مولانا علی معاویہ کا رافضی سیف الاسلام جھنگوی کو دندان شکن جواب (حصہ چہارم)

السلام علیکم دوستو

سیف الاسلام رافضی کی پوسٹ کا آپریشن جاری ہے۔

اس پوسٹ میں سیف الاسلام کے دو اعتراضات کے جواب دوں گا۔

رافضی اعتراض:

۱،   معاویہؓ فقیہ عادل نہیں فقیہ فاجر تھے۔

۲، اگر حقیقتاً معاویہ فقیہ ہوتے حضرت عثمان کے قصاص کا مطالبہ مولا سے نہ کرتے کیونکہ اس وقت اس کے شرعی وارث موجود تھے۔ (سیف الاسلام کے الفاظ ہیں یہ۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا اعتراض

 کہ معاویہؓ فقیہ عادل نہیں فقیہ فاجر تھے۔

سیف الاسلام لکھتا ھے کہ

میرا جواب تو مولانا کیا ہوا کس دنیا میں رہتے ہو ابن عباس کا معاویہ کو فقیہ کہنا اس میں معاویہ کی کوئی فضیلت نہیں ہے

کیونکہ  فقیہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک فقیه عادل اور ایک فقیه فاجر

ابن عباس سے ہی اس موضوع پر روایت موجود ہے “

ترجمه. ابن عباس نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں دین کے لئے تین آفت ہیں فقیه فاجر. امام ظالم اور مجتھد جاھل

اب اس روایت سے معلوم ہوتا ہے سب فقیہ عادل نہیں ہوتے ہیں کیونکہ بعض فقیه فاجر بھی ہوتے ہیں اور بعض مجتہد جاھل بھی ہوتے ہیں۔

الجواب۔

جیسا کہ آپ سب نے پچھلے کمنٹ میں دیکھا کہ ابن عباسؓ کے فقیہ کہنے کو ابن حجرؒ نے سیدنا معاویہؓ کی فضیلت میں شمار کیا ہے لیکن یہ لوگ فضیلت نہیں سمجھتے۔

اب دیکھتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے کیا فرمایا ہے،انھوں نےیہ کہا تھا کہ

’’أَصَابَ، إِنَّهُ فَقِيهٌ‘‘۔۔۔ (بخاری، باب ذکر معاویہ)

یعنی معاویہ نے صحیح کیا ہے وہ فقیہ ہیں۔

اب اس جملے سے تو واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباسؓ سیدنا معاویہؓ کو جو فقیہ کہہ رہے ہیں وہ فقیہ عادل ہے نہ کہ فقیہ فاسق۔

اگر فقیہ فاسق سمجھتے ہوتے تو ‘‘اصاب’’ (اس نے صحیح کیا ہے) نہ فرماتے بلکہ ‘‘اخطأ’’ (اس نے خطا کی ہے) فرماتے۔

تو سیف الاسلام کی یہ بات بھی جہالت ثابت ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا اعتراض

  اگر حقیقتاً معاویہ فقیہ ہوتے حضرت عثمان کے قصاص کا مطالبہ مولا سے نہ کرتے کیونکہ اس وقت اس کے شرعی وارث موجود تھے۔

سیف الاسلام آگے لکھتا ہے کہ

ان جاھل فقیہ اور جاھل مجتہدوں میں معاویہ سرفہرست ہے کیونکہ معاویہ اگر فقیہ عادل اور مجتہد عالم ہوتے تو اس طرح نہ کرتے اب گنتی کرتے جاؤ جواب دیتے جاؤ

پہلی بات اگر حقیقتاً معاویہ فقیہ ہوتے عثمان کے قصاص کا مطالبہ مولا سے نہ کرتے کیونکہ اس وقت اس کے شرعی وارث موجود تھے

کیوں کے قرآنی حکم ہے

وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنصُورًا

اگر وہ یعنی عثمان کے ورثاء مطالبہ نہ کرتے تو مولا علی علیہ السلام خود حاکم شرع تھے اس کے قاتلوں کے بارے میں فیصلہ کرتے نہ کہ معاویہ

