مسئلہ تحریف قرآن اور علامہ باقر مجلسی

28 – علي بن الحكم، عن هشام بن سالم (2)، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال:

إن القرآن الذي جاء به جبرئيل (عليه السلام) إلى محمد (صلى الله عليه وآله) سبعة عشر ألف آية

الکافی جلد 2 ص 634

ترجمہ ملاحظہ فرمائيں:

28- علي بن حکم ہشام بن سالم سے روايت کرتے ہيں وہ ابو عبد اللہ عليہ السلام سے روايت کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا: وہ قرآن جسے جبريل محمد صلى اللہ عليہ وسلم کے پاس لے کر آئے وہ سترہ ہزار آيات پر مشتمل تھا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــ

اٹھائيسويں حديث : اسکي توثيق کي گئي ہے , اور بعض نسخوں ميں ہارون بن مسلم کي جگہ ہشام بن سالم کا نام ہے۔ لہذا يہ روايت صحيح ہے , اور يہ بات پوشيدہ نہيں کہ يہ روايت اور بہت سي صحيح روايات قرآن مجيد ميں کمي اور تحريف پر صراحت کرتي ہيں ۔ اور ميرا موقف يہ ہے کہ اس موضوع کي روايات متواتر معنوي ہيں , اور اگر ان تمام روايات کو چھوڑ دينا (تسليم نہ کرنا ) ہر قسم کي روايات سے اعتماد کو کليۃ ختم کر ديتا ہے ۔ اور ميرا گمان يہ ہے کہ اس موضوع کي روايات امامت والي روايات سے کم نہيں ہيں , تو لوگ اس (امامت) کو روايات کے ذريعہ کيسے ثابت کرتے ہيں (اگر تحريف قرآن کو نہيں مانتے تو)

اہم نکات

1️⃣  اخبار بھی صحیح روایت کو ہی کہا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اخبار روایت ایک دو راویوں کی ہوتی ہیں۔

  2️⃣ علامہ باقر مجلسی نے ان اخبار روایت کو بھی متواتر کہا ہے، مطلب شیعہ کتب میں تحریف قرآن پر اتنی ساری صحیح اور صریح روایات موجود ہیں کہ اخبار ہونے کے باوجود متواتر ہیں۔ معنوی اس لئے کہا کیونکہ الگ الگ الفاظ سے بیان کی گئی ہیں لیکن مفہوم وہی ہے کہ تحریف قرآن کی گئی ہے۔ معاذاللہ

3️⃣ اخبار روایات اگر غلط ہوتیں تو علامہ باقر مجلسی ان روایات کے لئے متواتر، صحیح اور صریح جیسے الفاظ کیوں استعمال کرتے؟

4️⃣ اور یہ بھی کیوں کہتے کہ تحریف کی روایات کو تسلیم نہ کیا گیا تو امامت کی روایات بھی قابل اعتبار نہیں رہیں گی۔!!!

5️⃣ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رافضی تحریف قرآن کی روایات کی تاویل کر کے رد کریں گے تو پھر شیعہ کے اہم ترین عقیدہ امامت کی بھی دھجیاں بکھر جائیں گی۔!!!

🔴 علمی گفتگو میں رافضی اس دلیل کا رد بحار الانوار سے کرتے ہیں اور علامہ باقر مجلسی کے قول کو تفسیری نقص کہہ کر تاویل کرتے ہیں

الجواب:

اس میں اخبار احاد کا ذکر ہے۔ کہاں لکھا ہے کہ تحریف قرآن پر اخبار الصحیحہ کی روایات تفسیری نقض ہیں؟

اس کے باوجود علامہ مجلسی نے واضح لکھا ہے کہ تحریف قرآن پر اتنی صحیح روایات ہیں کہ ان کا انکار کیا گیا تو عقیدہ امامت کی روایات سے بھی اعتبار اٹھ جائے گا۔

دیکھیں علامہ مجلسی جیّد شیعہ عالم ہیں۔ اتنی اہم بات وہ بغیر تحقیق نہیں لکھ سکتے۔ بلکہ انہوں نے امامت کی روایات سے تحریف قرآن کی روایات کا تقابل کر کے یہ کہا ہے کہ اگر تحریف کی روایات کا انکار کیا گیا تو امامت کی روایات سے بھی ہاتھ اٹھانا پڑے گا۔

کیا علامہ مجلسی کوئی عام عالم ہے؟ اس نے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی؟

  وہ بھی اتنے واضح الفاظ میں۔۔ صاف صاف لکھ رہے کہ بہت ساری صحیح روایات قرآن پاک میں کمی اور تحریف پر صراحت کرتی ہیں۔

♦️ اہل سنت کے کسی ایک عالم نے یہ نہیں کہا کہ تحریف قرآن پر صحیح اور صریح روایتیں موجود ہیں بلکہ اتنی روایات موجود ہیں کہ متواتر معنوی کا درجہ رکھتی ہیں یعنی ان روایات کے الفاظ الگ لیکن مفہوم ایک ہی ہے 👈 تحریف قرآن ہے۔

♦️ دوسری بات اہل سنت کی روایات اختلاف قرآت یا ناسخ و منسوخ سے تعلق رکھتی ہیں۔ جس روایت کو بھی چیک کریں گے وہ اسی کے متعلق ہوگی۔

مسئلہ تحریف قرآن اور علامہ باقر مجلسی” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں