مناظرہ:تحریف قرآن (‌مفتی عبدالرحمان ستی/عمار حیدر ابومہدی)

     🔴شیعہ سنی واٹس آپ مناظرہ🔴

      ♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️

تاریخ: 24 جنوری 2019

🔷 سنی مناظر: مفتی عبدالرحمان ستّی صاحب

🔶 شیعہ مناظر: علامہ عمار حیدر ابومہدی صاحب

 📚 تحریر و اضافہ: ممتاز قریشی

موضوع: تحریف قرآن ( شیعہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں)

                      🔴دعوی اہل سنت🔴

اہل تشیع کی معتبر کتب کے مطابق موجودہ قرآن پاک تحریف شدہ ہے۔  تقریباً 2 هزار سے زائد روايات شيعه كتب ميں موجود ہیں جو تحريف قرآن پر صراحة دلالت كرتى هيں بقول شيعه علماء كے یہ روايات متواتر درجے كى هيں۔ (معاذاللہ)

🖇♻️ اس سادہ دعوی پر شیعہ مناظر کو صرف یہ کہنا تھا کہ اہل تشیع کی معتبر کتب کے مطابق موجودہ قرآن پاک تحریف شدہ نہیں یا تحریف تواتر سے ثابت نہیں ہے۔

👈 دنیا جانتی ہے کہ شیعہ موجودہ قرآن پاک کو تحریف شدہ تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابومہدی صاحب نے سنی مناظر کے دعوی پر جواب دعوی پیش کرنے کے بجائے اپنے جواب دعوی میں براہ راست اہل سنت پر ہی تحریف قرآن کا الزام لگادیا۔ 

 

                🔴 جواب دعوی اہل تشیع 🔴

اہل سنت کی معتبر کتب کے مطابق موجود قرآن جس کو حضرت عثمان نے تدوین کروایا وہ بھی تحریف ہوا ہے،  موجود قرآن میں اب بھی غلطیاں موجود ہیں!

اہل سنت کی کتب میں 2 ھزار تو کیا بلکہ گنتی سے بھی زیادہ روایات موجود ہیں!

اہل سنت کی کتب کے مطابق قرآن میں اضافی بھی ہوا ہے اور کمی بھی ہوئی ہے!

اہل سنت کے مطابق حروف کی کمی و زیادتی، کلمات کی کمی و زیادتی، آیات کی کمی و زیادتی اور صورتوں کی کمی و زیادتی صراحت سے موجود ہے!

اہل سنت کے علماء نے اپنی معتبر کتب کے اندر صحیح الاسناد اور متواتر روایات نقل کی ہیں جن سے صریحا قرآن پاک میں معاذاللہ کمی اور زیادتی ہوئی ہے!

ہمارا موقف ایک قدم آگے👈 اہل سنت کے ہاں صحابہ ایک دوسرے کو منکر آیات اور منکر قرآئات قرار دیتے تھے!

              ♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️

🖇♻️ اتنے طویل جواب دعوی پر غور کیا جائے تو ایک عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کہ شیعہ مناظر نے ایک اہم غلطی کی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ 

👈 سنی مناظر کے دعوی کا انکار شیعہ مناظر نے اپنے جواب دعوی میں بیان ہی نہیں کیا!!! 

اتنا بڑا جواب دعوی ⬅️⬅️⬅️  لیکن یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ اہل تشیع موجودہ قرآن پاک پر مکمل ایمان رکھتے ہیں !!!

بلکہ غور کیا جائے تو ظاہر یہ ہوتا ہے کہ شیعہ مناظر خود اقرار کر رہا ہے کہ اہل تشیع تو تحریف قرآن کے قائل ہیں لیکن اہل سنت کتب بھی تحریف قرآن کی روایات سے بھری پڑی ہیں۔

👈 بقول شیعہ مناظر کے ہمارہ مؤقف ایک قدم آگے ہے یعنی تحریف قرآن ہم مانتے ہیں ، لیکن اہل سنت ہم سے بھی ایک قدم آگے ہیں!!

