معیاِر حق، ایمان و ہدایت :اصحاب رسول اللہ ﷺ (قرآن سے دلائل)

معیاِر حق، ایمان و ہدایت : اصحاب رسول الله ﷺ

تاریخ لکھنے والے اکثر مؤرخین تحقیق نہیں کرتے اور جنہوں نے کی ہے ان کی وہ باتیں چھپانے والے مخالفین ہی ہوتے ہیں، جب کہ اس کے خلاف نہ صرف صحیح تاریخی خبریں مخالفین نے عوام سے چھپائی ہیں بلکہ اکثر عوام نے بھی انصاف پسند جج کی طرح دونوں(اہلِ حق اور اہلِ باطل) فریقوں کی باتوں کو اطمینان و تفصیلی دلائل سے جاننے اور جانچنے کیلئے سب سے پہلا (سچا، پکا اور کافی) معیار: قرآنِ مجید کو نہیں بنایا، جس کیلئے فرمایا گیا کہ ۔۔۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (سورۃ النساء:122) اور کون ہوگا اللہ کے مقابلہ میں زیادہ سچا قول میں۔
احادیثِ رسول ﷺ قرآن مجید کے دلائل کے بعد بیان کئے جائیں گے:

صحابہؓ کے متعلق قرآنی عقائد:
تمام صحابہ(نبی کے ساتھی)حقیقی مومن، بخشش اور عزت والا(جنتی)رزق پانے والے ہیں.
[دلیلِ قرآن-سورۃ الانفال:74]

وہ معیارِحق اور تنقید سے بالاتر ہیں، بلکہ ان گستاخ ہی بیوقوف ہیں۔
[البقرۃ:13، 137]

وہ اس قابل ہیں کہ ان پیروی کی جائے اور وہ جنتی ہیں۔
[التوبۃ:100 الحدید:10]

دین میں فقہ(سمجھ)بھی ان سے حاصل ہوگی(ان کے بغیر نہیں)۔
[التوبہ:122]

پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی خوبیاں پہلی کتابوں تورات وانجیل میں بیان کرتے انہیں محمد رسول اللہ ﷺ کا ساتھی چنا جاچکا تھا۔
[الفتح:29]

الله ان سے راضی ہوچکا اور وہ اس سے راضی ہوچکے
[الفتح:18]

قیامت کے دن مواخذہ(پکڑ وحساب)سے محفوظ رہیں گے
[التحریم:8]

ان(جنتیوں)کے سینوں میں جو(باہمی)خفگی/کینہ ہوگا نکال دیا جاۓگا
[الاعراف:43]الحشر:10

 القرآن: کہا(نبی نے انہیں) کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چُوکتا ہے۔ (سورۃ طٰهٰ:52)
لہٰذا، رب جو پاک ہے بھول چوک سے اور وہی ہر چیز کا خالق ہونے کی وجہ سے مالک بھی ہے اور ہر چیز کا جاننے والا قادر بھی ہے، وہ قیامت تک کے ایمان والوں کو نبی ﷺ کے صحابہؓ(ساتھیوں)کے بارے میں یہ تعلیم کیوں پڑھتے سنواتے رہنا چاہے گا؟؟؟

یہ(دلائل) اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ۔ تو اب یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (سورۃ الجاثیۃ:6)

رضائے الٰہی پانے کے خاص اعمال»

(1)مہاجر وانصار(صحابہ)کے پیچھے چلنا(کیونکہ)الله ان  سب سے راضی ہوا
[سورۃ التوبہ:100]
(2) اور راضی ہوتا ہے
 پرہیزگار بننے والوں سے
[آل عمران:15]
(3)سچا رہنے والوں سے
[المائدۃ:119]
(4)ایمان لانے والوں سے
[التوبہ:72]
(5)شکر(حق)ماننے والوں سے
[الزمر:7]
(6)نیک اعمال کرتے رہنے والوں سے
[الاحقاف:15]
(7)بیعت(آزمائش)میں پورا اترنے والوں سے
[الفتح:18]
(8)الله اور رسول کے  مخالفین، اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہوں، سے محبت نہ رکھنے والوں سے
[المجادلہ:22]
(9)رب سے ڈرنے والوں سے
[البینۃ:8]

قرآن مجید میں اصحابِؓ رسول ﷺ کا تعارف:

 تقدیری خوبیاں:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الفتح:29)
ترجمہ:
محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (٣١) اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ (٣٢) اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ (٣٣) تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔

تشریح:
(٣١)  کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرمادیا ہے۔
(٣٢) اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء :2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہو۔ وہ عبارت یہ ہے :

خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا، اور وہ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (استثناء :2، 3)

واضح رہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آخری خطبہ ہے، جس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کوہ سینا پر اتری، جس سے مراد تورات ہے، پھر کوہ شعیر پر اترے گی، جس سے مراد انجیل ہے، کیونکہ کوہ شعیر وہ پہاڑ ہے، جسے آج جبل الخلیل کہتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ تیسری وحی کوہ فاران پر اترے گی، جس سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ فاران اس پہاڑ کا نام ہے جس پر غار حرا واقع ہے۔ اور اسی میں حضور اقدس ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی، لہٰذا ” دس ہزار قدسیوں میں سے آیا “ سے ان صحابہ کی طرف اشارہ ہے۔ (واضح رہے کہ قدیم نسخوں میں دس ہزار کا لفظ ہے، اب بعض نسخوں میں اسے لاکھوں سے تبدیل کردیا گیا ہے) ۔
نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ صحابہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔

قرآن کریم میں ہے کہ : وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ اور وہ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے بات دور از قیاس نہیں ہے کہ قرآن کریم نے اس عبارت کا حوالہ دیا ہو، اور وہ تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ استثناء کی عبارت کی شکل میں رہ گئی ہو۔

(٣٣) انجیل مرقس میں بالکل یہی تشبیہ ان الفاظ میں مذکور ہے۔ خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے، اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ (مرقس : 26 تا 29)
یہی تشبیہ انجیل لوقا : 18، 19 اور انجیل متی : 31 میں بھی موجود ہے۔ 

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً.

(سورت الفتح آیت 29 پاره 26).

* آیت کریمه کا مقصد اور خلاصه: اثبات رسالت اور شان صحابه کرام.

(محمد رسول الله) کے ساتھ رسول الله صلی الله علیه وسلم کی رسالت کا اثبات هے, پهر اگلے جملے سے رسالت نبوی صلی الله علیه وسلم پر بطور دلیل شان صحابه پیش کیا گیا هے. اور صحابه کے مندرجه ذیل صفات بیان کۓ گۓ هیں:

1- کافروں پر شدید سخت ہے

2-آپس میں رحمدل ہیں

3-اللہ کو رکوع کرنے والے ہیں

4-اللہ کو سربسجود ہیں

5- اللہ کے فضل کی جستجو میں ہیں

6- اللہ کی رضامندی کی جستجو میں ہیں

7- سجدوں (قرآن وسنت کی تابعداری) کی نشانیاں ان کے چهروں سے ظاهر هے.

8- تورات وانجیل میں بهی شان صحابه بیان هوا تها

9- ان کی مثال کھیتی کی ہے، جیسے کھیتی کمزوری کی بعد قوت پاتی ہے ایسے ھی صحابہ ابتداء میں قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگۓ

10-ان کی شان کو بیان کرنے اور ان کو قوت دینے پر اللہ کافروں کو چڑاتا ہے, یعنی شان صحابه پر غصه هونے والا کافر هے. (فتوی از امام مالک بن انس رح, بحواله تفسیر ابن کثیر)

11- آیت کے اخیر میں الله نے صحابه کرام کے ایمان کا ذکر فرمایا, مطلب یه که صحابه کرام مؤمن هے اور کا ایمان کامل هے.

12- صحابه کرام کے اعمال نیک هے.

13- ان کے ساته الله کی طرف سے بخشش اور

14- اجر عظیم کا وعدہ ہے.

تشریح:
“محمد رسول الله”:
محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) ﷲ کے رسول ہیں.

“والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم”:
اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں (یعنی آپ کے تمام صحابه) وہ کافروں پر تو نهایت سخت (مگر) آپس میں رحم دل ہیں۔

 اس بات سے قطع نظر که تاریخ “تاریک” هے, مورخین میں جهوٹوں اور متعصب رافضیوں کی بهرمار هے, , اس بنیادی پوائنٹ سے قطع نظر تاریخ کے ذریعے صحابه کرام کا آپس میں بغض ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے حضرات ہمیں صرف یه بتاۓ که کیا تاریخ کو قرآنی آیات کے مقابل پیش کرنے والا شخص مسلمان کہلانے کے لائق هے ؟

یاد رہے صحابه کے مابین لڑی جانے والی جنگیں (مشاجرات صحابه) بهی اس وقت کے خوارج وشیعوں اور اسلام دشمنوں کے ہاتهوں آپس میں غلط فهمیوں کے سبب سے هوئی, صحابه کرام تو قرآنی آیت کے عین مطابق سب کے سب آپس میں شیر وشکر تهے, هم کون ہوتے هیں محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم کے شاگردوں اور قرآن وسنت کے گواهوں پر جرح وطعن کرنے والے, ان کے مشاجرات پر ہمیں بات کرنے کا حق کس نے دیا هے که هم مرچ مصالحه لگاکر  تاریخ کے چور دروازے سے ان پر سب وشتم کی بوچهاڑ کریں؟

. هم صحابه کا صرف ذکر خیر هی کرسکتے هیں اور بس).

