مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

چوتھی قسط کے بعد ابوھشام گفتگو کے اہم موڑ پرتین دن غائب ہوگئے، اصل میں اہل سنت کی طرف سے انہیں مجبور کیا گیا تھا کہ وہ صرف اہم نکات پر دو ٹوک گفتگوکریں ،انہیں رعایت دی گئی کہ ہر وائس کا جواب دینا لازمی نہیں ہے۔

اس دوران گروپ کے کچھ سینئر ممبرز نے  مجبوراً عزت بچانے کے لئے تبصرے اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے گروپ ماحول کو اپنے موافق کرنے کی کوشش کی۔ ایک تبصرے میں میری تائید بھی کی گئی کہ ہر وائس کا جوب دینے کے بجائے فریقین ٹو دی پوائنٹ گفتگو کریں۔ 

یاد رہے کہ چوتھی قسط کے آخر میں اہل سنت کی طرف سے گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے اہم نکات پر مشتمل مندرجہ ذیل تحریر پیش کی گئی تھی  تاکہ شیعہ عالم ابوھشام غیر ضروری باتوں میں الجھنے کے بجائے، صرف ان باتوں کا علمی رد کریں۔

🔴 مسئلہ تحریف قرآن پر گفتگو کے اہم نکات🔴

1️⃣ اہل تشیع کی تاویل 👈 سترہ ہزار آیات کا مطلب سترہ ہزار نشانیوں کا نزول

اہل سنت کا رد: قرآن کریم میں کسی بھی قسم کی نشانیاں دور نبوی میں نہیں تھیں۔ 

2️⃣ اہل تشیع کی تاویل 👈 قرآن کریم کے تین حصوں میں سے دو حصے منسوخ ہوگئے!! بعد میں خود ہی اس تاویل کا انکار 👈 ناسخ و منسوخ کا تصور اہل تشیع کے ہاں موجود ہی نہیں ہے۔

🔴نتیجہ : متن کی تاویل 👈 ابھی تک نہیں کی جاسکی ۔

 سند پر اعتراض:

اہل تشیع کا رد: راوی احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے، جو کہ ضعیف ہے۔

اہل تشیع کی دلیل: احمد بن محمد السیاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

اہل سنت کا جواب: السیاری کا اپنی کتاب میں اس روایت کا بیان کرنا ضعیف ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔

اہل سنت کی دلیل: اصول کافی کی روایت کی توثیق کئی شیعہ علماء کرام کرچکے ہیں۔ اگر راوی السیاری ہوتا تو اس کی توثیق کرنا ممکن نہیں تھا، اس سے واضح ہوتا ہے راوی السیاری نہیں ہوسکتا۔

🔴جواب طلب نکات🔴

1️⃣ اصول کافی کی اس روایت میں احمد بن محمد “السیاری” کس دلیل سے ہیں؟ احمد بن محمد البارقی کیوں نہیں ہوسکتے؟ 

👈 جن علماء کرام نے اس روایت کی توثیق کی ، انہیں تو یہ معلوم نہ ہوسکا ، ابوھشام کو یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ اس روایت میں احمد بن محمد “السیاری” ہی ہیں؟ 

2️⃣ حضرت ابن عباسؓ معاذاللہ تحریف قرآن کے اگر قائل تھے تو اس روایت کے ساتھ علماء اہل سنت کی تائید بھی پیش کردیں کہ ان کے نزدیک بھی حضرت ابن عباسؓ تحریف قرآن کے قائل تھے معاذاللہ ، تاکہ آپ کا استدلال درست سمجھا جاسکے۔

ان اہم نکات کی وضاحت شیعہ عالم نہیں کرسکے!!

🔴ابوھشام کا تحریری جواب🔴

ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ، ﻭﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺧﻴﺮ ﺧﻠﻘﻪ ﻭﺃﻓﻀﻞ ﺑﺮﻳﺘﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻋﺘﺮﺗﻪ ﺍﻟﻄﺎﻫﺮﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻠﻌﻦ ﺍﻟﺪﺍﺋﻢ ﻋﻠﻰ ﺃﻋﺪﺍﺋﻬﻢ ﺃﺟﻤﻌﻴﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﺍﻟﺪﻳﻦ،

♦️ ایک حدیث اور اس پر عنید کے اشکالات کے جوابات ۔

علی بن الحکم، عن هشام بن سالم عن ابي عبدالله عليه السلام قال إن القرآن الذي جاء به جبرائيل عليه السلام إلي محمد صلي الله عليه وآله وسلم سبعه عشر ألف اية. 

علی بن حکم نے ہشام بن سالم سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک قرآن جسے جبرائیل علیہ السلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اس میں سترہ ہزار آیات ہیں، 

معترض نے اپنی کم عقلی کے سبب اس روایت کو تحریف پر دلالت کرنے والی سمجھ لیا ہالانکہ یہی اس شخص کے کم عقل ہونے  کی دلیل ہے چونکہ معترض نہ عربی زبان سے آگاہ ہے اور ناہی اس کے پاس عقل ہے لہذا ہمارے بار بار سمجھانے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصر رہا اور اپنے زعم ناقص میں یہ  سمجھ بیٹھا کہ جیسے معرکہ فتح کر لیا ہے، 

ہم نے جواب میں کہا تھا کہ اس روایت کے متن میں کوئی ایسی چیز نہیں جو تحریف پر دلالت کرتے ہو اس کی تشریح کئ اعتبار سے ہو سکتی ہے جیسے 

1 آیت کا لغوی معنی علامت ظاہری ہے، اور قرآن کریم میں لفظ 382 م بار مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے 

1 پہلا معنی تو وہی ہے جو قرآن کی کتابت میں استعمال ہوا یعنی  آیت کے مجموعے سے سورے بنے، ،

ﻣَﺎ ﻧَﻨْﺴَﺦْ ﻣِﻦْ ﺍٰﻳَﺔٍ ﺍَﻭْ ﻧُـﻨْﺴِﻬَﺎ ﻧَﺎْﺕِ ﺑِﺨَﻴْـﺮٍ ﻣِّﻨْﻬَﺂ ﺍَﻭْ ﻣِﺜْﻠِﻬَﺎ ۗ ﺍَﻟَﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻢْ ﺍَﻥَّ ﺍﻟﻠّـٰﻪَ ﻋَﻠٰﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻰْﺀٍ ﻗَﺪِﻳْﺮٌ

‏( 106 البقره ‏)

ﮨﻢ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺁﯾﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﻗﺎﺩ ﺭﮨﮯ۔

دوسرا معنی علامت 

ﻭَﻣِﻦْ ﺍٰﻳَﺎﺗِﻪٖ ﻣَﻨَﺎﻣُﻜُﻢْ ﺑِﺎﻟﻠَّﻴْﻞِ ﻭَﺍﻟﻨَّـﻬَﺎﺭِ ﻭَﺍﺑْﺘِﻐَﺂﺅُﻛُﻢْ ﻣِّﻦْ ﻓَﻀْﻠِـﻪٖ ۚ ﺍِﻥَّ ﻓِﻰْ ﺫٰﻟِﻚَ ﻟَﺎٰﻳَﺎﺕٍ ﻟِّـﻘَﻮْﻡٍ ﻳَﺴْـﻤَﻌُﻮْﻥَ

‏( 23 الروم ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﺎ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔

ﻭَﻣِﻦْ ﺁﻳَﺎﺗِﻪِ ﺃَﻧَّﻚَ ﺗَﺮَﻯ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽَ ﺧَﺎﺷِﻌَﺔً ﻓَﺈِﺫَﺍ ﺃَﻧْﺰَﻟْﻨَﺎ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﺍﻟْﻤَﺎﺀَ ﺍﻫْﺘَﺰَّﺕْ ﻭَﺭَﺑَﺖْ ﺇِﻥَّ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﺣْﻴَﺎﻫَﺎ ﻟَﻤُﺤْﻴِﻲ ﺍﻟْﻤَﻮْﺗَﻰ ﺇِﻧَّﻪُ ﻋَﻠَﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻲْﺀٍ ﻗَﺪِﻳﺮٌ

‏( 39 فصلت ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞﻤﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﺑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ‏( ﺑﻨﺠﺮ ‏) ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺗﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮩﻠﮩﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻟﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﯿﺎ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻗﺎﺩﺭ ﮨﮯ۔

3 تیسرا معنی معجزہ 

ﻭَﺍِﻥْ ﻳَّﺮَﻭْﺍ ﺍٰﻳَﺔً ﻳُّﻌْﺮِﺿُﻮْﺍ ﻭَﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﺍ ﺳِﺤْﺮٌ ﻣُّﺴْﺘَﻤِﺮٌّ

‏(  القمر2 ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔

4 عبرت 

ﻗَﺎﻝَ ﻛَﺬٰﻟِﻚِۚ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺑُّﻚِ ﻫُﻮَ ﻋَﻠَﻰَّ ﻫَﻴِّﻦٌ ۖ ﻭَﻟِﻨَﺠْﻌَﻠَـﻪٝٓ ﺍٰﻳَﺔً ﻟِّﻠﻨَّﺎﺱِ ﻭَﺭَﺣْـﻤَﺔً ﻣِّﻨَّﺎ ۚ ﻭَﻛَﺎﻥَ ﺍَﻣْﺮًﺍ ﻣَّﻘْﻀِﻴًّﺎ ‏

( 21 مریم  ‏)

ﮐﮩﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﺎ، ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻃﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔

ﻭَﻗَﻮْﻡَ ﻧُـﻮْﺡٍ ﻟَّﻤَّﺎ ﻛَﺬَّﺑُﻮﺍ ﺍﻟﺮُّﺳُﻞَ ﺍَﻏْﺮَﻗْﻨَﺎﻫُـﻢْ ﻭَﺟَﻌَﻠْﻨَﺎﻫُـﻢْ ﻟِﻠﻨَّﺎﺱِ ﺍٰﻳَﺔً ۖ ﻭَﺍَﻋْﺘَﺪْﻧَﺎ ﻟِﻠﻈَّﺎﻟِﻤِﻴْﻦَ ﻋَﺬَﺍﺑًﺎ ﺍَﻟِﻴْﻤًﺎ ‏

( 37 الفرقان ‏)

ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺡ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﻋﺬﺍﺏ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔

5 نمونہ 

ﻗَﺪْ ﻛَﺎﻥَ ﻟَﻜُﻢْ ﺍٰﻳَﺔٌ ﻓِﻰْ ﻓِﺌَﺘَﻴْﻦِ ﺍﻟْﺘَﻘَﺘَﺎ ۖ ﻓِﺌَﺔٌ ﺗُﻘَﺎﺗِﻞُ ﻓِﻰْ ﺳَﺒِﻴْﻞِ ﺍﻟﻠّـٰﻪِ ﻭَﺍُﺧْﺮٰﻯ ﻛَﺎﻓِﺮَﺓٌ ﻳَّّﺮَﻭْﻧَـﻬُـﻢْ ﻣِّﺜْﻠَﻴْﻬِـﻢْ ﺭَﺍْﻯَ ﺍﻟْﻌَﻴْﻦِ ۚ ﻭَﺍﻟﻠّـٰﻪُ ﻳُﺆَﻳِّﺪُ ﺑِﻨَﺼْﺮِﻩٖ ﻣَﻦْ ﻳَّﺸَﺂﺀُ ۗ ﺍِﻥَّ ﻓِﻰْ ﺫٰﻟِﻚَ ﻟَﻌِﺒْـﺮَﺓً ﻟِّﺎُﻭﻟِﻰ ﺍﻟْﺎَﺑْﺼَﺎﺭِ ‏( 13 ال عمران  ‏)

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺩﻭ ﻓﻮﺟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻓﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺍﻟﻠﮧ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻗﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ۔

ہم نے اختصار کے سبب فقط بعض معنی پر ہی اکتفا کیا،

ان متعدد آیات سے یہ بات بلکل واضح ہو گئی کہ آیت کا اطلاق، نشانی، عبرت، نمونہ معجزہ پر بھی ہوتا ہے، پس کلام امام علیہ السلام کا مفہوم بلکل واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں 17000 نشانیاں یا معجزات، یا عبرت وغیرہ موجود ہیں، تو معترض  کو اس میں کون سی چیز تحریف پر دلالت کرنے والی نظر ائ؟

اور اگر فرض محال آیات سے وہ آیات بھی مراد لیا جائے جو سوروں میں موجود ہیں تب  بھی اس سے تحریف لازم نہیں آتی کیونکہ سنیوں  کے یہاں خود قرآن کی آیات کی تعداد   میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے جس کا ذکر ہم نے کیا مگر معترض کو اتنا شعور نہیں کہ وہ ہماری بات کو سمجھ سکے۔ 

ﻓﺈﻥ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ ﻗﺪ ﻭﻗﻊ ﺑﻴﻦ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﺀ ﻓﻲ ﻋﺪ ﺁﻱ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﺪَّﺍﻧِﻲُّ :

ﺃَﺟْﻤَﻌُﻮﺍ ﻋَﻠَﻰ ﺃَﻥَّ ﻋَﺪَﺩَ ﺁﻳَﺎﺕِ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ ﺳِﺘَّﺔُ ﺁﻟَﺎﻑِ ﺁﻳَﺔٍ ﺛُﻢَّ ﺍﺧْﺘَﻠَﻔُﻮﺍ ﻓِﻴﻤَﺎ ﺯَﺍﺩَ ﻋَﻠَﻰ ﺫَﻟِﻚَ ﻓَﻤِﻨْﻬُﻢْ ﻣَﻦْ ﻟَﻢْ ﻳَﺰِﺩْ ﻭَﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻣَﻦْ ﻗَﺎﻝَ : ﻭَﻣِﺎﺋَﺘَﺎ ﺁﻳَﺔٍ ﻭَﺃَﺭْﺑَﻊُ ﺁﻳَﺎﺕٍ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺃَﺭْﺑَﻊَ ﻋَﺸْﺮَﺓَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺗِﺴْﻊَ ﻋَﺸْﺮَﺓَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺧَﻤْﺲٌ ﻭَﻋِﺸْﺮُﻭﻥَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺳِﺖٌّ ﻭَﺛَﻠَﺎﺛُﻮﻥَ