سنی مناظر نے دعوی کے ساتھ یہ وضاحت بھی پیش کی۔

🔴 ميں اپنے دعوی کے مطابق دلائل سے ثابت کروں گا کہ شیعہ حضرات قرآن پاک میں تحريف  کے قائل ہیں۔ یعنی اہل تشیع کی معتبر کتب کے مطابق 

👈 قرآن کریم کی بہت سی آیتیں اور سورتیں نکال دیں گئی ہیں۔

👈 اپنی طرف سے عبارتیں بنا کر قرآن کریم میں داخل کردی گئی ہیں۔

👈 قرآن کریم کے الفاظ بدل دئیے گئے ہیں، حروف تبدیل کردئیے گئے ہیں اور اس کی ترتیب بھی الٹ پلٹ کردی گئی ہے۔ 

👈ان تمام باتوں پر شيعه علماء كا قول تحريف بهى پيش كروں گا كه قرآن ميں تحريف هوئى۔

👈2 هزار سے زائد روايات تحريف پر موجود هيں اور متواتر هيں جو تحريف پر صراحة دلالت كرتى هيں 

👈مهدى صاحب يه اقرار همارى كتابوں ميں دكهائيں پهر تحريف كى روايات پڑهيں زبانى آپ كے دعوے ميں نهيں مانتا آپ اپنے آپ كو تحريف كے الزام سے بچانے كيليے الزام جهوٹا هم كو ديتے جو آپ كى فطرت هے۔

جبکہ اہل سنت والجماعت میں قراءت کا اختلاف اور ناسخ و منسوخ وغیرہ کی روایات ہیں جن کو محترم عمار المهدى جيسے کوتاہ فہم دجل و فریب سے تحریفات ثابت کرنا چاہتے ہیں

🔷 اس کے بعد سنی مناظر نے جواب دعوی پر اعتراض وارد کیا کہ شیعہ کا جواب دعوی اس لئے درست نہیں کیونکہ اس میں اصل دعوی کی نفی بیان نہیں کی گئی بلکہ ایک نیا دعوی لکھ دیا گیا ہے۔

🔶 شیعہ مناظر ابومہدی صاحب نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ میرا جواب دعوی اصل میں الزامی جواب ہے۔ 

🖇♻️ یہ مسلمہ اصول ہے کہ مناظرہ جب کسی ایک مسئلہ پر ہوتا ہے تو اس کی شروعات فریق اوّل کے دعوی اور فریق مخالف کے جواب دعوی سے کی جاتی ہے اور مناظرہ صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب فریق مخالف دعوی سے اتفاق نہ رکھتا ہو، اور جواب دعوی میں اس اختلاف کو بیان بھی کرے۔ 

👈 مناظرہ میں شیعہ مناظر ابومہدی نے دعوی پر بات کرنے سے بچنے کے لئے جواب دعوی پر اس کے متعلق کوئی اظہار خیال نہیں کیا۔ اگر اہل سنت کے دعوی سے ابومہدی متفق تھے تو پھر مناظرہ کس اختلاف پر ہوتا!!

❎ دوران مناظرہ ابومہدی صاحب جواب دعوی پر سنی مناظر کے تحفظات دور کرنے کے بجائے دلیل کا تقاضہ کرتے رہے جبکہ یہ بھی مناظرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ جبتک دعوی اور جواب دعوی پر دونوں فریقین متفق نہ ہوجائیں مناظرہ آگے نہیں بڑھتا۔

👈 اس کے بعد شیعہ مناظر ابومہدی صاحب نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسکات خصم مناظرہ کا بنیادی اصل ہے، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اپنا دفاع کرنے کے بجائے دشمن پر ہی حملہ کر دینا درست طرز عمل ہے۔

❎ یہ طریقہ جنگ میں تو قابل قبول ہوسکتا ہے لیکن علمی گفتگو اور مناظرے میں ہمیشہ ایک فریق الزام لگاتا ہے تو پہلے اس الزام پر ہی گفتگو کی جاتی ہے ، اس الزام کے حق میں اور مخالفت میں دلائل دئے جاتے ہیں اور ان کا رد کیا جاتا ہے، ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک فریق دعوی کرے اور الزام لگائے تو فریق مخالف بھی دفاع کرنے کے بجائے وہی الزام لگادے۔ 

👈 ایک وقت میں ایک کام ہوتا ہے۔ اگر دونوں فریقین ایک دوسرے پر الزامات ہی لگائیں تو پھر مناظرہ کس کے الزام پر ہو ، اس طرح مناظرہ نہیں ہوتا۔ 

🔶 ابومہدی صاحب نے کہا کہ 

میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ کے دعوے کا فائدہ نہیں۔۔ کیونکہ آپ خود اس سے زیادہ گرفتار ہیں 

اتنی آسان سے بات آپ کو سمجھ میں نہیں آرہی کیا؟؟؟؟

🖇♻️ جب کوئی مناظر اس طرح کی بات کرے تو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ ذہنی طور پر فریق مخالف کے دعوی پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں۔

👈 اسی لئے یکطرفہ فیصلہ کر کے شیعہ مناظر نے کہا کہ اہل سنت دعوی کا کوئی فائیدہ نہیں، یعنی  گفتگو ان کی مرضی کے مطابق ، ان کے جواب دعوی کے تحت اہل سنت کتب کی روشنی میں ہونی چاہئے۔

❎ ابومہدی صاحب ہمیشہ اسی طرح مناظرہ کرنے کے عادی ہیں۔ شیعہ مناظر کا فریق مخالف کے دعوی پر اس طرح کا فیصلہ کن انداز مناسب طرز عمل نہیں تھا۔

🔷 سنی مناظرعبدالرحمان ستّی  نے اس موقعہ پر بڑی فراخ دلی دکھائی اور کہا کہ

آپ میرے دعوی پر مناظرہ کرنے کو تیار ہیں تو ٹھیک

ورنہ مناظرہ آپ کے دعوی اور پھر میرے جواب دعوی سے شروع کرتے ہیں۔ 

✅ یہ ایک کھلی آفر تھی کہ اگر شیعہ مناظر اہل سنت کے دعوی پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے تو مناظرہ کی ترتیب بدل کے شیعہ مناظر اپنا دعوی پیش کرسکتا ہے ، پھر سنی مناظر کے جواب دعوی پیش کرنے کے بعد مناظرہ پھر سے شروع کیا جا سکتا ہے۔

🔷 اس بہترین موقعہ کو بھی ابومہدی صاحب نے ضایع کردیا اور وہ اپنی ضد پر ڈٹے رہے، جس پر سنی مناظر نے مایوس ہوکر مناظرہ روکنے کی درخواست کی اور یہ کہا 

شیعہ دیکھ لیں

ابومہدی دعوی کے مطابق گفتگو نہیں کرتا

ابومہدی ہمیشہ گفتگو کو گھما کر اپنی مرضی سے گفتگو کرتا ہے

🔶 اس کے جواب میں ابومہدی صاحب نے کہا

سب نے دیکھ لیا کہ آپ جواب دعوی سے خوف زدہ ہوگئے۔

🖇♻️ جبکہ یہ بات عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کہ مناظرہ دعوی پر ہوتا ہے، عمومآ جواب دعوی پر مناظرہ میں گفتگو ہوتی ہی نہیں ہے ، بالفرض مدعی اپنا دعوی ثابت نہ کرسکے، تو پھر وہ فریق مخالف کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اب اپنے جواب دعوی کے حق میں دلائل دے ۔ اور ایسی صورتحال بہت کم ہوتی ہے۔ 

❎ اس لئے دعوی پر گفتگو کئے بغیر شیعہ مناظر کی طرف سے جواب دعوی سے خوف زدہ ہونے کی بات کہنا بچگانہ تھی۔

🔶 ابومہدی صاحب نے اپنے جواب دعوی کے حق میں کہا

اگر اصؤل مناظرہ سے ہٹ کر ہو تو بتادیں ورنہ اعتراف کریں کہ میرے جواب دعوی سے آپ بے بس ہوگئے۔

❎ یہاں پر بھی شیعہ مناظر کی غلط بیانی واضح ہے، کیونکہ اصول مناظرہ کے مطابق جواب دعوی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جبتک اصل دعوی کی نفی بیان نہ کی جائے۔ اگر دعوی پر اختلاف ہی نہ ہو تو مناظرہ کس طرح ممکن ہے؟؟ 

