مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط2

🔴 قسط 2 خلاصہ🔴

♦️شیعہ عالم ابوھشام کے لرزہ خیز اعترافات:

-اہل تشیع کے ہاں جو ازروئے اجتہاد تحریف قرآن کا قائل ہے یعنی وہ کہے کہ یہ آیت اس طرح نہیں بلکہ اس طرح نازل ہوئی تھی (تحریف لفظی) وہ کافر نہیں ہے!! 

شیعہ عالم ابوھشام کا تحریف قرآن کی تائید یا انکار یا اقرار سے فرار:  

جب ان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ موجودہ قرآن کریم تحریف سے پاک ہے یا نہیں؟ اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا مکمل محفوظ حالت میں موجود ہے!!

تو جواب یہ دیا کہ 

  “جو ان دو تختیوں کے درمیان ہے وہ اللہ تعالی کا کلام ہے!!” 

بار بار پوچھنے کے باوجود شیعہ عالم یہ کہنے سے اجتناب کرتا رہا کہ موجودہ قرآن کریم مکمل محفوظ ہے اور تحریف سے پاک ہے!!

شیعہ عالم کا صرف اتنا کہنا کافی نہیں کہ سورت الحمد سے سورت والناس تک سب اللہ تعالی کا کلام ہے۔ وضاحت تو یہ کرنی تھی کہ اللہ کے کلام میں تبدیلی ہوئی ہے یا نہیں!!؟ اس نکتہ پر دوٹوک مؤقف نہیں دیا!!

♦️ اہل سنت مؤقف:

تحریف قرآن کا قائل منکر آیات قرآنی کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے!! کیونکہ اس نے ایک ایسی بات کو تسلیم کیا جو نص قرآنی کے مطابق ممکن ہی نہیں ہے۔

♦️ شیعہ عالم ابوھشام کے علمائے اہل سنت پر تحریف قرآن کے الزامات جنہیں ثابت نہیں کرسکا۔ 

– کوئی خود قرآن کریم میں تحریف کرتا تھا اور کوئی قرآن کریم میں اضافے کا قائل تھا!! معاذاللہ ثم معاذاللہ

– علمائے اہل سنت نے تحریف قرآن کے متعلق روایت کی تصحیح کی ہے۔

♦️ قسط 2 میں بھی ابوھشام نے مندرجہ ذیل باتیں کہہ کر وقت ضایع کیا۔

– شیعہ قبول احادیث کے اصولوں پر گفتگو!! 

– دوٹوک شیعہ مؤقف بتانے سے ٹال مٹول

– موضوع تحریف قرآن اور وضاحت طلب باتوں پر توجہ دئے بغیر اہل سنت محدثین کی تصحیح پر گفتگو!!!

♦️غور طلب سوال:

  شیعہ تحریف قرآن کے قائل کی تکفیر کیوں نہیں کرتے؟؟

جواب:

اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل کو کافر نہیں سمجھتے!اس لئے نہیں سمجھتے کیونکہ شیعہ علماء سے تحریف قرآن ثابت ہے، اگر تحریف کے قائل کو کافر قرار دیں گے تو جیّد شیعہ علماء کافر ہوجاتے ہیں!! 

قسط 2 کے آخر میں اہل سنت کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی۔

اہل سنت کی طرف سے پیش کی گئی دلیل اور اس کی توثیق بمعہ شیعہ جیّد علماء کا تحریف قرآن کا اقرار:

28 علي بن الحكم، عن هشام بن سالم (2)، عن أبي عبدالله (عليه السلام) قال:
إن القرآن الذي جاء به جبرئيل (عليه السلام) إلى محمد (صلى الله عليه وآله) سبعة عشر ألف آية (3).
(اصول کافی جز ثانی صفحہ 634)
ترجمہ ملاحظہ فرمائيں:
28- علي بن حکم ہشام بن سالم سے روايت کرتے ہيں وہ ابو عبد اللہ عليہ السلام سے روايت کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا: وہ قرآن جسے جبريل محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے پاس لے کر آئے وہ سترہ ہزار آيات پر مشتمل تھا۔

 چار جیّد شیعہ علمائے کرام سے اس روایت کی توثیق:

👇👇

1️⃣ علامہ باقر مجلسی:

28- علي بن حکم ہشام بن سالم سے روايت کرتے ہيں وہ ابو عبد اللہ عليہ السلام سے روايت کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا: وہ قرآن جسے جبريل محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے پاس لے کر آئے وہ سترہ ہزار آيات پر مشتمل تھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ
اٹھائيسويں حديث : اسکي توثيق کي گئي ہے , اور بعض نسخوں ميں ہارون بن مسلم کي جگہ ہشام بن سالم کا نام ہے۔ لہذا يہ روايت صحيح ہے , اور يہ بات پوشيدہ نہيں کہ يہ روايت اور بہت سي صحيح روايات قرآن مجيد ميں کمي اور تحريف پر صراحت کرتي ہيں ۔ اور ميرا موقف يہ ہے کہ اس موضوع کي روايات متواتر معنوي ہيں , اور اگر ان تمام روايات کو چھوڑ دينا (تسليم نہ کرنا ) ہر قسم کي روايات سے اعتماد کو کليۃ ختم کر ديتا ہے ۔ اور ميرا گمان يہ ہے کہ اس موضوع کي روايات امامت والي روايات سے کم نہيں ہيں , تو لوگ اس (امامت) کو روايات کے ذريعہ کيسے ثابت کرتے ہيں (اگر تحريف قرآن کو نہيں مانتے تو)

الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٦٣٤

آنلائن لنک 

اس روایت کی تنقیح

علامہ مجلسی کی گواھی شیعہ کے ھاں انتھائ زیادہ قابل اعتماد ھے کیونکہ مجلسی کافی کا محقق شارح ھے لھذامجلسی نے اس روایت کو صحیح کھا ھے

صرف صحیح کھنے پر بس نھیں کی بلکہ مجلسی اس روایت کی شرح میں مزید لکھتا ھے,

یہ روایت صحیح ھے اور کسی سے  مخفی نہ رھے

یہ روایت اور دوسری بھت ساری صحیح روایات صراحتا قرآن پاک میں کمی اور تبدیلی پر دلالت کرتی ھیں, اور میرے نذدیک تحریف قرآن پاک کے بارے روایات معنی متواتر ھیں ,,اور ان سب روایات کو ترک کرنا تمام ذخیرہ احادیث سے اعتمادکو اٹھانا ھے ,بلکہ میرے خیال میں تحریف قرآن کی روایات مسلہ امامت کی روایات سے کم نھیں , اگر ان روایات پر اعتماد نہ ہوا تو مسئلہ امامت کیسے ثابت کریں گے?

مرآةالعقول ج ١٢

آنلائن لنک 

2️⃣ علامہ عبدالحسین مظفر:

اگر ھم شیعہ کے معاصر زمانے کے علماء سے  اس روایت کی صحت کے متعلق گواھی چاہیں تو ھم دیکھتے ھیں انکا جید عالم عبد الحسین مظفر کھتا ھے یہ روایت صحیح کیطرح موثق ھے:

آنلائن لنک 

3️⃣ علامہ مازندرانی:

اسطرح اصول الکافی کا مشھور شارح مولي محمد صالح المازندراني. اس روایت کی توثیق کرتا ھے اور کھتا ھے,

أقول: كان الزائد على ذلك مما في الحديث سقط بالتحريف وإسقاط بعض القرآن وتحريفه ثبت من طرقنا بالتواتر

یعنی میں کہتا ہوں یہ جو زائد قرآن پاک روایت میں بیان ہوا ھے یہ قرآن میں تحریف کیوجہ سے ساقط ہوا ھے اور بعض قرآن کا ساقط ہونا اور قرآن میں تحریف کا ہونا تواتر سے ثابت ھے

شرح أصول الكافي – مولي محمد صالح المازندراني – ج ١١ – الصفحة ٨٨

آنلائن لنک 

🔴 اسطرح الکافی کا مصنف اپنی کتاب کے مقدمہ میں  دعوی کرتا ھے

جو کچھ بھی میں اپنی کتاب میں ذکر کرونگا وہ سب آثار صحیحہ ھیں

لكافي – الشيخ الكليني – ج ١ – الصفحة المقدمة ٢٥

آنلائن لنک 

4️⃣  علامہ آیت اللہ خوئی:

اسطرح شیعہ اصول کے بھت بڑے مصنف علامہ آیت اللہ خوئ از قول استادش نائینی کھتے ھیں,  الکافی میں مندرجہ احادیث کی سند میں نزاع کرنا بے بس اور عاجز لوگوں کاپیشہ اور ہتکھنڈہ ھے

معجم رجال الحديث – السيد الخوئي – ج ١ – الصفحة ٨١

آنلائن لنک 

وڈیو ڈاؤن لوڈ کریں

آڈیو ڈاؤن لوڈ کریں

اہل سنت کی دلیل کا رد شیعہ عالم ابوھشام نے کس طرح کیا۔۔ ؟ 

اس کی تفصیل قسط 3 میں ملاحظہ فرمائیں۔

(جاری ہے)