علماء نے قرآن کی آیات کے متعلق اختلاف کیا ہے دانی نے کہا کہ اس پر اجماع کیا ہے کہ قرآن میں 6000 آیات ہیں اس کے بعض زیادہ کے متعلق اختلاف کیا ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں جو زیادہ نہیں کرتے بعض نے 204  و 14 و 19 و 25 و 36

 لنک

خود بسم اللہ کے متعلق شدید اختلاف ہے ایک گروہ کے نزدیک فقط دو سورتوں کا جز ہے، دوسرے گروہ کے نزدیک 113 سروں کا جز ہے، 

بعض کے نزدیک فقط ایک سورے کا جز ہے، 

نتیجہ یہ کہ فقط بسم اللہ میں ہی سنیوں  کے یہاں شدید اختلافات پائے گئے 113 کا اختلاف فقط بسم اللہ میں، 

تو اگر قرات اہل بیت علیہم السلام میں اس موجودہ قرآن کو 17000 آیات میں تقسیم کیا گیا ہو تو معترض کو اس میں تحریف کہاں نظر آگئی؟ 

یہ ان اشکالات کے جوابات تھے جو معترض نے متن پر کئے تھے جس سے خود معترض ہی مورد الزام ٹھہرا اور الحمدللہ روایت میں کوئی بھی ایسی چیز نہ دکھا سکا جو تحریف پر دلالت کرتی ہو

معترض نے پھر ایک جھوٹ بولا اور اپنے مذہب کا باطل عقیدہ ہم پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہم نے یہ بات تم پر حجت تمام کرنے کے لیے کہیں تھی کہ اگر فرض محال 17000 آیات نازل بھی ہوئیں اور اس میں سے بہت سی منسوخ ہو گئیں تو تم کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ تمہارے باطل مذہب میں خلاف قرآن ایک اصول ہے کہ آیت کی تلاوت منسوخ ہو جاتی ہے مگر اس کا حکم باقی رہتا ہے۔

اب سند کے متعلق بھی اشکالات کے جوابات دیتے ہیں، مگر اس سے پہلے یہ بتاتے چلیں کہ کلینی علیہ الرحمہ نے اس روایت کو باب نوادر میں نقل کیا ہے اور علمائے امامیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین باب نوادر میں نقل شدہ روایت کو حجت تسلیم نہیں کرتے درحقیقت اس باب میں ائ ہوئ روایت قابل احتجاج نہیں ہوتی تو اب اگر روایت کی سند صحیح بھی ہو تو تب بھی باب نوادر میں آنے کے سبب روایت حجت نہیں،  چنانچہ 

آقا بزرگ تہرانی علیہ الرحمہ عنوان نوادر کے متعلق لکھتے ہیں 

 ( النوادر ) عنوان عام لنوع من مؤلفات الأصحاب في القرون الأربعة الأولى للهجرة ، كان يجمع فيها الأحاديث غير المشهورة ، أو التي تشتمل على أحكام غير متداولة . أو استثنائية ( 1 ) ومستدركة لغيرها .

نوادر ایک عام عنوان ہے ہمارے اول چار قرنوں کے علماء اپنی تالیفات میں لائے ہیں جس میں احادیث غیر مشہورہ، یا جن پر عمل نہیں ہوتا یا مستثنیات کو لاتے ہیں 

الذّريعة إلى تصانيف الشّيعة  جلد : 24  صفحه : 315/316

لنک

شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ 

: في أبواب النوادر ، والنوادر هي التي لا عمل عليها.

أبواب نوادر، اور نوادر وہ ہے جس پر عمل نہیں ہوتا 

جوابات اهل الموصل في العدد والرؤية : الشيخ المفيد جلد : 1  صفحه : 19

لنک

ہم نے ذکر کیا تھا کہ احمد بن محمد نام کے کئی مشترک راوی ہیں اور معصر بھی ہیں لہذا اس لیے سند میں کون سا محمد بن احمد ہے پتا کرنا کچھ مشکل ہے مگر چونکہ محمد بن احمد سیاری نے یہ روایت اپنی کتاب میں عین اسی سند و متن سے نقل کی ہے اب اس کے بعد کوئی اشکال باقی نہیں رہتا کہ راوی برقی نہیں بلکہ سیاری ہی ہے اور ثانیا علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے روایت کو موثق کہا ہے موثق وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں راوی غیر امامی ہو جبکہ اگر راوی برقی مراد لیا جائے تو سند صحیح ہوگی نہ کہ موثق کیونکہ پھر سند کے تمام راوی امامی ہوں گے،

جہاں تک روایت کی سند کی توثیق کی بات ہے تو ہم سنیوں کی طرح جمود فکری کا عقیدہ نہیں رکھتے کہ جو کچھ ابو حنیفہ یا مالک یا شافعی یا احمد نے کہہ دیا بس وہ قرآن کی آیت و حدیث کی طرح ہو گیا کہ اس میں تحقیق لازم نہیں یا بخاری و مسلم کی طرح کے بس ان کی تحقیق بغیر چون چرا کہ قبول کرنی ہوگی، بلکہ ہم علمائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بے حد احترام کے قائل ہیں مگر ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہمارے یہاں باب اجتہاد ہمیشہ کے لیے کھلا ہے علماء سے سہو بھی ہوتا ہے ثواب بھی تو اپنے قانون ہم پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش نہ کرو،
ثانیا تصحیح اور تضعیف کے متعلق جو شدید اختلاف سنیوں کے یہاں ہے اس کی نظیر نہیں مثلا سیکڑوں روایات ہیں جنکو حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا مگر ذہبی نے ان کو رد کیا، کتنی ہی روایات ہیں جن کو ترمذی نے صحیح یا حسن کہا اور البانی نے ان کو ضعیف کہا، کتنی ہی روایات ہیں جن پر ابوداؤد نے سکوت کیا مگر البانی وغیرہ نے انکو ضعیف کا شعیب ارنووط نے صحیح ابن حبان کی کتنی ہی روایات کو ضعیف کہا تو کیا ان کی تحقیقات کو تناقصات میں شمار کیا جائے؟

🔴ابوھشام کی تحقیقی تحریر کا پوسٹ مارٹم🔴

!!!غور سے پڑھا جائے تو اس تحقیقی تحریر سے شیعہ عالم فاضل ابوھشام نے اپنے  چار جیّد شیعہ علماء کی علمیت، توثیق اور شرح کا ہی جنازہ نکال دیا ہے۔

♦️  معترض کم عقل ہے کہ اس روایت کو تحریف پر دلالت سمجھ لیا ہے!! یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عربی سے ناواقف ہے۔ (ابوھشام)!