🔷 سنی مناظر نے کہا

کم از کم اتنی عقل تو شیعوں کو ہوگی کہ خود فیصلہ کرلیں کہ ابومہدی دعوی پر گفتگو نہیں کرسکتے مطلب میرا دعوی درست اور حق پر مبنی ہے

🔶 اس کے جواب میں ابومہدی صاحب نے کہا 

اگر آپ کا دعوی حق ہے تو میرا جواب دعوی احق ہے جس کے سامنے آپ نا ٹک سکے ورنہ آپ کے دعوے پر تو میں آپ سے دلیل مانگ رہا ہوں کب سے۔

🖇♻️ غور فرمائیں۔۔۔ ابومہدی صاحب نے ایک نئی منطق بیان کی ہے۔ اصل دعوی پر گفتگو کرنے کے بجائے وہ خواہشمند تھے کہ ان کے جواب دعوی کے مطابق مناظرہ کیا جائے ، ظاہر ہے اسی لئے وہ فرما رہے ہیں کہ سنی مناظر ان کے جواب دعوی پر ٹک نہیں سکے!!

حالانکہ مناظرہ ہوتا ہی مدعی کے دعوی پر ہے۔ 

 👈 سنی مناظر دعوی کے مطابق دلیل دینے کے اس وقت پابند تھے جب شیعہ مناظر اس دعوی کا انکار کرتے، لیکن یہاں صورتحال مختلف تھی، شیعہ مناظر سنی مناظر کے دعوی پر کوئی مؤقف اختیار کئے بغیر بضد تھے کہ اہل سنت ہی تحریف کے قائل ہیں اور مناظرہ ان کے جواب دعوی پر ہی ہو۔

🔶 اس موقعہ پر شیعہ مناظر نے ایک اہم سوال بھی کیا

متواتر کتنی اسناد کو کہتے ہیں آپ؟؟ بس تعداد بتائیں باقی دکھانا میرا کام ہے۔

🔷 اس کے جواب میں سنی مناظر نے جواب دیا

♦️ متواتر کا مطلب ایک جم غفیر ہر دور میں اسے بیان کرتا آیا ہو۔

♦️ جسے راویوں کی جماعت نے جماعت سے تمام طبقات میں آخیر تک اس طرح روایت کیا ہو کہ عادتاً ان کا جھوٹ پر اتفاق ہونا یا موافقت ہوجانا ناممکن ہو۔ یہ سب روایت حسی یعنی مشاہدہ یا سماع سے ہو۔

❎ سنی مناظر نے بطور نمونہ شیعہ کتاب فصل الخطاب کا ایک اسکین پیج پیش کیا تو شیعہ مناظر غصہ میں آگئے ، کیونکہ وہ شیعہ کتب پر بات کرنے کو بالکل تیار نہیں تھے۔ انہوں نے براہ راست سنی مناظر کو بلاک کرنے کی دھمکی بھی دی۔

🔶 اس کے بعد ابومہدی صاحب نے دوبارہ کوشش کی کہ مناظرہ ان کی مرضی کے مطابق اہل سنت کتب کی طرف گھما دیا جائے  اور یہ کہا 

تحریف آپ کی صحیحین میں ہی متواتر ہے۔۔ گھبرائیں نہیں بس نکتہ بہ نکتہ چلیں 

آئندہ آگے مت بڑھنا۔۔۔ اسکین یونہی مت پھینکنا

🖇♻️ غور فرمائیں۔۔۔ اہل سنت  کے دعوی پر مناظرہ کرنے کے بجائے شیعہ مناظر کس طرح بار بار اپنی مرضی کی گفتگو شروع کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

