مسلک اہلبیت (غلام مرتضٰی ساقی مجددی)

مسلک اہلبیت
غلام مرتضٰی ساقی مجددی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حقانیت اہلسنت

یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ تمام فرقے ہلاکت کے دھانے پر ہیں جبکہ نجات پانے والے لوگ صرف اورصرف اہلسنت وجماعت ہیں ۔ چنانچہ ملاحظہ ہو!
شیعی پیشواابن بابویہ قمی حدیث نبوی نقل کرتے ہیں:

وإن أمتي ستفترق على اثنتين وسبعين فرقة يهلك إحدى وسبعون ويتخلص فرقة، قالوا: يا رسول الله صلى الله عليه وآله من تلك الفرقة؟ قال: الجماعة الجماعة الجماعة.
(کتاب الخصال ج 2 ص149، مطبوعہ ایران)

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اکہتر فرقے ہلاک (جہنمی) ہوں گے اور ایک جماعت نجات پائے (جنتی ہوگی) گی ، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ فرقہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا ” وہ جماعت ہے، جماعت ہے، جماعت ہے۔

سیدنا امیرالمونین علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ نے اسی بات کو اپنی خطبہ میں فرمایا :

وسيهلك في صنفان: محب مفرط يذهب به الحب إلى غير الحق، ومبغض مفرط يذهب به البغض إلى غير الحق، وخير الناس في حالا النمط الأوسط، فالزموه والزموا السواد الأعظم فإن يد الله على الجماعة. وإياكم والفرقة فإن الشاذ من الناس للشيطان كما أن الشاذ من الغنم للذئب ألا من دعا إلى هذا الشعار فاقتلوه ولو كان تحت عمامتي هذه
(نج البلاغہ ص 365 خطبہ نمبر 125)
عنقریب میرے متعلق دوگروہ ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے تجاوز کرنے والا اسے غلومحبت حق جے خلاف لے جائے گا۔ دوسرا گروہ وہ میرے بارے میں بغض وعناد میں حد سے بڑھنے والا کہ اس کا بغض اسے حق کے خلاف لے جائے گا۔ اور میرے باب میں سب سے بہتر وہ لوگ ہونگے جو اعتدال پر ہونگے تو تم بھی درمیانی راہ کو لازم پکڑو اور السواد الاعظم کے ساتھ رہو۔ بیشک اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔ خبردار جماعت سے جدا نہ ہونا ، پس جو جماعت سے الگ ہوجاتا ہے وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے جیسے گلے سے جدا ہونے والی بکری بھیڑئے کا لقمہ بنتی ہے۔ خبردار ہوجاؤ ! جو ان باتوں کی طرف بلائے تو اسے قتل کردو، خواہ وہ میرے عمامہ کے نیچے ہو۔

ارشاد نبوی ہے جو حب اہلبیت پر فوت ہوا وہ(اہل) سنت وجماعت پر فوت ہوا!
(جامع الاخبارص 189، کشف الغمہ ج1 ص 107)

۔۔۔۔۔۔حضرت علی سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :
اناواللہ اھل السنۃ والجماعۃ (رسالہ تبراء ص15، مطبوعہ یوسفی دہلی)
اللہ کی قسم بلاشبہ ہم سب اہلسنت وجماعت ہیں۔

شیعہ مذہب کی مستند کتاب “جامع الاخبار” میں ایک طویل حدیث قدسی نقل کی گئی ہے، اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو اہلسنت وجماعت کے لئے خوشخبری سنائی گئی کہ:
وليس على من مات على السنة والجماعة عذاب القبر، ولا شدة يوم القيامة، يا محمد: من أحب الجماعة أحب الله والملائكة أجمعون.
(جامع الخبارص 106 فصل سی وششم فارسی )
ترجمہ: جو شخص مذہب اہلسنت وجماعت پر مرے گا اسے نہ قبر میں عذاب ہوگا اور نہ روز قیامت کی سختی ، اے محمد ﷺ جو اس جماعت سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے اس سے محبت کریں گے۔

حضرت علی بصرہ میں ایک خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کے ایک آدمی نے اُٹھ کر آپ سے پوچھا ” اے امیر المومنین ! اہل جماعت، اہل تفریق ، اہل بدعت اور اہلسنت کون کون ہیں؟” آپ نے فرمایا تیرابراہو، اچھا اگر تو دریافت کر ہی بیٹھا ہے تو سن! لیکن میرے بعد کسی دوسرے سے نہ پوچھنا، آپ نے فرمایا “اہل سنت وجماعت میں اور میرے متبعین ہیں، اگرچہ وہ تھوڑے ہی ہوں اور یہ حق اللہ اور اس کے رسولﷺ کے امر سے ہے، اہل تفریق میرے اور میرے متبعین کے مخالف ہیں اگرچہ ان کی کثرت ہی ہو اور اہلسنت تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ان طریقوں کو مضبوطی سے تھامنے والے ہیں جو ان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔ ​​​​​​​(احتجاج طبرسی ج 1 ص 395، 394، ص 90 مطبوعہ نجف اشرف)

اصلی کلمہ

شیعہ حضرات عام طور پر جوکلمہ پڑھتے ہیں وہ اہل بیت سے قتعاّ ثابت نہیں ، جبکہ
۔۔۔۔۔۔حضرت امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ مجھے حدود ایمان بتائیں تو آپ نے فرمایا :

 شهادة أن لا إلة إلا الله وأن محمدا رسول الله والاقرار بما جاء به من عند الله وصلاة الخمس وأداء الزكاة وصوم شهر رمضان وحج البيت 

 یعنی یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بےشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، آپ جو کچھہ اللہ کی طرف سے لائے اس کا قرار کرنا ، پانچ نمازیں پڑھنا ،زکؤۃ ادا کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج ادا کرنا۔
(اصول کافی ج 2 ص 18 ، الثافی ترجمہ اصول کافی ج 2 ص30 ومثلہ ص46 وفی ج 2 ص45)

 ۔۔۔۔۔۔حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
“جو شخص نمازوں کی حفاظت کرتا ہے اس کے انتقال کے وقت ملک الموت اس سے شیطان کو دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے یہ کلمہ تلقین کرتا ہے لاالہ الا اللہ وان محمدارسول اللہ۔
( من لا یحضرہ الفقیہ ج 1 ص 82، فی غسل المیت )
۔۔۔۔۔۔آپ نے مزید فرمایا کہ موت کے وقت شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ دین کے متعلق شکوک پیدا کرے، لہذا تم فوت ہونے والے کو یہ کلمہ تلقین کرو !
اشھد ان الا الہ اللہ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہُ​​​​​​​​​​​​​​ (من لا یحضر والفقیہ ج 3 ص 79)

حضرت امام ابوجعفرمحمد باقر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
“جس نے اشھد انالاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ ، کہا اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔” ​​​​​​​​​​​​​(الشافی ترجمہ اصول کافی ج2 ص 511)

۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو لوگوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ ایلچی ہوں، آپ کے لیے وہ ہی باتیں ہیں ،یا تو کہہ دو لاالہ الااللہ وحدہ الاشریک لہ وان محمد اعبدہ ورسولہ یا میں تمہیں تلوار سے سیدھا کروں گا” ​​​​​​​​​​​​​​(ارشاد مفید ص60)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“اے اللہ کریم! اگر تونے مجھے دوزخ میں جانے کا حکم دیا تو میں اہل دوزخ کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ میں کلمہ شریف لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھتا تھا “۔​​​​​​​​​​(حلیتہ الابرار ج2 ص 141، باب سوم)

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“میں نے حضرت حمزہ ، حضرت جعفر طیار اور حضرت علی سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ مجھے اسلام میں داخل کرنے کے لیے کیا پڑھائیں گے، تو تینوں نے فرمایا کہ تجھے لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھائیں گے ، جب میں آپ کی بارگاھ میں گیا تو آپ نے یہی کلمہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھایا ۔ ​​​​​​​​(فروع کافی ج 8 ص298، کتاب الروضہ ، حیات القلوب ج2 ص1132، باب ششم)
حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے عرش پر لکھا دیکھا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ۔
ابوبکر صدیق ۔​​​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی ج1 ص 365)

۔۔۔۔۔۔ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ السلام نے عمر کا بازوپکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا ” اگر صلح صفائی کے طور پر آیا ہے تو میں ہاتھ روک لیتا ہوں اور اگر جنگ کے ارادے سے آیا ہے تو میں ابھی تیراکام تمام کیئے دیتا ہوں” عمر کھنے لگے میں مسلمان ہوگیا ہوں ، آپ نے فرمایا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھو جب عمر نے کلمہ پڑھا تو حضور ﷺ نے تکبیر کہی ، صحابہ کرام نے انتہائی خوشی اور مسرت میں آکر اتنے زور سے تکبیر کہی کہ قریش کی مجلسوں تک اس کی آواز سنائی دی۔​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاء ج2 ص284)
فائدہ : اصلی کلمہ کے مذید دلائل : (مجالس المؤمنین ج1 ص 20، ج2 ص208، توضیح المسائل ص 22، کشف الغمہ ج1 ص 295 ، حیات القلوب ج3 ص 104 ، ج2 ص247، 131، 129، 182، من لا یحضرہ الفقیہ ج1 ص 111، تذکرہ الائمہ ، ص9، 11، الشافی ج2 ص33، 34، 35، 37، 43، 50)

وضو کا طریقہ اور وضومیں پاؤں دھونا

اہل تشیع وضومیں پاؤں کا مسح کرتے ہیں جبکہ یہ اہل بیت کہ خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو!

۔ حضرت زید بن علی اپنے آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” میں ایک دفعہ بیٹھا وضوکررہا تھا کہ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے ابھی میں نے وضو شروع ہی کیا تھا تو آپ نے فرمایا! ​کلی کرو اور ناک میں پانی ڈال کر صاف کرو، پھر میں نے تین مرتبہ منہ دھویا اس پر آپ نے فرمایا: دودفعہ ہی کافی تھا پھر میں نے اپنے دونوں بازو دھوئے اور اپنے سرکا دومرتبہ مسح کیا ، آپ نے فرمایا ایک دفعہ ہی کافی تھا۔ پھر میں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، آپ نے فرمایا ! اے علی انگلیوں کے درمیاں خلال کرو، اللہ تمہیں آگ کے خلال سے بچائے”
(الاستبصارج 1 ص65، تہذیب الاحکام ج1 ص93)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ کو وضوکرایا تو”غسلت رجلیہ” انہوں نے حضور ﷺ کے پاؤں دھوئے۔ ​​​​​​​​​​​​​​(امالی لابی جعفر الطوسی ج1 ص38)

ابوبصیر سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر بھول کر منہ دھونے سے قبل اپنے بازو دھولے تو منہ کودھووپھر اس کے بعد بازوؤں کو دھووپھراگربھول کر دونوں بازوؤں میں سے بایاں بازو پہلے دھو بیٹھو تو پھر بھی دایاں بازودھوو، اور اس کے بعد بایاں پھر سے دھوو، اور اگر بھولے سے سرکا مسح کرنے سے پھلے تونے پاؤں دھولیے تو پہلے مسح کر پھر پاؤں کو دوبارہ دھوو۔ ​​​​​​​​(تہذیب الاحکام ج1 ص 99، الاستبصارج 1 ص 74)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے عماربن موسیٰ نے ایسے شخص کے متعلق روایت کی کہ جس نے وضومکمل کیا لیکن پاؤں نہ دھوئے، پھر پانی میں دونوں پاؤں کو اس نے اچھی طرح ڈبویا (توکیا اس کا وضومکمل ہوگیا یا پاؤں دھونے کی ضرورت ہے؟) فرمایا “اس کا پاؤں کو پانی میں ڈبونا دھونے کا بدلہ بن گیا۔ ​​​​​​​​​​​​​(تہذیب الاحکام ج1 ص66)

اذان

شیعہ حضرات کی موجودہ اذان اہل بیت کی اذان کے خلاف ہے ملاحظہ ہو!

جناب موسی بن جعفر اپنے آباؤ اجداد کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے اذان کی تفسیر میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں :
اللہ اکبر (چارمرتبہ ) اشھدان الاالہ الااللہ (دومرتبہ) اشھدان محمد رسول اللہ (دومرتبہ) حی علی الصلوٰۃ(دومرتبہ) حی علی الفلاح (دومرتبہ) اللہ اکبر(دو مرتبہ) لاالہ الا اللہ(ایک مرتبہ)
ملاحظہ ہو! ​(وسائل شیعہ ج2 ص247، من لا یحضرہ الفقیہ ج 1 ص188)

 شیعہ مصنف نے لکھا ہے : صحیح اور کامل اذان وہی ہے جو حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے اسی کتاب میں روایت کی گئی ہے ، نہ اس میں زیادتی ہو سکتی ہے اورنہ ان الفاظ سے کم، جو اس میں مذکور ہوئے ۔ “مفؤضہ” نامی گروپ پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے بہت سی من گھڑت باتیں بنائی اور ان من گھڑت باتوں میں سے ایک یہ بہی ہے کہ انہوں نے اذان میں “محمدوالہ خیرالبریہ “ کے الفاظ بڑھا دیئے ۔ انہی کی کچھ دوسری من گھڑت روایت میں یہ بھی ہے کہ اشھدان محمد رسول اللہ کے الفاظ کو دو مرتبہ مؤذن یہ بھی کہے “اشھدان علیاولی اللہ” ان میں سے ہی بعض نے مذکورالفاظ کی جگہ یہ الفاظ کہنے کو لکھا “اشھدان علیا امیرالمؤمنین حقا” یہ باتیں حقائق پر بنی ہیں کہ حضرت علی “ولی اللہ” ہیں، آپ “امیرالمؤمنین” بالحق ہیں اور حضرت محمد ﷺ اور آپ کے آل “خیر البریہ” ہیں لیکن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے یہ الفاظ ہرگز ہرگز اذان میں داخل نہیں ہیں”۔ ​​​​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1 ص93، ج1ص 188)

اوقاتِ نماز

شیعہ حضرات کے اوقاتِ نماز اہل بیت کےاوقاتِ نماز کے خلاف ہیں۔ دیکھئے !!
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے معاویہ بن وہب روایت کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا “جبرئیل علیہ السلام ایک دن حضورﷺ کے پاس نماز کے اوقات لے کر حاضر ہوئے۔ جب زوال شمس ہوا تو آکر کہا”حضور! نماز ظہرادا کیجیئے” آپ نے ظہر ادا فرمائی پھر جب ہرچیز کا سایا ایک مثل بڑھ گیا توجبرئیل دوبارہ آئے اور آپ سے نماز عصر پڑھنے کوکہا آپ نے عصر ادا فرمائی، پھرغروب آفتاب کے بعد حاظر ہوکرآپ سے نماز مغرب ادا کرنے کوکھا ، آپ نے مغرب ادا فرمائی، پھر شفق ختم ہونے پر حاضر ہوکر نماز عشاء پڑھنے کو کھا، آپ نے نماز عشاء ادا فرمائی، پھر صبح صادق ہونے پر حاضر ہوئے اور نماز فجر پڑھنے کو کھا، اپ نے وہ بھی ادا فرمائی پھر جبرئیل دوسرے دن آئے اور اس وقت ہرچیز کا سایا ایک مثل پر ہوچکا تھا،جبرئیل نے آپ کو نماز ظہر ادا کرنے کو کھا آپ نے نماز ادا فرمائی ، پھر دومثل سایہ پڑنے پر حاضر ہوکر آپ کو نماز عصر پڑھنے کوکھا آپ نے اس وقت عصرادا فرمائی ​​​​​​​​​​​(وسائل الشیعہ ج3ص115)

۔حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” جب تیرا سایہ ایک مثل ہوجائے تو ظہر پڑھ اور جب تیرا سایہ تیری دومثل ہوجائے پھر نماز عصر اداکر۔​​​​​​​​​​​(فقہ امام جعفرصادق ج1ص135)

۔ ابرہیم کرخی کہتا ہے کہ میں نے ابوالحسن موسیٰ کاظم سے پوچھا حضور! ظہر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟ فرمانے لگے جب زوال شمس ہوجائے، میں نے پھر پوچھا کہ اس کا آخری وقت کیا ہے؟ فرمانے لگے “جب سورج کو ڈھلے ہوئے اتنا وقت ہوجائے کہ چارقدم سایہ لمبا ہوجائے، ظہر کا وقت دوسری نمازوں کی طرح لمبا چوڑا نہیں ہوتا”۔ میں نے پوچھا وقت عصر کب شروع ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ظہر کا آخری وقت عصر کا ابتدائی وقت ہے​​​​​​​​​​​​​​(تہذیب لاحکام ج2 ص26)

حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” جس نے مغرب کی نماز افضلیت حاصل کرنے کی غرض سے مؤخر کرکے (لیٹ) پڑھی وہ ملعون ہے، وہ ملعون ہے”۔​​​​​​​​​(وسائل الشیعہ ج3ص 137)

نمازمیں التحیات پڑھنا

اہل تشیع نماز میں بحالت قعدہ “التحیات اللہ والصلوات والطیبات “ کو درست نہیں مانتے جبکہ اہل بیت پاک رضی اللہ عنہ اس کے قائل وعامل رہے ہیں ۔

حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے “التحیات اللہ والصلوات والطیبات” کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ کلمات کیسے ہیں ؟ فرمایا “یہ دعاؤں میں سے دعا ہے اور ان کی ادائیگی کے ذریعے بندہ اپنے پروردگار کی بےپایاں عنایت اور خوشنودیوں کا طالب ہوتاہے۔”
(الاستبصار1/242)

حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ نے زرارہ کوفرمایا کہ تشہد کے دوران یہ کلمات پڑھو”بسم اللہ وبا اللہ والحمد اللہ والاسماءالحسنیٰ کلھا اللہ واشھد ان لاالہ اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداعبد ہ ورسولہ ارسلہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون التحیات اللہ والصلوات والطیبات الطاھرات ۔الخ ​​​​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1 ص209)
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے تشہد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کلمہ شہادت کے بعد التحیات اللہ والصلوات ۔۔۔الخ کی تلقین فرمائی اور باربار پوچھنے کے باوجود یہی الفاظ دہراتے تھے ۔​​​​​​​​​​​​​​(رجال کشی ج1ص 379)

نماز جنازہ کی تکبیریں

اہل تشیع کے نزدیک پانچ تکبیریں نماز جنازہ میں ضروری ہیں جبکہ اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے خلاف ہیں ۔ ملاحظہ ہو!!
امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز جنازہ کی تکبیروں کی تعداد مقررہے یا نہیں ؟ تو آپ نے فرمایا “نہیں، رسول اللہ ﷺ نے گیارہ ،نو،سات،پانچ ،چھ اور چار تکبیریں کہیں” ​​​​​​​​​​​​​​(تہذیب الاحکام ج3 ص316)

۔۔۔۔۔۔حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا حضرت علی رضی اللہ عنہ جنازہ پڑھتے وقت پانچ اور چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔​​​​​​​​​​​​​(قرب الاسناد ج2ص209)
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے نبی کریم ﷺ جنازہ پر پانچ تکبیریں کہتے تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو منافقین پرنماز جنازہ ادا کرنے سے منع فرمادیا تو آپ جنازہ پر چار تکبیریں کہتے تھے ​​​​​​​​​​(فروع کافی ج1 ص95، تہذیب الاحکام ص177، لعلل والشرائع ص303)
معلوم ہوا کہ باقی تکبیریں منسوخ ہیں، لہٰذا جنازہ میں صرف چار تکبیریں کہنی چاہئیں

۔۔۔۔۔حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نمازجنازہ میں صرف تکبیراولیٰ(پہلی تکبیر) کے اوقات ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے تھے پھر اس کے بعد نہیں اُٹھاتے تھے۔ ​​​​​​​​​​​​​(وسائل الشیعہ ج2ص786)
حضورﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو اس میں صرف چارتکبیریں کہی تھیں
(ناسخ التواریخ ج3 ص 254)

نمازتراویح

اہل تشیع نمازتراویح کے خلاف ہیں اور اسے فاروقی بدعت قرار دیتے ہیں جبکہ اہل بیت اطہاررضی اللہ عنہ نمازتراویح کے قائل اور اس پرعامل رہے ہیں ۔

ملاحظہ ہو! لکھا ہے :
بہت سے راویوں نے روایت کی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ رمضان المبارک کی ایک رات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں گھر سے باہر تشریف فرما ہوئے، آپ نے دیکھا کہ مسجد میں چراغ جل رہے ہیں اور مسلمان باجماعت نماز(تراویح) میں مشغول ہیں، یہ دیکھ کر آپ نے دعا فرمائی “اے اللہ ! عمر بن الخطاب کی قبر کو منورفرما جس طرح اس نے ہماری مسجدوں کو منورکردیا”۔ ​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج3ص 98، لابن ابی حدید )

  حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ رمضان شریف میں ہر رات نوافل کی کثرت فرماتے تھے اور روزانہ معمول کے سوا بیس رکعت نوافل کا اضافہ کرتے اور دوسروں کوبھی حکم دیتے تھے۔ ​​​​​​​​​​​​​(تہذیب الاحکام ص130، الاستبصار ج1ص462، طبع ایران،ج1ص231، طبع نولکشور،من لایحضرہ الفقیہ ج2 ص88، فروع کافی ج4ص154)

حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
حضور اکرم ﷺ رمضان مہینہ میں اپنی نماز کو بڑھادیتے تھے، عشاء کی نماز کے بعد نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگ پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ، اسی طرح کچھ وقفہ کیا جاتا پہر اسی طرح حضور علیہ الصلواۃ والسلام لوگوں کو نماز(تراویح) پڑھاتے۔ ​​​​​​​​​​​​​​(فروع کافی ج1ص394، طبع نولکشور، ج4ص154، طبع ایران)

عظمتِ صحابہ کرام

مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
حضوراقدس ﷺ کے صحابہ کو میں نے دیکھا ہے۔ تم میں سے کسی کوبھی ان کے مشابہ نہیں پاتا، وہ تمام شب مسجدوں اور نماز میں گزرتے ، صبح کو اس حالت میں ہوتے کہ ان کے بال پریشان اور غبارآلودہوتے ، ان کا آرام وسکون پیشانیوں اور خساروں پر طویل سجدوں سے ہوتا تھا۔ وہ اپنی عاقبت کی یاد سے دہکتے کوئلے کی مانند بھڑک اٹھتے تھے، کثرت سجود اور طول سجدہ کی وجہ سے ان کے ماتھے دنبوں کے گھٹنوں کی طرح ہوگئے تھے۔ اللہ کا نام جب ان کے سامنے لیا جاتا تو وہ اشک بارہوجاتے ، آنسو بہہ پڑتے، ان کے گریبان بھیگ جاتے ، اور اذاب الٰہی کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح کانپتے جس طرح سخت آندھی میں درخت کانپتاہے۔ ​​​​​​(نہج البلاغہ ص355، (مترجم) خطبہ نمبر 92، نیرنگ فصاحت ص105)

مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ میں السابقون الاولون صحابہ کی شان یوں بیان کی :
فازاھل السبق بسبقتھم وذھب المھاجرون الاولون بفضلھم۔​​​​​​​​​​( نہج البلاغہ،خطبہ نمبر17، نیرنگ فصاحت ص)
ترجمہ: (اسلام اور اعمال صالحہ میں)سبقت کرنے والے اپنی سبقت کے ساتھ فائزالمرام ہوئے اور مھاجریں اولین اپنے فضل وکمال کے ساتھ گذر چکے۔

حضرت اسد اللہ الغالب، امام المشارق والمغارب علی رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی مقدس ہستیوں کو اپنے ایک اور خطبہ میں یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں:
اے اللہ کے بندو! جان لو کہ متقی پرہیزگاروہی لوگ تھے جودنیا اور آخرت کی نعمتیں سمیٹ کر گزر چکے ہیں۔ وہ لوگ اہل دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک ہوئے، لیکن اہل دنیا ان کی آخرت میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوسکے، وہ مقدس ہستیاں دنیا میں یوں سکونت پذیر ہیں جیسے رہنے کا حق تھا۔ اور دنیا کی نعمتوں سے انہوں نے کھایا جیسا حق تھا، اور دنیا کی ہر اس نعمت سے ان ہستیوں نے حصہ پایا، جس سے دنیا کے بڑے بڑے جابریں متکبریں نے لیا، اسی قدر انہوں نے بھی لیا، پھر یہ ہستیاں صرف زاد آخرت لے کر، اور آخرت میں نفہ بخش تجارت کو ہمراہ رکھ کر دنیا سے بے رغبت ہوگئیں۔ یہ لوگ دنیا کی بے رغبتی کی لذت کو اپنی دنیا میں حصل کر چکے تھے کہ کل اللہ سے آخرت میں ملنے والے ہیں، یہ وہ حضرات تھے جن کی دعا نامنظور نہیں ہوتی تھی، اور ان کی آخرت کا حصہ دنیوی لذتوں کی وجہ سے کم نہیں ہوگا۔​​​​​​​​​​​ (نہج البلاغہ خطبہ نمبر 27)

آپ نے مزید فرمایا : میں تمھیں اصحاب رسولﷺ کے بارے میں وصیحت کرتا ہوں کہ کسی کو برا نہ کہو، کیوں کہ انہوں نے آپ کے بعد کوئی کام خلاف اسلام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کو دوست بنایا اور نہ پناہ دی، رسول اللہﷺ نے بھی ان کے متعلق یہی وصیحت فرمائی ہے۔ ​​​​​​​​​​​​​​(الامالی ج2ص34 لابی جعفرالطوسی)
۔۔۔۔یہ بات بحار الانوار ج22ص206 پربھی موجود ہے۔

حضرت امام حسن عسکری فرماتے ہیں” اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : اصحاب محمد کو دیگر انبیاء علیہم السلام کے اصحاب پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی محمد ﷺ کو تمام رسولوں پر۔” ​​​​​​​​​​​​(آثارحیدری ترجمہ تفسیرحسن عسکری27 )

حضورﷺ نے فرمایا ” جس نے مجھے گالی دی اسے قتل کرواور جس نے میرے کسی صحابی کو گالی دی وہ کافر ہوگیا۔”​​​​​​​​​​​​​​(جامع الاخبارص183، فصل125)

 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا “اگر کسی امر میں میری حدیث موجود نہ ہو تو پھر جو میرے صحابہ رضی اللہ عنہ فیصلہ دیں وہی مانو۔ کیونکہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بہی پیروی کرلوگے ہدایت پالوگے اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف تمھارے لیے رحمت ہے۔”​​​​​​​​​​​(بحارالانوار ج22ص307، معانی الاخبارص156، انوارنعمانیہ ج1ص 100، عیون الاخبارج2 ص85،احتجاج طبرسی ج2ص105)

حضورﷺ نے فرمایا “میرے صحابہ رضی اللہ عنہم میری ڈھال ہیں، ان کے عیب چھپاؤ اور خوبی بیان کرو”۔ ​​​​​​​​​​​​​(بحارالانوارج22ص312، امالی ص 160، لابی جعفرطوسی)
 جس نے مجھے گالی دی وہ بھی کافر ہے اور جس نے میرے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو گالی دی وہ بھی کافر ہے اور جو انھیں گالی دے اسے کوڑے لگاؤ۔​​​​​​​​​​(جامع الاخبارص182فصل 125)

۔۔۔۔۔۔حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
والسابقون الاولون من المھاجرین والانصاروالذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔
ترجمہ : مہاجرین وانصار میں سے سبقت کرنے والے اور ان لوگوں سے جنہوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی، خدا راضی ہوا اور وہ خدا سے راضی ہوئے ۔ حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے درجہ ایمان کے مطابق ان لوگوں کا پہلے ذکر کیا جنہوں نے پہلے ہجرت کی تھی۔ پھر دوسرے درجہ میں انصار کا ذکرکیا، جنہوں نے مہاجریں کے بعد آنحضرت ﷺ کی مدد کی تھی، پھر تیسرے درجہ میں ان تابعین کا نیکی کے ساتھ ذکرفرمایا ، غرض ہر گروہ کو اس درجہ اور منزلت میں قرار دیا جوان کے لیے اس کے نزدیک ہے۔​​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب اردوج2ص915،مطبوعہ لاہور)
۔ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین وانصار کے لیے یہ دعا فرمائی:
لاعیش الاعیش الاخرۃاللھم ارحم الانصاروالمہاجرۃ۔​​​​​​​​​​​(مناقب آل ابی طالب ج1ص185، مطبوعہ ایران)
نہیں بہتر زندگی مگر آخرت کی زندگی، اے اللہ! انصاراور مہاجرین پر رحم فرما۔
اب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک اور خطبہ درج کیا جاتا ہے۔ جس میں انہوں نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعریف وتوصیف بیان فرمائی ہے اور اس خطبہ کا ترجمہ شیعی مترجم ذاکرحسین کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔
أين إخواني الذين ركبوا الطريق ومضوا على الحق؟ أين عمار ؟ وأين ابن التيهان؟ وأين ذو الشهادتين؟ وأين نظراؤهم من إخوانهم الذين تعاقدوا على المنية، وأبرد برؤوسهم إلى الفجرة. (قال ثم ضرب بيده على لحيته الشريفة الكريمة فأطال البكاء، ثم قال عليه السلام): أوه على إخواني الذين تلوا القرآن فأحكموه ، وتدبروا الفرض فأقاموه، أحيوا السنة وأماتوا البدعة. دعوا للجهاد فأجابوا، ووثقوا بالقائد فاتبعوه​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ خطبہ نمبر181)
کہاں ہیں وہ میرے بھائی جوراہ خدا میں سوار ہوئے تھے۔ اور اسی اعتقاد حقہ پرگزر گئے، کہاں ہے عمار۔ کدھر ہےابن النھیان، کس طرف ہے ذوالشہادتین، کہاں ہیں ان کی مثالیں اور کس طرف ہیں ان کے دینی بھائی جو خدا کی راہ میں مرنے کی قسم کھائے ہوئے تھے، اور جن کے سرفاسق وفاجر شامیوں کی طرف ​بھیجے گئے، راوی کھتا ہے، کہ یہ فرما کر حضرت(علی) نے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا، بھت دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا آہ! وہ میرے دینی بھائی جوقرآن کی تلاوت کرتے تھے، وہ امورواجبات میں تفکر سے کام لیتے ہوئے انہیں قائم کرتے تھے۔ وہ سنت پیغمبر کو جِلاتے تھے، وہ بدعتوں کو دور کرتے تھے، جب انہیں جھاد کی طرف بلایا جاتا تھا، تو نہایت خوشی سے قبول کرتے تھے، اپنے پیشواپر بھروسہ رکھتے تھے اس کے اوامروانہی کی اطاعت کرتے تھے۔
۔ اسی طرح کا مضمون نیرنگ فصاحت ص135 پر بھی موجود ہے ۔

امامت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ عنہ برحق ہے

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت کے انکار میں آج کل بہت شوروغل کیا جاتا ہے جبکہ خود سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے “امامت صدیق” کے برحق ہونے کا عملی ثبوت پیش کردیا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدی امام کی اقتداء میں نماز کے افعال سرانجام دیتا ہے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے تو بالکل وہی افعال سرانجام دیتے جو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ادا کرتے تھے تو گویا وہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی امامت کو برحق سمجھتے تھے ۔
۔سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ باجماعت نماز حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ادا فرماتے تھے۔​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی ج1ص242، مراُۃالعقول شرح اصول کافی ص388، تلخیص الشافی ج2ص158، حملہ حیدری ج1ص275،تفسیرقمی ج2ص158،جلاءالعیوانص150)
حضرت ابوبکر”صدیق” ہیں
خلیفہ اول سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کا صدیق ہونا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے مثلا:
۔۔۔۔۔۔حضور ﷺ نے عرش پر لکھا دیکھا”لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ابوبکرصدیق ” ملاحظہ ہو! ​​​​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی 83)
۔۔۔۔۔۔حضوراکرمﷺ نے فرمایا :
“میرے بعد اللہ تمہیں بہتر شخص ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر جمع فرمادےگا”​​​​​​​​​​(تلخیص الشافی ج2ص372)
امام محمد باقررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لما كان رسول الله صلى الله عليه وآله في الغار قال لأبي بكر: كأني انظر إلى سفينة جعفر وأصحابه تقوم في البحر، وأنظر إلى الأنصار محتبين في أفنيتهم فقال أبو بكر: وتريهم يا رسول الله؟ قال: نعم قال: فأرنيهم، فمسح على عينه فرآهم، فقال في نفسه: الان صدقت ، فقال له رسول الله: أنت الصديق
​​​​​(تفسیر قمی ج2ص290، مطبوعہ ایران، بحارالانوار ج19ص81)
جب رسول اللہ ﷺ (ہجرت کی رات) غار میں تھے۔ تو آپ نے فلاں کو(یعنی حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو)فرمایا کہ میں حضرت جعفرطیار(رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کو اس کشتی میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں جو کہ دریا میں کھڑی ہے۔ نیزفرمایا میں انصار کو بھی اپنے گھروں کے صحنوں میں بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ واقعی دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا ہاں! تو عرض کی مجھے بھی دکھلا دیجئے۔ تو آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں پر ہاتھ مبارک پھیرا تو انہوں نے بھی دیکھ لیا۔ تورسول اللہﷺ نے ان کو فرمایا تو صدیق ہے۔
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا ہے :
سمعت رسول اللہﷺ یقول ان الجنۃ تشتاق الی ثلاثۃ قال فجآء ابوبکر فقیل لہ یا ابابکر انت الصدیق وانت ثانی الثنین اذھما فی الغار۔ ​​​​​​​​​​​​​​(رجال کشی ص32مطبوعہ کربلا)
میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا بے شک جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے فرماتے ہیں کہ اتنے میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ آئے تو انہیں فرمایا گیا اے ابوبکرتم صدیق ہو، اور غار میں دو کے دوسرے ہو۔
حضرت عبداللہ نے کہا ہے میں نے امام باقررضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تلواروں کو زیور لگانا جائز ہے؟ تو آپ نے فرمایا ” اس میں کوئی مذائقہ نہیں جبکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار پر زیور لگایا ہے”۔ میں نے عرض کیا کہ آپ بھی ان کو صدیق کہتے ہیں، اس پر امام عالی مقام غصہ میں آگئے اور قبلہ شریف کی طرف رخ انور کرکے فرمایا” ہان” وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں، جو ان کو صدیق نہیں کہتا اللہ اس کے قول کو نہ دنیا میں سچا کرے، نہ آخرت میں”۔ ​​​​​​​​​​​​​(کشف الغمہ ص78)
معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو ” صدیق” نہ ماننے والے دنیاوآخرت میں جھوٹے ہیں اور اہلبیت کو ناراض کرنے والے بھی۔ العیاذباللہ !
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں” میں دو طرح سے صدیق اکبر کی اولاد میں شامل ہوں”۔ ​​​​​​​​​​​​​(الحقاق الحق ص7)
معلوم ہوا کہ تمام اہلبیت کرام آپ کو “صدیق اکبر” مانتے ہیں ۔

