معاویہ (رضی اللہ عنہ) اذان میں شہادت رسالت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ (مروج الذہب للمسعودی، الاخبارالموقفات)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 50

🔺شیعہ الزام👇👇
معاویہ (رضی اللہ عنہ) اذان میں شہادت رسالت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔
(مروج الذہب للمسعودی، الاخبارالموقفات)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
مطرف بن المغیرہ کی روایت لے کر ان دونوں کتابوں کی بنا پر یہ الزام جڑا گیا ہے۔
محترم قارئین کو جان لینا چاہنے کہ مطرف بن المغيرہ شیعہ لوگوں کی تحریر کردہ نہج البلاغہ کا راوی ہے تو شیعہ کتاب کے راوی کیا سنی ہوں گے؟
نہج البلاغہ جس میں صحابہ کرام کے بارے میں خطرناک حد تک الزامات گھڑے گئے ہیں اسی سے اخذ شده یہ روایت ہے ملاحظہ ہو الاخبار الموقفیات کا عکسی صفحہ صفحہ ٥٧٧ اور ٥٧٦ ان دونوں صفحات کے تحت حاشیہ میں ان روایات کا اخذ لکھا ہوا ہے ۔ صفحہ ۵۷۲ کا حاشیہ 1 شرح نہج البلاغہ جلد ۲ صفحہ ١٧٢ اور صفحہ ٥٧٧ کے تحت حاشیہ نمبر 1 شرح نہج البلاغه ۲/ ٦٧١ اس ماخذ سے ہر تھوڑی سی معلومات رکھنے والا جان لے گا کہ یہ روایت کس فیکٹری میں تیار کی گئی ہے شیعہ کرم فرماؤں کو کم از کم اتنی شرم ضرور آنی چاہئے کہ اپنی مشہور زمانہ کتاب النہج البلاغہ کی روایات کو الزام میں پیش نہ کریں کہ یہ دیکھو سنیوں کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ جرم کیا اور فلاں قصور کیا وغیرہ وغیرہ۔
حالانکہ اس طرح کی گندی خرافات شیعہ لوگوں کی طرف سے اس طرف کو آئی ہیں۔ ورنہ کوئی سنی عالم یاران رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایسی خرافات لکھنا تو در کنار حاشیہ وہم میں بھی نہیں لاسکتا۔
مگر حیرت ہے کہ اپنے گندے اور نا پاک نظریات ہماری طرف دھکیلنے کی کوشش کرنے میں رافضی لوگ تمام حیاء و غیرت کی حدود کو کراس کر گئے اور اس پر مزید مزے کی بات یہ کہ ہمیں الزام دینے لگ گئے کہ یہ عقیدے تو تمہارے اپنے ہیں ہمیں الزام کیوں دیتے ہو۔
واہ واہ کیا خوب سوچ وفکر ہے۔ ہم برملا اور صاف لفظوں میں عیاں کرتے ہیں کہ یہ گند جو تاریخ اور غیر محتاط سنی لکھاریوں کی کتابوں میں انڈیلا گیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی ذوات قدسیہ کو مجروح کرنے کی جسارت کی گئی یہ سب اہل اہلسنت والجماعت کے خیالات اور عقائد و نظریات ہرگز ہرگز نہیں حاشا وکلا اہلسنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی ذوات قدسیہ کے بارے میں بدگمانی کر کے ایک لحظہ گزارنا بھی حرام جانتے ہیں ارباب علم کے لاکھوں صفحات اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتماد کو مضبوط رکھنے اور ان کے معیار حق پر ہونے کے دلائل و براہین سے لبریز ہونے پڑے ہیں۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ اہلسنت کے بزرگ جہنم کی طرف دعوت دینے پر اقدام کریں ہاں اہلسنت جنتی جماعت صحابہ کرام کا پلہ تھام کر اور پوری امت کو اسی پلہ سے جوڑ کر اور اللہ کی رسی کو داڑھوں میں مضبوط پکڑ کر جنت میں جانے کی دعوت دیتے ہیں ۔ یہ جو حزب الشیطان نے حزب الله کو مطعون کرنے کا سلسلہ روا رکھا ہوا ہے رب کعبہ کی قسم اس میں اہلسنت کا رائی برابر بھی حصہ واشتراک نہیں۔
اب تک گذشتہ الزامات کے غبار کو ہم نے کمزور سی ہوا کے ساتھ ایسا اڑا دیا ہے کہ دیکھنے والا بخوبی جان لے گا اور پڑھنے والا درجہ یقین میں داخل ہوگا کہ یہ رافضی الزامات ایسا ہی دھوکہ ہیں جیسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں ان رافضی لوگوں نے دیا تھا ان تمام الزامات سے اہلسنت کا پاکیزه دامن ہرگز داغدار نہیں اور نہ ہی ایمان کا یہ سفید لباس راغدار ہو سکے گا انشاءالله، انشاءاللہ.