اہل سنت کا جواب: معترض نے اس روایت سے جو استدلال پیش کر کے قرآن کریم میں معاذاللہ نقص ، تغییر ہوجانا اپنی طرف سے بیان نہیں کیا بلکہ علامہ باقر مجلسی نے اس روایت سے جو سمجھا وہی بیان کیا ۔

۔معترض نے اس روایت سے قرآن کریم میں معاذاللہ تحریف، قرآن کریم کا کچھ حصہ ساقط ہونا ،اپنی طرف سے بیان نہیں کیا بلکہ علامہ مازندرانی نے اس روایت سے جو سمجھا وہی بیان کیا


نتیجہ: علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی  دونوں کم عقل  اور عربی سے ناواقف تھے، اصول کافی کی اس روایت کو سمجھ ہی نہ سکے اور قرآن کریم میں نقص اور تغییر سمجھ لیا! علامہ مازندرانی نے تو اس روایت سے تحریف اور کچھ حصہ ساقط ہوجانا بھی بیان کردیا!

♦️متن کی تاویل: اس روایت میں ایسی کوئی چیز نہیں جو تحریف پر دلالت کرتی ہو! (ابوھشام)

اہل سنت کا جواب: علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی کو اس حقیقت کا ادراک نہ ہوسکا!! بلکہ زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک کسی ایک شیعہ جیّد عالم نے اس روایت کی ایسی شرح بیان نہیں کی، یہ تاریخی اعزاز صرف عالم فاضل ابوھشام کو حاصل ہوا ہے!

 ♦️ اس روایت میں لفظ “آیت” سے مختلف معنی مراد ہیں! 

علامت ظاہری، معجزہ،عبرت،نمونہ۔پس کلام امام صادق کا مفہوم واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میں 17000 نشانیاں، معجزات یا عبرت وغیرہ موجود ہیں۔ معترض کو اس میں کون سی چیز تحریف پر دلالت کرنے والی نظر آئی؟ (ابوھشام)

اہل سنت کا جواب: معترض کو چار جیّد شیعہ علماء کی تشریح تحریف قرآن کی تائید میں نظر آئی ہے۔

ان چارعلماء کی شرح کا جواب چاہئے۔

اہل سنت کی طرف سے جو استدلال پیش کیا گیا وہ روایت کے متن پر نہیں تھا بلکہ اس روایت کے ذیل میں علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی کی وضاحت پر تھا۔
ابوھشام آخر تک اپنے علماء کی وضاحتوں پر کوئی جواب نہ دے سکے!! جبکہ وہی وضاحتیں تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں۔

♦️ ابوھشام: اہل سنت کے ہاں بھی تعداد آیات میں سخت اختلاف ہے۔ بسم اللہ کے متعلق بھی شدید اختلاف ہے۔

اہل سنت کا جواب:  اہل سنت کے کسی عالم نے اس قسم کے اختلافات کو تحریف قرآن پر محمول نہیں کیا!! 

📣 اہل سنت کے ہاں تعداد آیات کے اختلاف سے قرآن کریم کی آیات تو کیا بلکہ کسی ایک لفظ کی بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے!! 

دوسری طرف اصول کافی کی اس روایت سے دو جیّد شیعہ علماء نقص، تغییر، تحریف، کچھ حصہ ساقط ہوجانا بیان کر کے تحریف کو تسلیم کر رہے ہیں۔

♦️ ابوھشام: نوادر میں وہ احادیث ہوتی ہیں جو غیر مشہور یا جن پر عمل نہیں ہوتا۔ اصول کافی کی یہ روایت بھی باب نوادر میں ہے، اس لئے قابل قبول نہیں ہے۔

اہل سنت کا جواب: علامہ باقر مجلسی باب نوادر کی اس روایت کو صحیح اور اس جیسی روایات کو متواتر معنوی اور علامہ مازندرانی بھی اس روایت کو تسلیم کہہ کر نقص ، تغییر، تحریف اور کچھ حصہ ساقط ہونا کیوں بیان کر رہے ہیں؟  دونوں علماء کو باب نوادر میں روایت کا غیر اہم ہونا معلوم نہیں تھا۔

♦️ابوھشام: احمد بن محمد نام کے کئی راوی مشترک ہیں اور معصر بھی ہیں لہاذا اس سند میں کونسا احمد بن محمد ہے یہ پتہ کرنا مشکل ہے!!

اہل سنت کا جواب: اگر راوی کا جاننا واقعی اتنا مشکل ہے تو علامہ باقر مجلسی، علامہ مازندرانی علامہ مظفر شیخ اور علامہ آیت اللہ خوئی پر فتوی لائیں کہ انہوں نے سند کی توثیق غلط کردی ہے۔ بغیر علم کے ، بغیر تحقیق کے ، بغیر شواہد اور قرینوں کے ان چاروں نے اصول کافی کی شرح لکھ کر امت میں خواہ مخواہ فتنہ و فساد ڈال دیا ہے!

♦️ابوھشام: احمد بن محمد السیاری نے یہ روایت اپنی کتاب میں عین اسی سند و متن سے نقل کی ہے، اس لئے راوی برقی نہیں بلکہ السیاری ہی ہے۔

اہل سنت کا جواب:  بالفرض آپ کی بات درست سمجھی جائے تو السیاری اسماء الرجال کے مطابق ضعیف ہے، فاسد المذہب ہے۔
مطلب چار جیّد شیعہ علماء ایک ایسی روایت کی توثیق کر رہے ہیں جس میں ایک راوی سخت ضعیف ہے!! پھر ان چاروں کی تمام توثیقات، تحقیقی کتب وغیرہ مشکوک ہوجاتی ہے!! ان چاروں کو سند  پرکھنا نہیں آتا!! انہیں راویوں کی خبر ہی نہیں کہ کون ضعیف ہے اور کون ثقہ!!!
اہم بات: اس بات کی تائید میں شیعہ جیّد علماء کا فتوی لایا جائے تاکہ یہ مؤقف تسلیم کیا جائے۔

ابوھشام: علامہ مجلسی نے اس روایت کو موثق کہا ہے، موثق وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں راوی غیر امامی ہو!