خلفاء راشدین کی خلافت برحق ہے

صرف سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ چاروں خلفاء برحق ہیں۔ چناچہ
۔۔۔۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں” تمام لوگوں میں اس خلافت کا اہل وہ ہے جو اس کے نظم ونسق کو برقرار رکھنے کی سب سے زیادہ قوت وصلاحیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں اللہ کے احکام سب سے ذیادہ جانتا ہو۔​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ اول خطبہ نمبر172)
۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
جن لوگوں نے حضرت ابوبکر،عمراور عثمان رضی اللہ عنہ کی بعیت کی تھی، انہوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول کے مطابق بعیت کی، جس اصول پروہ ان کی بعیت کر چکے تھے اور اس کی بناء پر جو حاضر ہے، اسے نظرثانی کا حق نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہواسے روکرنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین وانصار کوہے وہ اگر کسی پر اتفاق کریں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا وخوشنودی سمجھی جائے گی۔ اب جو کوئی اس شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کرتاہواالگ ہوجائے تو اسے وہ سب اسی طرف واپس لائیں گے جدھر سے وہ منحرف ہواہے اور اگراس سے انکار کرے تو اس سے لڑیں کیونکہ وہ مومنوں سے ہٹ کر دوسری راہ پر ہولیا ہے اور جدھر وہ پھر گیا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے ادھرہی پھیر دے گا۔ ​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ دوم مکتوب نمبر 6)
۔۔۔۔۔۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
” میرے بعد خلافت تیس سال ہوگی، کیونکہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے دوسال تین ماہ اور آٹھ دن اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس سال چھ ماہ اور چار راتیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سال گیارہ ماہ اور تین دن، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے چار سال ایک دن کم سات ماہ اور حضرت امام حسن نے آٹھ ماہ اور دس دن خلافت کی، یہ مدت تیس سال ہوئی۔ ​​​​​​​​​​​​​(مروج الذہب ج 2 ص429،احقاق حق 265)
مقصد یہ ہے کہ ان حضرات کا دورخلاٖفت برحق ہے۔

خلیفہ اول بلافصل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے اپنے کمالات وفضائل میں سب سے ممتازومنفرد اوریکتا ہونے کی بناء پر بلافصل خلیفئہ رسول ہونے کا اعزاز حاصل کیا، مثلا
۔۔۔۔۔۔نبی علیہ السلام صحابہ کرام کے مجمع میں اکثر فرمایا کرتے کہ ابوبکرصدیق نماز اور روزہ کی بنا پر سبقت نہیں لے گئے بلکہ سبقت کی وجہ وہ محبت ہے جوان کے سینے میں جمی ہوئی تھی۔​​​​​​​​​​​​​​(مجالس المؤمنین ج1 ص206)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرش پر لکھادیکھا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ابوبکرصدیق۔​​​​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی ج1ص365)
غارثور میں حضوراکرم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر”صدیق” کی آنکھوں پرہاتھ پھیرا تو انہیں بھی جعفر طیارکی کشتی اور انصار نظرآگئے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا “تو صدیق ہے”۔​​​​​​​​​​​​​​(تفسیرقمی ج1ص317،بحارالانوارج19ص81)
۔ بے شک ہم ابوبکرصدیق کو خلافت کا سب سے زیادہ حق دارجانتے ہیں کیونکہ وہ رسول اللہﷺ کے یارغار ہیں اور نمازمیں حضور کے ساتھ دوسرے تھے اور بےشک ہم آپ کی بزرگی مانتے ہیں اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں امامت نماز کا حکم دیا تھا۔ ​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج1ص 293،جزء6لابن ابی حدید)
سیدنا امام محمد باقررضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال امیرالمؤمنین علیہ السلام بعدوفاۃ رسول اللہ ﷺ فی المسجدوالناس مجتمعون بصوت عال الاذین کفرواوصدو اعن سبیل اللہ اضل اعمالھم فقال لہ ابن عباس یا اباالحسن لم قلت ما قلت قال قرات شیئا من القرآن قال لقد قلتہ لامر قال نعم ان اللہ یقول فی کتابہ ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھو افتشھدو اعلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہ استخلف ابابکر۔​​​​​​​​​​​​​​(تفسیر صافی ج2ص561، 562 مطبوعہ ایران، تفسیرقمی ج2ص301 مطبوعہ ایران)
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد مسجد میں لوگوں کے بھرے اجتماع میں بلند آواز سے الذین کفرواوصدواعن سبیل اللہ اضل اعمالھم پڑھاتو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا
اے ابوالحسن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ! جوکچھ آپ نے پڑھا اس پڑھنے کا کیا مقصد ہے،تو مولاعلی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا میں نے قرآن مجید سے آیت پڑھی ہے۔ توابن عباس رضی اللہ عنہ نے پھرعرض کیا آپ کے پڑھنے کی کوئی نہ کوئی غرض اور غائت ہے۔ تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے، اور جوتم کورسول اللہ دین ﷺ لے لیا کرو، اور جس سے ممنع فرمایئں رک جایا کرو۔ تو تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گواہ ہوجاؤ کہ انہوں نے حضرت ابوبکرکواپنا خلیفہ بنایا ۔
ایک اور روایت میں واضح موجود ہے کہ :
ثم قام وتھیاءللصلوٰۃوحضرالمسجدوصلی خلف ابی بکر۔​​​​​​​​​​​(تفسیر قمی ج2ص503،احتجاج طبرسی ج1ص126)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اُٹھے اور نماز کی تیاری کرکے مسجد میں آئے اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔
جلاءالعیون کا اردو ترجمہ جو شیعہ حضرات کا مترجم ہے کی عبارت ملاحظہ ہو! لکھا ہے جناب امیر(علیہ السلام) نے وضوکیا، اور مسجد میں تشریف لائے خالد بن ولید بھی پہلو میں آکھڑا ہوا، اس وقت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے۔​​​​​​​​​​​(جلاء العیون اردو ج1ص213 مطبوعہ لاہور)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“ہر ذلیل میرے نزدیک باعزت ہے جب تک اس کا دوسرے سے حق نہ لےلوں اور قوی میرے لیے کمزور ہے یہاں تک کہ میں مستحق کا حق اس سے دلانہ دوں ہم اللہ کی قضاء پرراضی ہوئے اور اس کے امرکواسی کے سپرد کیا، اے پوچھنے والے! تو سمجھتا ہے کہ نبی پاکﷺ پر بہتان باندھوں گا، خدا کی قسم ! میں نے ہی سب سے پہلے آپ کی تصدیق کی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ہی سب سے پہلے جھٹلانے والا بنوں، میں نے اپنے معاملہ میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ میرا ابوبکر کی اطاعت کرنا اور ان کی بیعت میں داخل ہونا اپنے لیے بیعت لینے سے بہترہے اور میری گردن میں غیر کی بیعت کرنے کا عہد بندھا ہوا ہے۔​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ اول ص89، 88 خطبہ نمبر37)
۔ اسی خطبہ کی تشریح کرتے ہوئے ابن میشم لکھتا ہے کہ:
فقولہ فنظرت فاذا اطاعتی قدسبقت بیعتی ای طاعتی لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیما امرنی بہ من ترک القتال قدسبقت بیعتی للقوم فلا سبیل الی الامتناع منھا وقولہ واذا المیثاق فی عنقی لغیری ای میثاق رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم وعھدہ الی بعدم المشاقۃ وقیل المیثاق مالزمہ من بعتہ ابی بکر بعد ایقا عھا ای فاذا میثاق القوم قد لزمنی فلم یمکنی المخلافۃ بعدہ۔​​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج2ص97لابن میشم مطبوعہ ایران )
(حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) کہ پس میں نے غوروفکرکیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا بیعت لینے سے اطاعت کرنا سبقت لے گیا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ترک قتال کا مجھے حکم فرمایا تھا، وہ اس بات پر سبقت لے گیا ہے کہ میں قوم سے بیعت لےلوں۔ واذا المیثاق فی عنقی لغیری سے مراد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے وعدہ لینا ہے، مجھے اس کا پابند رہنا لازم ہے۔ جب لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بعیت کر لیں ، تو میں بھی بیعت کرلوں پس جب قوم کا عہد مجھ پر لازم ہوا یعنی ابوبکر کی بیعت مجھ پر لازم ہوتی تو اس کے بعد میرے لیے ناممکن تھا کہ میں اس کی مخلفت کرتا۔
۔ مزید فرمایا: “تم رسول اللہ ﷺ کے گواہ بن جاؤ کہ انہوں نے ابوبکر کوخلیفہ بنایا ہے۔”​​​​​​​​​​​​​​(تفسیر صافی ج2ص561،تفسیر قمی 624)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آخری وقت عرض کیا گیا کہ آپ اپنے قائم مقام کے لیے وصیحت کیوں نہیں فرماتے تو آپ نے فرمایا:
ماوصی رسول اللہ ﷺ فاوصی ولکن قال ان اراد اللہ خیرافیجمعھم علی خیرھم بعد نبیھم۔​​​​​​​​​​(تلخیص الثافی ج2ص372)
رسول اللہ ﷺ نے وصیحت نہیں کی تھی( تومیں کیسے کروں؟) البتہ حضورﷺ نے یہ فرمایا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا تو میرے بعد تم میں کے بہتر شخص پر لوگوں کا اتفاق ہوجائیگا۔
دوسری روایت ہے کہ جب ابن ملجم ملعون نے حضرت علی علیہ السلام کوزخمی کیا،تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا کہ حضور اپنا خلیفہ مقرر فرمائیں تو آپ نے فرمایا: قال لا، فانا دخلنا علی رسول اللہ حین ثقل فقلنا یارسول اللہ استخلف علینا فقال لا،​​​​​​​​​​​​(تلخیص الشافی ج2ص372،مطبوعہ نجف اشرف)
تو آپ نے فرمایا “نہیں” کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمارے لیے کوئی اپنا خلیفہ مقرر فرمایئں، تو جواب دیا نہیں۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر میں خلیفہ مقرر کردوں تو تم اختلاف کروگے جیسا کہ نبی اسرائیل نے ہارون کے متعلق اختلاف کیا تھا۔ لیکن یقین رکھو کہ اگراللہ نے تمہارے دلوں میں خیر دیکھا تو وہ تمہارے لیے خودہی بہتر خلیفہ مقرر کردے گا۔
اسی سلسلہ روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ مولائے کائنات رضی اللہ عنہ سے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کی درخواست کی گئی تو فرمایا :
ولکن اذاارااداللہ بلناس خیر ااستجمعھم علی خیرِ کما جمعھم بعد نبیھم علی خیرھم۔​​​​​​​​​(الثافی ص171،مطبوعہ نجف اشرف)
لیکن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے گا تو ان کے بہتر شخص پر انہیں متفق کردےگا ۔ جس طرح نبی ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں کوبہتر شخص (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) پر جمع فرمادیا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب سنا کہ تمام مسلمانوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اتفاق کرلیا ہے تو اس قدر جلدی دردولت سے تشریف لائے کہ چادر اور تہبند بھی نہ اوڑھا صرف پیرہن میں ملبوس تھے اسی صورت میں ابوبکر کے ہاں پھنچے اور بیعت کی، بیعت کے بعد چند آدمی کپڑے لینے کے لئے بھیجے تاکہ مجلس میں کپڑے لے آئیں۔​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاء ج1ص432)
۔ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
ابوبکر کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ فرمایا “اللہ رحم کرے ابوبکرصدیق پرخدا کی قسم! وہ قرآن پڑھنے والے، منکرات سے روکنے والے ، اپنے گناہوں سے واقف رہنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، دن کوروزہ رکھنے والے ، تقویٰ میں اپنے ساتھیوں سے فوقیت رکھنے والے، زہد اور عفت کے سردار تھے، جس نے ابوبکر پر اعتراض کیا اللہ اس پر غضب نازل فرمائے”۔​​​​​​​​​​​​​(مروج الذہب ج 3ص55)
حضرت امام باقررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“میں ابوبکر کے فضائل کا منکر نہیں ہوں لیکن ابوبکر، عمرسے افضل ہیں”۔​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی ج 2ص479)
بلاشبہ حضرت ابوبکرہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حضرت فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں ​​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص100 الابن ابی حدید)
حضرت علی بن حصنین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا تو اس وقت مغرب اور عشاء کا درمیانی حصہ تھا اس انتقال کی خبر سن کرابوبکر،عمر،عثمان،زبیر اور عبدالرحمان بن عوف حاضر ہوئے پھر جب نماز جنازہ کے لیے ان کی میت رکھی گئی تو حضرت علی نے حضرت ابوبکر صدیق سے کھا “اے ابوبکر! آگے ہوکران کی نمازجنازہ پڑھایئے”۔ پوچھا کہ اے ابوالحسین ! اپ اس وقت موجود تھے، فرمایا، ہاں، حضرت علی مرتضیٰ نے کہا تھا “ابوبکر چلو نماز پڑھاؤ، خدا کی قسم ! فاطمہ کی نماز جنازہ تمھارے بغیر کوئی نہیں پڑھائے گا تو حضرت ابوبکر صدیق نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر انہیں رات کے وقت سپرد خاک کردیا گیا​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج2ص302 لابن ابی حدید)
حضرت علی کے ایک خطبہ کے متعلق شیعی روایت ملاحظہ ہو!:
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہِ خیرھذہ الامۃ بعد بیھا ابوبکروعمر وفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعد ماانھی الیہ ان رجلا تناول ابابکروعمر بالشتیمۃ فدعی بہ وتقدم بعقوبتہ بعد ان شھدواعلیہ بذلک۔​​​​​​​​​​​​​​(الشافی ج2ص428)
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں فرمایا : نبی کریم ﷺ کے بعد تمام امت سے افضل ابوبکروعمرہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ حضرت علی کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکراورحضرت عمر(رضی اللہ عنہا) کی شان میں بدزبانی کی ہے، جس کے بعد امیرالمؤمنین علی نے اس گالی بکنے والے کوبلایا، شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد (جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو)اسے سزادی۔
اسی کتاب الثافی میں امام زین العابدین کی روایت ہے کہ جب ابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو ابوسفیان حضرت علی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہاتھ بڑھائیں میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، اور بخدا میں آپ کی حمایت میں اس علاقہ کو سواروں اور پیدل سپاہیوں سے بھردوں گا، اگر آپ خوف کے باعث اعلان خلافت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ سن کر حضرت علی نے چہرہ پھیر لیا اور فرمایا:
ویحک یااباسفیان ھذہ من دواھیک قداجتمع الناس علی ابی بکرمازلت تبتغی الاسلام عوجافی الجاھلیتہ والسلام واللہ ماضر الاسلام ذلک شیئا مازلت صاحب الفتنۃ۔​​​​​​​​​​​​(الشافی ج2ص428)
ابوسفیان! تیرے لیے سخت افسوس ہے،یہ سب تیری چالوں اور مصیبتوں سے ہیں۔ حالانکہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پرصحابہ کا اجتماعی متفقہ فیصلہ ہوچکا، توکفر اور اسلام میں ہمیشہ فتنہ اور کج روی کا متلاشی رہاہے۔ بخدااس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہونچے گا۔ اور ہمیشہ فتنہ گرہی رہیگا۔
۔ رسول ﷺ ہجرت کے وقت جب غارکی طرف تشریف فرما ہوئے تو آپ نے صحابہ اورامت کو یہ وصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر فرمایا کہ اللہ آپ پر(صلوٰۃو)سلام بھیجتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ ابوجہل اور کفارقریش نے آپ کے خلاف منصوبہ بنایا ہے اورآپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ علی المرتضیٰ کو اپنے بسترمبارک پرشب باشی کو حکم دیں، اور فرمایا کہ ان کا مرتبہ آپ کے نذدیک ایسا ہے جیسا اسحٰق ذبیح کا مرتبہ، حضرت علی اپنی زندگی اور روح کوآپ پر فدا کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ ہجرت میں ابوبکرکواپنا ساتھی مقررفرمائیں، کیونکہ اگروہ حضورکی اعانت ورفاقت اختیار کرلیں اور حضور کے عہد وپیمان پرپختہ کارہوکرساتھ دیں تو آپ کے رفقاء جنت میں ہوں گے، اور جنت کی نعمتوں میں آپ کے مخلصین سے ہوں گے۔ لہذا رسول اللہﷺ نے حضر علی سے فرمایا کہ اے علی! کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ دشمن مجھے تلاش کرے تونہ پائے، اور تمہیں ڈھونڈے تو تم اسے مل جاؤ، اور شاید جلدی میں تیری طرف پہنچ کربےخبر لوگ تجھے(شبہ میں) قتل کردیں، حضرت علی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح حضور کی مقدس روح کے لیے سِپر ثابت ہو۔ اور میری زندگی حضور پر اور حضور کے ساتھی پر اور حضور کے بعض حیوانات پر فدا ہو، حضور امتحان فرمالیں، میں زندگی کو پسند ہی اس لیے کرتا ہوں کہ حضورکے دین کی تبلیغ کروں، اور حضور کے دوستوں کی حمایت کروں، اورحضورﷺ کےدشمنوں کے خلاف جنگ کروں ، اگر یہ نیت نہ ہوتی تو میں دنیا میں ایک ساعت بھی زندگی پسند نہ کرتا، یہ سن کر حضور ﷺ نے حضرت علی کے سرکوبوسہ دیا، اور فرمایا اے ابوالحسن تیری یہی تقریر مجھے فرشتوں نے لوح سے پڑھ کر سنائی ہے، اور اس تقریر کا جواجر اللہ نے تیرے لیے آخرت میں تیار فرمایا ہے وہ بھی پڑھ کر سنایا ہے،وہ ثواب جسے نہ سننے والوں نے سنا،نہ دیکھنے والوں نے دیکھا اور نہ انسانی عقل وفہم میں آسکتا ہے، پھرحضورﷺ نے حضرت ابوبکرسے فرمایا:
ارضیت ان تکون معی یاابابکر تطلب کما اطلب وتعرف بانک انت الذی تحملنی علی ماادعیہ فتحمل عنی انواع العذاب قال ابوبکر یارسول اللہ اماانالو عشت عمر الدنیا اعذب فی جمیعھا اشد عذاب لاینزل علی موت صریح ولافرح مسیح وکان ذلک فی محبتک لکان ذلک احب الی من ان اتنعم فیھا وانا مالک لجمیع ممالیک ملوکھا فی مخالفتک وھل اناومالی وولدی الافداؤک فقال رسول اللہ ﷺ لاجرم ان اطلع اللہ علی قلبک ووجد موافقالم جریٰ علی لسانک جعلک منی بمنزلۃ السمع والبصر والراس من الجسد الیٰ آخرہ۔​​​​​​​​​​​(تفسیرحسن عسکری ص164، 165)
اے ابوبکرتو میرے ہمراہ چلنے کے لیے تیارہے؟ کہ تجھے بھی لوگ اسی ترح تلاش کریں جیسے مجھے، اور تیرے متعلق دشمنوں کو یقین ہوجائے کہ تونے مجھے ہجرت پراور اعداء کے مکروفریب سے بچ نکلنے پرامادہ کیا،کیا تجھے میری وجہ سے مصائب وآلام گوارہ ہیں؟ حضرت ابوبکر نے جواب دیا یارسول اللہ! اگر میں قیامت تک زندہ رہوں اور اس زندگی میں سخت عذاب اور مصائب میں مبتلا رہوں جس مصیبت والم سے بچانے کے لیے نہ مجھے موت آئے اور نہ کوئی مجھے آرام دے سکے اور یہ تمام حضور کی محبت میں ہوتو مجھے بطیب خاطر منظور ہے اور یہ مجھے منظور ہیں کہ لمبی زندگی ہواوردنیا کے بادشاہوں کا بادشاہ بن کر رہوں اور تمام نعمتیں اور آسائشیں حاصل ہوں، لیکن حضور کی معیت سے محرومی ہو،اور میں اورمیرا مال اور اولاد حضور پر فدا اور قربان ہیں پس حضورﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مطلع ہے، اور جو کچھ تونے کہا اللہ تعالیٰ نے اس کو تیری دلی کیفیت کے مطابق پایا ہے، اللہ تعالیٰ نے تجھے میرے کان اور میری آنکھ کی طرح کیا ہے، اور جو نسبت سرکو جسم سے ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے اس طرح بنایا ہے۔

خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ عنہ

اہل تشیع حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ لیکن ملاحظہ فرمایئں کہ کتب شیعہ میں ان کی شان وعظمت کس طرح چمک دھمک رہی ہے۔
۔ جب حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ برہنہ تلوار لئے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
“یہ عمرہے” اے اللہ! عمرکے ذریعے السلام کوعزت عطا کردے، حضرت عمر نے کہا”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورآپ یقینا اللہ کے رسول ہیں وہاں موجود تمام لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو مسجد میں موجود مشرکین نے سنا”۔ ​​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج2ص143 لابن ابی حدید)
۔ ایک روایت میں ہےکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ السلام نے عمر کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا “اگر صلح صفائی کے طور پر توآیا ہے تو میں ہاتھ روک لیتا ہوں ور اگر جنگ ے ارادے سے آیا ہے تو میں ابھی تیرا کام تمام کئے دیتا ہوں ” عمر کہنے لگے میں مسلمان ہوگیا ہوں، آپ نے فرمایا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھو جب عمر نے کلمہ پڑھا تو حضورﷺ نے تکبیر کہی، صحابہ کرام نے انتھائی خوشی اور مسرت میں آکر اتنے زور سے تکبیر کہی کہ قریش کی مجلسوں تک اس کی آواز سنائی دی۔ ​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاء ج2ص284)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا “اے عمر! خوشخبری ہو مجھے امید ہے کہ رسول اللہﷺ نےآج تیرے لیے دعا کی اور تو آپ کی دعا کی قبولیت کا مظہر ہوگا، آپ لگاتار دعا کرتے رہے، اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت وغلبہ عطا فرا”۔​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج1ص59 لابن ابی حدید)
۔۔۔۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ ایک مرتبہ اپنی زوجہ حفصہ کے پاس بیٹھے تھے تو دونوں میں کچھ اختلاف ہوگیا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: “کیا میں اپنے اور تیرے درمیاں بطور ثالث کسی شخص کا تقرر کروں”۔ حضرت حفصہ کھنے لگیں جی کیجیئے ! تو آپ نے عمر کی طرف پیغام بھیجا وہ آگئے، آپ نے حفصہ سے فرمایا “اب بات کرو” حضرت حفصہ نے عرض کی آپ ارشاد فرمائیں لیکن بات سچی ہو(یہ سن کر) حضرت عمر نے حفصہ کے منہ پرطمانچہ رسید کیا پھر دوسرا طمانچہ مارا تو حضور ﷺ نے فرمایا، عمررک جاؤ، حضرت عمر کھنے لگے “اے اللہ کی دشمن ! پیغمبر جوکہتا ہے حق کہتا ہے اس اللہ کی قسم! جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا اگر حضور ﷺ کا گھر نہ ہوتا تو میں تیری جان لئے بغیرنہ رکتا” ​​​​​​​​​​​​​(تفسیر مجمع البیان ج4ص35،جزونمبر8،ناسخ التواریخ ج3ص172)
۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :
“عمر اہل جنت کا چراغ ہے اور سکینہ عمر کی زبان پر بولتا ہے۔​​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی ص247)
۔۔۔۔۔۔مزید فرمایا: عمر کی زبان پرحق بالتا ہے اور فرشتہ عمر کی زبان پربولتا ہے۔​​​​​​​​​(تلخیص الشافی گ2ص 247)
۔ حضورﷺ نے فرمایا “اگر آسمان سے اللہ کا آج غضب وعذاب نازل ہوتا تو عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے بغیر کوئی نہ بچ سکتا “۔​​​​​​​​​​​​(تفسیرمجمع البیان ج2ص559،جزونمبر4)
حضرت علی کوفہ میں تشریف لائے تو آپ سے عرض کی گئی کہ قصرامارت میں قیام فرمایئں گے تو فرمایا “نہیں” کیونکہ ایسی جگہ حضرت عمر ٹھہرنا ناپسند فرماتے تھے ، اس لیے عام مکان میں قیام کروں گا پھرآپ نے جامع مسجد کوفہ میں تشریف لاکردوگانہ پڑھا پھر ایک مکان میں قیام فرمایا۔ ​​​​​​​​​​​​​(اخبار الطوال 152)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا “ہم حضرت عمر کے بغیر کسی کے خلیفہ بننے کو پسند نہیں کریں گے، اس پر صدیق اکبرنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے خیر فرمائی ۔۔۔۔۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضرت عمر کے سواکسی کی اطاعت نہیں کریں گے، خدا کی قسم! اس گراں بوجھ (خلافت) کو عمر کے بغیر کوئی بھی اٹھانے والا ہمیں نظر نہیں آیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ اصاف بیان فرمائے۔ بعدازاں ابوبکر صدیق کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا “اے رسول اللہ کے خلیفہ! آپ کی پسند ہماری پسند ہے اور ہماری خوشی آپ کی خوشی سے وابستہ ہے ہم سب جانتے ہیں کہ تمام زندگی آپ نے بروجہ احسن بسر فرمائی اور ہمیشہ اُمت کی بھلائی اور خیرخواہی فرمائی اللہ تمہیں جزائے خیردے اور اپنی عنایت وبخشش سے مخصوص فرمائے۔​​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاءج2 ص442)
سرکار سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے روم پر حملہ کرنے سے متعلق حضرت مولاعلی شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے مشورہ لیا تھا۔ اس مشورہ کا تفصیلا ذکر شیعہ حضرات کی نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر134 میں یوں درج ہے۔
من کلام لہ علیہ السلام وقدشاور عمربن الخطاب فی الخروج الی غزرۃ الروم انک متی تسیر الی ھٰذا العدوبنفسک فتلقھم فتنکب لاتکن للمسلمین کاتفتہ دون اقصی بلادھم لیس بعدک مرجع یرجعون الیہ فابعث الیھم رجالامحرباواحضر معہ اھل البلاءوالنصیحۃ فان اظھر اللہ فذاک ماتحب وان تکن الاخری کنت رداللناس ومثابۃ للمسلمین۔
اس کا ترجمہ شیعہ مسلک کے ذاکرحسین صاحب نے کیا ے وہ درج کیا ذیل ہے:
جب خلیفہ ثانی نے روم پرچڑھائی کا ارادہ کیا اور آپ سے بھی مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا ۔۔۔۔اب اگر تو خوددشمن کی طرف کوچ کرے اور منکوب ومخزول ہوجائے تو یہ سمجھ لے کہ مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلادتک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد ایسا کوئی مرجع نہ ہوگا جس کی طرح وہ رجوع کریں، لہٰذا تو دشمنوں کی طرف اس شخص کو بھیج جو آزمودہ کا رہواور اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرجو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں، اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں، اب اگر خدا نے غلبہ نصیب کیا، تب تو یہ وہی چیزہے جسے تو درست رکھتا ہے۔ اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع توہی بن جائےگا۔​​​​​(نیزنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ ص150 مطبعیوسفی دہلی)
۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ ملاحظہ ہوں!!
ومن کلام لہ علیہ السلام وقداستشارعمربن خطاب فی الشخومن لقتال الفرس بنفسہ ان ھذاالامرلم یکن نصرہ ولاخذ لانہ بکثرۃ ولابقلۃ وھودین اللہ الذی اظھرہ وجندہ الذی اعدہ وامدہ حتی بلغ مابلغ وطلع حیث طلع ونحن علی موعود من اللہ واللہ منجز وعدہ وناصر جندہ ومکان القیم بالامر مکان النظام من الخرزو ذھب ثم لم یجتمع بحذا فیرہ ابداوالعرب الیوم وان کانواقلیلا فھم کثیرون بالاسلام عزیزون بالاجتماع فکن قطبا واستدار الرحاء بالعرب واصلھم دونک نارالحرب فانک ان شخصت من ھذہ الارض انتقضت علیک العرب من اطرافھا واقطارھا حتی یکون ماتدع ورایک من العورات اھم الیک مما مابین یدی ان الاعاجم ان ینظرواالیک غدا یقولواھذا اصل العرب فاذااقتطعموہ استرحتم فیکون ذلک اشد لکلبھم علیک وطعمھم فیک ۔۔۔۔الخ​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغۃ خطبہ نمبر146)
اس کا شیعی ترجمہ ملاحظہ ہو!
حضرت خلیفہ ثانی نے عجمی سپاہ کے مقابلے میں بنفس خودجانا چاہا اوراس امر میں حضرت سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا : دین اسلام کا غالب آجانا اور مغلوب ہوجانا کچھ سپاہ کی کثرت وقلت پر منحصر نہیں یہ اسلام اس خدا کا دین ہے جس نے اس کی ہرجگہ مدد اور اعانت کی، اسے ایک بلند مرتبہ پر پھنچا دیا، ان کا آفتاب وہاں طالع ہوگیا جہاں ہونا لازم تھا، ہم لوگ اس وعدہء خداوندی پر کامل یقین کے ساتھ ثابت ہیں، اس نے غلبئہ اسلام کے بارے میں فرمایا۔ بے شک وہ اپنے وعدوں کا وفا کرنے والا ہے، وہ اپنی سپاہ کا مددگار ہے دین اسلام کے بزرگ اور صاحب اختیار کا مرتبہ رشتہ مروارید کی مانند ہے جو موتی کے دانوں کو ایک جگہ جمع کرکے باہم پیوست کردیتا ہے، اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو تمام دانے متفرق ہوکر کہیں کہیں بکھر جائیں گے پھر اجتماع کامل نصیب نہ ہوگا، آج کے روز اہل عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی شوکت انہیں کثیر ظاہر کررہی ہے۔ یہ اپنے اجتماع کی وجہ سے یقینا دشمن پرغالب ہوں گے، اب تو ان کے لیے قطب آسیا بن جا اور آسیائے جنگ کو گروہ عرب کے ساتھ گردش دے اور اپنے سواکسی دوسرے شخص کے ماتحت بنا کر انہیں لڑائی کی آنچ سے گرم کر، کیونکہ اگرتومدینہ سے باہر چلاگیا تو عرب کے قبیلے اطراف واکناف سے ٹوٹ پڑیں گے، اس وقت پیچھے رہ جانے والی عورات سپاہ کی حفاظت تجھ پر اس شے سے مقدم ہوجائے گی۔ جو تیرے سامنے(جنگ فارس) موجود ہے اور دوم یہ امر ہے کہ جب ایرانی کل تجھ کو دیکھیں گے تو آپس میں یہی کہیں گے کہ پس یہی ان عربوں کا سردار ہے اگر تم نے اسے کانٹ چھانٹ دیا تو پھر راحت ہے۔ بیشک یہ اقوال تیری لڑائی پر انہیں حریص کردیں گے وہ تیری گرفتاری کی حد سے بڑھی ہوئی طمع کریں گے ۔۔۔۔۔الخ ​​​​​(نیزنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ ص158 مطبع یوسفی دہلی)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: “عمر مسلمانوں کے حامی بنے، پس آپ نے دین کو قائم کیا اور خود سیدھے چلے یہاں تک کہ دین اپنی بنیاد پر مضبوطی سے قائم ہوگیا” ۔​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ952،فرمودہ نمبر 467، فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ ص1300)
مزید فرمایا: ” اللہ تعالیٰ حضرت عمرکے شہروں میں برکت دے ، بیشک انہوں نے کجی کو سیدھا کیا، گمراہوں کو راہ راست پر لائے اور بیماری کی دوا کی اور فتنوں سے پہلے چلے گئے اور سنت کو قائم کیا، فتنہ وتباہ کاری اور فساد کے امور کو پس پشت ڈال دیا، بالکل صاف اور بےعیب دنیا سے چلے گئے، خلافت کی خوبیاں حاصل کرگئے اور اس کے فتنہ اورفساد سے پہلے ہی چلے گئے، اور خلافت کو منظم طور پر سرانجام دیا اور اس میں کوئی خرابی اور خلل نہ آنے دیا اللہ کی فرمانبرداری کا حق ادا کیا اور اللہ سے پوری طرح ڈرتے رہے۔​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ اول، خطبہ نمبر219، فیض الاسلام ج4ص711، 712)
۔ امام محمد باقر رضی اللہ عنہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو اس وقت حضرت علی آئے اور انہوں نے فرمایا: “ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو میرے نزدیک کوئی شخص اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں تو اس کفن پوش(حضرت عمر رضی اللہ عنہ) جیسے اعمال نامے کے ساتھ ملاقات کروں”۔​​​​​​​​​​​​​​(معانی الاخبار 412، تلخیص الشافی ص219)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان پر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد حاضر ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! تمہارا اسلام عزت والا، تمہاری ہجرت فتح کی پیش خیمہ اور تمہاری ولایت سراسر عدل تھی، آقا کے وصال تک تمہیں آپ کی صحبت نصیب رہی اور آپﷺ دنیا سے رخصت ہوتے وقت تم سے راضی ہوگئے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے تو وہ بھی خوشی راضی تم سے الوداع ہوئے، تم جب خلیفہ بنے تو پوری خلافت میں دو آدمی بھی آپ سے ناراض نہ ہوئے، یہ سن کر حضرت عمر نے کہا کیا آپ اس کی گواہی دیتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خاموش ہوئے تو حضرت علی نے فرمایا “ہاں! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں”۔
(شرح نہج البلاغہ ج3ص146 لابن ابی حدید)
۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے انتظامات اور کارکردگی کی تعریف فرماتے ہیں اور ان کے لیے دعا خیروبرکت بھی فرماتے ہیں۔ بطورامثال یہ جملہ ملاحظہ ہو!
وقال علیہ السلام فی کلام لہ وولیھم وال فاقام واستقام حتی ضرب الدین بجیرانہِ۔ یہ نہج البلاغہ کی عبارت ہے۔ اس کی شرح کرتے ہوئے فیض الاسلام علی نقی نے لکھا ہے:
امام علیہ السلام درسخنی(دربارہ عمر بن خطاب)فرمودہ است و(بعد ازابوبکر) فرمان رواشدبرمردم فرماندھی (عمر بمقام خلافت نشست) پس(امرخلافت را)برپاداشت واپشا دگی نمود (برہم تسلط یافت) تا آنکہ دین قرارگرفت(ہم چنانکہ شترہنگام استراحت پیش گردن خودرا برزمین نہما اشارئہ باینکہ اسلام پس ازفتنہ و(فساد) بسیار ازاو تمکین نمودہ زیربارش رفتند)
ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد لوگوں پر ایک ایسا فرمانرواخلافت پرمسند نشین ہوا جس نے امر خلافت کو قائم کیا اور اس پر ثابت قدمی دکھائی۔ یعنی تمام پرتسلط حاصل کیا۔ یہاں تک کہ دین مضبوط ومستحکم ہوگیا۔ جیسا کہ اونٹ آرام کرنے کے لیے اپنی گردن زمین پر رکھ دیتا ہے اور خود زمین پر بیٹھ جاتا ہے اس طرح دین اسلام زمین پر مستحکم طریقہ سے متمکن ہوگیا۔ پس مسلمان بہت سے فتنوں اور سازشوں کے بعد سکون پذیرہوئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے احسان مند ہوئے۔​​​​​​​​(فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ ص1290 مطبوعہ ایران)
۔اسی طرح نہج البلاغۃ کا خطبہ نمبر228 ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ بلاد فلان فلقدقوم الاودوداوی العمدو اقام السنۃ وخلف الفتنۃ ذھب نقی الثوب قلیل الغیب اصاب خیرھا وسبق شرھا ادی الی اللہ طاعتہ واتقاہ بحقہ۔
شیعی مجتہد فیض الاسلام علی نقی اس خطبہ کی شرح فارسی میں کرتے ہوئے لکھا ہے:
خدا شہرہائے فلاں(عمر بن خطاب)رابرکت دیدنگاہ دارد کہ کجی راراست (گمراہاں رابراہ آورو) نمودو بیماری رامعالجہ کرو(مردم شہرہائے رابدین اسلام گرداند) وسنت رابرپاداشت (احکام پیغمبررااجرانمود) وتباہ کاری راپشت سرانداخت (درزمان اوفتنہ رونداد) پاک جامہ وکم عیب ازدنیا رفت نیکوئی خلافت رادریافت وازشرآں پیشی گرفت (تابودادخلافت منظم بودہ واختلافی درآں راہ نیافت) طاعت خداراجا آوردہ ازنافرمانی اوپرہیزکردہ حتشی راادا نمودہ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فلاں شخص یعنی عمربن خطاب کے شہروں میں برکت دے اوران کا تحفظ رکھے، جس نے کجی کو درست فرمایا ، گمراہوں کو راہ راست پر لائے، بیماری کا علاج کیا شہر کے رہنے والوں کو مسلمان کیا، سنت طریقہ کو جاری فرمایا، یعنی احکام پیغمبر کو جاری فرمایا، فتنہ وتباہ کاری اور فساد کے امور کو پس پشت ڈال دیا، اس دریا سے پاک دامن اور کم عیب ہوکر رخصت ہوئے، اس نے خلافت کی خوبیوں کا پایا، اس کے شرسے پہلے ہی رخصت ہوگئے اور خلافت کو منظم طور پر سرانجام دیا، اوراس میں کوئی خرابی اور اختلال نہ آنے دیا۔ خدا تعالیٰ کی اطاعت بجالائے، اس کی نافرمانی سے دوررہے اور اس کے حق کوادا فرمایا۔​​​​​​​​(فیض السلام شرح نہج البلاغہ ج4ص711، 712، مطبوعہ ایران)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا”اے ابن عباس! عمر بن خطاب کے بارے میں تو کیا کہتا ہے “فرمایا” ابو حفص عمر پرخدا کی رحمت ہو، اللہ کی قسم وہ اسلام کے سچے خیرخواہ، یتیموں کے ماویٰ، احسان کے منتہیٰ، ایمان کے محل، ضعیفوں کی جائے پناہ اور سچے لوگوں کی پناہ گاہ تھے، اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر، صبر اور استقامت سے قائم رہے۔ یہاں تک کہ دین واضح ہوا، شہر فتح کئے، بندوں کو چین نصیب ہوا جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ میں نقص وخرابی نکالے اس پر اللہ تعالیٰ کی قیامت تک لعنت ہو”۔ ​​​​​​​​​​​​​(مروج الذہب للمسعودی ج3ص51)
۔سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے داماد بھی ہیں کیونکہ آپ کی شہزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔​​​​​​​​​(فروع کافی ج2ص141، 311)