🔷 سنی مناظر نے کہا

بس ٹھیک ہے

آج ثابت ہوگیا کہ شیعہ واقعی تحریف قرآن کے قائل ہیں

اپنی صفائی نہیں دے سکتے اسی لئے اہل سنت کو الزام دیتے ہیں۔

🔶 ابومہدی صاحب نے کہا

جس نے یہ کہا ہو کہ قرآن ہی غلط ہے

جس نے یہ کہا ہو کہ کئی سورتیں گم ہیں

جس نے یہ کہا ہو کہ یہ قرآن میں سے ہے ہی نہیں اس کو صفائی پیش کروں ؟؟؟

🔷 اس پر سنی مناظر بھی جذباتی ہوگئے اور کہا کہ 

آپ همارى كسى كتاب كى عبارت پيش كريں كسى نے لكها هو كه مذهب اهلسنت ميں تحريف كى روايات متواتر هيں صرف ايك حواله دكها دو مهدى صاحب ميری شكست خدا كى قسم ميں شيعه مذهب قبول كرتا هوں 📚

📣 یہ ایک ایسی بات تھی جس پر شیعہ مناظر چاہتے تو مناظرہ شروع کر سکتے تھے اور کہتے کہ میں اہل سنت کتب سے ثابت کرتا ہوں کہ تحریف قرآن تواتر سے ثابت ہے، لیکن انہوں نے کوئی رضامندی ظاہر نہ کی۔ 

🛎 غور فرمائیں! 

سنی مناظر دعوی کر رہے تھے کہ تحریف قرآن اہل تشیع کتب میں تواتر سے ثابت ہے۔۔۔  

❌ اس پر شیعہ مناظر بات کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔

پھر سنی مناظر نے وہی بات شیعہ مناظر کو کہی کہ چلیں آپ اہل سنت کتب سے تحریف قرآن تواتر سے ثابت کر کے دکھائیں تو 

❌ اس پر بھی شیعہ مناظر راضی نہیں ہوئے!! 

🔶 اس کے بعد ابومہدی صاحب نے کہا

میرے دعوے پر تو آپ واللہ ایک منٹ نہیں چل پائیں گے۔

میں ایک ہی دعوے میں آپ کے دو دو عقیدوں کو اڑاؤں گا۔۔۔ اگر پھر بھی تیار ہیں تو رکھوں دعوی؟؟؟؟

🔷 سنی مناظر نے فورآ کہا

آپ دعوی پیش تو کریں تاکہ مناظرہ شروع تو ہوسکے۔

🔶 لیکن مناظرہ پھر بھی شروع نہ ہوسکا اور ابومہدی نے بات گھما دی ، اور سنی مناظر پر الزام لگایا کہ  

دعوی سے میں نہیں بلکہ جواب دعوی سے آپ بھاگے ہیں ورنہ دعوی پر دلیل تو میں مانگ رہا ہوں کب سے۔

🖇♻️ غور فرمائیں! کس طرح خیانت کی جا رہی ہے۔ دعوی کا انکار کئے بغیر شیعہ مناظر نے جواب دعوی پیش کردیا اور اب معصوم بن کر دعوی پر سنی مناظر سے دلیل بھی مانگ رہے ہیں! 

👈 جب سنی مناظر کے دعوی سے اختلاف ہی نہیں تو دلیل کس بات کی پیش کی جاتی؟ 

✅ سنی مناظر آخر تک انہیں کہتے رہے کہ جواب دعوی درست لکھیں یا خود نیا دعوی لکھ کر اور اہل سنت کے جواب دعوی کے بعد مناظرہ شروع کیا جائے۔ لیکن ابومہدی صاحب تو الٹی گنگا بہانا چاہ رہے تھے جو کہ ممکن ہی نہیں تھا۔

🔶 ابومہدی نے دوبارہ مناظرے کو اہل سنت کتب کی طرف گھمانے کی ناکام کوشش کی اور کہا

اگر آپ کے علماء ایک حدیث کو متواتر کہیں لیکن اسی جیسی نقل شدہ دوسری حدیث کو متواتر نا کہیں تو یہ قصور ہمارا ہے کیا ؟؟؟

تواتر کی اس تعریف کے مطابق تعداد بتائیں یا ایسی کوئی حدیث پیش کریں تاکہ اسی کے مطابق ہم پیش کرکے ایکدم فیصلہ کردیں 

کیونکہ ہمارا ھدف متواتر کو پیش کرنا ہے والسلام

🖇♻️ غور فرمائیں! شیعہ مناظر کا انداز گفتگو 

اہل سنت کے دعوی پر درست جواب دعوی پیش تو کیا نہیں ، اب براہ راست متواتر کی تعریف پوچھ کر خود ہی اس پر دلیل دیکر ایکدم فیصلہ کرنے کے خواہشمند ہیں!!

