معاویہ (رضی اللہ عنہ) بدعتی امرا میں سے ایک ہے۔ (المستدرک، تاريخ دمشق الکبير)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 51

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) بدعتی امرا میں سے ایک ہے۔
(المستدرک، تاريخ دمشق الکبير) .

🔹الجواب اہلسنّت🔹

🔸(١) اس روایت میں مسلم بن خالد راوی ہے تقریب التہذیب میں اس کے بارے میں یہ الفاظ ہیں۔ کثیرالاد بام) اسے بہت زیادہ وہم ہو جاتا تھا۔ (تقریب التہذیب لابن حجر صفحہ ١٧٩ جلد ٢)
علامہ ذہبی نے اس کا تعارف کرانے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے۔ امام ابوحاتم نے کہا اس سے احتجاج نہ کیا جائے۔ امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ شخص تقدیر کا منکر تھا۔
(میزان الاعتدال جلد٤ صفحہ ١٠٢- مطبوعہ مصر)
اس روایت میں ایک راوی علی بن عبدالعزیز فزاری ہے یہ شخص شیعہ ہے۔
(تقریب صفحہ ۲٤۸) .
المستدرک کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔

🔸(٢)روایت میں “فلاں” کا لفظ کہہ کر کچھ کہنا یا لکھنا شیعہ راویوں کی عادت ہے۔ شیعہ ماخذات کا مطالعہ کرنے سے بخوبی یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ راوی اکثر کسی کے خلاف بات کرتے ہوئے نام لینے کی بجائے فلاں کہہ دیتے ہیں چونکہ اس مقام کی روایت کا طرز بھی بالکل وہی ہے، لہٰذا اس قرینہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی تصرف سے خالی نہیں ہے۔

🔸(٣)”ای معاویہ” کی تعیین و تصریح راوی کی طرف سے ہے صحابی کا قول معلوم نہیں ہوتا