مسئلہ تحریف قرآن کے سلسلے میں رافضی شیعہ اثناعشریہ کے اقوال 

تحریف قرآن کے سلسلے میں رافضی شیعہ اثناعشریہ کے اقوال 

٭شیعہ اثناعشریہ قرآن میں تحریف وکمی کے قائل ہیں،اور کہتے ہیں کہ صحیح قرآن ان کے غائب امام مہدی کے ساتھ ہے۔

شیعہ امامیہ کے مشہور علماء جو تحریف قرآن کے قائل ہیں وہ درج ذیل ہیں:

علی بن ابراھیم القمی، نعمۃ اللہ جزائری، فیض کاشانی، احمد طبرسی، محمد باقر مجلسی، محمد بن نعمان ملقّب بالمفید،ابو الحسن عاملی عدنان بحرانی، یوسف بحرانی، نوری طبرسی، حبیب اللہ خوئی، محمد بن یعقوب کلینی، محمد عیاشی اور ان کے علاوہ بہت سارے لوگ ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (الشیعۃ الاثني عشریۃ وتحریف القرآن) تالیف: محمد سیف، وکتاب( موقف الرافضۃ من القرآن الکریم) تالیف: ماما دو کارا میری)۔

مسئلہ تحریف قرآن اور علامہ باقر مجلسی

قرآن سے علی و ائمہ کی امامت کا ذکر صحابہ نے خارج کردیا (معاذاللہ)

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

لفظ( آل محمد وآل علی) قرآن سے ساقط ہے۔

(دیکھیں: کتاب (منہاج البراعۃ شرح نہج البلاغۃ) لحبیب اللہ الخوئی ،۲؍۲۱۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

قرآن کو صرف ائمہ (اثناعشریہ) نے ہی جمع کیا ہے، اور انہیں قرآن کا پورا علم حاصل ہے۔

(دیکھیں: کتاب (اصول الکافي) للکلینی، ۱؍۲۲۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

قرآن نہیں حجّت ہوگا مگر قیّم(یعنی امام علیؓ رضی اللہ کی تقییم) کے ذریعہ

(دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی، ۱؍۱۶۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ایک سورت ہے جس کا نام سورہ ولایت ہے جس کی ابتدا (يا أيها الذين آمنوا آمنوا بالنّورين)سے ہوتی ہے، ان کے گمان کے مطابق اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے قرآن سے ساقط کردیا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (فصل الخطاب في تحریف کتاب ربّ الأرباب) للنوری طبرسی ،ص۱۸)۔

٭ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ :

ایک مصحف ہے جس کا نام مصحف فاطمہ رضی اللہ عنہا ہے، اور اس کے اندر ہمارے اس قرآن کی طرح تین بار ہے۔

(دیکھیں: کتاب (اصول الکافي) للکلینی، ۱؍۲۳۹)۔

٭اسی طرح وہ اللہ کے قول﴿ يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُ ﴾[المائدہ:۶۷]’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ‘‘ کو : (بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ -في علي- وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُ ) الآیۃ’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ۔نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ‘‘ ، سے تحریف کے قائل ہیں، چناں چہ اس آیت میں انہوں نے اپنی گمان کے مطابق (في علي) کا لفظ بڑھا دیا ہے!!

یعنی: نبیﷺ بھول گئے یعنی چھوڑدیا ،اور ایسا منا فقین سے خوف کی بناپر کیا ،جیسا کہ بہت ساری خبروں(حدیثوں) میں انہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے۔

(دیکھیں: فصل الخطاب في تحریف کتاب رب الأرباب ) للنوری طبرسی، ص۱۸۲)۔

٭اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ:

وہ اس شخص کا انکار نہیں کرتے جو شیعہ کے نزدیک تحریف قرآن (ثقل اکبر) کا قائل ہے، بلکہ اسے مجتہد مانتے ہیں، لیکن جو شیعہ کے نزدیک ولایت علیؓ (ثقل اصغر)کا انکا ر کرتا ہے وہ کافر ہے جس کے کفر کے بارے میں کوئی شک نہیں۔

(دیکھیں: کتاب(الاعتقادات) لابن بابویہ القمی، ص۱۰۳)۔

٭اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

انہوں نے اپنے شیعوں کو نماز وغیرہ میں موجودہ قرآن کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ مولانا صاحبِ زمانہ کا ظہور ہوگا جو موجودہ قرآن کو لوگوں کے ہاتھ سے آسمان کی طرف اٹھا دیں گے، اور اس قرآن کو لائیں گے جسے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے تالیف کیا ہے، چناں چہ اسی نسخہ کو پڑھا جائے گا اور اس کے احکام کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

(دیکھیں: الأنوار النعمانیہ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۲؍۳۶۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اپنی عورتوں کو نہ تو سورہ یوسف سکھاؤ اور نہ ہی اسے پڑھاؤ، کیوں کہ اس میں فتنے ہیں، بلکہ انہیں سورہ نور سکھاؤ کیوں کہ اس میں عبرتیں ونصیحتیں ہیں۔

(دیکھیں: کتاب ( الفروع من الکافی) للکلینی،ص۵؍۵۱۶)۔