اہل سنت کا جواب:  یہ صریح جھوٹ ہے۔ علامہ باقر مجلسی  نے اس روایت کو موثق کے ساتھ ساتھ صحیح بھی کہا ہے۔ ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔

♦️ابوھشام: تصحیح اور تضعیف کے متعلق جو شدید اختلاف سنیوں کے ہاں ہے اس کی نظیر نہیں۔ علمائے اہل سنت ایک دوسرے کی صحیح کردہ روایات کا رد بیان کرتے آ رہے ہیں۔

اہل سنت کا جواب:  بالکل یہی مطالبہ اہل سنت کی طرف سے کیا گیا ہے کہ اصول کافی کی اس روایت پر اہل تشیع علماء میں بھی اگر واقعی کوئی اختلاف ہے تو ثابت کیا جائے۔ 

تحقیق کے مطابق اس روایت پر شیعہ جیّد علماء نے کوئی جرح نہیں کی، بلکہ توثیق کرتے آ رہے ہیں۔ تحریف قرآن کو معاذاللہ تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔

ابوھشام کی اپنی علمی حیثیت اتنی نہیں کہ ان کی ذاتی رائے زمانہ قدیم کے جیّد شیعہ علماء کی تحقیق کو رد کر سکے! 

📣 تصحیح و تضعیف پر اختلافات بیان کر ابوھشام کسی بھی صحیح السند روایت کا راوی بدل کر اسے اپنی ذاتی رائے سے ضعیف قرار نہیں دے سکتے۔

کیا تعداد آیات کے اختلات سے قرآن کریم میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی یا رد و بدل ہونا ظاہر ہوتا ہے؟

جبکہ سترہ ہزار آیات کے نزول سے قرآن کریم کے دو حصے ضایع ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ جسے خود شیعہ جید علماء تسلیم بھی کر چکے ہیں!

ابوھشام کے اعترافات

1: تعداد آیات سے تحریف ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ سورتوں  میں کمی نہیں ہوتی اور نہ حروف میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

2: اہل سنت بسم اللہ کی حیثیت پر اختلاف کو قرآن کریم میں تحریف نہیں سمجھتے!!

3: پہلے ایک وائس میں یہ دعوی کیا کہ احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے اور اس کی تائید شیعہ علماء سے ثابت کی جائے گی!! آخر میں اعتراف کیا کہ اس روایت کے اصل راوی کے بارے میں کوئی قرینہ موجود نہیں ہے!!

4: پہلے مؤقف اختیار کیا کہ سند معلق ہے، یعنی چار جید شیعہ عالم اتنے جاہل تھے کہ ایک معلق سند کی توثیق کردی!!! پھر اعتراف کیا کہ  معلق سند اس لئے نہیں ہے کہ اس سے پہلی روایت کی سند ہی اس روایت کی سند ہے!

بسم اللہ کی حیثیت کے اختلاف سے قرآن کریم میں کوئی تبدیلی، کمی، بیشی یا رد و بدل لازم نہیں آتی!! کوئی بھی اہل سنت عالم قرآن کریم کے کسی ایک لفظ کا انکار نہیں کرتا!!

اہل سنت کا اجماع ہے کہ قرآن کریم تحریف سے پاک کتاب ہے۔ تعداد آیات اور بسم اللہ کی حیثیت تحریف قرآن ہرگز نہیں ہے! 

ابوھشام سند کی توثیق کو رد کرنے میں ناکام رہے ، ذاتی رائے سے چار جید شیعہ علماء کی توثیق کا انکار کر کے فریق مخالف کو پکا ابوجہل، جاہل اور علم سے کورا کہتے رہے!! لیکن در حقیقت یہ سب اپنے علماء کو کہتے رہے کیونکہ توثیق اور شرح شیعہ علماء کی پیش کی گئی تھی!!

جس روایت کی توثیق چار شیعہ علماء سے پیش کی گئی اسے تسلیم نہیں کیا گیا ، بلکہ فریق مخالف کو کہا گیا کہ وہ ثابت کرے کہ اس روایت  میں السیاری راوی نہیں ہے!! جبکہ یہ شوشہ ابوھشام کا اپنا چھوڑا ہوا تھا!!

👈 ابو ھشام کی ذاتی رائے کا رد بھی اہل سنت کو کرنا ہوگا!!!  مطلب ابوھشام اپنی بات کو حرف آخرسمجھتے ہیں، اور اپنے علماء کی توثیق کو بھی خاطر میں نہیں لاتے!!

اہم سوال جس کا جواب ابو ھشام نہیں دے سکا!! 

📣 اگر اس روایت میں السیاری راوی ہوتا تو چار جید شیعہ علماء اس روایت کی توثیق کیوں کرتے۔؟؟

حضرت ابن عباس کا قول دکھا کر براہ راست اہل سنت پر تحریف قرآن کا استدلال پیش کیا گیا!! جبکہ اہل سنت نے اصول کافی سے امام کا قول پیش کرکے اہل تشیع پر تحریف قرآن کا الزام نہیں لگا یا تھا بلکہ چار شیعہ علماء سے توثیق اور تحریف قرآن کی تائید بھی پیش کی گئی تھی!

اہل سنت کے ہاں اختلاف قرآت پر کئی صحیح السند روایات موجود ہیں۔ قرآن کریم سات لہجوں میں نازل ہوا تھا، یعنی کچھ آیات میں ہم معنی مختلف الفاظ نازل ہوئے تھے ، ایسے الفاظ جن سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی پسمنظر میں ہے!! علماء اہل سنت اس قول کو تحریف قرآن پر محمول نہیں کرتے!!

دوران گفتگع ابوھشام پہلے حضرت ابن عباس کے قول کی توثیق دکھاتے رہے !!

جبکہ ان سے مطالبہ یہ کیا گیا تھا کہ اس روایت  سے علمائے اہل سنت نے تحریف قرآن کا مفہوم اگر لیا ہے تو اسے ثابت کیا جائے!!

حضرت ابن عباس اس معاملے میں فرد واحد تھے! ان کا مؤقف تحریق قرآن کے متعلق نہیں تھا اور نہ کسی اہل سنت عالم نے اس مؤقف کو تحریف پر محمول کیا!!  ابو ھشام کو تحریف ثابت کرنی تھی!!

اہل سنت کے نزدیک قرآت کا اختلاف تحریف قرآن ہرگز نہیں ہے!! حضرت ابن عباس “تستانسو”  کو “تستاذنو” سمجھتے تھے تو اس معاملے میں وہ تنہا تھے۔ اکثریت رائے تستانسو پر متفق تھی، ایک سے غلطی ممکن ہے اکثریت کا غلط ہونا محال ہے

اگر آج کوئی یہ کہے کہ فلاں آیت اس طرح نازل ہوئی تھی اور کاتب سے لکھنے میں غلطی ہوئی ہے تو کیا فتوی لگے گا؟ (ابو ھشام)

اہل سنت کا جواب:  آج کوئی کسی آیت پر کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی؟؟ دور نبوی کی بات الگ ہے، صحیح احادیث کے مطابق اس وقت مختلف قرآت رائج تھیں جن کے مطابق آیات میں ایک ہی معنی کے مختلف الفاظ ہوتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے امت مسلمہ کو قریشی لہجہ پر جمع کردیا اور قرآن کریم اسی لہجہ میں محفوظ کیا گیا۔!! اس سے تحریف کیسے ثابت ہوگئی؟؟ 

آج کوئی قرآن کریم میں ذرا برابر شک کرے گا تو اسے کافر سمجھا جائے گا کیونکہ موجودہ قرآن کریم قریشی لہجہ میں متواتر ہر زمانے میں ہمارے پاس موجود رہا ہے!!