یہاں معاویہ نے قرآنی حکم کو پامال کیا پھر کیسا فقیہ ہے؟

الجواب۔

اصل میں یہ رافضی سیدنا معاویہؓ کو اپنے ان پڑھ اور جاہل مجتہدین کی طرح سمجھ کر بک بک کررہا ہے کیونکہ اس نے دیکھے ہی اپنے جاہل اور بےعمل قسم کے مجتہد ہیں ۔

بہرحال اب آتے ہیں جواب کی طرف۔

۱، سب سے پہلے تو میں سیدنا معاویہؓ کا سیدنا عثمانؓ کے ولی ہونے پر دلائل پیش کرتا ہوں۔

پہلی دلیل

تاريخ الإسلام علامہ ذھبیؒ جلد 2 صفحہ 257 پر روایت ہے کہ

وَقَالَ عبد الله بن شَوْذَب: حدّثني زَهْدَم الجَرْميّ قَالَ: كنت في سَمَرٍ عند ابن عباس فَقَالَ: لأحدِّثنّكم حديثًا: إنّه لما كان من أمر هذا الرجل مَا كان، قلت لعليّ: اعتزلْ هذا الأمر، فوَالله لو كنتَ في جُحْرٍ لأتاك النّاسُ حتّى يبايعوك، فعصاني، وَايْمُ الله لَيَتأَمَّرَنّ عليه معاويةُ، ذلك بأنّ الله يَقُولُ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ کانَ مَنْصُورًا

 لنک

ترجمہ۔ راوی زھدم جرمی کہتا ہے کہ میں رات کی محفل میں ابن عباسؓ کے پاس تھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں، جب عثمانؓ کی شہادت کا معاملہ ہوا تو میں نے علیؓ سے کہا کہ آپ خلافت کے مسئلے سے الگ ہوجائیں، اللہ کی قسم اگر آپ کسی بل میں بھی ہونگے تو تب بھی لوگ آپ کے پاس آکر آپ کی بیعت کریں گے، لیکن علیؓ نے میری بات نہ مانی۔۔ اللہ کی قسم معاویہؓ ضرور حکومت کرے گا، کیونکہ اللہ کا قول ہے کہ جو مظلوما قتل کیا گیا تو بیشک ہم نے اس کے ولی کے لئے بدلے کا اختیار رکھا ہے، تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے، بیشک وہ مدد کیا گیا ہے۔۔(سورہ بنی اسرائیل آیت 33)

(یہ روایت حسن ہے، اگر اس کی سند پر سیف الاسلام رافضی جرح کرنا چاہے تو شوق سے کرے۔)

اس روایت میں ابن عباسؓ نے معاویہؓ کو سیدنا عثمانؓ کا ولی کہا ہے۔

دوسری دلیل

تفسير ابن كثير میں اسی آیت (وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانً۔ بنی اسرائیل آیت 33) کی تفسیر میں ہے کہ

وَقَدْ أَخَذَ الْإِمَامُ الْحَبْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عُمُومِ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ وِلَايَةَ مُعَاوِيَةَ السَّلْطَنَةَ، وَأَنَّهُ سَيَمْلِكُ؛ لِأَنَّهُ كَانَ وَلِيَّ عُثْمَانَ، وَقَدْ قُتِلَ عُثْمَانُ مَظْلُومًا

  ابن عباسؓ نے اسی آیت کی عموم سے سیدنا معاویہؓ کی حکومت کی دلیل لی ہے کہ عنقریب وہ حکومت کریں گے، کیونکہ وہ عثمانؓ کے ولی ہیں۔

 لنک

تو گویا علامہ ابن کثیر ؒ نے بھی ابن عباسؓ کی تائید کردی کہ واقعی معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کے ولی تھے۔

تیسری دلیل

البداية والنهاية جلد 8 صفحہ 129 پر ابن کثیرؒ نے ابو مسلم خولانیؒ والا واقعہ جس میں وہ معاویہؓ کے پاس جاکر سیدنا علیؓ سے لڑنے کی وجہ پوچھتے ہیں، تو جواب میں معاویہؓ کہتے ہیں کہ

أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ مَظْلُومًا، وَأَنَا ابْنُ عَمِّهِ، وَأَنَا أَطْلُبُ بِدَمِهِ وَأَمْرُهُ إليَّ؟