“تراهم رکعا سجدا یبتغون فضلا من الله ورضوانا”:
(اے دیکهنے والے) تم جب (بهی) انهیں (ان صحابه کرام کو) دیکھو گے تو رکوع و سجود کرتے ہوئے اور ﷲ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے

“سیماهم فی وجوههم من اثر السجود”:
(کثرت-) سجدوں (یعنی قرآن وسنت کی تابعداری) کی وجہ سے ان کے چهروں پر ان کی نشانیاں هے/ هوگی

 سجدے کے اثر سے صحابہ و تابعین سے اس نشانی کی تفسیر میں مختلف اقوال مذکور ہیں۔

جن میں سے دو قوی هے.

اول: وہ نور کہ روز قیامت ان کے چہروں پر کثرت سجود (تابعداری) سے ہو گا یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه اور امام حسن بصری و عطیہ و خالد حنفی ومقاتل بن حیان سے ہے.

دوم: خشوع وخضوع و روشن نیک جس کے آثار صالحین کے چہروں پر دنیا ہی میں بے تصنع یعنی بغیر بناوٹ کے ظاہر ہوتے ہیں۔یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنه و امام مجاہد سے ہے-

ذالک مثلهم فی التوره : (صحابه کے بارے میں جو یه بیان هوا) ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے.

ومثلهم فی الانجیل کزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ فاستوی علی سوقه یعجب الذراع  : اور ان کی صفت انجیل میں (یوں) ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی (اس وقت وہ) کسانوں کو خوش کرتی ہے۔

“لیغیظ بهم الکفار”:
لیغیظ میں لام کا متعلق محذوف هے, الله نے صحابه کرام کی یه شان بیان فرمائی  تاکہ کافروں کو ان کی وجہ سے غصہ دلائے۔

“وعد الله الذین امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفره واجرا عظیما” :
ان ایمان والوں اور شائسته اعمال والوں سے الله نے مغفرت (بخشش) اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ یہ ٓایت شیعوں کی تکفیر کرتی ہے کیوںکہ وہ صحابہ سے بغض رکہتے ہیں اور ان کے دل ان سے جلتے ہیں بس جس کا دل صحابہ سے جلے وہ اس آیت کے مطابق کافر ہے۔
(استفادہ منزل الصحابہ فی القرآن صفحہ 16-20)

“من ” تبعیضیہ نہیں، کہ یہ مغفرت و اجر عظیم کا وعدہ بعض صحابہ کے ساتھ ہے، تمام کے ساته نهیں, جیسا کہ شیعہ اور شیعہ نواز لوگ باور کراتے ھیں. بلکہ “من” بیانیہ ہے، اور اس سے مراد تمام صحابہ کرام ہے. یعنی مغفرت اور اجرعظیم کا وعده الهی تمام صحابه کرام کے ساته هے, دیکھۓ تفسیر بیضاوی جلد 2 صفحہ 406، ابوسعود جلد 8 صفحہ 115، ابن کثیر جلد 4 صفحہ 205، تفسیر ماجدی وغیرہ).
امام ابن کثیر رحمہ ﷲ لکهتے ہیں که:

 امام مالک رحمہ ﷲ نے اس آیت سے رافضیوں (جو آج کل شیعه کے نام سے مشهور هے) کے کفر پر استدلال کیا ہے، کہ جنہیں صحابہ کرام کی وجہ سے غیض و غضب کا سامنا ہے، کہا:
اس لئے کہ صحابہ کرام انہیں غصہ دلاتے ہیں، اور جسے صحابہ کرام غصہ دلائیں وہ اس آیت کی بنا پر کافر ہے”. انکے اس استدلال پر کچھ علمائے کرام نے موافقت بھی کی ہے، جبکہ صحابہ کرام کے فضائل میں احادیث بہت زیادہ ہیں، اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود ہیں کہ جن میں صحابہ کرام کا برے الفاظ سے تذکرہ کرنا منع کیا گیا ہے، اگرچہ ان کیلئے ﷲ کی تعریف ہی کافی ہیں، اور ﷲ تعالی ان پر راضی بھی ہے. (تفسیر ابن کثیر 7/362).