حضرات شیخین رضی اللہ عنہا

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ برحق ہیں لیکن حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا مقام باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بلند ہے۔ جیسا کہ ذیل کی عبارات شیعہ سے بھی واضع ترہورہا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو!
۔ حضور اکرمﷺ سے پوچھا گیا کہ مردوں میں سب سے زیادہ محبوب کسے رکھتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا “ابوبکرکو” پھر عرض کیا ان کے بعد کس کا مقام ہےتو فرمایا “عمر بن خطاب کا”۔​​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاء ج2ص380)
۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت حفصہ سے فرمایا کے میرے بعد ابوبکررضی اللہ عنہ کو خلافت ملے گی ان کے بعد تمہارے والد عمررضی اللہ عنہ کو خلافت ملے گی انہوں نے عرض کیا حضورآپ کوکس نے بتایا؟ فرمایا” اللہ علیم وخبیرنے”۔ ​​​​​(تفسیر قمی ج2ص392، تفسیرمجمع البیان ج10 ص 314، تفسیرصافی ج4ص716، تفسیرمنہج الصادقین ج9ص330)
۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مجلس میں آتے وقت ارشاد فرمایا کہ انہیں(ابوبکر صدیق کو)جنت اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری سنادو اور عمر فاروق کو جنت اور ابوبکرصدیق کے بعد خلافت کی بشارت دو​​​​​​​​​​​​​(تلخیص الشافی ج3س39)
۔ حضرت ابوبکرصدیق اور عمرفاروق رضی اللہ عنہما زمین میں ایسے ہیں جیسے جبرئیل ومیکائیل علیہما السلام آسمان میں ہیں​​​​​​​​​​​​​​(احتجاج طبرسی 247)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا “سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اسلام میں سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں اوران کے بعد خلیفہ فاروق اعظم ہیں “میری عمر اس بات کی گواہ ہے کہ دونوں اسلام میں عظیم مقام رکھتے ہیں، ان کے وصال سے اسلام کو سخت نقصان ہوا ہے اللہ ان دونوں پر رحمت فرمائے انہوں نے جو کام کیا ہے ، اس کی اچھی جزاء دے۔​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص362، مکتوب نمبر9 لابن میشم، وقعۃ الصفین ص63)
حضورﷺ کے بعد لوگوں نے ابوبکر کو خلیفہ بنایا اورابوبکر نے عمرکو خلیفہ بنایا، یہ دونوں سیرت وکردار میں بلند پایہ انسان تھے۔ انہوں نےامت میں خوب انصاف کیا۔​​​​​​​​​​​​​​(وقعۃ الصفین 149)
وہ دونوں(ابوبکروعمررضی اللہ عنہما) عادل اور پرہیذگار امام تھے دونوں حق پررہے، حق پرہی دونوں کا وصال ہوا، قیامت کے دن دونوں پر اللہ کی رحمت ہو۔​​​​​​​​(احقاق الحق 16، انوارنعمانیہ ج1ص99)
ابوبکروعمر نے تقویٰ وپرہیذگاری سے کام لیا، روئی کا لباس پہنا اور تکلیف دہ چیزوں
کو پسند کرنے لگے، لوگوں پر مال غنیمت تقسیم کیا مگر خود دنیوی دولت سے دورہوگئے
اس لئے لوگوں کا شبہ تھا تو وہ بڑھ گیا چنانچہ وہ کھنے لگے اگر انہوں نے نفسانی خواہشوں سے نفص کی مخالفت کی ہوتی تو دنیوی دولت سے بہرمند کیوں نہ ہوتے؟کوئی بھی دانش مند آدمی جب نص کی مخالفت کرتا اوردین ضائع کرتا ہے تو دنیوی زندگی کو پررونق بناتا ہے جب ابوبکروعمررضی اللہ عنہما نے دنیا سے ہی ہاتھ اٹھا لیا تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے نص کی مخالفت کی۔​​​​​​​​​​​​​(ناسخ التواریخ ج3ص72)
حضورﷺ نے فرمایا “جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے” کہتے ہیں کہ اتنے میں ابوبکرآئے تو انہیں کہا گیا اے ابوبکرتم صدیق ہواورغار میں دو میں سے دوسرے ہو، تو حضور سے دریافت کرووہ تین کون ہیں؟ انہوں نے کہا”مجھے خطرہ ہے اگر میں نے پوچھا اور میں خود ان میں سے نہ ہوا تو بنی تمیم مجھے ملامت کریں گے پھر عمر بن خطاب آئے، ان سے بھی کہا گیا کہ تم فاروق ہواور تم وہ جن کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے۔ مگر تم پوچھ کر بتاؤ وہ تین کون ہیں؟ تو فاروق نے کہا “مجھے خطرہ ہے کہ اگر میں پوچھ بیٹھا اور میں خود ان میں سے نہ ہوا تو بنی عدی مجھے ملامت کریں گے”۔
(رجال الکشی 32)
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا “میری قبر اور میرے منبر کے درمایان کی جگہ جنت کو باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا امنبر میرے حوض پر ہے، جب حضورﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ کے پاؤں مبارک تیسری سیڑھی پر ہوتے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تیسری سیڑھی پربیٹھے اور پاؤں مبارک دوسری سیڑھی پر رکھتے اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ دوسری سیڑھی پر بیٹھے اور ان کے پاؤں زمین پر ہوتے”۔​​​​​​​​​​​(ناسخ التواریخ ج2ص154، جلاء العیون 158،فروع کافی ج2ص316)
جب معاملہء خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آیا تو آپ سے فدک کے لٹائے جانے کے بارے میں گفتگو ہوئی توآپ نے فرمایا “اللہ کی قسم ! مجھے اس چیز کے لوٹانے سے شرم آتی ہے جس کو ابوبکرنے نہیں لوٹایا اورعمرنے بھی ان کی پیروی کی”۔​​​​​​​​​​​​​​ (شرح نہج البلاغہ ج4ص94 لابن انی حدید)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ ملاحظہ ہو!
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہِ خیرھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکروعمروفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعد ماانھی الیہ ان رجلا تناول ابابکروعمر بالشتیمہ فدعی بہ وتقدم بعقوبتہِ بعد ان شھدو اعلیہ بذلک​​​​​​​​​​​​​​ (الشافی ج2ص428)
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے بعد تمام امت سے افضل ابوبکروعمر ہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ حضرت علی کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر(رضی اللہ عنہما) کی شان میں بدذبانی کی ہے۔ جس کے بعد امیر المؤمنین علی نے اس گالی بکنے والے کو بلایا۔ شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد(جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو) اسے سزادی۔
۔ حضرت امام زین العابدین کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے کچھ کوفیوں نےآپ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
دربارءہ ایشان جزبخیر سخن نکنم وازاہل خود نیز درحق ایشاں جزسخن خیزنہ شنیدہ ام۔​​​​​​​​​​(ناسخ التواری ج2ص590)
ان حضرات(شیخیں کریمین) کے بارے میں سوائے کلمئہ خیر کے کچھ نہیں کہتا اور اپنے گھراور خاندان کے لوگوں سے بھی میں نے ان کے حق میں کلمہ حق کے سوا کچھ نہیں سنا۔
۔ ایک قریشی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ اکثر خطبہ میں یہ کہتے ہیں اے اللہ! جس طرح تونے خلفائے راشدین کی اصلاح فرمائی، ہماری بھی ویسی ہی اصلاح فرما۔ خلفائے راشدین سے آپ کیا مراد لیتے ہیں، یہ سنتے ہی آپ کی انکھیں بھرآئیں اور فرمایا: ابوبکروعمر، وہ دونوں میرے حبیب اور تمہارے چچا ہیں، ہدایت کے امام، شیخ الاسلام، قریش کے نہایت معززفرد اور رسول اللہ ﷺ ے بعد قابل اقتداء ہیں، ان کی اقتداءواتباع کرنے والا مصئون اور صراط مستقیم پرگا مزن رہے گا۔​​​​​​​​​​​(تلخیص الشافی ج3ص318)
۔ سیدنا امام محمد باقررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لست بمنکرفضل عمرلکن ابابکر افضل من عمر۔
(احتجاج طبرسی ج2ص479 مطبوعہ ایران)
میں حضرت عمرکی فضیلت کا منکر نہیں ہوں، لیکن حضرت ابوبکر،عمرسے افضل ہیں۔
۔ سیدنا امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
انہ کان یتولا ھماویاتی القبرفیسلم علیھما مع تسلیمہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
(الشافی ص238)
حضرت (امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ) حضرت ابوبکر، حضرت عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے ساتھ دوستی اور محبت رکھتے تھے، آپ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قبرشریف پر حاضری دیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلام کے ساتھ (حضرت ابوبکراورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) دونوں کو بھی سلام کہتے تھے۔
شیعہ حضرات کی معتبرکتاب میں موجود ہے:
حضرت ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے۔
​​​​​​​​​(رجال الکشی ص338)
۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اگر میرے پاس کوئی آدمی آئے اور مجھے ابوبکروعمرسے افضل سمجھتے تو میں اسے ضرور مفتری (بہتان تراشی) کی سزا(80 کوڑے) ماروں گا۔ ​​​​​​​​​​​​​​(رجال الکشی ج2ص695)
خلیفہ ثالث حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
شیعہ حضرات سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر بے تنقیدات کا بازار گرم کردیتے ہیں جبکہ آپ کا فضل وکمال ناقابل تروید ہے، کتب شیعہ سے چند حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ! عثمان بن عفان سے راضی ہوجا، بے شک میں اس سے راضی ہوں”۔​​​​​​​​​(تاریخ روضتہ الصفاء ج3ص403)
۔ حضرت ام کلثوم کانام شریف آمنہ تھا، حضرت رقیہ کے نعد ان کا نکاح حضرت عثمان سے ہوا، لہٰذا حضرت عثمان کو ذوالنورین یعنی دونوروں والا کہتے ہیں۔ ​​​​​(منتخب التواریخ 29، شرح نہج البلاغہ ج3ص460 لابن ابی حدید)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اوصاف وفضائل میں یہ بھی فرمایا کہ ” آپ رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے جس طرح ہم رہے اورابوبکروعمررضی اللہ عنہما بھی عمل حق میں آپ سے ادنیٰ نہ تھے، آپ کوان دونوں سے بڑھ کر نبی اکرمﷺ کا داماد ہونے کی عزت حاصل ہے جوان حضرات کونہ تھی” ​​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ ص220 خطبہ 164)
حضرت امام جعفرصادق سے پوچھا گیا کہ کیا حضور ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو حضرت عثمان غنی کے نکاح میں دیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص563)
حضرت رقیہ کی بیماری کی وجہ سے حضرت عثمان غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے لیکن حضورﷺ نے انہیں بدر کے اجروثواب میں شریک فرمالیا تھا۔​​​​​​​​​( التنبہ والا شراف 205،اعلام الوریٰ 148)
۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قرابت کے اعتبار سے حضرت ابوبکروعمررضی اللہ عنہما کی نسبت حضورعلیہ الصلوٰت والسلام کے زیادہ قریب ہیں پھر انہوں نے داماد رسول ہونے کے حوالے سے وہ مرتبہ حاصل کیا جو ابوبکروعمر کو نہ مل سکا۔ حضرت رقیہ وام کلثوم سے شادی کی جومشہور روایت کے مطابق حضور کی صاحبزادیاں ہیں پہلے حضرت حضرت رقیہ سے شادی فرمائی، ان کے انتقال کے بعد حضرت ام اکلثوم سے ان کا نکاح ہوا”۔ ​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص716، فیض الاسلام، شرح نہج الابلاغہ ج3 ص519)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو بھی میں یکے بعد دیگر سے ان کی شادی عثمان سے کردیتا یہاں تک کہ ایک بھی باقی نہ رہتی”۔​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج3ص460 لابن ابی حدید)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “حضورﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے ابوالحسن ! ابھی ابھی جاؤ اور اپنی زرہ بیچ کر جوقیمت ملےمیرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس سے تمہارے لئے اور اپنی بیٹی کے لئے شادی کا ضروری سامان تیار کروں” میں گیا اور چارسو درہم کے بدلے وہ زرہ حضرت عثمان کے ہاتھ فروخت کردی جب میں نے قیمت وصول کرلی اور عثمان نے زرہ پر قبضہ کرلیا تو عثمان نے کہا “اے ابوالحسن! میں اس زرہ کا تم سے زیادہ مستحق نہیں اور تم ان درہموں کے مجھ سے زیادہ مستحق ہو، تو میں نے کہا” ہاں ٹھیک کھتے ہو، عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں یہ زرہ تم کو بطور ہدیہ دیتا ہوں، میں درہم اور زرہ دونوں لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوا، درہم اور زرہ آپ کے سامنے رکھ کر حضرت عثمان غنی کا سارا واقعہ بیان کردیا تو آپ نے حضرت عثمان غنی کے لیے دعائے خیر فرمائی”
(کشف الغمہ ج1ص359)
۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
امرنی ان ازوج فاطمۃ نم علی فانطلق فادع لی اباکروعمروعثمان وعلیاوطلحۃ والزبیر بعد دھم من الانصار قال فانطلقت فدعوتھم لہ۔
مجھے حکم ہواہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کردوں پس تم جاؤ اورابوبکر،عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر اور اتنے ہی انصار میں سے بلاؤ۔ حضرت انس فرماتے ہیںمیں ان کو بلانے کے لیے گیا، پھر آپ ﷺ نے محفل میں خطبہ نکاح پڑھا اس کے بعد فرمایا
انی اشھد کم انی قد زوجت فاطمۃ من علی علی اربع مائمۃ مثقال فضۃ۔
میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فاطمہ کا نکاح علی سے چارسو مثقال چاندی حق مہر کے عوض سے کردیا ہے۔​​​​​​​​​​​​​​( کشف الغمہ ص348)
جب مشرکین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرلیا تو حضور کو خبر ملی کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی کو شھید کردیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا “ہم مشرکین سے لڑائی کئے بغیر یہاں سے نہیں اُٹھیں گے”۔ ​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص716)
۔ ایک روایت میں ہے: حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک دوسرے ہاتھ مبارک پرمارا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے بعیت لی اور مسلمانوں نے کہا کی حضرت عثمان بڑے خوش نصیب ہیں۔​​​​​​​​​​​​​​(فروع کافی ، کتاب الروضہ ج3ص151)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا” بے شک میرے پیچھے ہیں جو مجھے آپ کے اور اپنے درمایاں سفیربنا کرلائے ہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میں آپ کو کیا کہوں؟ میں ایسی کوئی بات نہیں جانتا جسے آپ نہ جانتے ہوں اور آپ کو کوئی ایسا امرنہیں پہنچا سکتا جسے آپ نہ پہچانتے ہوں ہم نے کسی چیزمیں آپ سے سبقت نہیں لی، جس سے آپ کو خبردار کریں جو کچھ ہم نے دیکھاوہی کچھ آپ نے دیکھا، جو کچھ ہم نے سناوہی کچھ آپ نے سنا، جیسی ہم نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ویسی آپ نے اختیار کی، ابن خطاب اورابن ابوقحافہ عمل حق میں آپ سے افضل نہیں ہیں، آپ رسول اللہ ﷺ سے قرابت کی وجہ سے زیادہ ہیں اور آپ پیغمبر کی دامادی کے شرف سے مشرف ہیں، یہ وہ مرتبہ ہے جس پر وہ دونوں نہ پہنچ سکے”۔ ​​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ اول خطبہ 163)
۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
لما قتل جعلنی سادس ستۃ فدخلت حیث ادخلنی وکرھت ان افرق جماعۃ المسلمین واشق عصاھم فبایعتم عثمان فبایعتہ۔ ​​​​​​​​​​​​​(امالی لابی جعفرالطوسی ج2صا121 جزء ثامن عشر)
جب (حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ) پرقاتلانہ حملہ ہواتوانہوں نے مجلس شوریٰ کے چھ آدمیوں میں چھٹا مجھے مقرر کیا، تو میں ان کے شامل کرنے پران میں شریک ہوگیا اور میں نے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق کومکروہ جانا اور اتفاق کی لاٹھی کو توڑنا برا سمجھا، پس تم نے (حضرت) عثمان کی بیعت کی تو میں نے بھی ان کی بیعت کرلی۔
پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چلے گئے اور ان کی بیعت کی۔​​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج2ص617 لابن ابی حدید)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ
اس کا ترجمہ شیعہ حضرات کے بشارت حسین مرزا کامل پوری نے یوں کیا ہے
بے شک خدا ان مؤمنین سے راضی وخوش ہوا جنہوں نے اے رسول! درخت کے نیچے تم سے بیعت کی۔
اس آیت شریف کی تفسیر کرتے ہوئے شیعہ حضرات کے مستند مفسرین نے لکھا ہے کہ سرکار نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے جب بیعت لی تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے بیعت کی۔ ملاحظہ ہو! کتب علی علیہ السلام الی معاویۃ انا اول من بایع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحت الشجرۃ۔​​​​​​​​​​​​​​(تفسیر الصافی ج2ص582 مطبوعہ ایران)
حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام نے معاویہ کو خط لکھا کہ درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر بیعت کرنے والوں میں سے میں پہلا شخص ہوں۔
۔ یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو!
حبس عثمان فی عسکر المشرکین وبایع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضرب باحدیٰ یدیہ علی الاخریٰ بعثمان وقال المسلمون طوبی لعثمان قد طاف بالبیت وسعی من الصفا والمروۃ واحل قال رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وآلہ وسلم اطفت بالبیت فقال ماکنت لاطوف بالبیت ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم یطف بہ۔ ​​​​​​​​​​(کتاب الروضہ ج8 ص325،ج8ص326 مطبوعہ ایران)
(حضرت) عثمان(رضی اللہ عنہ) کو مشرکین کے لشکر نے قیدی بنالیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک دوسرے ہاتھ مبارک پر مارا، اور (حضرت) عثمان (رضی اللہ عنہ) کے لیے بیعت لی، اور مسلمانوں نے عرض کیا، عثمان(رضی اللہ عنہ) بڑے خوش قسمت ہیں جنہوں نے بیت اللہ کا طواف، صفا ومروہ کی سعی کی سعادت حاصل کی اور احلال کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ عثمان نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔ جب عثمان حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا آپ نے بیعت اللہ کا طواف کیا تو انہوں نے عرض کیا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے طواف نہیں کیا تو میں کیسے کرسکتا ہوں۔
یہی مضمون شیعوں کی کتاب حملئہ حیدری ص119 پر بھی موجود ہے۔
شہادت عثمان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گھر غمزوہ داخل ہوئے اور اپنے دونوں بیٹوں کو فرمایا کہ تم دونوں دروازے پرتھے، ایسے میں امیرالمؤمنین کیسے شہید ہوگئے اس کے بعد امام حسن کے منہ پر طمانچہ مارا اور حضرت امام حسین کے سینہ پرمکہ رسید کیا۔​​​​​​​​​​​​​(مروج الذہب ج3ص345)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عثمان پر اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرمائے آپ اپنے خادموں اور غلاموں پر مہربان تھے نیکی کرنے والوں میں افضل، شب خیروشب زندہ دار تھے، دوزخ کے ذکر پر نہایت گریہ کرنے والے ، عزت ووقار کے امور میں اُٹھ کھڑے ہونے والے اورنبی کریمﷺ کے داماد تھے،جو شخص عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان لعن وطعن دراز کرے اللہ تعالیٰ اس پر قیامت تک لعنت کرے ، سب لعنت کرنے والوں کی لعنت کے برابر۔​​​​​​​​​​​​​​(تاریخ مسعودی ج3ص51،ناسخ التواریخ ج5ص144)
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا “بنی عباس کا اختلاف بھی یقینی ہے اورندا بھی ہقینی ہے، محمد بن علی حلبی نے پوچھا کہ ندا کیسی ہے؟ فرمایا”ایک آواز دینے والا دن کے آغاز پرآسمان سے ندا کرتا ہےکہ جان لوبےشک علی اور ان کے پیروکار ہی کامیاب ہیں اور دن کے اختتام پر بھی ایک ندا دینے والا ندا کرتا ہے، کہ خبردار عثمان اور ان کے پیروکار کامیاب ہیں”۔​​​​​​​​​​​​​​(کتاب الروضہ ج8ص310)

حضرات خلفائے ثلاثہ(ابوبکروعمروعثمان) رضی اللہ عنہ

یہ حقیقت ناقابل تروید ہے کہ اس امت میں سب سے افضل حضرت صدیق اکبر،پھر حضرت عمرفاروق، پھرحضرت عثمان غنی اور پھر حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس حقیقت کو کتب شیعہ سے بھی نمایاں ہوتا دیکھیں!
۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا” بے شک ابوبکر میرے کان،عمر میری آنکھ اور عثمان میرے دل کی جگہ ہے”۔​​​​​​​​​​​​​​(معانی الاخبار387،جامع الاخبار ص110)
اُمت میں جس نے مجھے لڑکی دی یا جس کو میں نے دی وہ دوزخ میں ہرگز نہ جائے گا، کیونکہ میں نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا تو اللہ نے مجھ سے اس کا وعدہ فرمالیا ہے۔​​​​​​​​​​​​​​(لوامع التنزیل ج2ص476)
حضورﷺ نے حضرت حفصہ کو فرمایا”میرے بعد ابوبکر اور اس کے بعد تیرا باپ عمر اس امت کے مالک اوربادشاہ ہوںگے اور ان کی اتباع میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوںگے۔​​​​​​​​​​​​​( تفسیرمنہج الصدقین ج9ص330)
اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے لئے مسلمانوں میں سے ایک معاون اور مددگار جماعت منتخب فرمائی تھی اور ان معاونین کے آپ کے نزدیک ایسے ہی درجات تھے جیسے اسلام میں ان کی فضیلت تھی، ان سب میں اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ خیرخواہ خلیفہ اول ابوبکرتھے ۔ پھر ان کے خلیفہ عمرفاروق اعظم مجھے اپنی عمر کی قسم! ان دونوں حضرات کا اسلام میں بہت اونچا مقام ہے، اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے اور انہیں اچھی جزا سے نوازے اور تم نے حضرت عثمان کا ذکر کیا کہ وہ فضیلت میں تیسرے درجے پر تھے۔ عثمان نیکوکار تھے تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کی بہت جلد جزا عطا فرمائے گا۔ ​​​​​​​​​​​​​(واقعہ صفین ص63)
صحابہ میں سب سے افضل اللہ اور مسلمانوں کے نزدیک سب سے رفیع المنزلت خلیفہ اول(ابوبکر) تھے جنہوں نے سب کو ایک آواز پر جمع کیا اور انتشار کومٹایا اور اہل ردہ(دین سے پھرجانے والوں) سے جنگ وقتال کیا، ان کے بعد خلیفہ ثانی(عمر) کا درجہ ہے، جنہوں نے فتوحات حاصل کیں، شہروں کوآباد کیا اور مشرکین کی گردنوں کو زلیل کیا پھر خلیفہ ثالث(عثمان) کا درجہ ہے، جو مظلوم وستم رسیدہ تھے اور ملت کو فروغ دیا اور کلمہ حق پھیلایا۔ ​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج3ص448 لابن ابی حدید، حاشیہ نہج البلاغہ 697)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں “میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے، جن لوگوں نے ابوبکروعمروعثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی اور مقصد بیعت بھی وہی تھا جو ان کا تھا۔ لہٰذا موجودہ حضرات میں کسی کو علیدگی کا اختیار نہیں اور نہ غائب لوگوں کو اس کی تردید کی اجازت ہے، مشورہ مہاجرین اور انصار کوہی شایان شان ہے تو اگر یہ سب کسی شخص کے خلیفہ بنانے پر متفق ہوجائیں تو یہ سب اللہ کی رضا ہوگی اور اگر ان کے حکم سے کسی نے بوجہ طعن یا بدعت کی خروج کیا تو اسے واپس لوٹا دواگر واپسی سے انکار کرے تو اس سے قتال کرو، کیونکہ اس صورت میں وہ مسلمانوں کی اجتماعی فیصلوں کوٹھکرانے والا ہے اور اللہ نے اسے متوجہ کردیا جدھروہ خود جانا چاہتا ہے۔ ​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ حصہ دوم ، مکتوب 6، الاخبار الطوال 140)
بیشک حضرت ابوبکر، حضرت عمراور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حدود کے فیصلے حضرت علی کے سپردکر رکھے تھے۔​​​​​​​​​​​​​​(جعفریات ص133)
۔ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک وفدآیا تو انہوں نے حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمرفاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کھے تو حضرت امام زین العبدین نے فرمایا : میرے سامنے سے دور ہوجاؤ اور اللہ تمہاری بد کلامی کی تمہیں سزادے۔​​​​​​​​​​​​​(کشف الغمہ ج2ص78، جلاء العیون ج1ص393)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا” جو مجھے چوتھا خلیفہ نہ کہے اس پر اللہ کی لعنت”۔​​​​​​​​​​​​​​ (مجمع الفضائل ترجمہ مناقب ابن شہر آشوب ج2ص376، مناقب آل ابی طالب ج3ص63)
اس جملے میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضرات خلفائے راشدین ثلاثہ کی خلافت، صداقت اور حقانیت کو واضح فرمادیا ہے۔ والحمدللہ علی ذلک
اللہ تعالیٰ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت کے دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے اقوال وافعال اور فیصلہ جات کو بھی ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

“علی دا پہلا نمبر” کہنے والے کا حکم

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، ابوبکرصدیق اور عمررضی اللہ عنہما سے افضل ہیں اور ان کا خلافت میں پہلا نمبر ہے۔ ان کے متعلق حضرت علی فرماتے ہیں:
اگر میرے پاس کوئی آدمی آئے اور مجھے ابوبکروعمر سے افضل سمجھے تو میں اسے ضرور متفری(بہتان تراش) کی سزا(80 کوڑے) ماروں گا۔​​​​​​​​​​​​​(رجال الکشی ج2ص695)
۔ آپ نے مذید فرمایا:
عنقریب میرے بارے میں دوگروہ ہلاک ہوں گے، ایک محبت میں حد سے تجاوزکرنے والا کہ اسے غلو(حد سے بڑھنا) حق کے خلاف لے جائےگا۔ دوسرا گروہ میرے بارے میں بغض وعناد میں حد سے بڑھنے والا کہ اس کا بغض اسے حق کے خلاف لے جائے گا اور میرے بارے میں سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جواعتدال پرہوں تو تم بھی میانہ راہ کو لازم پکڑواور سواد اعظم سے جدا نہ ہونا، پس جو جماعت سے الگ ہوجاتا ہے وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے جیسے گلے(ریوڑ) سے جدا ہونے والی بکری بھیڑیئے کا لقمہ بنتی ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ ج1ص365، خطبہ نمبر 125)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“جو مجھے چوتھا خلیفہ نہ کہے اس پر اللہ کی لعنت ہو”۔ ​​​​​​​​​​​​(مجمع الفضائل ترجمہ مناقب شہرآشوب ج2ص376، عربی ج3 ص63، مناقب آل ابی طالب ج3ص63)
۔ حضرت سیدنا امام باقررضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا” لیس لک من الامرشئی” کی کیا تاویل ہے؟ فرمایا: “حضورﷺ حضرت علی کے لیے خلیفہ بلافصل کے خواہش مند تھے لیکن اللہ نے اس خواہش کا انکار فرمادیا “۔ ​​​​​​​​​​​​​(تفسیر فرات الکوفی ص192)
ایک روایت میں لکھا ہے:
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہِ خیرھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر وعمروفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعدما انھی الیہ ان رجلا تناول ابابکروعمربالشتیمہ فدعیٰ بہ وتقدم بعقوتبہ بعد ان شھدوا علیہ بذلک ۔​​​​​​​​​​​​​​(الشافی ج2ص428)
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں فرمایا: نبی اکرم ﷺ کے بعد تمام امت سے افضل ابوبکروعمر ہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکرہوا ہے کہ حضرت علی کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکراور حضرت عمر(رضی اللہ عنہما) کی شان میں بدزبانی کی ہے۔ جس کے بعد امیرالمؤمنین حضرت علی نے اس گالی بکنے والے کو بلایا۔ شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد (جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو) اسے سزا دی۔
۔ اسی کتاب الشافی کے اسی صفحہ پرامام زین العابدین کی روایت ہے کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے توابوسفیان حضرت علی کے پاس آئے اور کہا کہ ہاتھ بڑھاہیں ، میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ اور بخدا میں آپ کی حمایت میں اس علاقہ کو سواروں اور پیدل سپاہیوں سے بھردوں گا۔ اگر آپ خوف کے باعث اعلان خلافت نہیں کررہے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت علی نے چہرہ پھیر لیا، اورفرمایا:
ویحک یااباسفیان ھٰذہِ من دواھیک قد اجتمع الناس علی ابی بکرمازلت تبتغی الاسلام عوجافی الجاھلیۃ والاسلام واللہ ماضر الاسلام ذلک شیئا مازلت صاحب الفتنۃ​​​​​​​​​​​​​(الشافی ج2ص428)
ابوسفیان ! تیرے لیے سخت افسوس ہے، یہ سب تیری چالوں اور مصیبتوں سے ہیں، حالانکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحابہ کا اجتماعی متفقہ فیصلہ ہوچکا، توکفر اور اسلام میں ہمیشہ فتنہ اور کج روی کا متلاشی رہاہے۔ بخدا اس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ اور ہمیشہ فتہ گرہی رہے گا۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما

حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے بلاوجہ دشمنی رکھنے والوں کو اپنی کتابوں کی ان روایتوں پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ:
۔ حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے دریافت کیا” یارسول اللہ! تمام مخلوقات میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا “عائشہ”۔ پھر پوچھا حضور میرا سوال مردوں کے متعلق ہے۔ آپ نے فرمایا ” ابوبکرصدیق، ان کے بعد عمر” ​​​​​​​​​​​​​​(تاریخ روضۃ الصفاء ج2ص380)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ” اے عائشہ! اللہ نے تیرے شیطان کو ذلیل کردیا”۔ تو وہ عرض کرنے لگیں حضور! آپ کے شیطان کو بھی اللہ نے ذلیل کردیا۔ فرمایا” اے عائشہ ! ایسے نہ کہو، میں نے اللہ سے اس کے خلاف مدد چاہی اللہ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہوگیا۔ ابیصر اس کا نام ہے اور وہ جنتی ہوگا۔​​​​​​​​​​​​​(قرب الاسناد ج 2ص176)
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“مرد نماز پڑھنے والے کے بالمقابل اگر عورت نماز پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نعض اوقات اس طرح نماز ادا فرماتے تھے کہ حضرت عائشہ صدیق رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں اور وہ حالت حیض میں ہوتیں”۔​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص159)
۔ حضورﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو فرمایا:
“فاطمہ! کھانا لے آؤ۔۔۔۔۔۔حضرت فاطمہ پتھر کی ایک ہنڈیا اور کھانا لئے حاضر ہوگئیں، کھانے کوڈھانپ دیا گیا اور آپ نے دعا مانگی ، اے اللہ ! کھانے میں ہمیں برکت عطا فرما، پھر فرمایا بیٹی! عائشہ کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا توڑو میں نے توڑا پھر تمام ازواج کے لیے اور اپنے خاوند اور اپنے لئے ٹکڑے توڑے”۔​​​​​​​​​​​​​(قرب الاسناد ص185)