 کیا تم نہیں جانتے کہ عثمانؓ مظلوما شہید کیے گیے ہیں اور میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں۔ اور ان کے قصاص کا مطالبہ کررہا ہوں، اور ان کا معاملہ میرے ذمے ہے۔

 لنک

اس سے ثابت ہوا کہ معاویہؓ چچا زاد ہونے کی حیثیت سے ان کے ولی ہیں، اور ساتھ میں یہ بھی فرما رہے ہیں کہ عثمان ؓ کا معاملہ میرے ذمے ہے، یعنی عثمانؓ کے اہل خانہ نے ان کے ذمے قصاص لینے کی ذمیداری رکھی تھی۔

اور اس کے علاوہ سیدنا معاویہؓ کی بیٹی رملہ بنت معاویہ کا نکاح سیدنا عثمانؓ کے بیٹے عمرو بن عثمانؓ کے ساتھ ہوا تھا، تو گویا عمرو بن عثمان سیدنا معاویہؓ کے داماد تھے، تو معاویہؓ کا سیدنا عثمانؓ سے کافی قریبی رشتہ تھا۔

اب میں دوبارہ بغض معاویہ کے مریضوں سے سوال کرتا ہوں کہ جب معاویہؓ نے قصاص عثمان کا مطالبہ کیا تو اس وقت کس نے معاویہؓ پر یہ اعتراض کیا جو آج کل کے لوگ کررہے ہیں کہ وہ عثمانؓ کے ولی نہیں تھے؟؟

علیؓ نے کیا؟؟

ابن عباسؓ نے کیا؟؟

حسنین کریمینؓ نے کیا؟؟

اگر کیا تھا تو لاؤ دلیل؟؟

چوتھی دلیل

شیعہ مذھب کی معتبر کتاب سليم بن قيس الهلالي صفحہ 279 میں لکھا ہے کہ

وإن معاوية يطلب بدم عثمان ومعه أبان بن عثمان وولد عثمان

  معاویہؓ قصاص عثمان کا مطالبہ کررہے تھے اور ابان بن عثمان اور عثمانؓ کی دوسری اولاد بھی ان کے ساتھ تھی۔

تو شیعہ کتاب سے ہی ثاتب ہوگیا کہ معاویہؓ کے ساتھ اولاد عثمان غنی بھی شامل تھے۔

اگر حضرت امیر معاویہؓ  حضرت عثمان غنی ؓ  کے والی وارث نہ بھی ہوتے ، تب بھی ان کا مطالبہ قصاص بالکل صحیح تھا۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ پاکستان میں دھماکوں میں جب شیعہ مردار ہوتے ہیں تو مختلف شہروں میں شیعہ دھرنے دے کر روڈ بلاک کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور عوام کوپریشان کرتے ہوئے دھماکا کرنے والوں کی گرفتاری اور پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اب میں سیف الاسلام اور دوسرے رافضیوں سے سوال کرتا ہوں کہ یہ سارے شیعہ جو مختلف شہروں میں دھرنے دے کر بیٹھے ہوتے ہیں، کیا یہ سارے شیعہ ان مردار ہونے والے شیعوں کے وارث ہوتے ہیں جو وہ مجرموں کی گرفتاری اور پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں؟؟

جو جواب تمھارا وہی سیدنا معاویہؓ پر ہمارا سمجھ لو۔

اور سیف الاسلام نے امام قرطبی کی کتاب ‘‘التذکرہ’’ سے ایک حوالہ دیا تھا کی معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کے وارث نہیں بلکہ عثمانؓ کی اولاد وارث تھی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ امام قرطبی ؒ کی ہی بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ ہر مسلمان کے وارث اس کی اولاد ہی ہوتی ہے، اس اعتبار سے عثمانؓ کے وارث ان کی اولاد ہی تھی۔

لیکن سیدنا عثمانؓ کی حیثیت صرف ایک مسلمان ہونے کی نہیں بلکہ امیر المومنین اور خلیفہ وقت ہونے کی بھی تھی، اسی لئے ان کے قصاص کا مطالبہ بہت سارےصحابہؓ اور مسلمانوں نے بھی کیا اور کسی نے بھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔

تو آپ کے سامنے سیدنا معاویہؓ پر قصاص عثمان کے مطالبے پر اعتراض کا جواب مکمل ہوا۔