمَہُ مِنْ خَیْبَرَ، فَقَالَ لَہُمَا أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نُورَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔)) وَإِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْمَالِ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُہُ فِیہِ إِلَّا صَنَعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۹)
TRANSLATION:
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فدک والی زمین اور خیبر والے حصہ میں سے اپنا میراث والا حق طلب کیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتاہے۔ البتہ آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مال میں سے کھاتے رہیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا، میںبھی ویسے ہی کروں گا۔

2️⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی چند احادیث نبوی ، جن کے مطابق انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔

Sahih Bukhari – 6729
کتاب:کتاب فرائض یعنی ترکہ کے حصوں کے بیان میں
باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے

ARABIC:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‌‌‌‌‌‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ “”لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، ‌‌‌‌‌‏مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، ‌‌‌‌‌‏وَمَئُونَةِ عَامِلِي، ‌‌‌‌‌‏فَهُوَ صَدَقَةٌ””.

TRANSLATION:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔“

صحيح مسلم كِتَابٌ : الْجِهَادُ وَالسِّيَرُ بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ : ” لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ “.
1761 ( 56 ) (المجلد : 5 الصفحة : 156)
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ “.

مسند أحمد مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
7303 (المجلد : 12 الصفحة : 252)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ، وَقَالَ مَرَّةً : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، مَا تَرَكْتُ – بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي – فَهُوَ صَدَقَةٌ “.
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين.

3️⃣ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی چند احادیث، جن کے مطابق انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی۔

مسند أحمد مُسْنَدُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
333 (المجلد : 1 الصفحة : 416)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ : فَقُلْتُ لَكُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ “.
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين

مسند أحمد مُسْنَدُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
336 (المجلد : 1 الصفحة : 417)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ “.
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط الشيخين

حضرت ابوبکر صدیق کے علاوہ میں نے تین اور شخصیات سے بھی یہی حدیث نبوی دکھائی ہے۔
ان صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث لانورث نبی کریم سے مختلف صحابہ کرام نے روایت کی ہے۔

جعفری: مجھے حیرت ہے کہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ہے کہ حدیث لانورث فرد واحد یعنی خلیفہ اوّل کی گھڑی ہوئی حدیث ہے ، لیکن تم نے اتنی احادیث دکھا کر اس مؤقف کی بنیادیں ہلا دی ہیں!!!
اس کے باوجود تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اہل سنت کتب پر ایمان نہیں رکھتے۔ جس طرح خلیفہ اوّل نے یہ حدیث گھڑی ، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے صحابہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہو۔

صدیقی: اچھا۔۔ اگر میں تمہیں یہی قول نبی الفاظ کے فرق کے ساتھ اہل تشیع معتبر کتب سے کئی اماموں سے دکھادوں تو۔۔؟

جعفری: کیا مطلب؟ ائمہ معصومین کس طرح فرما سکتے ہیں کہ انبیاء کی مالی میراث نہیں ہوتی!! ہمارا اہل سنت سے اس نکتہ پر بھی سخت اختلاف موجود ہے۔ بلکہ ہمارے کئی علماء تو انبیاء کی مالی وراثت پر قرآن کریم سے آیات بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔
اگر نبی کی مالی میراث کا تصور ختم ہوجائے تو پھر مسئلہ فدک پر ہمیں آپس میں دست و گریباں ہونے کی ضرورت ہی کیوں ہو؟

صدیقی: قرآن مجید کی آیات سے انبیاء کی مالی وراثت ثابت ہوتی ہے یا نہیں، اس نکتہ کو بعد میں کلیئر کریں گے۔ آج کے لئے اتنا کافی ہے۔ کل میں تمہیں شیعہ معتبر کتب سے کئی اماموں کے فرمان دکھاؤں گا جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کی وراثت میں دنیا کی مال ملکیت شامل نہیں ہوتی اس کے بعد تم قرآن مجید سے انبیاء کی میراث ہونے پر دلائل دینا۔

جعفری: ٹھیک ہے بھائی۔ تم سے گفتگو کرنے سے میرے علم میں واقعی بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میرے دلائل ختم نہیں ہوئے ، حق ہمیشہ مولا علی کی طرف رہے گا کیونکہ یہ فیصلہ خود نبی پاک نے فرمادیا ہے۔

صدیقی: بیشک۔۔ ہمارا بھی یہی ایمان ہے، لیکن یہ طے ہونا تو باقی ہے کہ حضرت علی کے ساتھ کون ہیں اہل سنت یا اہل تشیع۔

جعفری: جی بالکل۔۔ ہماری گفتگو کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔ اچھا پھر کل ملتے ہیں۔ علی علی ۔

صدیقی: اللہ حافظ و ناصر۔