حضور اکرمﷺ کی اولاد امجاد رضی اللہ عنہما

کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی، جبکہ اہل بیت کرام کا مؤقف یہ ہے کہ آپ کی حقیقی بیٹیاں چار ہیں۔ سطورذیل میں چند شیعی روایات ملاحظہ ہوں!
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کے بطن سے رسول اللہﷺ کی یہ اولاد پیدا ہوئی! قاسم ، طاہرانہی کا نام عبداللہ ہے۔ ام کلثوم ، رقیہ،زینب اور فاطمہ ، علی بن ابوطالب نے فاطمہ سے شادی کی۔ ابوالعاص بن ربیع جو کہ بنوامیہ کے ایک آدمی ہیں نے زینب سے نکاح کیا۔ ام کلثوم سے عثمان بن عفان نے تعلق زوجیت قائم کیا، لیکن وی خانہ آبادی سے پہلے ہی وفات پاگئیں جب مسلمان جنگ بدرکی طرف روانہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے رقیہ کی شادی عثمان سے کردی اور رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم،ماریہ قبطیہ سے پیدا ہوئے۔ ​​​​​​(مراۃ العقول فی تشریح اخبارآل رسول ج5ص 180، کتاب الحجہ، ابواب التاریخ ٓ، باب مولد النبی لملا باقرمجلسی ، طبع دارالکتب الاسلامیہ تہران)
ملا باقرمجلسی نے یہی روایت حیاۃ القلوب ج2ص588، کتاب دوم، باب(51) پنجاہ ویکم دربیان اولاد امجاد آنحضرت است ، طبع قدیم کتاب فروشی اسلام،تہران پر بھی نقل کی ہیں۔
مزید لکھتے ہیں: ” اسی(امام جعفرصادق کی) روایت کی طرح حمیدی نے قرب الاسناد میں ہارون بن مسلم سے بروایت سعدہ بن صدقہ، حضرت امام جعفرصادق سے اورانہوں نے اپنے والد گرامی امام باقرعلیہ السلام سے روایت کیا ہے”۔​​​​​​​​​​​​(مراۃالعقول ج5ص180)
عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کان رسول اللہﷺ ابابنات۔ ​​​​​​​​​​(فروع کافی ج2ص256، کتاب الفقیہ، نولکشور)
ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا رسول اللہﷺ (ایک سے زائد) بیٹوں کے باپ تھے۔
معلوم ہواامام باقراورامام جعفرصادق رضی اللہ عنہما دونوں کا یہی مؤقف ہے کہ حضور اکرمﷺ کی چار بیٹیاں ہیں۔ لہٰذاحُب اہل بیت کے نعرے کے ساتھ ساتھ اہل بیت کے مؤقف اور فتوے کو بھی تسلیم کرنا چاہیئے۔
۔ حضرت رقیہ بنت رسول اللہﷺ کی بیماری کی وجہ سے حضرت عثمان غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے لیکن حضورﷺ نے انہیں بدر کے اجروثواب میں شریک فرمالیا تھا۔
(التنبہ والا شراف 205، اعلام الوریٰ 148)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قرابت کے اعتبار سے حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی نسبت حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیادہ قریب ہیں پھر انہوں نے داماد رسول ہونے کے حوالے سے وہ مرتبہ حاصل کیا جو ابوبکروعمرکو نہ مل سکا۔ حضرت رقیہ وام کلثوم سے شادی کی جو مشہور روایت کے مطابق حضور کی صاحبزادیاں ہیں پہلے حضرت رقیہ سے شادی فرمائی ، ان کے انتقال کے بعد حضرت ام کلثوم سے ان کا نکاح ہوا۔ ​​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص716،فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ ج3ص519)
۔ حضرت ام کلثوم کا نام شریف آمنہ تھا، حضرت رقیہ کے بعد ان کا نکاح حضرت عثمان سے ہوا، لہٰذا حضرت عثمان کو ذالنورین یعنی دونوں روں والا کہتے ہیں۔ ​​​​​(منتخب التواریخ 29، شرح نہج البلاغہ ج3ص460 لابن ابی حدید)
۔ حضرت امام باقروجعفرصادق رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“نبی پاک کی اولاد طاہروقاسم اور فاطمہ اورام کلثوم اور رقیہ اور زینب سبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما سے پیدا ہوئی”۔​​​​​​​​​​​​​(منتہی الآمال ج1ص125 فصل ہشتم، باب اول، مروج الذہب ج2ص291،قرب الاسناد ص8،خصاص لابن بابویہ ج2ص37)
حضورﷺنے فرمایا:
بے شک خدیجہ نے میری پشت سے دو بیٹے جنے، طاہر جس کا نام عبداللہ ہے اور مطہرہے اور میری پشت سے قاسم جنا اور فاطمہ اور رقیہ اور ام کلثوم اور زینب کو۔​​​​​​​​​(خصال ج2ص27 لابن بابویہ)
فاعدہ: حضورﷺ کی اولاد امجاد کے بارے میں مزید حوالہ جات درج زیل ہیں:
(اصول کافی ج2ص435، فروع کافی ج2ص156، ج2ص6، تہذیب الاحکام ج8ص161، الاستبصارج1ص245، تلخیص الشافی ج4ص54، بحارالانوار ج22ص166، حیات القلوب ج2ص107 باب(51) پنجاہ ویکم، مراُۃ العقول ج5ص180، ناسخ التواریخ ج1ص 164، انوارنعمانیہ ج1ص366، تحفۃ العوام ج17ص 113، منتخب التواریخ ج1ص24، مروج الذہب ج2ص291، نہج البلاغہ ص220، خطبہ نمبر164، شرح نہج البلاغہ ج3ص460 لابن ابی حدید)

حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ ​

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف نہایت ہی نامناسب انداز اختیار کیا جاتا ہے جبکہ درج ذیل شیعی روایات پرغوروفکرکرنے سے آپ کی شان وفضیلت روزروشن کی طرح واضح دکھائی دیتی ہے۔ مثلا:
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“خدا کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حق میں ان لوگوں سے بہتر ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تیرے شیعہ ہیں مگر انہوں نے مجھے مارڈالنے کا ارادہ کیا، میرا اثاثہ لوٹ لیا اور میرا مال چھین لیا۔ خدا کی قسم! اگر میں حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے عہد کرلوں جس سے میرا خون بچ جائے اور میرے گھر والے لوگ امن حاصل کرلیں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ شیعہ مجھے مارڈالیں اور میرا گھر نہ برباد ہوجائے، خدا کی قسم ! اگر میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کروں تو یہی شیعہ میری گردن دبوچ کر مجھے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے سپردکردیں”۔ ​​​​​​​​​(ناسخ التواریخ ج1ص213، احتجاج طبرسی ج2ص10)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
تحقیق ہم بیعت کر چکے اور باہمی عہد کرچکے۔ لہٰذا ہمارے اس بیعت توڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔​​​​​​​​​​​​​(الاخبارالطوال ص220)
۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں وہ عہد توڑوں جو میرے بھائی حسن رضی اللہ عنہ نے آپ(حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) سے کیا تھا”۔​​​​​​​​​​​​​ (مقتل ابی مخنف ص6)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارا اوران کا خدا ایک ہے، رسول ایک ہے، دعوت اسلام ایک ہے۔۔۔ہم خدا پر ایمان لانے، اس کے رسول کی تصدیق کرنے میں ان پر کسی فضیلت کے خواہاں نہیں، نہ وہ ہم پرفضل وذیادتی کے طلبگار ہیں، ہماری حالتیں بالکل یکساں ہیں”۔ ​​​​​​​​​​​​​(نیرنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ ص363)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نہ تو ہم ان(معاویہ)سے اس لئے لڑے کہ وہ ہمیں کافرکہتے تھے اور نہ ہم ان سے اس لئے لڑے کہ ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں بلکہ(ایک بات تھی جس میں) ہم سمجھتے تھے کہ ہم حق پر ہیں اوروہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں۔​​​​​​​​​​​​​(قرب الاسناد ص45)
۔ آپ نے اپنے تمام حکام کو ایک” وضاحت نامہ” لکھ کر بھیجا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے۔ نبی ایک ہے، دعوت اسلام ایک ہے، نہ ہم اللہ پر ایمان لانے اور رسول کی تصدیق کرنے میں ان سے کسی بڑائی کے دعویدار ہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں وہ ہم پر کچھ بڑائی جتاتے ہیں۔ ہمارا معاملہ بالکل ایک جیسا ہے اور اصل اختلاف تو صرف”خون عثمان” کے متعلق پیدا ہوا ہے(اور ہمارا مؤقف ہے کہ) ہم اس سے بری ہیں۔ ​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ ص228، مترجم)
۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نہ صرف یہ کہ خود بیعت کی بلکہ اپنے چھوٹے بھائی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی حکم فرمایا کہ اے حسین! اٹھو اور ان کی بیعت کرو، بے شک وہ میراامام اور میرا امیرہے تو حضرت امام حسین اور جناب قیس نے بھی بیعت کرلی”۔​​​​​​​​​​​​​(رجال کشی ج2ص325،جلاء العیون ص260)
۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اس دوران کہ نبی رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک حسن آپ کے پاس منبر پر چڑھ گئے تو آپ نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اوراللہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کردے گا”۔​​​​​​​​​​​​​(کشف الغمہ ص546،مطبوعہ تبریز)
یہاں یہ بھی جان لیں کہ یہ دونوں گروہ کون سے تھے؟ جن کے درمیاں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کرائی اور جنہیں مسلمان کہا گیا ہے؟ ایک گروہ حضرت علی کا اوردوسرا حضرت امیرمعاویہ کا تھا۔ حضرت امام حسن نے حضرت امیر معاویہ کی بیعت کر کے دونوں میں صلح کرادی۔
مزید کئی روایت میں ذکر ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی ملاحظہ ہو! مروج الذہب ج3ص7 بیروت،احتجاج طبرسی ج2ص9 نجف اشرف جدید،مقتل ابی مخف ص26، 3 مکتبہ حیدریہ، نجف اشرف، کشف الغمہ ج1ص571، تبریز، الاخبار الطوال ص220 تذکرہ زیادبیروت۔
۔ حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل میں شریک کسی کو بھی مشرک اور منافق نہ سمجھتے تھے”۔ ​​​​​​​​​​​​​(قرب الاسناد ج1ص45)
لیکن آج کے” شیعاں علی” کہلانے والے حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کے موقف کے برخلاف جنگ جمل میں شریک ہونے والوں پرفتویٰ لگا کر “بغض علی” کا ثبوت کیوں دیتے ہیں؟

باغ فدک

شیعہ حضرات کی طرف سے اس مسئلہ کو خوب اچھالا جاتا ہے اور جان بوجھ کرغلط رنگ دیتے ہوئے حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو مطعون کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سیدہ فاطمہ کو ان کا حق نہ دیا، جس کی وجہ سے وہ ناراض ہوگئیں اور انہیں صدمہ ہولیکن حقیقت کیا ہے؟ وہ سطور ذیل ہیں ملاحظہ ہو!
۔حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
حضورﷺنے فرمایا “علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء درہم ودینار کی وارثت نہیں چھوڑتے بلکہ وہ اپنی احدیث اور علم وحکمت کی باتیں چھوڑتے ہیں، پس جس نے ان احادیث سے کچھ لے لیا اس نے کافی نصیب پالیا، پس تم اس پر نظر رکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو یہ علم ہم اہل بیت کا ہے کیونکہ جو علم پیغمبر نے امت کے لیے چھوڑا ہے اس کے وارث اہل بیت رسول ہیں جو عادل ہیں اور جو غالین کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جاہلوں کی تاویلوں کوردکرتے ہیں۔ ​​​​​​​​​​(کتاب الشافی ترجمہ اصول کافی ج1ص35، اصول کافی مع شرح صافی ج1 ص83)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
عالم کی فضیلت بے علم عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کی چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر، کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور بے شک انبیاء اپنی وراثت درہم ودینار نہیں بلکہ علم چھوڑتے ہیں۔ سو جو شخص اس علم میں سے حصہ لیتا ہے وہ بہت بڑی چیز لیتا ہے۔​​​​​​​​​​​​​​( اصول کافی مع شرح صافی ج1ص87)
حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ رسول اللہﷺ “فدک” سے اپنی خوراک لے لیا کرتے تھے اور باقی ماندہ تقسیم فرمادیا کرتے تھے اور فی سبیل اللہ سواریاں بھی لے کر دیا کرتے تھے۔ میں اللہ کی قسم کھا کر آپ سے اقرار کرتا ہوں کہ میں “فدک ” کی آمدنی اسی طرح صرف کروں گا جس طرح حضورﷺ کیا کرتے تھے تو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما اس پر راضی ہوگئیں۔ ​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص80 لابن ابی حدید، شرح نہج البلاغہ ج5ص107 لابن میشم)
ثابت ہوا کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر راضی تھیں۔ لیکن ان کی محبت کا دم بھرنے والے نجانے آج بھی حضرت ابوبکر صدیق سے کیوں ناراض ہیں؟ ۔۔۔۔۔معلوم ہوتا ہے ان کا سیدہ فاطمہ سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ معاملہ “مدعی سست گواہ چست” والا ہے۔
۔ ابوعقیل کھتے ہیں کہ میں نے حضرت امام باقررضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ میری جان آپ پر قربان، کیا ابوبکراور عمر نے تمھارے حقوق کے بارے میں کچھ ظلم کیا یا تمہارے حق دبائے؟ فرمایا نہیں، اس اللہ کی قسم! جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ تمام جہانوں کے لیے وہ نذیر بن جائے، ہمارے حقوق میں سے ایک رائی کے دانہ برابر بھی انہوں نے ہم پرظلم نہیں کیا، میں نے عرض کیا آپ پر قربان جاؤں، کیا میں ان سے محبت رکھوں؟ فرمایا، ہاں! تو براباد ہوجائے انہیں دونوں جہانوں میں دوست رکھ اور اگر اس وجہ سے تجھے کوئی نقصان ہوتو میرے ذمے ہے۔ ​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4 ص82 لابن ابی حدید)
محمد بن اسحاق نے امام ابوجعفرمحمد بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق کے والی ہوئے تو اس وقت لوگوں کے تمام اموران کے زیر تصرف تھے اس وقت انہوں نے ذوی القربا کے حصہ کا کیا بنایا؟ فرمایا” ان کے بارے میں حضرت علی نے وہی طریقہ اپنایا جو ابوبکرصدیق اورعمرفاروق کا تھا۔ ​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4 ص86 لابن ابی حدید)
۔ جب معاملہ خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آیا تو آپ سے فدک کے لٹائے جانے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اللہ کی قسم! مجھے اس چیز کے لوٹانے سے شرم آتی ہے کس کوابوبکرنے انہیں لوٹایا اور عمر نے بھی ان کی پیروی کی۔ ​​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص 94 لابن ابی حدید)
سوچیئے! اگر صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا طریقہ کارغلط تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے کیوں اپنایا اور اگر انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا حق نہیں دیا تھا تو حضرت علی نے وہ حق اپنے بیٹوں کو کیوں نہ دیا؟۔
حضرت ابوبکرپر تنقید کرنے والے یہاں کیوں خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں؟ یا وہ مان لیں کہ حضرت ابوبکراور حضرت عمررضی اللہ عنہما کا طریقہ کار برحق تھا۔
۔ حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! اگر باغ فدک کا یہی معاملہ میرے سپرد کردیا جائے اور مجھے فیصلہ کرنے کو کہا جائے تو میں وہی فیصلہ کروں گا جو حضرت ابوبکرصدیق نے کیا تھا”۔ ​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص82 لابن ابی حدید)
ملاحظہ فرمائیں! جب اہل بیت کا نام لے کر مخالفین نے مسئلہ باغ فدک کے متعلق حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلاف طوفان بدتمیزی بپا کررکھا ہے جبکہ اہل بیت کرام رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کار کو سلام محبت پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکار کرنے والوں کوہدایت عطا فرمائے۔ آمین

متعہ

شیعہ حضرات متعہ کو جائزقرار دیتے ہیں بلکہ اس کی بڑی فضیلتیں بیان کرتے ہیں جبکہ اہل بیت کرام رضی اللہ عنہ اسے حرام اور ناپسند کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو!
امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے متعہ کے متعلق فرمایا:
اس (متعہ) کوچھوڑدو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ ایک شخص عورت کی شرمگاہ کودیکھے پھر اس کا تذکرہ اپنے بھائیوں اور احباب سے کرے۔
(فروع کافی ج5ص453)
زید بن علی اپنے جدامجد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : “رسول اللہﷺ نے گھریلو پالتو گدھوں کا گوشت کھانا اور نکاح متعہ حرام کردیا ہے”۔
(الاستبصار 3ص146، تھذیب الاحکام ج7ص651)

لوہے کے کڑےوغیرہ پہننا

شیعہ حضرات لوہے کے کڑے بڑے شوق سے پہنتے ہیں اور اسے اہلبیت کرام رضی اللہ عنہ کی محبت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“لوہے کی کوئی چیزپہن کر نماز جائزنہیں ہوتی کیونکہ وہ نجس اور بری چیز سے مسخ کی ہوتی ہے”۔
(فروع کافی ج3ص400، تہذیب الاحکام ج2ص227، اکتاب لعلل الشرئع ص348)
۔ حضورﷺ نے فرمایا:
“لوہے کی انگوٹھی پہن کر کوئی نماز نہ پڑھے، جس نے لوہے کی انگوٹھی پہنی اللہ اس کے ہاتھ کو پاک نہیں کرےگا”۔ ​​​​​​​​​(فروع کافی ج3 ص404، تہذیب الاحکام ج2ص227، من لایحضرہ الفقیہ ص164)

