مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 3

قسط 3 کا خلاصہ

🔴 اصول کافی کی روایت پر اہل سنت کا استدلال 🔴

علامہ باقر مجلسی، علامہ زندرانی اور دوسرے جید علماء کی توثیقات اور وضاحت کے مطابق یہ قول امام صحیح ہے اور موجودہ قرآن کریم میں نقص، تغییر اور کچھ حصہ ساقط کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ قرآن کریم میں سترہ ہزار آیات نہیں ہیں۔ 

دیکھیں مرآت العقول کے اسکینز

اسکین 1 

اسکین 2

اہم سوال:  کیا علامہ باقر مجلسی کو یہ اصول معلوم نہ تھا کہ قرآن کے خلاف روایت دیوار پر ماری جاتی ہے؟ مسلمات کے خلاف روایت کی توثیق کیوں کی گئی؟ اور قرآن کے خلاف متن کی تاویل کرنے کے بجائے یہ بیان کیا کہ اس قسم کی دوسری روایات عقیدہ امامت کی طرح متواتر ہیں، قرآن میں نقص اور تغیر کے ہونے کا ذکر کیوں کیا گیا؟ معاذاللہ

شیعہ عالم ابوھشام کی طرف سے اہل سنت کی دلیل کا رد

– ذاتی حملے،  استدلال میری ذاتی رائے قرار دینا۔

جبکہ استدلال میں بطور تائید شیعہ جید علماء کرام کی تشریحات پیش کی گئی تھیں۔ 

شیعہ عالم ابوھشام نے اہل سنت کی دلیل کو کئی طریقوں سے رد کرنے کی کوشش کی۔

1️⃣ سند پر اشکال:

اصول کافی کی یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے۔ 

ابو ھشام کی دلیل: السیاری کی کتاب میں اس روایت کا موجود ہونا۔

احمد بن محمد “السیاری” راوی شیعہ اسماء الرجال کے مطابق ضعیف ہے! (ابوھشام)

اہل سنت کا جوابی رد:

کیا علامہ مجلسی اور علامہ مازندرانی کو راوی السیاری کا معلوم نہ تھا؟؟

بغیر دلیل کے اپنی ذاتی رائے سے ابوھشام کی طرف سے جید شیعہ علماء کرام کی تصحیح کو رد کرتے ہوئے ایک راوی کو بدلنے کی کوششیں!!

ابوھشام نے ذاتی رائے سے چار جید شیعہ علماء کو  خطاوار قرار دے دیا!!

1- علامہ باقر مجلسی (تیرہویں صدی)

2- الشیخ عبدالحسین المظفر ( چودھویں صدی)

3- علامہ محمد صالح المازندرانی (گیارہویں صدی)

4- علامہ آیت اللہ خوئی (گیارہویں صدی)

ابو ھشام کو اتنی اہم خبر (کہ راوی السیاری ہے) کس ذریعہ سے ملی؟؟

شیعہ عالم ابوھشام: اہل سنت کے ہاں بھی کئی روایات میں راویوں کے ایک جیسے ناموں پر مختلف علماء میں اختلافات ہیں۔

اہل سنت کے ہاں کسی محقق نے صرف ذاتی رائے سے کسی روایت کے راوی کو نہیں بدل دیا!! بلکہ اس کے  متعلق واضح قرینے، شواہد اور مختلف ثبوت بطور دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔

اس لیے ابوھشام بھی ذاتی رائے دینے کے بجائے دوسرے شیعہ جید علماء سے اقوال، واضح شواہد ، قرینے بطور دلائل پیش کرے تاکہ یہ تسلیم کیا جائے کہ چار جید شیعہ علماء سے اس روایت کی سند اور متن دونوں میں غلطی ہوگئی ہے، نہ صرف سند کو صحیح کہہ دیا ہے بلکہ متن سے بھی قرآن کریم میں تحریف کا مطلب بیان کردیا ہے!!

کسی مصنف کا اپنی کتاب میں کوئی روایت شامل کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ مصنف بھی اس روایت کی سند میں ہوگا۔ راوی اگر السیاری ہے تو کس شیعہ عالم نے اس کی نشاندہی کی ہے؟

شیعہ عالم ابوھشام کا جواب: شیعہ علماء نے السیاری کا اس روایت میں موجود ہونا ذکر کیا ہے، آگے ثابت کیا جائے گا۔

📣 حقیقت:

ابو ھشام نے آخر تک ثابت نہیں کیا بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے کہ اس روایت میں راوی السیاری ہے۔

مطلب چار جید شیعہ علماء کی تائید ہوگئی کہ یہ روایت صحیح السند ہے۔

2️⃣ متن پر اشکال:  

♦️لفظ آیت اس روایت میں بمعنی نشانی ہے۔ (ابوھشام)

جواب: اگرآیت کا مطلب نشانی ہوتا تو شیعہ جید علماء کرام کا یہ مؤقف نہ ہوتا:

قرآن میں نقص، تغیر، قرآن کریم کا بڑا حصہ ساقط (معاذاللہ)

اہم سوال: اگر اصول کافی کی اس روایت میں لفظ آیت سے مراد اللہ عزوجل کی نشانیاں ہوتیں تو شیعہ جید علماء بشمول علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی نے وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم میں نقص، تغیر اور ساقط ہونے کے الفاظ کیوں بیان کئے۔!!؟؟ 

ایک عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ عزوجل کی سترہ ہزار نشانیوں سے قرآن کریم میں نقص یا تغییر نہیں ہوتا! 

غور طلب نکتہ: چار جید شیعہ علماء نے اس روایت میں لفظ “آیت” کے معنی و مفہوم “نشانیاں” بیان نہیں کیا بلکہ صریح تحریف قرآن کا مفہوم تسلیم کیا ہے!! اس لئے ان چاروں علماء کی مذمت اور اس روایت کا دوسرا مفہوم شیعہ معتبر علماء سے ثابت کئے بغیر اہل سنت استدلال رد نہیں کیا جا سکتا!!

شیعہ عالم ابوھشام: اصول کافی کی اس روایت کی تشریح تمام شیعہ علماء غلط کرتے آ رہے ہیں!! 

جواب: اگر اس روایت میں لفظ “آیت” کا مطلب نشانی ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دور قدیم سے دور جدید تک تمام شیعہ علماء اس روایت کو سمجھنے سے قاصر رہے!!!   

علامہ کلینی نے اس روایت کو باب نوادر میں لکھا ہے، اور باب نوادر کی روایات عقائد میں قابل قبول نہیں ہوتیں۔ (ابوھشام)

جواب: باب نوادر کی روایات قابل قبول نہیں ہوتیں تو یہ نکتہ شیعہ جید علماء کرام نے بیان کیوں نہیں کیا؟

علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی بھی باب نوادر کی روایت کی توثیق اور شرح میں نقص، تغییر اور ساقط بعض القرآن جیسے الفاظ بیان کرکے جہالت کا مظاہرہ کرتے رہے!! کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ باب نوادر کی روایات قبول نہیں کی جاتیں!؟

اس نکتہ کو بھی شیعہ کتب سے ثابت کیا جائے۔

♦️ علامہ مجلسی نے تحریف معنوی کا ذکر کیا ہے۔ (شیعہ عالم ابوھشام)

غور طلب نکتہ: تحریف معنوی (تفسیر بالرائے) سے قرآن کریم میں نقص یا تغیر نہیں ہوجاتا ، یا قرآن کریم کا کچھ حصہ ساقط نہیں ہوجاتا۔ صاف ظاہر ہے کہ علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی نے اپنی وضاحت سے تحریف لفظی کو تسلیم کیا ہے۔

علامہ مجلسی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔ (شیعہ عالم ابوھشام)

اہم سوال: اگر علامہ مجلسی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں تو سترہ ہزار آیات کو صحیح قرار دے کر قرآن کریم میں نقص اور تغییر کیوں بیان کیا؟

علامہ مجلسی کو اس روایت کی تاویل بیان کرنی چاہئے تھی۔ یہ عین ممکن ہے کہ قرآن پر ایمان تقیہ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہو۔

3️⃣ علامہ مجلسی کی مرآة العقول (شرح) قابل حجت کتاب نہیں ہے:

♦️ اصول کافی کی سب سے معتبر شرح مرآة العقول ہے۔

اس شرح کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ علامہ مجلسی نے  اپنی شرح کافی میں ہر حدیث کی اسنادی حیثیت کا بھی تعین کر دیا ہے اور ضعیف ، صحیح ، موثق یا قوی کی وضاحت کردی ہے۔ یاد رہے کہ حسن ، موثق اور قوی روایت صحیح روایت  کے مانند ہوتی ہیں اور قابل استدلال ہوتی ہے۔

🔴ابوھشام کے اعترافات🔴  

اہل تشیع کے ہاں ہر دور میں علماء اجتہاد کیا کرتے ہیں!! ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے اور وہ علماء صحیح و ضعیف کو جدا کرتے ہیں!!

مطلب جس کی جو مرضی جس شیعہ عالم کے اجتہاد پر دین ایمان بنالے!! 

♦️اہل تشیع جیّد عالم علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی تحریف قرآن کے قائل!

علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی نے اصول کافی کی اس روایت کی توثیق اور وضاحت کر کے خود کو تحریف قرآن کا قائل ظاہر کردیا اور ابو ھشام نے اس بناء پر انہیں خطائے اجتہادی قرار دے کر دفاع کرنے کی کوشش کی۔

4️⃣ موجودہ قرآن میں سترہ ہزار آیات اس لئے نہیں ہیں کہ وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ اہل سنت ناسخ و منسوخ کے قائل ہیں اس لئے یہ روایت تحریف پر دلالت نہیں کرتی۔(ابوھشام)

غور طلب نکتہ: اہل تشیع ناسخ و منسوخ اور قرآت کے اختلاف کے قائل نہیں ہیں۔ شیعہ عالم ابوھشام نے خود اپنی تاویل کو رد بھی کیا کہ ہم سرے سے ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں ہیں۔

اہل سنت مطالبہ:  بالفرض اگر یہ تاویل درست بھی ہے تو اس کی تائید کسی شیعہ جیّد عالم سے دکھانی پڑے گی، اس طرح ابوھشام کی ذاتی رائے ناقابل قبول ہے۔

آخر میں ابوھشام نے اہل سنت کو تحریف قرآن کا قائل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تفسیر طبری سے ایک دلیل پیش کی۔

ابو ھشام کا استدلال: اہل سنت کی ایک صحیح السند روایت کے مطابق حضرت ابن عباس تحریف قرآن کے قائل تھے کیونکہ سورت النور آیت 27 میں لفظ تستانسو کی جگہ تستاذنو سمجھتے تھے اور کتابت کی غلطی خیال کرتے تھے۔ اس لئے حضرت ابن عباس اور جن جن علمائے اہل سنت نے اس روایت کی تصحیح کی ہے وہ سب بھی تحریف قرآن کے قائل ہوجاتے ہیں! (معاذاللہ ثم معاذاللہ)

جواب: جس طرح اہل سنت کی طرف سے پیش کی گئی اصول کافی کی دلیل پر استدلال میں بطور تائید چار شیعہ جیّد علماء کے اقوال پیش کئے گئے ہیں ، اسی طرح اہل تشیع کو بھی اپنے استدلال کی تائید میں علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کرنے چاہئیں کہ علمائے اہل سنت حضرت ابن عباس کے اس قول سے تحریف کا مطلب سمجھتے تھے یا اس قول کی تاویل کرتے ہیں،  تاکہ اہل تشیع کا استدلال درست سمجھا جائے۔

اس کے بعد تحریف قرآن پر جاری گفتگو نہایت اہم موڑ پر پہنچ گئی۔ مزید اہم انکشافات ،  دلائل اور رد قسط 4 میں ملاحظہ فرمائیں۔

وڈیو ڈاؤن لوڈ کریں

آڈیو ڈاؤن لوڈ کریں

(جاری ہے)