معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے ناحق مال کھانے اور لوگوں کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیا۔ (مسند ابی عوانہ)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 48

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے ناحق مال کھانے اور لوگوں کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیا۔ (مسند ابی عوانہ)

🔹الجواب اہلسنّت🔹

🔹(١)یہ روایت سند کے اعتبار سے محدثین کے ہاں مجروح غیر مقبول اور مردود ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی زید بن وہب بنی الجہنی الکوفی ہے جس کے بارے میں جرح و تعدیل کے حضرات ارباب علم کا فرمان ہے۔ (في حديثه خلل كثير) کہ اس کی روایت میں بہت زیادہ خلل ہے۔

🔸(١) تہذیب التہذیب لابن حجر جلد ۳ صفحہ ٤٢٧ تحت زید بن وہب،
🔸(٢) كتاب المعرفتہ والتاريخ للبسوی جلد٢ صفحہ ٦٩.٧٦٨، تحت زید بن وہب)
معلوم ہوا یہ روایت ارباب علم کے معیار قبول پر پوری نہیں اترتی۔

🔹(٢) یہی روایت دیگر کئی محدثین نے بھی نقل فرمائی ہے مگر یہ جملہ (یا مرنا أن ناكل اموالنا بالباطل و تقتل الضنا) انہوں نے نقل نہیں کیا جیسے السنن لابن ماجہ صفحہ ٢٩٢ آخر باب السواء الاعظم من ابواب الفتن۔السنن النسائی صفحہ ١٦٥.١٦٤ جلد کتاب البیعہ تحت ذکر ما على من بايع الامام میں یہی روایت مذکور ہے لیکن جو الفاظ اضافی طور پر یہاں نقل کیے گئے ہیں وہ الفاظ (یا مرنا ……) انہوں نے ذکر نہیں کیے جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ راویوں نے اپنے ذاتی تصرف سے الفاظ روایت میں کمی پیشی کی ہے اصل روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں اور اندراج راوی کی بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو محروح نہیں کیا جاسکتا یہ الفاظ راوی کا اپنا گمان ہیں جس کو اس نے روایت میں ملا دیا۔

🔹(٣)روایت کے اعتبار سے بھی اس روایت میں کوئی وزن نظر نہیں آتا کیوں کہ اگر اس جملہ (اكل اموال الباطل الخ) کا حکم درست ہے تو جو حضرات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے شرف صحابیت و مراتب کثیر ان کو حاصل تھے انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس جرم سے کیوں نہ روکا امر بالمعروف و نهی عن المنکر کی تکمیل سے وہ کیوں عاجز رہے؟

♦️بالفرض یوں کہا جائے کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے جبر سے خوف زدہ تھے تو سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ مل کر جنگوں میں شریک کیوں ہوئے اور ان کی جمیعت و قوت میں اضافے کا باعث کس لئے ہوئے؟
جبکہ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ نا انصاف شخص کی قوت و طاقت میں مزید اضافہ کا باعث بن کر اس کے جرم میں شریک ہو جائیں جب یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بعید تر ہے تو پھر عقل اس روایت کے غلط ہونے کا فیصلہ صادر کرتی ہے۔
وهوالمراد، والعلم عندالله)