جب سات قرآت تھیں تو اس وقت الفاظ کا فرق تحریف نہیں تھا۔ اب جبکہ امت کا اجماع ہوچکا تو اب اس قرآت سے باہر کسی کی رائے غیر اہم ہے۔ صحابہ کرام کے ذریعہ اللہ عزوجل نے اس قسم کی تمام سازشوں کا راستہ ختم کردیا ہے!

امام فخر الدین رازی نے بھی حضرت ابن عباس کے قول کو تحریف تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاذاللہ قرآن کریم میں طعن کا سبب بنتا ہے۔  غور فرمائیں!! علامہ مجلسی اور علامہ مازندرانی کی طرح یہ نہیں کہا کہ اس قول سے قرآن کریم میں نقص ہوگیا، تغییر ہوگیا یا قرآن کریم کا کچھ حصہ ساقط ہوگیا!! معاذاللہ  ثم معاذاللہ

♦️آخری قسط میں ابوھشام کی خیانتیں!

1- امام فخر الدین رازی نے قرآن کریم میں طعن کی نفی بیان فرمائی اور ابوھشام  انہی الفاظ سے یہ ثابت کرتے رہے کہ امام فخر الدین رازی حضرت ابن عباس کے اس قول سے معاذاللہ قرآن کریم میں طعن و تحریف ہوجانے کی تائید بیان کر رہے ہیں!!

2- علامہ اندلسی نے بھی قول ابن عباس کی وہی تاویل کی ہے جو امام فخر الدین رازی نے بیان کی ہے!! یعنی حضرت ابن عباس کی تائید نہیں کی اور نہ اس قول کو تحریف پر محمول کیا ہے۔!! ابو ھشام نے وائس میں یہ تسلیم بھی کیا!

3- ابن عادل الدمشقی نے بھی حضرت ابن عباس کے قول کی نفی بیان کی ہے!!  ابوھشام کو اس قول سے تحریف کی تائید ثابت کرنی تھی!!

4- ابوھشام کی اوقات دیکھیں۔ اپنی ذاتی رائے سے حضرت ابن عباسؓ ، علمائے اہل سنت اور فریق مخالف پر کفر کا فتوی لگا رہا ہے!! تمام علمائے اہل سنت نے دفاع قرآن کیا لیکن موصوف کے مطابق سب معاذاللہ کافر ہوگئے!! دوسری طرف اس عالم فاضل کو صریح اسکین دکھا کر شیعہ علماء کرام کے تحریف پر الفاظ دکھائے گئے لیکن یہ صاحب آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے بنے رہے!!

♦️ ابو ھشام کی صریح جہالت! علمائے اہل سنت پر کفر کا فتوی لگایا جائے!!

اہل سنت کا جواب: علمائے اہل سنت پر کفر کا فتوی تو اس وقت لگتا جب متن کو قبول کیا جاتا!!

تمام علمائے اہل سنت نے قرآن کریم کا دفاع کیا ہے۔ بیشک فرد واحد کے قول کی اجماع کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ موجودہ قرآن کریم پر امت کا اجماع ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس کا قول قابل حجت نہیں ہوسکتا!!

♦️ ابوھشام کا ضد راوی بخاری کے ہیں! 

اہل سنت کا جواب: راوی بخاری کے بھی ہوں تو اجماع کے خلاف ان کی روایات تسلیم نہیں کی جاتیں!! حضرت ابن عباس کا مؤقف قرآت کے اختلاف کی وجہ سے تھا۔ اہل سنت کے ہاں سات قرآت میں قرآن کریم کا نزول صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ جس لفظ پر حضرت ابن عباس کاتب کی خطا کہہ رہے ہیں وہ لفظ کسی دوسری قرآت میں پڑھا جاتا پو۔۔

ابوھشام کی دلیل اس وقت مضبوط بنتی جب وہ علمائے اہل سنت کی تائید بھی دکھاتے!! علمائے اہل سنت نے تو ابوھشام کے مؤقف کی نفی بیان کی ہے۔

👈 لیکن ابوھشام کی جہالت دیکھیں!! 

علمائے اہل سنت کا “نہ ماننا دکھا کر ظاہر یہ کرتا رہا کہ علماء اہل سنت معاذاللہ تحریف کو مان رہے ہیں!!

♦️ شیعہ عالم نے اپنی شکست کو بھانپتے ہوئے دوبارہ فریق مخالف پر ذاتی حملے کرنے شروع کئے تاکہ کسی بھی طرح ان کی جان چھوٹ جائے!!

صورت اہم ہے یا سیرت۔۔؟؟؟

صورت کے ساتھ سیرت بھی مسلمانوں جیسی ہونی چاہئے! اگر صورت مسلمانوں جیسی ہو لیکن سیرت شیطان جیسی ہو تو معافی نہیں مل سکتی!! 

لیکن اگر صورت میں کمی بیشی ہو لیکن سیرت مسلمانوں جیسی ہو تو معافی ممکن ہے!

ابلیس بھی صورت کے لحاظ سے مسلمان تھا لیکن سیرت کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہوا۔۔!!

♦️ موجودہ دور میں صرف ایک ابوھشام عالم فاضل اور عربی کے ماہر ہیں!!

غور فرمائیں! آخری قسط میں ابوھشام کا انداز بیان اور سخت لہجوں کے جوابات اور ہٹ دھرمی دکھانا اور یہ ظاہر کرنا کہ صحیح السند روایت چاہے اہل تشیع کی ہو یا اہل سنت کی !! اسے صرف ابوھشام عالم فاضل ہی سمجھ سکتے ہیں!! کسی اور عالم کو سمجھ میں آ ہی نہیں سکتی !!

اصول کافی کی ایک روایت میں سترہ ہزار آیات کا نزول ہونا اہل تشیع کے جیّد علماء کرام سمجھ ہی نہ سکے!! غلط توثیق اور غلط تشریحات بیان کرتے آ رہے ہیں!!
اہل سنت کی تفسیر الطبری کی ایک روایت میں لفظ تستانسو اور تستاذنو کی تاویل علمائے اہل سنت غلط کرتے آرہے ہیں !! یہ روایت بھی ابوھشام کے سوا کوئی سمجھ نہیں سکتا!!

تمام علمائے اہل سنت نے حضرت ابن عباس کے قول کا رد کیا ہے اور اسے طعن کا سبب کہا ہے، اس قول کی تاویل کی ہے ۔۔۔ اور عالم فاضل ابوھشام بضد رہے کہ علماء اہل سنت نے تحریف قرآن کو تسلیم کیا ہے!!