❎ شیعہ مناظر کی روش صریح مناظرہ کے اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔ شیعہ مناظر پابند تھا کہ دعوی اہل سنت کے مطابق مناظرہ کرے یا خود دعوی پیش کر کے سنی مناظر سے جواب دعوی طلب کرے۔

🔷 سنی مناظر نے مزید متواتر کے متعلق تفصیل بیان کی

♦️ متواتر: فقہاء کرام نے لفظ متواتر کے حوالہ سے متعدد معنی لئے ہیں۔ کسی نے سنت متواترہ لیا اور کسی نے متواتر کا دعوی کسی فقیہ یا امام کی طرف منسوب کردیا۔ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ مختلف ائمہ فقہاء متواتر کی اصطلاح کو اس معنی میں استعمال ہی نہیں کرتے جو معنی اصولی حضرات نے لئے ہیں۔

اصولی حضرات کے ہاں متواتر کی تعریف یہ ہے کہ ہر دور میں اسے ایک کثیر تعداد نے کثیر تعداد سے روایت کیا ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق محال ہو۔یہ متواتر علم ضروری کا فائدہ دیتی ہے۔مثلاً استنبول ترکی کا ایک بڑا شہر ہے اور سورج روزانہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ ان دونوں کے علم میں فرق یہ ہے کہ پہلا تواتر کے ساتھ سننے میں آرہا ہے جب کہ دوسرا مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔

🔶 ابومہدی صاحب اس جواب پر خوش ہوگئے اور کہا

زبردست واللہ میرے دل کی بات کردی

اب کیا آپ ہمارے خلاف اصطلاحی تواتر ثابت کریں گے؟؟؟؟

خود آگئے اس بات پر جس بات کی طرف لانا چاہتا تھا آپ کو

مطلب مھم یہ ہے 

👇👇👇👇

۔یہ متواتر علم ضروری کا فائدہ دیتی ہے۔

میں یہی متواتر ثابت کروں گا

اور آپ اصطلاحی تواتر ثآبت نہیں کر پائیں گے۔۔۔ یہ ہوتی ہے علمی بات۔

🖇♻️ غور طلب بات یہ ہے کہ ابومہدی اہل سنت کتب سے بار بار تحریف قرآن کا تواتر ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے ، جبکہ مناظرہ اہل سنت کے دعوی پر ہونا تھا، جس کے مطابق اہل تشیع کتب کو زیربحث لانا تھا۔

❎ شیعہ مناظر کی یہ کوشش مضحکہ خیز تھی، کیونکہ وہ اہل سنت دعوی کا انکار کئے بغیر مناظرہ کو اہل سنت کتب کی طرف موڑ رہے تھے، جبکہ انہیں بار بار موقعہ بھی دیا جاتا رہا کہ اگر وہ یہی چاہتے ہیں تو اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مناظرہ دوبارہ سے شروع کیا جائے اور وہ اپنا دعوی بھیجیں تاکہ سنی مناظر اپنا جواب دعوی لکھے پھر وہ اہل سنت کتب سے تحریف قرآن ثابت کرتے رہیں۔

🔷 سنی مناظر نے بہترین جواب دیا کہ 

ميں تواتر كا اقرار 

اور اعتراف خود آپ کے جیّد علماء کے اقوال سے ثابت کروں گا۔

دو ہزار روایات آسمان سے نہیں اتریں

آپ کی معتبر کتب میں آج بھی موجود ہیں۔

✅ اس جواب سے یہ ابہام بھی دور ہوگیا کہ متواتر اصطلاحی ہو یا اصولی دونوں ہی اقسام کے مطابق شیعہ کتب سے تحریف قرآن تواتر سے ثابت ہے۔

💦🌈 اس مرحلہ پر سنی مناظر عبدالرحمان ستّی کی مناظرہ پر گرفت مضبوط ہوگئی ، انہوں نے شیعہ کتب میں جیّد شیعہ علمائے کرام کا “اعتراف تحریف قرآن” ذکر کیا تو ابومہدی صاحب نے ڈھکے چھپے انداز سے اقرار کیا کہ 

