منقبتِ خلفاء بزبانِ رسول اللہ

منقبتِ خلفاء بزبانِ رسول اللہﷺ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً ” أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا – رَحِمَهُمُ اللَّهُ – ” فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي “. وَقَالَ: ” فِي أَصْحَابِي كُلِّهِمْ خَيْرٌ، وَاخْتَارَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَاخْتَارَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَةَ قُرُونٍ: الْقَرْنَ الْأَوَّلَ، وَالثَّانِيَ، وَالثَّالِثَ، وَالرَّابِعَ».
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

ترجمہ :
حضرت جابر بن عبداللہؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو، (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)، بس بنادیا ان کو میرے ساتھی۔
[مجمع الزوائد:(ج10 ص16) 16380]

المحدث : عبد الحق الإشبيلي | المصدر : الأحكام الصغرى: 905
خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة أنه صحيح الإسناد]
المحدث : القرطبي المفسر | المصدر : تفسير القرطبي: 16/306+ 19/348 |
خلاصة حكم المحدث : صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ حُبَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، كَمَا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الصَّلاةَ وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَالزَّكَاةَ ، فَمَنْ أَبْغَضَ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ ، وَلا حَجَّ وَلا زَكَاةَ ، وَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَبْرِهِ إِلَى النَّارِ ” .
[طبقات الحنابلة » الطبقة الأولى » بَابُ الصاد، رقم الحديث: 37]

الحكم: إسناده متصل، رجاله ثقات

ترجمہ :
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ : بیشک الله نے فرض کی ہے تم پر محبت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی الله عنھم) کی، جیسا کہ فرض کی تم پر نماز، روزے، حج اور زکات. پھر جس نے بغض رکھا کسی ایک سے، تو نہ اس کی نماز ہے، نہ حج اور نہ زکات اور وہ اٹھایا جاۓگا قیامت کے دن اپنی قبر سے آگ (جہنم) کی طرف