معاویہ (رضی اللہ عنہ) راہ حق سے ہٹا ہوا ائمہ پر خروج کرنے والا تھا۔ (ادب القاضی)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 27

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) راہ حق سے ہٹا ہوا ائمہ پر خروج کرنے والا تھا۔ (ادب القاضی)

🔹الجواب اہلسنّت🔹

🔸(١)یہ بات یار لوگوں کا سنی کتابوں میں تصرف اور مہربانوں کے ہاتھوں کی صفائی ہے ورنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو حق سے دور تھے اور نہ ہی اس پر انہوں نے خروج کیا۔ یہ جھوٹ کا سیاہ لباس ہے جو صرف صحابی رسول کو بدنام کرنے کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اگر معمولی سی آنکھیں کھولیں تو ادب القاضی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسم گرامی پر علیہ السلام کا جملہ لکھا ہوا ہے جو رافضی مذہب کا علامتی شعار ہے۔ اہلسنّت والجماعت حضرت حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے لیے عام طور پر کرم الله وجہہ اور رضی اللہ عنہ کے دعائیہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

🔸(٢)اس جملہ کے جھوٹا ہونے کے لیے خود یہی جملہ دلیل ہے۔ وہ اس طرح کہ ائمہ جمع ہے امام کی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدنا فاروق اعظم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور گزرا۔ ان ادوار میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان حضرات کے نہ صرف قابلِ اعتماد بلکہ ان حضرات کا بازو اور آنکھ، کان بنے رہے۔ یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان حضرات ائمہ ھدیٰ کے عامل کامل اور وفادار رفیق بنے رہے۔ جن اہم خدمات پر ان تمام حضرات نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیے رکھا ان کو لکھنے کا یہ موقعہ نہیں ان حضرات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون مدینہ کی گلیوں میں قصاص کی صدا لگا رہا تھا چنانچہ امیر وقت کے قتل پر قصاص کا مسئلہ طول پکڑ گیا۔ بلاشبہ اہلسنت کا قول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے مگر قصاص کا مسئلہ حل نہ ہو سکنے کی وجہ سے امت کا شیرازہ بکھر گیا اور اختلاف لمبا ہو گیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بار بار یہ کہتے تھے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بات بیعت کرنے کو تیار ہوں مگر امیر برحق کو شہید کیا گیا ہے۔ لہٰذا ان کے قاتل ورثاء کے حوالے کے جائیں تا کہ وہ قصاص لے سکیں اب زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے امام برحق سے مطالبہ قصاص کے لیے خروج کیا مگر ائمہ میں وہ کون کون سے حضرات ہیں جن کے خلاف خروج کیا گیا ہو؟ یہ بات تو ساری دنیا کے ہاں مسلم ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک امام ہیں ان کے علاوہ اور کون سا امام ہے جن کی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ، نے مخالفت کی؟؟ اگر کوئی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا نام لے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے تو خلافت خود اپنے مبارک ہاتھوں سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے فرما دی تھی۔ ائمہ کا یہ لفظ یہاں استعمال کرنا تو کسی کے ہاں بھی سچا نہیں جب اس کا جھوٹا ہونا بدیہی دلیل سے ثابت ہو گیا تو نقل سے مزید رد کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