یعنی تواتر موجود ہو لیکن اعتراف نا کیا جائے تو یہ تو دوگنا گناہ ہوگیا یعنی علمی خیانت بھی ہوگئی۔ 

🖇♻️ غور فرمائیں۔۔۔ابومہدی صاحب کے اس جواب کے مطابق شیعہ کے جیّد علمائے کرام کا “اعتراف تحریف قرآن” موجود ہے ، اسی لئے اہل سنت علمائے کرام پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ تواتر موجود ہو اور اعتراف نہ کیا جائے تو دوگنا گناہ ہے اور علمی خیانت بھی ہے۔

👈 یہ بات ذہن میں رہے کہ شیعہ مناظر کا مؤقف تھا کہ اہل سنت کتب میں تحریف قرآن تواتر سے ثابت ہے ، اب یہاں تسلیم کر رہے ہیں کہ تواتر ہوتے ہوئے بھی علمائے اہل سنت کا اعتراف موجود نہیں یعنی وہ دوگنا گناہ اور علمی خیانت کر رہے ہیں ، مطلب شیعہ جیّد علمائے کرام نے کم از کم اعتراف تو کیا ہے۔

📣 یہ مناظرہ کا اہم ترین موڑ تھا، ابومہدی صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی تحریف قرآن کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے۔

🔷 سنی مناظر نے کہا

تحریف کا ثبوت آپ کے امام معصوم کے اقوال

اس پر شیعہ جیّد علمائے کرام کی توثیق

🔶 ابومہدی صاحب نے جواب دیا

مصحف عثمان سے پہلے کی تحریف ثابت کریں گے  یا بعد کی ؟؟؟؟ 

ہم دونوں ثابت کرسکتے ہیں اپ کے خلاف۔

🖇♻️ غور فرمائیں۔۔۔ پھر سے ابومہدی صاحب مناظرہ کو اپنی مرضی کے مطابق گھمانے کی کوشش کر رہے ہیں، مناظرہ میں مدعی اپنے دعوی کو ثابت کرتا ہے، لیکن ابومہدی صاحب بار بار خود ہی مدعی بن کر جواب دعوی کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ انہیں کہا بھی گیا کہ وہ دعوی پیش کر کے اپنی مرضی کے مطابق مناظرہ شروع کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

🔷 اس کے بعد سنی مناظر نے سادہ الفاظ میں پوچھا کہ

اور اگر شیعہ علماء کرام کا اعتراف بھی ثابت ہوجائے کہ تحریف قرآن تواتر سے ثابت ہے (معاذ اللہ) تو پھر؟؟؟

🔴 اس بات پر ابومہدی صاحب کے جواب نے تمام شیعہ و سنی ممبرز کو چونکا دیا۔۔

شیعہ مناظر ابومہدی صاحب نے کہا ۔۔۔

اگر چیز موجود ہو اور اعتراف ہو تو اس کو علمی دلیری کہتے ہیں لیکن اگر موجود ہو لیکن اعتراف نہ ہو تو اس کو علمی بزدلی اور خیانت کہتے ہیں 

اب فیصلہ آپ پر۔

📣 یہ ایک ایسا جواب تھا جس سے مناظرہ شروع ہونے سے پہلے ہی منطقی انجام تک پہنچ گیا۔ 

✅ شیعہ مناظر نے اس بار ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں بلکہ صاف واضح الفاظ میں تسلیم کیا کہ تحریف قرآن اہل تشیع کتب میں تواتر  سے ثابت ہے۔ انہوں اس اعتراف کو علمی دلیری قرار دیا اور پھر اہل سنت علمائے کرام کے تحریف قرآن پر اعتراف نہ کرنے کی وجہ سے علمی بزدلی اور خیانت کا الزام بھی لگا دیا۔

☝️☝️☝️

غور فرمائیں ! ابومہدی صاحب تحریف قرآن کو “چیز” کہہ کر “اعتراف تحریف قرآن” کو تسلیم کر رہے ہیں۔