جبکه امام ابن جوزی زادالمسیر میں سورہ فتح کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں

قوله تعالى: (والذين معه) يعني أصحابہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم,

ترجمه: والذین معه”وه لوگ جو محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم کے ساته هے” سے مراد صحابه کرام هے.

پھر لکھتے ہیں

قوله تعالى: (ليغيظ بهم الكفار) أي: إنما كثرهم وقواهم ليغيظ بهم الكفار.
یعنی الله نے صحابه کرام کو قوت وکثرت دی, تاکه اس کے ذریعے کفار کو غصه دلاۓ.

پهر لکهتے هیں:

وقال مالك بن أنس: من أصبح وفي قلبه غيظ على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد أصابته هذه الآية.

یعنی امام مالک ابن انس رحمه الله فرماتے هیں که جس کسی کے دل میں صحابه کے لۓ بغض هو یه آیت اس کے لۓ هے.

وقال ابن إدريس:
يعني الرافضة، لأن الله تعالى يقول: ” ليغيظ بهم الكفار

اور امام ابن ادریس فرماتے هیں که وہ کفار رافضی (شیعه) هے, جن کے لۓ اللہ تعالی نےفرمایا ليغيظ بهم الكفار. (تاکه غصه کرے صحابه کی شان وشوکت کے ساته کافروں کو).

الله همیں قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ.

صحابہ کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالٰی: وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً (توبہ۔۱۲۳) وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ (توبہ۔۷۳) وقال تعالٰی اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (المائدہ۔۵۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں “جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ” علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔
آپس میں نرم دل ہیں: اپنے بھائیوں کے ہمدرد و مہربان، اُنکے سامنے نرمی سے جھکنے والے اور تواضع و انکسار سے پیش آنے والے “حدیبیہ” میں صحابہ کی یہ دونوں خوبیاں چمک رہی تھیں۔ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ

۔صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ: 

نمازیں کثرت سے پڑھتے ہیں۔ جب دیکھو رکوع و سجود میں پڑے ہوئے اللہ کے سامنے نہایت اخلاص کے ساتھ وظیفہ عبودیت ادا کر رہے ہیں۔ ریاء و نمود کا شائبہ نہیں۔ بس اللہ کے فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش ہے۔ نمازوں کی پابندی خصوصًٓا تجہد کی نماز سے انکے چہروں پر خاص قسم کا نور اور رونق ہے۔گویا خشیت و خشوع اور حسن نیت و اخلاص کی شعاعیں باطن سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر کو روشن کر رہی ہیں۔ حضرت کے اصحاب اپنے چہروں کے نور اور متقیانہ چال ڈھال سے لوگوں میں الگ پہچانے جاتے تھے۔

صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ:

پہلی کتابوں میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھیوں کی ایسی ہی شان بیان کی گئ تھی۔ چنانچہ بہت سے غیر متعصب اہل کتاب انکے چہرے اور طور و طریق دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیحؑ کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔

کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ: 

حضرت شاہ صاحبؒ کھیتی کی مثال کی تقریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں “یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئ حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں “بعض علماء کہتے ہیں کہ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ میں عہد صدیقی فَاٰزَرَہٗ میں عہد فاروقی فَاسْتَغْلَظَ میں عہد عثمانی اور فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بعض دوسرے بزرگوں نے وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کر دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بہیات مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے۔ خصوصًا اصحاب بیعت الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورت سے برابر چلا آ رہا ہے۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کرنے والے چونکہ اس کام کے مبصر ہوتے ہیں اس لئے ان کا ذکرخصوصیت سے کیا۔ جب ایک چیز کا مبصر اسکو پسند کرے دوسرے کیوں نہ کریں گے۔

صحابہؓ سے حسد رکھنے والے: 

یعنی اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار دیکھ کر کافروں کے دل غیظ و حسد سے جلتے ہیں۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے۔مومنین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ: حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں “یہ وعدہ دیا انکو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کرتےہیں۔ حضرت کے سب اصحاب ایسے ہی تھے۔ مگر خاتمہ کااندیشہ رکھا۔ حق تعالٰی بندوں کو ایسی صاف خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں اس مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے”۔ تم سورۃ الفتح بفضل اللہ و رحمۃ فللہ الحمد والمنہ۔

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحریم:8)
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ (٨) وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کردیجیے (٩) اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

تشریح:
(٨) اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہونگے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید :12 میں گذر چکا ہے۔
(٩) یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کرلیا جائے گا۔