اب ایسے عالم فاضل کو کون کیسے سمجھائے!!؟؟

جو بندہ ہٹ دھرمی دکھا کر اپنے جید علماء کی توثیق کا منکر ہوجائے وہ علمائے اہل سنت کی عبارات کیا خاک سمجھے گا۔۔!

نتیجہ : ابوھشام کو اتنی عقل بھی نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع علماء کرام کی عبارات کو سمجھ سکے!!
اپنے علماء کرام کے قول اور علمائے اہل سنت کے قول کو رد کرتے ہوئے موصوف اپنی رائے کو حرف آخر سمجھا!!
ایک طرف نقص، تغییر، ساقط بعض القرآن کو تحریف قرآن سمجھنے سے انکار کیا!!

دوسری طرف تستانسو اور تستاذنو کے اختلاف کی تاویل دیکھ کر، پڑھ کر، سمجھ کر اور تسلیم کرتے ہوئے بھی بضد رہے کہ اس سے تحریف قرآن تمام اہل سنت پر ثابت ہوگئی ہے!! معاذاللہ ثم معاذاللہ

یہ تو حال ہے ابوھشام کی علمیت کا!!
جس مسلک میں ابوھشام جیسے عالم فاضل ہوں، اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت!!

علمائے اہل سنت نے تو قرآن کریم کا دفاع کیا ہے اور موصوف انہی عبارات سے تحریف قرآن کی تائید سمجھا رہے ہیں!!

اہل سنت علماء اور اہل تشیع علماء سب صحیح السند روایات کو سمجھنے سے قاصر ہیں!! ایک ابوھشام عالم فاضل اور ماہر عرب دان ہیں!!

♦️ ابوھشام نے حضرت ابن عباس پر اعتراض تو پیش کردیا لیکن علمائے اہل سنت سے تحریف کی تائید ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے!

🔴 ایک حقیقت🔴

علمائے اہل سنت نے قرآن کریم میں طعن ہوجانے کی وجہ سے قول ابن عباس کو قبول نہیں کیا اور دفاع قرآن کا حق ادا کیا ہے۔ 

حضرت ابن عباس اس قول میں منفرد ہیں اور یہ قول اجماع کے خلاف ہے اس لئے قابل قبول نہیں ہے۔

حضرت ابن عباسؓ کا قول بیشک ثابت شدہ ہے لیکن لفظ  تستانسو اور لفظ  تستاذنو کی معنی یکساں ہیں، اور یہ اختلاف دراصل قرآت کا اختلاف ہے۔

علمائے اہل سنت نے اس قول سے معاذاللہ تحریف قرآن کو بیان ہی نہیں کیا۔۔!!

یہ تھے ابو ھشام کے محکم دلائل ہیں!!

👈 صرف سند صحیح دکھا کر یہ ثابت کرتا رہا کہ اہل سنت بھی تحریف کے قائل ہیں، حالانکہ علمائے اہل سنت نے اس قول کو غریب کہہ کر ، طعن کا سبب کہہ کر قرآن کریم کا دفاع کرتے آ رہے ہیں!

اگر سند صحیح ہو لیکن متن اجماع کے خلاف ہو، اس متن کے خلاف قرآن و صحیح احادیث یا دوسرے مضبوط قرینے موجود ہوں تو متن قبول نہیں کیا جاتا ، حضرت ابن عباس کا قول فرد واحد کا قول بالمقابل اجماع ہے ، اس لئے اس کی تاویل کی جائے گی، دفاع قرآن کیا جائے گا۔

جبکہ دوسری طرف قول امام صادق سے سترہ ہزار آیات کے نزول کو شیعہ جید علماء نے قبول بھی کیا ہے اور اس سے قرآن کریم میں معاذاللہ نقص، تغییر اوراسقاط بعض القرآن کو بھی بیان کیا ہے!!

♦️ بیشک اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں۔

دلیل: اصول کافی کی صحیح السند روایت

متن: قرآن کریم میں سترہ ہزار آیات۔

چار جید شیعہ علماء کرام کی توثیق بمعہ تحریف القرآن کا اثبات!!  

ابو ہشام کی دلیل اور اسکین میں خیانت:

حضرت ابن عباس کا قول لفظ تستانو کی جگہ لفظ تستاذنو

ابوھشام کی طرف سے یہ اسکین پیش کیا گیا تھا۔

غور سے دیکھیں۔۔ اس اسکین کے حاشیہ کو کمال فنکاری سے چھپاتے ہوئے تفسیر طبری کے سرورق کو لگادیا گیا ہے تاکہ حاشیہ میں بیان کیا گیا مؤقف سامنے نہ آسکے!!

حاشیہ میں کیا بیان کیا گیا ہے؟؟؟ ملاحظہ فرمائیں۔

 

👈 بار بار کہا گیا کہ دلیل اور استدلال علمائے اہل سنت سے ثابت کیا جائے لیکن عالم فاضل ابو ھشام اختتام تک اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے رہے!

📣 ابوھشام کی طرف سے لرزہ خیز اعترافات

1- موجودہ قرآن کریم تحریف شدہ ہے!!

36000 آیات موجودہ قرآن کریم سے ضایع کردی گئیں!! خلفاء نے انہیں لکھا ہی نہیں!! (ابوھشام)

عام قارئین کے لئے ان کے جملے کی وضاحت کی جاتی ہے۔

ابوھشام کے مطابق سات حروف/سات قرآت قرآن کا نزول ہوا تھا، ہر ایک قرآت والا قرآن چھ ہزار کے آس پاس آیات پر مشتمل تھا۔

موجودہ قرآن کریم ایک قرآت قریشی پر مشتمل ہے۔ دوسری تمام قرآت کو صحابہ کرام نے ختم کردیا تھا۔ 

ابوھشام کے مطابق سات قرآت میں سے ایک قرآت کو باقی رکھا گیا ، باقی چھ قرآت (فی حصہ 6000 آیات) یعنی

36000 ہزار آیات معاذاللہ ضایع کردی گئیں!! صحابہ کرام نے قرآن میں لکھی ہی نہیں۔۔!!! مطلب موجودہ قرآن کریم معاذاللہ تحریف شدہ ہےَ!!

