معاویہ (رضی اللہ عنہ) باغی اور سلطان جابر تھا۔ (البحرالرائق، فتح القدير، لسان الاحکام فی معرفتہ الاحکام، الہدایه، فتاویٰ جامع الفوائد)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 34

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) باغی اور سلطان جابر تھا۔
(البحرالرائق، فتح القدير، لسان الاحکام فی معرفتہ الاحکام، الہدایه، فتاویٰ جامع الفوائد)

🔹الجواب اہلسنّت🔹

🔸(١)ہم عرض کر چکے ہیں کہ باغی سے مراد تجاوز کرنے والا ہے۔ تفصل گذشتہ الزام میں ملاحظہ فرما لی جائے۔

🔸(٢)حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سلطان جابر نہیں بلکہ سلطان عادل تھے ان کے عادل و انصاف پسند ہونے پر ان کے دور کے حضرات کی کئی شہادتیں موجود ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو اختلاف کے زمانے میں یکسو ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے تھے اور اپنی طاقت کی پلڑے میں نہ ڈالی تھی۔ پوری طرح غیر جانبدار رہے وہ فرماتے ہیں کہ
“حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حق کو پورا کرنے والا انصاف پر قائم میں نے حضرت معاویہ رضى الله عنہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
(تاریخ الاسلام للذہبی جز ثانی صفحہ ٣٢
تحت ذکر معاویہ البدایہ لابن کثیر جلد ٨ صفحہ ١٣٣ تحت ذکر معاویہ طبع اول)

🔸(٣)بلند پایہ تابعی اور عظیم المرتبت محدث الاعمش فرماتے ہیں جبکہ ان کی موجودگی میں عمر بن عبدالعزیز کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: امیر معاویہ عمر بن عبد العزيز سے علم میں نہیں بلکہ عدل و انصاف میں فائق تھے۔
(منہاج السنہ لابن تیمیہ جلد ٣ صفحہ ١٨٥، المنتقی للزہبی صفحہ ۳۸۸ مطبوعہ مصر بحوالہ رحماء، بینہم حصہ چہارم صفحہ ١٥٦)
ان شہادتوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سلطان جابر نہ تھے جیسا کہ گھڑی ہوئی تاریخی کہانیوں سے بیان کیا جاتا ہے بلکہ وہ عادل امیر المؤمنین تھے یہ الزام محض فریب خورده کرم فرماؤں کا گھڑا ہوا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جابر و ظالم تھے ہم نے صحابی و تابعی کا قول تسلی کے لیے نذر قارئین کر دیا ہے تاکہ نظر انصاف رکھنے والے دوست ان جھوٹے الزامات سے آگاہ ہو سکیں.