تعزیہ نکالنا

آج کل اہل بیت رضی اللہ عنہ کی محبت اور نشانی تعزیہ نکالنے کا بھی بنالیا گیا ہے، حالنکہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“جو شخص قبر پھر سے بنائے یا اس کی تشبیہ وشکل(تعزیہ) بنائے وہ اسلام سے خارج ہے”۔ ​​​​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص120)
۔ ایک روایت میں ہے کہ
حضورﷺ نے فرمایا: عورت کی اطاعت کرنے والے۔۔۔۔۔اسے تعزیہ میں بھیجنے والے کوسرکے بل جہنم میں ڈالتے ہیں۔ ​​​​​​​​​​​​​​(حلیتہ المتقین ص46)

سیاہ لباس

شہداء کربلا(رضی اللہ عنہ) کا سوگ مناتے ہوئے سیاہ لباس بھی پہنا جاتا ہے جبکہ شیعہ حضرات کی کتابوں میں اس کے متعلق بڑی وعید آئی ہے۔ ملاحظہ ہو!
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورﷺ نے فرمایا:
میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنو، حضور کے دشمن کا لباس سیاہ ہے۔ ​​​​​​​​​​​​(عیون الاخبار ج2ص22)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہوئے فرماتے کہ سیاہ لباس نہ پہنا کرو، کیونکہ سیاہ لباس فرعون کا لباس ہے۔​​​​​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص163)
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“سیاہ لباس جہنمیوں کا لباس ہے”۔ ​​​​​​​​​​​​​(فروع کافی ج2ص 449، من لایحضرہ الفقیہ ج1ص163)
۔ پہر فرمایا:
:بےشک سیاہ کپڑا دوزخیوں کا لباس ہے”۔ ​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص162، تہذیب الاحکام ج2ص213، حلیتہ المتقین ص8)
حضورﷺ سیاہ لباس ناپسند فرماتے۔ ​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص163، تہذیب الاحکام ج2ص213، حلیتہ المتقین ص9)
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“سیاہ لباس دوذخ والوں کا لباس ہے”۔ ​​​​​​​​​​(من لایحضرہ الفقیہ ج1ص163، کتاب العلل الشرائع ص347)

سیاہ جھنڈا

اہل تشیع سیاہ جھنڈے بڑے اہتمام کے ساتھ اپنے مکانوں، دکانوں اور دیگر مقامات پر نصب کرتے ہیں اور اس پر بڑا فخرکیا جاتا ہے۔ جبکہ ان کے نزدیک اس کی حقیقت کیا ہے ملاحظہ ہو!
حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“دوسرا جھنڈا میرے پاس آئے گا، پہلے جھنڈے سے زیادہ سیاہ ہوگا اور بہت کالا ہوگا اور پہلوں کی طرح مجھے جواب دیں گے پھر میں کہوں گا کہ میں تم میں دوبزرگ چیزیں چھوڑ آیا تم نے ان سے کیا برتاؤ کیا، وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کی ہم نے مخالفت کی اور تیری عترت کی ہم نے امداد نہ کی اور ان کو ہم نے شہید کیا اور برباد کیا، میں کہوں گا مجھ سے دور ہوجاؤ تو وہ سیاہ روحوض کوثر سے پیاسے چلے جائیں گے”۔ ​​​​​​​​​​​​​​(جلاء العیون ص321)

تبرا کی حرمت

“حب علی” کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی زبانوں کوتبرا سے ناپاک کیا جاتا ہے اور خلفائے ثلاثہ کی حرمت کو پامال، لیکن کیا حب علی رضی اللہ عنہ کے ان دعویداروں کو خبرنہیں کہ
حضرت اسد اللہ الغالب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جان کے دشمن کو بھی کبھی گالی نہیں دی اوراپنی ذاتی رنجش کی بنیاد پر کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا، بلکہ اپنے ماننے والوں کو اس بات سے منع فرمایا: انہی کا ارشاد ہے” میں تمہارے لیے اس بات کو براخیال کرتا ہوں کہ تم گالی دینے والے بنو۔ ​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ ص446)
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
میں تمہیں اصحاب رسول ﷺ کے بارے میں وصیحت کرتا ہوں کہ کسی کو برانہ کہو، کیونکہ انہوں نے آپ کے بعد کوئی کام خلاف اسلام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کے دوست بنایا اور پناہ دی، رسول اللہﷺ نے بھی ان کے متعلق یہی وصیحت فرمائی ہے۔
(الا مالی لابی جعفرالطوسی ج2ص136، بحارالانوار ج22ص206)

ماتم

اہل تشیع بڑی دھوم دھام سے ماتم کرتے اور اس کا حکم دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو برا سمجھتے ہیں جبکہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اس ماتم کے مخالف ہیں اور اسے ناجائز قراردیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو!
۔ شیعوں کی تفسیر”قمی” میں ہے کہ ام حکیم بنت حارث بن عبداللہ نے حضورﷺ سے پوچھا یارسول اللہ! معروف کے بارے میں ہمیں کیا حکم فرمایا ہے کہ ہم آپ کی نافرمانی نہ کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا :
رب تعالیٰ کے فرمان “معروف” کے یہ معنی ہیں کہ تم اپنے منہ نہ نوچو، رخساروں پر طمانچے نہ مارو، بال نہ بکھیرو، کرتے چاک نہ کرو، کپڑوں کو سیاہ نہ بناؤ، ہائے ہائے اوربربادی بربادی نہ چیخو، قبر کے پاس نہ کھڑی ہو۔ تو ان شرطوں کے ساتھ حضور نے عورتوں کی بیعت لی۔ ​​​​​​​​​​​​​​​(تفسیر قمی ج2 ص364، اصول کافی ج5 ص527، تفسیر صافی ص531، حیات القلوب ج2ص460، مراۃالعقول ج1ص 514)
۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے”ولا یعصینک فی معروف ” سے مرادیہ ہے کہ نوحہ سے بازرہیں، کپڑے پھاڑنے، بال اور منہ نوچنے اور مرنے والوں پرواویلا کرنے سے پرہیزکریں۔ ​​​​​​​​​​​​​​(تفسیرمجمع البیان ج9ص276)
۔ فروع کافی میں بھی ام حکیم بنت حارث کی روایت کچھ زیادتی کے ساتھ تحریر ہے۔ ملاحظہ ہو! فروع الکافی للکینی ج2 ص228، اسے صاحب مراۃ العقول نے موثق اور حسن لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو! مراۃ العقول ج1ص 514
۔ رسول اکرم ﷺ کے مواجہہ شریفہ میں حاضری کا ادب شیعی کتاب میں اس طرح لکھا ہے”رسول اکرمﷺ نے فرمایا تم لوگ فوج درفوج اس گھر میں آنا، مجھ پر صلاۃ بھیجنا اورسلام کرنا،(لیکن) روکرفریاد کرنا، اورواویلا کرکے مجھے اذیت نہ دینا۔ ​​​​​​​​​​(جلاء العیون ص69)
ایک روایت میں ہے:
رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: مصیبت کے وقت بآوازرونے، نوحہ کرنے، اور جنازہ کے پیچھے عورتوں کے جانے سے۔ ​​​​​​​​​​​​​​(حلیۃ المتقین ص188)
حلیتہ المتقین میں دوسری جگہ لکھا ہے حضور نے فرمایا عورت کی اطاعت کرنے والا۔۔۔۔اسے تعزیہ میں بھیجنے والے کو سرکے بل جہنم میں ڈالتے ہیں۔ ​​​​​​​​​​​(حلیتہ المتقین ص46)
۔ طائفہ امامیہ کے شیخ صدوق نے نقل کیا کہ
رسول اللہﷺ نے مصائب پر بآواز بلند رونے، نوحہ کرنے اور سننے سے منع فرمایا۔ (کتاب اللامالی ص254، حلیۃ المتقین ص189، من لایحضرہ الفقیہ ج2ص356)
مجمع المعارف میں ہے:
نوحہ کرنے والا روز قیامت، کتوں کی طرح نوحہ کناں ہوگا۔​​​​​​​​​​​​​ (مجمع المعرف ص162)
حیات القلوب میں ہے:
سب سے پہلا نوحہ گانے والا شیطان تھا، (جب اسے جنت سے نکالا گیا)۔ ​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج1ص 73)
اولاد آدم میں قابیل پہلا شخص ہے جس نے واویلا کیا، اور ملعون ہوا۔ ​​​​​​​(نفس الرحمٰن ص 124، محمد تقی النوری، الطبرسی)
نہج البلاغہ میں ہے:
صبرمصیبت کے اندازے سے اترتا ہے، جس نے مصیبت کے وقت اپنی رانوں پرہاتھ مارا، اس کے اعمال برباد ہوئے۔ ​​​​​​​​​​​​​​(نہج البلاغہ ص158، مترجمہ ص897)
۔ ایک روایت میں ہے:
رسول اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
اذاانامت فلا تخشی علی وجھا ولا ترخی علی شعراولا تنادی بلویل ولا تقیمی علی نائحتہ۔
(فروع کافی ج2ص228، جلاءالعیون ص65)
جب میں فوت ہوجاؤں تومنہ نہ چھیلنا، بال نہ نوچنا، واویلا نہ مچانا، اور نوحہ گرعورتوں کہ نہ بلانا۔
ملاباقر مجلسی نے لکھا ہے کہ:
حضورسرورﷺ عالم کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضوراکرمﷺ کے روئے مبارک سے کپڑا ہٹایا۔ اور عرض گزار ہوئے، میرے ماں باپ آپ پرفداہوں، آپ زندگی بھر اور بعدوفات بھی طیب ہیں، آپ کی وفات سے وہ شئی بند ہوگئی جو کسی پیغمبر کے انتقال سے بند نہ ہوتی تھی۔ یعنی نبوت اور وحی، آپ کی مصیبت اتنی عظیم ہے جس نے ہمیں دوسروں کی مصیبت سے مطمئن کردیا۔ آپ کی وفات کی مصیبت ایک عام مصیبت ہے کہ سب لوگ یکساں دلگیر ہیں۔
واگرنہ آں بودکہ امرکردی بصبرکردن ونہی نمودی ازجزع نمودن برآئینہ آبہائے سر خودرادر مصیبت تو فرو می ریختم وبر آئینہ درد مصیبت ترابرگزدوانمی کردم ​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص363)
اور اگرآپ صبرکا حکم اور جزع سے منع نہ فرماتے تو اس مصیبت پر ہم تمام سرکا پانی بہادیتے اورآپ کی اس مصیبت کے درد کی کوئی دوانہ کرتے۔
امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لیس لاحد کم ان یحدا کثرمن ثلٰثۃ ایام الا المراۃ علیٰ زوجھا حتی تقضی عدتھا۔ ​​​​​​​​​​(من لا یحضرہ الفقیہ ص36)
کس کو جائز نہیں تین روز سے زائد سوگ کرے، مگربیوی کو اپنے خاوند کی موت پر(چار ماہ اور دس دن کی) عدت تک اجازت ہے۔
نوٹ۔۔۔۔۔اس مفہوم کی روایت تہذیب اورومسائل الشیعہ میں بھی پاتی جاتی ہیں ملاحظہ ہو! التہذیب ص238، وسائل الشیعہ ج3ص173
حیات القلوب میں ہے:
حضرت رسول فرموداے فاطمہ توکل کن برخدا صبر کن چنانچہ صبرکردند پدرانِ توکہ پیغمبراں بودندومادران توکہ زنہائے پیغمبراں بودند۔ ​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص252)
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے فاطمہ! خدا پر توکل کر اور صبر کر، تیرے آباء جوکہ پیغمبر تھے صبر کرتے رہے اور تیری مائیں، جو پیغمبرں کی بیویاں تھیں صبرکرتی رہیں۔
۔ اسی کتاب میں تھوڑا آگے منقول ہے:
بداں اے فاطمہ! کہ برائے پیغمبر گریباں نمی باید درید ورانمی باید خراشید دواوایلانمی باید گفت۔ ​​​​​​​​​​​​​( حیات القلوب ج2ص253، کتاب العلل والشرائع ج2ص110)
اے فاطمہ! جان لے کہ پیغمبر کے لیے گریبان نہیں چاک کرنا چاہیے، اور چہرہ پرخراش نہیں لگانا چاہیے اورواویلا نہیں کرنا چاہیے.
۔۔۔۔۔۔نیز اسی کتاب میں ہے:
ابن بابویہ اپنی معتبر سند سے امام باقر سے روایت کرتے ہیں، حضرت رسول خدا ﷺ نے وقت وفات سیدہ فاطمہ سے فرمایا: اے فاطمہ1 جب میں وفات کرجاؤں تو میرے لیے چہرہ پر خراش نہ ڈالنا، بال نہ بکھیرنا، واویلا نہ کرنا، اور مجھ پر نوحہ نہ کرنا، اور نوحہ گروں کو نہ بلانا۔ ​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص254)
امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ رانوں پر مارنا، اس کے اجروثواب کو ضائع کردیتا ہے”۔ ​​​​​​​​​​​​​​(فروع کافی ج3ص 224)
۔ حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زوجہ مطہرہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
“کسی کی موت پر اور کسی کے دوران جنگ شہید ہوجانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا”۔​​​​​​​​​​​​​ (من لا یحضرہ الفقیہ ج1ص112)
۔ حضورﷺ نے فرمایا: “ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا”۔
(مجمع المعارف برحشیہ حلیتہ المتقین ص162)
۔ حضورﷺ نے فرمایا: “میں نے ایک عورت کتے کی شکل کی دیکھی، فرشتے اس کی وبر میں آگ جھونک رہے تھے، تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما نے پوچھا۔۔۔۔اے میرے پدربزرکوار! اس کا دنیا میں کیا عمل وعادت تھی “آپ نے فرمایا” وہ نوحہ کرنے والی اور حسد کرنے والی تھی”۔ ​​​​​​​​​​​​​(حیات القلوب ج2ص543، عیون اخبار الرضاج2 ص11 ، انور نعمانیہ ج1ص216)
۔ جابر(رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ میں نے امام محمد باقررضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جزع کیا ہے؟ آپنے فرمایا: واویلا کیساتھ زور سے چلانا، بلند آواز سے چینخنا، چہرے اور سینے پر طمانچے مارنا اور پیشانی سے بال نوچنا سخت ترین جزع ہے۔ ​​​​​​​​​​​(فروع کافی 3ص 222)
۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کا ماتم کرکرکے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کردیتے”۔ ​​​​​​​​​​​​(شرح نہج البلاغہ ج4ص409 لابن میشم)
حضرت امام حسین نے میدان کربلا میں اپنی ہمیشرہ بی بی زینب کو وصیحت فرمائی ” اے بہن، میں تجھے قسم دیتا ہوں تو میری قسم پوری کرنا کہ جب میری وفات ہوجائے تومجھ پر گریبان چاک نہ کرنا، نہ مجھ پر چہرہ نوچنا اور نہ مجھ پر واویلا اور ہائے ہلاکت ہائے ہلاکت کے الفاظ پکارنا”۔ ​​​​​​​​​​​(الارشاد لمفید 232، اعلام الوریٰ ص236، جلاء العیون ص387، ناسخ التواریخ ج6ص253، تاریخ یعقوبی ج2ص244، اخبارماتم ص400)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں” خدا کی قسم! اگر یہ(ماتم) گناہ نہ ہوتا تو میں اپنے سرکے بال کھول کرچلاتی اور آپ کی بارگاہ میں فریاد کرتی”۔ ​​​​​​​​​(فروع کافی، کتاب الروضہ ص238)
۔ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا” ہرگز تم ہیں سے کوئی شخص میری وفات پر رخسار پرطمانچے نہ مارے اور ہرگز مجھ پرگریبان چاک نہ کرے” ​​​​​​​​​​​(دعائم السلام ص130)
اہل کوفہ کاروان اہل بیت کی بے سروسامانی دیکھ کرروزروز سے رونے اور ماتم کرنے لگے تو سیدہ زینب نےفرمایا” حمد وصلوٰۃ کے بعد اے بے وفا اور دغا بازکوفیو! اب تم روتے اور ماتم کرتے ہو، خدا تمہیں ہمیشہ رلائے اور تمہارارونا اور ماتم کرنا کبھی موقوف نہ ہو، تم بہت زیادہ رؤو اور بہت تھوڑا ہنسو، تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جو کاتے ہوئے دھاگے کو مضبوط ہوجانے کے بعد جھٹکے دے کرتوڑ ڈالے، تم نے اپنے ایمان کودھوکے اور فریب کا ذریعہ بنایا ہوہے، تمہاری مثال اس سبزے کی سی ہے جو نجاست کی ڈھیری پر لگاہوا ہو، تم میں سوائے خودستائی، شیخی، عیب جوئی، تہمت سرائی اور لونڈیوں کی طرح خوشامد اورچاپلوسی کے کچھ نہیں، بلاشبہ تم بہت برے کام کے مرتکب ہوئے، تم نے ہمیشہ کے لیے ذلت حاصل کی اور عیب کمایا اور جہنم کے سزادار ہوئے۔ خدا تعالیٰ تم پر غضب نازل فرمائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل فرمائے”۔ ​​​​​​​​​​​​​​(جلاءالعیون ج2ص223)
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (اے ہمارے شہیدوں کے قاتلو!)یعنی تمہیں جہنم کی بشارت ہو، تم نے ہمارے بھائی کو شہید کردیا، تم پر تمہاری مائیں روتی رہیں، تم نے وہ خون بہایا جو اللہ، قرآن اور محمدﷺ نے تم پرحرام کردیا تھا”۔​​​​​​​​​​​ (مقتل ابی مخنف ص83)

وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ محمد وآلہ واصحابہ وازواجہ واھل بیتہ وسائرامتہ اجمعین