معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے خلاف سنت کافروں کو مسلمانوں کا وارث قرار دیا۔ (البدایہ والنہایہ، المغنی)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر شیعہ روافض کے الزام نمبر 23

🔺شیعہ الزام 🔺
معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے خلاف سنت کافروں کو مسلمانوں کا وارث قرار دیا۔ (البدایہ والنہایہ، المغنی)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
البدایہ نے اس روایت کی جو سند ذکر کی ہے اس میں ایک راوی کا نام جعفر بن برقان ہے جس کے بارے میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تقریب التهديب میں فرماتے ہیں: “یهم في حديث الزهری”
کہ زہری سے جو روایات نقل کرتا ہے ان میں وہم کا شکار ہوتا ہے۔ ( التقريب التہذیب جلد ١ صفحہ ١٦٠)
اور البدایہ کے مذکورہ مقام پر یہ روایت جعفر بن برقان حدثني عن الزهری کی سند سے مذکور ہے۔ لہذا یہ روایت قابل اعتبار نہیں۔

🔸(٢) المغنی میں بھی یہ مسئلہ لکھنے کے بعد لکھا ہے: و حکی ذالك عن محمد بن الحنفية، و علی بن الحسين، و سعيد بن المسيب، و مسروق، و عبد الله بن مغفل والشعبي، والنخعي و يحيى بن يعمر و اسحاق ، و ليس بموثوق به عنهم “کہ جس طرح حضرت معاویہ سے منقول ہے کہ کافر مسلمان کا وارث بن سکتا ہے ۔ اسی طرح محمد بن حنفیہ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات سے بھی یہی حکایت نقل کی گئی ہے کہ ان حضرات کا مسلک بھی یہی ہے مگر (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت ان حضرات سے یہ مسئلہ صحیح سند اور ثقہ راویوں کے زریعے سے منقول نہیں ہے۔ (عکسی صفحہ)
معلوم ہوا کہ غیر معتبر اور ناقابل تسلیم سند کے ذریعہ یہ روایت نقل ہوئی ہے۔

🔸(٣)یہ ایک فروعی مسئلہ ہے جس پر اختلاف مجتہدین کو یہاں نقل کیا گیا ہے کہ بعض حضرات کا قول یہ بھی ہے جس کا تذکرہ کسی صفحات میں ہوا یہاں مجتہدین کی آرا نقل ہوئی ہیں اور کسی فروعی مسئلہ میں مجتہد کے قول کو خلافِ سنت کا تمغہ دینا روافض کی بے باکی ہے ورنہ اہل اسلام کا یہ مسلمہ قاعدہ اور مانا ہوا اصول ہے کہ مجتہد کا وہ اجتہادی مسئلہ ثواب ہو تو دو اور خطاء ہو تو ایک اجر ضرور ملتا ہے مگر اس اجتہادی اختلاف کو سرخی میں خلاف سنت قرار دے کر تحقیقی دستاویز والوں نے اندر کی بیماری اور مرض حسد کو غذا مہیا کی ہے۔