🔴اصل حقیقت🔴

اہل سنت کے نزدیک سات حروف مل کرایک قرآن نہیں بنتا بلکہ ہر ایک حرف اپنی جگہ مکمل قرآن کریم ہے، کیونکہ ہر قرآت میں آیات وہی ہیں صرف کچھ آیات میں کچھ الفاظ کا فرق تھا جو کہ ہم معنی الفاظ ہی تھے یعنی تمام حروف کے قرآن میں آیات ایک جیسی تھیں اور مفہوم بھی ایک۔

2۔ علمائے اہل سنت حضرت ابن عباس کے قول کی مخالفت بیان کر رہے ہیں! (ابوھشام)

ابوھشام نے حضرت ابن عباس کے قول سے تحریف قرآن ثابت کرنے کے لئے جن علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کیے ان سب میں تحریف کے اقرار کے بجائے تحریف کی نفی بیان کی گئی ہے اور تاویلات بیان کی گئی ہیں ، خود ابوھشام نے وائسز میں اس کا اعتراف بھی کیا۔

اہل سنت کا دوٹوک مؤقف

قرآن کریم میں رد و بدل کا قائل بھی کافر ہے۔ موجودہ قرآن کریم ہر دور میں متواتر چلا آ رہا ہے۔ اس قرآن کریم پر امت کا اجماع ہے!! اگر کوئی بدبخت موجودہ قرآن کریم میں ذرا برابر بھی شک کرے گا تو وہ اپنے ایمان کی فکر کرے۔

آج اگر کوئی قرآن کریم میں ذرا برابر شک کرے گا تو وہ کافر ہے کیونکہ  اجماع کا منکر ہے! قرآن کی اس آیت کا منکر ہے جس میں اللہ عزوجل نے  قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے!

♦️ حضرت ابن عباس کا قول صحیح السند ہے۔(ابوھشام)

یاد رہے کہ اہل سنت کی طرف سے سند پر اشکال پیش نہیں کیا گیا تھا، ابوھشام اصول کافی کی روایت کا علمی رد نہ کر پائے اس لئے خفت مٹانے اور اپنے شیعوں کی تسلی کے لئے سند کو صحیح ثابت کر کے خوش ہوتے رہے ، جبکہ سند کو صحیح ثابت کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں!! دلیل کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ سند ، متن اور استدلال کی تائید جیّد علمائے کرام سے ثابت ہو۔

ابوھشام کی فاش غلطی!

ابوھشام اپنے ٹرن میں چار پانچ وائسز اور چار تفصیلی تحاریر پیش کرنے کے بعد ختم شد لکھا تاکہ فریق مخالف جوابات دینا شروع کرے۔

اہل سنت کی طرف سے جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے اہم نکات پر مشتمل تحریر پیش کی گئی۔

اس کے بعد اصول کافی کی روایت کی توثیق دوبارہ پیش کی گئی۔

اگرچہ ابوھشام اپنا ٹرن مکمل کرچکے تھے ، لیکن فریق مخالف کے انداز سے سمجھ گئے کہ تین دن کا وقفہ بھی کچھ کام نہ آیا، گفتگو کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں۔۔ پھر وہی ہوا جو عام طور پر شیعہ کرتے ہیں۔۔ !!

فریق مخالف کے ٹرن میں زبردستی کی دخل اندازی اور ان وائسز میں ابوھشام کی جاہلانہ باتیں!!

♦️ فریق مخالف کو ڈانٹتے ہوئے کہا: شارحین اصول کافی پر بات نہ کریں، اپنی بات کریں! (ابوھشام)

👈 اہل سنت کی طرف سے پیش کی گئی اصول کافی کی روایت پر استدلال اصل میں شارحین اصول کافی کی قابل اعتراض وضاحتیں ہی تھیں۔
ابوھشام خود تو ان پر بات کرنے کو تیار ہی نہ تھے بلکہ فریق مخالف کو بھی زبردستی روکتے رہے۔

فریق مخالف کی شکل پر بارہ بج رہے ہیں! (ابوھشام)
اس قسم کے ذاتی حملے ابوھشام پہلے دن سے آخری دن تک بلکہ آخری وائسز میں بھی کرتے رہے!
اہل سنت کی طرف سے حتی الامکان کوشش کی گئی کہ ان کی عزت کی جائے اور کوئی توہین آمیز گفتگو نہ ہو۔

غور طلب بات یہ ہے کہ فریق مخالف کی صورت واقعی پسند نہ تھی تو یہ گفتگو شروع ہی کیوں کی گئی؟؟
جب گفتگو میں ابوھشام بری طرح پھنس گئے اور اپنی عزت بچانا بھی ممکن نہ رہا تو یہی بہانہ ہاتھ آگیا کہ فریق مخالف کو فاسق کہہ کر خود کو مؤمن قرار دیا جا سکے!!

بحرحال۔۔۔حجت تمام کرتے ہوئے  اہم نکات  دوبارا پیش کردئے گئے اور آخری وائس میں ابوھشام کو ان کی غلطیاں بتا کر گروپ چھوڑ دیا گیا۔

🔴میری دلیل کا کمزور رد🔴
1️⃣ تاویل 👈 سترہ ہزار آیات کا مطلب سترہ ہزار نشانیوں کا نزول
رد: اگر روایت میں لفظ آیت کا مطلب نشانی ہے تو علامہ مجلسی نے نقص اور تغیر کے الفاظ کیوں بیان کئے؟
علامہ مازندرانی نے یہ کیوں بیان کیا کہ بعض قرآن کا ساقط ہونا اور قرآن میں تحریف ہونا تواتر سے ثابت ہے؟
2️⃣ تاویل 👈 قرآن کریم کے تین حصوں میں سے دو حصے منسوخ ہوگئے!! بعد میں خود ہی اس تاویل کا انکار 👈 ناسخ و منسوخ کا تصور اہل تشیع کے ہاں موجود ہی نہیں ہے۔

🔴نتیجہ : متن کی تاویل 👈 ابھی تک نہیں کی جاسکے۔
سند پر اعتراض:
راوی احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے، جو کہ ضعیف ہے۔
♦️پہلے کہا گیا کہ شیعہ علماء سے ثابت کیا جائے گا کہ راوی السیاری ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ اصل راوی کون ہے ، کوئی نہیں جانتا، کوئی قرینہ موجود نہیں ہے!!
♦️اگر راوی اتنا مشکوک تھا تو چار جیّد علماء کرام نے اس روایت کی توثیق و تائید کیسے بیان کردی؟؟
دلیل: احمد بن محمد السیاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔
رد: السیاری کا اپنی کتاب میں اس روایت کا بیان کرنا ضعیف ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔
اشکال: اصول کافی کی روایت کی توثیق کئی شیعہ علماء کرام کرچکے ہیں۔ اگر راوی السیاری ہوتا تو اس کی توثیق کرنا ممکن نہیں تھا، اس سے واضح ہوتا ہے راوی السیاری نہیں ہوسکتا۔
👈 شیعہ جیّد علماء کرام کی توثیق کا انکار ذاتی رائے سے کرنے کے بجائے اقوال علماء کرام پیش کرنا ضروری ہے۔
⁉️ علامہ مجلسی اور دوسرے علماء کرام کی توثیق دراصل اجتہادی خطا ہے اور ان کی تصحیح شیعہ علماء کرام سے دکھائی جائے۔

وڈیو ڈاؤن لوڈ کریں

آڈیو ڈاؤن لوڈ کریں