معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے سود کھایا ہے وہ حلق تک جہنم میں ہے ۔ (شرح معانی الاثار، نکیرات الاعیان)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر۔19

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے سود کھایا ہے وہ حلق تک جہنم میں ہے ۔ (شرح معانی الاثار، نکیرات الاعیان)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
بُرا ہو اُس عینک کا جو حسد و بغض کی مشین پر تیار ہوئی ہے کہ جب وہ ناک پر چڑھ کر آنکھوں کے آگے اپنے تصرف کا اظہار کرتی ہے تو پھر سمجھ و عقل جواب دے جاتی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے ۔ شرح معانی الاثار میں ایک روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک قلاده (ہار) خریدا اس میں سونا ہیرے جواہرات وغیرہ سبھی کچھ تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے 600 سو دینار میں وہ خریدا تھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب منبر پر چڑھے یا جب ظہر کی نماز پڑھی تو حضرت عبادہ بن الصامت نے فرمایا خبردار معاویہ رضی اللہ عنہ نے سود کا سودا کیا اور سود کھایا اور وہ حلق تک آگ میں ہے۔(شرح معاني الآثار عکسی صفحہ) اس روایت میں قابل غور باتیں درج ذیل ہیں۔

🔸(١)وہ حلق تک آگ میں ہے، اگر مراد اس سے جہنم ہے جیسا کہ یار لوگوں نے سرخی چڑھائی ہے تو یہ درست نہیں کیونکہ جہنم کی سزا دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد آخرت میں ملے گی اور اگر مراد یہ ہے کہ سود کھانے کا انجام آگ میں جانا ہے تو یہ درست ہے مگر اس آگ کو بجھانے کے لئے آنکھوں کی فائر برگیڈ ابھی تک سلامت اور موجود ہے ندامت سے بہنے والا ایک آنسو کا قطرہ ہی اس آگ کو چشم زدن میں بجھا کر فنا کر دے گا اس بنا پر یہ سرخی جو یار لوگوں نے قائم کی ہے یہ سراسر جھوٹ اور بغض کی بدبو ہے۔

🔸(٢) سود کس مال کو کہتے ہیں؟ سونے چاندی وغیرہ چھ اشیاء کا نام لے کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مثلاً بمثل یدا بيد و الفضل رباء کہ ان چھ چیزون کو انہی کی جنس کے بدلے خریدنا برابر سرابر تو جائز ہے مگر اضافہ سے لینا دینادرست نہیں وہ قلادہ جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خریدا تھا اس میں سونا کے علاوہ باقی چیزیں ہیرے جواہرات بھی تھے اور مشترک چیزوں کو دیناروں کے بدلے خریدا تھا جس کی صورت یوں ہوئی کہ مثلاً ایک دینار کے بقدر سونا ہے تو سونا ایک دینار کے برابر ہو گیا اور باقی ہیرے جواہرات وغيره ۵۹۹ دیناروں کے بدلے میں ہو گیا لہٰذا یہ سودا نہ ہوا کیونکہ جو سونا اس قلادہ میں ہے وہ اس کی جنس کے بدلے کے برابر سرابر لیا ہے کمی زیادتی کے ساتھ نہیں لیا۔ یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا اور حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے یہ خیال فرمایا کہ یہ سونا بھی ساتھ شریک ہے لہٰذا جیسے دوسری چیزوں میں منافع حاصل کیا گیا ہے اسی طرح سونے پر بھی کمی زیادتی ہوئی ہو گی اور یہی سود ہے اس لئے انہوں نے وضاحت فرمائی کہ اس ہار کے خریدنے میں اصل صورت حال کیا ہے جب اس ہار کے خریدنے کی اصل صورت حال سامنے آ گئی تو معترض خاموش ہو گئے اب قائل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو سودی یا جہنمی بتانا چاہتا ہے بلکہ وہ اصلاح کے جذبہ سے یہ اعتراض کر رہا ہے کہ خدانخواستہ یہ تجارت نقصان کی نہ بن جائے اور نہ ہی حقیقت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جان بوجھ کر سودی معاملہ کیا اور وہ آگ کے مستحق ہوئے اس جذبہ اصلاح کی بنا پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے قول کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جہنمی کہنا خود یار لوگوں کے اپنے گھر اور مسکن کا پتہ بتانا ہے ورنہ یہ تو ایک شرعی مسئلہ ہے جس پر جانبین کو بعد از وضاحت تسلی ہو گئی تھی مگر یار لوگوں کو تسلی اس وقت ہو گی جب اپنے گھر کے بتائے ہوئے پتہ کے مطابق اپنے مسکن و منزل میں بسیرا کر لیں گے مگر وہ رہنے کی بہت بُری جگہ ہے کاش کرم فرما اپنے حال پر بھی ترس کھا کر تعصب کی عینک اتار پھینکتے!