✅ شیعہ مناظر ابومہدی صاحب کے اس واضح اعتراف کے بعد بلآخر حق واضح ہوگیا۔ 

📣 اہل سنت جو الزام اہل تشیع پر لگاتے ہیں کہ وہ تحریف قرآن کے قائل ہیں، اس الزام میں واقعی حقیقت ہے، شیعہ کتب میں دو ہزار سے زیادہ روایات کا موجود ہونا اور جیّد شیعہ علمائے کرام کا تحریف قرآن کا اعتراف کرنا اظہر من الشمس ہے۔ 

📣 شیعہ بطور تقیہ اس موجودہ قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن دل سے ان کا ایمان موجودہ قرآن کریم پر نہیں ہے۔ شیعہ اصل میں اس قرآن پاک کے منتظر ہیں جو بقول ان کے امام مہدی قرب قیامت میں اپنے ساتھ لائیں گے۔ بیشک شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ موجودہ قرآن کریم تحریف شدہ ہے۔  (معاذاللہ ثم معاذ اللہ ) ۔

✅ یہ حقیقت شیعہ مناظر ابومہدی صاحب نے نہ صرف ڈھکے چھپے الفاظ میں بلکہ صریح الفاظ میں بھی تسلیم کر کے اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین “تحریف قرآن” کے مسئلہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرلیا ہے۔ 

📣 اگر شیعہ کہیں کہ اس موجودہ قرآن کریم پر وہ ایمان رکھتے ہیں تو یہ صرف اور صرف ان کا تقیہ سمجھا جائے گا، کیونکہ حقیقت وہی ہے جو اہل تشیع کی معتبر کتب میں موجود ہے ، جو جیّد شیعہ علمائے کرام کے اعتراف سے ثابت ہے اور جسے مناظرہ میں ابومہدی صاحب نے واضح الفاظ میں تسلیم بھی کیا ہے۔ 

🔴 ابومہدی صاحب کے نزدیک جیّد شیعہ علمائے کرام کا “اعتراف تحریف قرآن”  علمی دلیری ہے یا بہادری ۔۔۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ تمام پڑھنے والوں پر چھوڑا جاتا ہے۔ 

🔴 پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ 

 جو شخص بھی قرآن مجید کو تحریف شدہ کہے گا تو ایسا شخص اصولی طور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ 

البتہ کسی فرد واحد پر حکم لگاتے ہوئے شروط، اسباب اور موانع کفر کا لحاظ رکھا جائے گا لیکن اصولی طور اتنی بات کہنا درست ہے کہ اگر کسی شخص نے قرآن مجید کو تحریف شدہ سمجھا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ 

            عدم تحریف قرآن کے متعلق 

                       کچھ اہم دلائل

1️⃣ یہ کس طرح ممکن ہے کہ قرآن مجید میں تحریف واقع ہو جائے جبکہ خداوند متعال نے خود اس کی حفاظت کی ضمانت لی ہے جیسا کہ ارشاد ہو تا ہے، 

“إِنَّا نحَنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لحَافِظُون” 

 ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

( 

2️⃣ خداوند متعال نے قرآن کریم میں ہر قسم کے باطل کے داخل ہونے کی تردید کی ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے، “لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَينْ‏ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهِ  تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيد”۱۱اس کے قریب، سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آ بھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں جس باطل کے داخل ہونے کی تردید کی ہے اس کا مطلب اس قسم کا باطل ہے جو قرآن کی توہین کا باعث بنے، چونکہ قرآن کے الفاظ میں کمی و بیشی کرنا اس کی بے احترامی و توہین ہے، لہٰذا اس مقدس کتاب میں ہر گز کسی قسم کی کمی یا زیادتی واقع نہیں ہوتی ہے۔

3️⃣ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان قرآن کی  تعلیم اور اس کو حفظ کرنے میں انتہائی دلچسپی دکھاتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عربوں کے درمیان ایسے قوی حافظ موجود تھے جو صرف ایک بار طولانی خطبہ سننے کے بعد اسے یاد کر لیتے تھے، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے قاریوں کے ہوتے ہوئے قرآن مجید میں کسی قسم کی تحریف ہوئی ہو۔