مسئلہ باغ فدک اور تضادات (توقیراحمد)

مسئلہ باغ فدک اور تضادات

تالیف وتصنیف  توقیر احمد
بنام شیخ الحدیث مفتی عبدالعزیز عزیزی دامت برکاتھم 

🏵اغراض مقاصد
🏵مقدمہ
🏵تمہید
🏵باغ فدک کا محل وقوع
🏵باغ فدک میں خلفاءثلاثہؓ حضرت علی ؓاورحضرت حسنؓ کا طریق

🏵 حضرت علیؓ نے کیوں وہی طریق اختیار کیا
🏵انبیاءؑ کسی کو مال کا وارث نہیں بناتے
🏵ناراضگی فاطمةالزہراء
🏵انبیاءؑ کی وراثت مال نا ہونے کی حکمت
🏵فقہاء اہل تشیع کے نزدیک عورت زمین و غیر منقولہ جائیداد میں وارث نہیں ہوتی
🏵استلال اہل  تشیع پہلی آیت
🏵استدلال اہل تشیع دوسری آیت
🏵استدلال اہل تشیع تیسری آیت
🏵ہبہ باغ فدک کا دعوی
🏵فقہی مسلہ
🏵اہل سنت کی کتابوں میں روایات ہبہ فدک اور اس کا جواب
🏵اہل تشیع کی اپنی روایات میں تضاد اور تناقص

اغراض مقاصد
حضرت ابوبکر ؓ پر غصبِ باغِ فدک کے الزام کی  وضاحت کرنا تاکہ عوام اہل سنت کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات دور کیے جا سکیں
سوشل میڈیا پر بھر پور انداز میں باغ فدک کے موضوع پر ہونے والے پروپیگنڈہ کی وضاحت کرنا
اور اس کو اصولی طور پر وقف ثابت کرنا تاکہ عوام اہل سنت کو پتہ چلے کہ یہ دشمن اصحابؓ رسول اللہ ؐ کا غلط پروپیگنڈہ ہے
اللہ تعالی سے دعا ہے اس حقیر کی کوشش کو قبول فرماے آمین ۔
والسلام  توقیر احمد

 : مقدمہ۔
باب
🏵 (الفئ والأنفال وتفسير الخمس وحدوده وما يجب فيه)
إن الله تبارك وتعالى جعل الدنيا كلها بأسرها لخليفته حيث يقول للملائكة:
” إني جاعل في الأرض خليفة ” فكانت الدنيا بأسرها لآدم وصارت بعده لابرار ولده وخلفائه فما غلب عليه أعداؤهم ثم رجع إليهم بحرب أو غلبة سمي فيئا وهو أن يفئ إليهم بغلبة وحرب وكان حكمه فيه ما قال الله تعالى: ” واعلموا أنما غنمتم من شئ فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل ” فهو لله وللرسول ولقرابة الرسول فهذا هو الفئ الراجع وإنما يكون الراجع ما كان في يد غيرهم، فأخذ منهم بالسيف وأما ما رجع إليهم من غير أن يوجف عليه بخيل ولا ركاب فهو الأنفال، هو لله وللرسول خاصة، ليس لأحد فيه الشركة وإنما جعل الشركة في شئ قوتل عليه، فجعل لمن قاتل من الغنائم أربعة أسهم وللرسول سهم و الذي للرسول صلى الله عليه وآله يقسمه على ستة أسهم ثلاث له وثلاث لليتامى والمساكين وابن السبيل وأما الأنفال فليس هذه سبيلها كان للرسول عليه السلام خاصة وكانت فدك لرسول الله صلى الله عليه وآله خاصة، لأنه صلى الله عليه وآله فتحها وأمير المؤمنين عليه السلام، لم يكن معهما أحد فزال عنها اسم الفئ ولزمها اسم الأنفال وكذلك الآجام  والمعادن والبحار والمفاوز هي للامام خاصة، فإن عمل فيها قوم باذن الامام فلهم أربعة أخماس وللامام خمس والذي للامام يجري مجرى الخمس ومن عمل فيها بغير إذن الإمام فالامام يأخذه كله، ليس لأحد فيه شئ وكذلك من عمر شيئا أو أجرى قناة أو عمل في أرض خراب بغير إذن صاحب الأرض فليس له ذلك فإن شاء أخذها منه كلها وإن شاء تركها في يده
🏵علي بن إبراهيم، عن أبيه قال: كنت عند أبي جعفر الثاني عليه السلام إذ دخل عليه صالح بن محمد بن سهل وكان يتولى له الوقف بقم 

 فقال يا سيدي اجعلني من عشرة آلاف في حل، فإني أنفقتها، فقال له: أنت في حل، فلما خرج صالح، قال أبو جعفر عليه السلام: أحدهم يثب على أموال حق آل محمد وأيتامهم ومساكينهم و فقرائهم وأبناء سبيلهم فيأخذه ثم يجئ فيقول: اجعلني في حل، أتراه ظن أني أقول: لا أفعل، والله ليسألنهم الله يوم القيامة عن ذلك سؤالا حثيثا.
الکافی ج1۔538۔548
اس باب میں 28 روایات مذکور ہیں فدک بھی مال فئ
🏵تمہید
اہل تشیع حضرات باغ فدک کے مسلے کو لے کر اصحابؓ رسول اللہؐ پر خصوصا خلفاءراشدین پر الزام لگاتے ہیں اورسیدھے سادھے سنی حضرات کو صحابہؓ سے بدظن کرتے ہیں اور یہ سارا فتنہ جہاں کتابوں تک محدود تھا اب اس کے زریعے سے سوشل میڈیا پر بھر پور طریقے سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے جس کے صدباب کے لیے ہم نے اصحاب محمدؐ کے دفاع کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے اور جو حوالے دیے ہیں وہ بھی کوشش کی گئی ہے تمام کے تمام  

کتابوں کے بجاے

سے ishiabooks app

دیے جائیں اور ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ کتابوں کے زیادہ حوالے بھی شیعہ کی کتابوں سے ہوں اللہ کریم سے قبولیت کی دعا ہے ۔۔۔۔
توقیر احمد
فدک کا محل وقوع
1..فدك: قرية في الحجاز، بينها وبين المدينة يومان، وقيل ثلاثة، وهي أرض
يهودية في مطع تاريخها المأثور  وكان يسكنها طائفة من اليهود، ولم
يزالوا على ذلك حتى السنة السابعة حيث قذف الله بالرعب في قلوب أهليها
فصالحوا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على النصف من فدك وروي أنه صالحهم عليها
كلها
یاقوت حموی۔معجم بلدان  
2۔۔۔فدک منطقہ حجاز میں مدینہ سے تقریبا160

 کلو میٹر کے

 فاصلے پر واقع ہے،
👈یاقوت حموی، معجم البلدان،    . 1995ج 4/238
3..جہاں اس وقت “الحائط” شہر آباد ہے۔
👈 جعفریان، آثار اسلامی مکہ و  مدینہ، ص396
4..سنہ 1975عیسوی میں یہ شہر 21 دیہات پر مشتمل تھا جبکہ سنہ 2010عیسوی کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی کل آبادی تقریبا 14000 نفوس ہے۔
فدک میں صدر اسلام کے دور میں یہودی آباد تھے
👈بلادی، معجم معالم الحجاز،   1331ق، ج2، ص206و 205و ج8 ص23
5..اور  اس علاقے کی سٹرٹیجک محل وقوع کو مد نظر رکھتے ہوئے یہودیوں نے اس علاقے کو فوجی علاقہ قرار دیا ہوا تھا۔
👈سبحانی حوادث سال ہفتم ہجرت: سرگذشت فدک 1344 ش، ص14
6..تاریخی منابع کے مطابق اس علاقہ میں عمر ابن خطاب  کے دور خلافت تک یہاں یہودی آباد تھے لیکن انہوں نے یہودیوں کو یہاں سے جانے پر مجبور کیا۔
👈 مرجانی، بہجۃ النفوس و الأسرار فی تاریخ‌، 2002م، ج۱، ص438
7..ظہور اسلام کے وقت فدک باغات اور نخلستانوں پر مشتمل تھا۔
👈یاقوت حموی، معجم البلدان، ج4 ص238 👈ابن منظور، لسان العرب، 1410ق، ج10، ص436
8..کہا جاتا ہے کہ یہاں کی نخلستان میں موجود کھجوروں کی درختوں کی قیمت شہر کوفہ جو  کھجوروں سے منافع لینے کے حوالے سے ایک غنی شہر سمجھا جاتا تھافدک کی آمدنی اس، کے مساوی سمجھی جاتی تھی۔
ابن ابی‌الحدید، شرح نہج. 👈البلاغہ، 1378ق، ج16/246
9.. کہا جاتا ہے کہ جس وقت عمرؓ نے حجاز سے یہودیوں کو  نکالنا چاہا تو فدک میں موجود نصف درختوں کے مقابلے میں یہودیوں کو 50 ہزار درہم ادا کیا۔
👈جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، 14ق، ص98
10..بعض مآخذ،  پیغمر اکرم(ص) کے زمانے میں فدک کی سالانہ آمدنی کا 24 سے 70 ہزار دینار تک کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
قطب راوندی، الخرائج و 👈

 الجرائح، 1409ق، ج۱، ص113
👈ابن طاووس، کشف المحجۃ الثمرۃ المہجۃ، 1307ق، ص124
11..موجودہ دور میں فدک سعودیہ عربیہ کے “
حائل” نامی صوبے میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 1999 عیسوی کو اس علاقے کا نام
وادی فاطمہ” رکھا گیا اسی طرح اس میں موجود باغ کو باغ فاطمہ مسجد کو مسجد فاطمہ اور چشمہ کو عیون فاطمہ کا نام دیا گیا۔
مجلسی کوپائی، فدک از غصب 👈تا تخریب، ،248۔250
12..اس علاقے  میں موجود عمارتیں اور منارے خراب ہو چکے ہیں اور نخلستان میں موجود اکثر کھجور کے درخت بھی سوکھ چکے ہیں۔
👈مجلسی کوپائی، فدک از غصب  تا تخریب،1388ش، ص248 و 287۔284
خلاصہ

فدک کا محل وقوع جغرافیہ دان اور مورخین نے مدینہ سے 160کلومیٹر دور بتایاہے اور اس میں موجود کل کجور کے درختوں کی تعدادبھی بتائی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ آدھا مسلمانوں کے پاس تھا آدھا حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں 50ہزار درہم میں خریدا 

نتیجہ  

مدینے سے 160کلومیٹر کافاصلہ اور حضرت عمرؓ کے دور تک یہاں یہودی آباد تھے اور آدھا باغ فدک حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں حکومتی خزانے سے 50ہزار درہم میں خریدا تو باغ فدک یہ حالت ہمیں اس کے ریاستی معاہدہ ہونےکا پتہ دیتی ہے 

دوسرامحل وقوع 

الکافی اور انوار النعمانیہ کا بیان 

کیا ہوا محل وقوع۔
13..فقال له المهدي: يا أبا الحسن حدها لي، فقال: حد منها جبل احد، وحد منها عريش مصر، وحد منها سيف البحر وحد منها دومة الجندل، فقال له، كل هذا؟
مہدی نے ان سے کہا: اے ابوالحسن اس کا حدودِ اربع بتاؤ، آپ کہنے لگے: اس کی ایک حد جبل احد ہے، ایک حد عریش مصر ہے، ایک حد سیف البحر ہے  اور ایک حد دومۃ الجندل ہے۔
الاصول من الکافی “باب الفتی والانفال ،جلد 1 ،صفحہ 543
انوار النعمانیہ میں بھی ومناقب مفاخرہ میں بھی اس معنی کی روایت موجود ہے  
ان اہل تشیع روایات سے آپ فدک کا محل وقوع سمجھ سکتے ہیں
ان کی اپنی معتبر کتابوں میں ہی یہ اختلاف روایت محل وقوع کے بارے میں موجود ہے 
آخری روایت اصول کافی کی ہے اور اس میں خلافت عباسیہ کے ابتدائ دور میں یہ واقعہ پیش آیا جس کا زکر کیا جا رہا ہے

 رقبہ

10,000,000 مربع کلومیٹر (3,861,022 مربع میل)

آبادی

 –  تخمینہ

50,000,000 

     کثافت

5 /مربع کلومیٹر  (12.9 /مربع میل

تضادات اہل تشیع
اہل تشیع جغرافیہ دان وتاریخ دان نے جو کیفیت اور محل وقوع بیان کیا ہے وہ مختلف ہے اور جو محدثین نے بیان کیا ہے وہ مختلف ہے جب باغ فدک کے محل وقوع باغفدک کی کیفیت یعنی اس کا ریاستی معاہدہ ہونا آدھاباغ حضرت عمرؓ کے دور حکومت میں ریاست کے خزانے سے خریدنا ہی اس کو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ابتداءہی سے ریاستی تحویل میں تھا اور جس طرح رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے باغ فدک میں تصرف کیا اسی پر خلفاءراشدین نے کیا جو اپنے وقت پر بیان ہوگا انشاء اللہ  
نتیجہ ۔۔۔۔
جب تک ان روایات کو رد کر کے متفق علیہ محل وقوع سامنے نہیں آتا اس وقت تک کوئی بھی دعوی قابل قبول نہیں ہے
فیصلہ آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ محل وقوع کے بیان ہی میں کتنا دجل وفریب اور تضاد  ہے 

تو جناب محل وقوع کے بیان سے ہی دعوی فدک جھوٹ ہے 

خلفاء راشدین ؓ کا طریق 

اموال فئی فدک وغیرہ کے متعلق جو عمل اور طریقہ جناب رسول پاک ﷺ نے اپنے عہد مبارک اور حیات طیبہ میں مقرر اور جاری فرمایا تھا۔ تمام خلفائے راشدین   ؓ کی خلافت راشدہ حتیٰ کہ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن کی خلافت راشدہ کے دور تک اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل واقع نہ ہوا۔ اور عمل رسول مقبولﷺ اور عمل صدیق و فاروق اور عثمان غنی اور علی المرتضیٰ و حسن المجتبیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
سنی وشیعہ مورخین محدثین ومفسرین اس بات پر متفق ہیں 

حضرت ابوبکر  ؓ نے بہت سے فضائل و مناقب جناب سیدہ   ؓ کے بیان کئے اور کہا۔

👈اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ ندارم آنچہ خواہی بگیر۔ تو سیدہ امت پدرخودی و شجرہ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمے تو اندکرد و حکم تو نافذ است درمال من۔ امادر گفتہ پدر تو نمے تو انم کرد👈ترجمہ۔ میں اپنا مال جائیداد دینے میں تم سے دریغ نہیں رکھتا۔ جو کچھ مرضی چاہے لے لجیئے۔ آپ اپنے باپ کی امت کی سیدہ   ؓ ہیں اور اپنے فرزندوں کے لئے پاکیزہ اصل اور شجرہ طیبہ ہیں۔

آپ کے فضائل کا کوئی انکار نہیں کرتا آپ کا حکم میرے ذات مرے مال میں چوں و چرا جاری و منظور ہے۔ لیکن عام مسلمانوں کے مال میں آپ کے والد بزرگوارﷺ کے حکم کی مخالفت ہرگز نہیں کرسکتا۔

👈حق الیقین 231

👈روایت شیعہ ابن میثم،دنبلی،ابنِ ابی الحدید، اور معاصر شیعہ مصنف فیض الاسلام علی نقی نے یہ روایت نقل کی ہے
👈’’ابوبکر رضی اللہ عنہ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کے لیے کافی ہوتا۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے، آپ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے، عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعدعلی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
👈شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید جلد 4، صفحہ44،
👈شرح نہج البلاغۃ،لابنِ میثم  البحرانی جلد 5، صفحہ 107،
👈الدرۃ النجفیۃ‘‘ صفحہ 332،
👈شرح النہج البلاغہ،جلد 55،صفحہ 960، فارسی لعلی نقی ،مطبوعہ تہران
👈عمل أمير المؤمنين، وإنما أمنع أن يكون أمير المؤمنين عليه السلام قد سار
علی طريقة الصديق، فإن التاريخ لم يصرح بشئ من ذلك، بل صرح بأن أمير
المؤمنين كان يرى فدك لأهل البيت، وقد سجل هذا الرأي بوضوح في
رسالته إلى عثمان بن حنيف  كما سيأتي.
فمن الممكن أنه كان يخص ورثة الزهراء وهم أولادها وزوجها
بحاصلات فدك، وليس في هذا التخصيص ما يوجب إشاعة الخبر، لأن
المال كان عنده وأهله الشرعيون هو وأولاده. كما يحتمل أنه كان ينفق
غلاتها في مصالح المسلمين برضى منه ومن أولاده عليهم الصلاة
والسلام ، بل لعلهم أوقفوها وجعلوها من الصدقات العامة.
👈شرح نہج البلاغہ ۔لابن ابی الحدید
ج16/208
اس روایت میں حضرت علیؓ کا طریق کار بتایا گیا ہے کہ وہ کیسے استعمال کرتے تھے صاحب ابن ابی حدید نے بتایا کہ جس طریق پر ابوبکر صدیق ؓ باغ فدک کو استعمال کرتے تھے اسی طریق پر حضرت علی ؓ نے باغ فدک کو استعمال کیا ہے  

👈خلاصہ روایات  

ان تمام روایات میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمرحضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم کا طریقہ کار باغ فدک اور دوسرے مال فے میں کیا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد وہی طریقہ کار حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اختیار کیا ان کے بعد وہی طریقہ کار حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے اختیار کیا

👈نتیجہ۔۔۔۔۔ 

حضرت علی اورحسن رضی اللہ تعالی عنہما کا خلیفہ بننے کے بعد باغ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا طریقہ کار جو کہ حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنایا کے اپنانے سے یہ بات تو درست ہے کی فدک مال فئے تھا 

👈تضادات اہل تشیع  

1…حضرت علی ؓ نے کیوں شیخین کا طریق اپنایا باغ فدک کے مسلہ میں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

2….حضرت حسنؓ نے کیوں خلفاء راشدین کا طریق اختیار کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

3…کیا یہ معقول جواب ہے کہ اہل بیت جو چیز چھوڑ دیں وہ واپس نہیں لیتے ۔۔۔۔؟؟؟؟

4….کیا جو الزامات خلفاء ثلاثہ ؓ پر لگتے ہیں غصب باغ فدک میں انہیں الزامات کی زد میں حضرت علی ؓ اور حضرت حسن ؓ نہیں آتے ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

5….کیاان تمام  الزامات کی زد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ذات مبارکہ نہیں آتی ۔۔۔؟؟؟؟

حضرت علیؓ اور حسنؓ نےفدک میں کیوں خلفاء ثلاثہ کا طریق اختیار کیا

   حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ وعثمانؓ کی تعریف حضرت علی ؓ کی زبانی اہل تشیع کتب سے ملاحظہ فرمائیں
امام صادق رحمہ اللہ کا فرمان ہے
🏵 من ازھدمن ھولاء
حضرت ابوبکر ؓ ابوزرؓ اورسلمان فارسیؓ سے زیادہ زاہد وتارک دنیا کوی نہیں ہے
🏵کافی مطبوعہ تہران ایران ج 1/346
🏵کافی مطبوعہ لکھنو ج1/4
اور بہت ساری روایتیں شیخین کے بارے میں موجود ہیں ۔۔۔
بہت سارے نسخوں سے حضرت ابوبکر ؓکا نام نکال دیا گیا ہے
🏵ﺷﯿﻌﮧ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺻﺎﻓﯽ ﻭ ﻗﻤﯽ تقریبا دس تفسیروں ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻔﺼﮧ رضی۔ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻣﻼﺣﻀﮧ ﮨﻮ
🏵ﻓﻘﺎﻝ ﺍﻧﯽ ﺍﺑﺎﺑﮑﺮ ﯾﻠﯽ ﺍﻟﺨﻼﻓۃ ﺑﻌﺪﯼ ﺛﻤﮧ ﺑﻌﺪﮦ ﺍﺑﻮﯼ ﻓﻘﺎﻟﺖ ﻣﻦ
ﺍﻧﺒﺎﯼ ﮨﺬﺍ ﻗﺎﻝ ﻧﺒﺎﻧﯽ ﺍﻟﻌﻠﯿﻢ ﺍﻟﺨﺒﯿﺮ
ﺗﺮﺟﻤﮧ: ( ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ) ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺍﺱ ﻣﻨﺼﺐ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮦ
ﺣﻔﺼﮧ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟
ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﻢ ﻭﺧﺒﯿﺮ ﻧﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ
🏵 ﺗﻔﺴﯿﺮﺻﺎﻓﯽ ﺹ 714 ، ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻗﻤﯽ ﺹ 457 ، ﺳﻮﺭﮦ ﺗﺤﺮﯾﻢ)
ﻣﻼﮞ ﻣﺠﻠﺴﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺯوالعﺸﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻟﮑﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﺠﺮ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﭘﺮ ﮐﮩﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ
ﮔﺮﻭﮦ ﻗﺮﯾﺶ ﻭ ﻋﺮﺏ ﻣﯿں ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻭﺣﺪﺍﻧﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ
ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﻮں ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﭽھﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ
ﺗﻢ ﻋﺮﺏ ﻭ ﻋﺠﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮨﻮﮔﯽ
🏵 ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ 477
ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻼﺀ ﻓﻼﻥ ﻓﻠﻘﺪ ﻗﻮﻡ ﺍﻻﻭﺩ ، ﻭﺩﺍﻭﯼٰ ﺍﻟﻌﻤﺪ ، ﺍﻗﺎﻡ ﺍﻟﺴﻨۃ ،
ﻭﺧﻠﻒ ﺍﻟﻔﺘﻨۃ ! ﺫﮬﺐ ﻧﻘﯽ ﺍﻟﺜﻮﺍﺏ، ﻗﻠﯿﻞ ﺍﻟﻌﯿﺐ۔ ﺍﺻﺎﺏ ﺧﯿﺮﮬﺎ،
ﻭﺳﺒﻖ ﺷﺮﮬﺎ۔ ﺍﺩﯼٰ ﺍﻟﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻃﺎﻋﺘۃ ، ﺍﺗﻘﺎﮦ ﺑﺤﻘﮧ ۔ ﺭﺣﻞ ﺗﺮﮐﮭﻢ
ﻓﯽ ﻃﺮﻕ ﻣﺘﺸﻌﺒۃ ، ﻻ ﯾﮭﺘﺪﯼ ﺑﮭﺎ ﺍﻟﻀﺎﻝ، ﻭﻻ ﯾﺴﺘﯿﻘﻦ ﺍﻟﻤﮭﺘﺪﯼ۔
🏵ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ ﺻﻔﺤﮧ 350
ﺗﺮﺟﻤﮧ: ‘‘ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ‘‘ ﻓﻼﻥ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺰﺍﺋﮯ ﺧﯿﺮ ﺩﮮ ﮐﮧ ﮐﺠﯽ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ
ﺍﻧﺪﺭﻭﺍﻧﯽ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮﺩﯼ
ﺳﻨﺖ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎﺑﺪﻋﺖ ﮐﻮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﭘﺎﮐﺪﺍﻣﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﻋﯿﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺧلافت ﮐﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﺍﻭﺭ
ﺑﮭﻼﺋﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺴﺎﺩ ﺧﻼﻓﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎﺍﻟﻠﮧﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻋﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯼ  ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﮐﮯ
ﻣﻮﺍﻓﻖ ﭘﺮﮨﯿﺰﮔﺎﺭﯼ کو ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ کیا( ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺖ ﻣﺘﻔﻖ ﻭ ﻣﺘﺤﺪ ﺗﮭﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺷﯿﺮﺍﺯﮦ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ )
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﺥ ﺩﺭﺷﺎﺥ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ، ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮔﻤﺮﮦ
ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﯾﻘﯿﻦ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ
🏵 ﻭﻗﺎﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﯽ ﮐﻼﻡ ﻟﮧ : ﻭﻭﻟﯿﮭﻢ ﻭﺍﻝ ﻓﺎﻗﺎﻡ
ﻭﺍﺳﺘﻘﺎﻡ، ﺣﺘﯽٰ ﺿﺮﺏ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺠﺮﺍﻧﮧ ۔
🏵ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ ﺻﻔﺤﮧ557
ﺗﺮﺟﻤﮧ: ‘‘ﭘﮭﺮ ﺣﺎﮐﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻟﯽ، ﭘﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ
ﺩﯾﻦ ﮐﻮ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﭼﻼ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺩﯾﻦ ﻧﮯ
ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ سینہ
🏵ﻗﺎﻝ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻭ ﻣﻦ ﻟﻮﻗﻞ ﺍﻧﯽ ﺭﺍﺑﻊ ﺍﻟﺨﻠﻔﺂﺀ ﻓﻌﻠﯿﮧ ﻟﻌﻨۃ ﺍﷲ
🏵ﻣﻨﺎﻗﺐ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺷﮩﺮ ﺁﺷﻮﺏ ﺳﻮﻡ، 63
ﺗﺮﺟﻤﮧ ’’ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﻮ
ﻣﺠﮭﮯ
🏵 ﺭﺍﺑﻊ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎء ‘‘ ﻧﮧ ﮐﮩﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ
🏵ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ، ﮬﺬﺍ ﻣﺎﺻﺎﻟﺢ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ
ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻌﺎﻭﯾۃ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺳﻔﯿﺎﻥ : ﺻﺎﻟﺤﮧ ﻋﻠﯽ ﺍﻥ ﯾﺴﻠﻢ ﺍﻟﯿﮧ
ﻭﻻﯾۃ ﺍﻣﺮ ﺍﻟﻤﺴﻠﻤﯿﻦ، ﻋﻠﯽ ﺍﻥ ﯾﻌﻤﻞ ﻓﯿﮭﻢ ﺑﮑﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﻨۃ
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻭﺳﯿﺮۃ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎﺀ ﺍﻟﺼﺎﻟﺤﯿﻦ۔
🏵 ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭﺻﻔﺤﮧ 65
ﺟﻠﺪ 44
ﺗﺮﺟﻤﮧ: ‘‘ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ، ﯾﮧ ﻭﮦ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ
ﺣﺴﻦؓ ﺑﻦ ﻋﻠﯽؓ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧؓ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺳﻔﯿﺎﻥ ؓ ﺳﮯ
ﺻﻠﺢ ﮐﯽ، ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺣﺴﻦؓ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﺍﻣﺮ
( ﺧﻼﻓﺖ) ﻣﻌﺎﻭﯾﮧؓ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ، ﺳﻦ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ
ﺭﺍﺷﺪﯾﻦؓ ﮐﯽ ﺳﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ گے
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺠﻠﺴﯽ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ‘‘ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ ﺭﺍﺷﺪﯾﻦ ’’ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ‘‘ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ
ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ’’ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺣﺎﺷﯿﮧ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺘﺎﺏ
🏵( ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺸﻒ ﺍﻟﻐﻤﮧ)
ﻣﯿﮟ ‘‘ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ ﺭﺍﺷﺪﯾﻦ’’ ﮐﺎ
ﻟﻔﻆ ﮨﮯ:
🏵ﯾﺎﯾﮭﺎ ﺍﻟﻨﺎﺱ،ﺷﻘﻮﺍ ﺍﻣﻮﺍﺝ ﺍﻟﻔﺌﻦ ﺑﺴﻔﻦ ﺍﻟﻨﺠﺎۃ، ﻭﻋﺮﺟﻮﺍ ﻋﻦ ﻃﺮﯾﻖ
ﺍﻟﻤﻨﺎﻓﺮۃ ، ﻭﺿﻌﻮﺍ ﯾﺒﺠﺎﺍﻥ ﺍﻟﻤﻔﺎﺧﺮۃ۔ ﺍﻓﻠﺢ ﻣﻦ ﻧﮭﺾ ﺑﺠﻨﺎﺡ، ﺍﻭﺍﺳﺘﺴﻠﻢ ﻓﺎﺭﺍﺡ ۔ ﮬٰﺬﺍ ﻣﺎﺀ ﺍٓﺟﻦ ، ﻭﻟﻤﻘۃ ﯾﻐﺺ ﺑﮭﺎ ﺍﮐﻠٰﮭﺎ ﻭﻣﺠﺘﻨﯽ
ﺍﻟﺸﻤﺮۃ ﻟﻐﯿﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﻨﺎ ﻋﮭﺎ ﮐﺎﻟﺰﺍﺭﻉ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺭﺿﮧ۔
🏵ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ ﺻﻔﺤﮧ 52
ﺗﺮﺟﻤﮧ: ‘‘ ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ! ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯿﻮﮞ
ﺳﮯ ﭼﯿﺮ ﮐﺮ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺅ، ﻣﻨﺎﻓﺮﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ، ﻣﻔﺎﺧﺮﺕ
ﮐﮯ ﺗﺎﺝ ﺍﺗﺎ ﭘﮭﯿﻨﮑﻮ۔ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﺎ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮﻗﻮﺕ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ
ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﮐﺶ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮﺑﺪﺍﻣﻨﯽ
ﺳﮯ ﺭﺍﺣﺖ ﺩﯼ، ﯾﮧ ﺑﺎﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ
بدﻣﺰﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﻘﻤﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮏ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﭘﮑﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮭﻞ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﺮﮮ۔ ’’
ﺍٓﺧﺮﯼ ﺟﻤﻠﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﻼ ﻓﺼﻞ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮؓ
ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﻮ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻭﻗﺖ
ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ تھے لیکن شیعہ کامعاملہ
مدعی سست گواہ چست کے مصداق ہے
اہلتشیع  مورخین مفسرین ومحدثین  نے لکھا ہے کہ فدک کو ابوبکر ؓ نے وصال کے دسویں روز غصب کیا  اور اس کو جب قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں کر پاتے تو کہتے ہیں بنوہاشم کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے اس کو غصب کیا اگر یہ فاطمہ ؓاور علی ؓ کے پاس رہتا تو مدینہ کے غرباء مساکین انصار ومہاجر ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بجاے علیؓ کی حمایت کرتے جب کہ خود ان کی اپنی کتابوں میں موجود ہے کہ ابوبکرؓ کی بیعت کب ہوی اور کس حال میں ہوی اور یہ مہاجرین وانصار ؓ وہی لوگ ہیں جو بے سروسامانی میں ایمان لاے اور حضور ؐ کی بیعت کی 
حدیدی شرح نہجہ البلاغہ ص2/305
اور یہ سب اعتراضات صرف عوام الناس کو دھوکا دینے اور اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے کیے جاتے ہیں

حضرات کے نزدیک سیدہ   ؓ جناب رسول اللہﷺ کے حیطان سبعہ (سات باغوں ) پر قابض اور متصرف تھیں۔ اور حضرت علی  ؓ کے املاک ، اراضی و باغات اس کے علاوہ تھے۔ ان سات باغوں کی وراثت حسب روایت شیعہ آنحضرت ﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباس  ؓ نے جناب سیدہ ؓ سے طلب کی تو حضرت علی ؓ اور سیدہ ؓ نے یہی جواب دیا کہ ان میں وراثت نہیں ہوسکتی اور ان سات باغوں میں سے ایک حب بھی حضرت عباس کو نہ دیا۔

عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الثَّانِي ( عليه السلام ) قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْحِيطَانِ السَّبْعَةِ الَّتِي كَانَتْ مِيرَاثَ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) لِفَاطِمَةَ ( عليها السلام ) فَقَالَ لَا إِنَّمَا كَانَتْ وَقْفاً وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) يَأْخُذُ إِلَيْهِ مِنْهَا مَا يُنْفِقُ عَلَى أَضْيَافِهِ وَ التَّابِعَةُ يَلْزَمُهُ فِيهَا فَلَمَّا قُبِضَ جَاءَ الْعَبَّاسُ يُخَاصِمُ فَاطِمَةَ ( عليها السلام ) فِيهَا فَشَهِدَ عَلِيٌّ ( عليه السلام ) وَ غَيْرُهُ أَنَّهَا وَقْفٌ عَلَى فَاطِمَةَ ع وَ هِيَ الدَّلَالُ وَ الْعَوَافُ وَ الْحُسْنَى وَ الصَّافِيَةُ وَ مَا لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ وَ الْمَيْثَبُ وَ الْبُرْقَةُ

احمد ابن محمد نے امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام سے روایات کی کہ میں نے امام موسیٰ کا ظم سے ان سات باغوں کے متعلق دریافت کیا جو فاطمہ علیہ السلام کے پاس جناب رسول اللہ ﷺ کی میراث تھے۔ تو امام صاحب نے فرمایا میراث نہ تھے بلکہ وقف تھے۔ جناب رسول اللہ ﷺ ان میں سے اتنا لے لیتے تھے جو کہ مہمانوں کو کافی ہوتا تھا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ رحلت فرما گئے۔ تو حضرت عباس  ؓ نے ان سات باغوں کی بابت جناب فاطمۃ ؓ سے جھگڑا کیا پھر حضرت علی ؓ وغیرہ نے شہادت دی وہ وقف ہیں حضرت فاطمہ پر۔ اور وہ سات باغ دلال، عفاف، حسنیٰ، صافیہ ، مالام ابراہیم، مبیت اور برقہ تھے۔!

تضادات اہل تشیع
1..ان ماقبل ذکرکی گئی روایات کی روشنی میں حضرت علی ؓ خلفاء ثلاثہ کے بارے کیا راے رکھتے تھے ۔۔۔؟؟؟؟
2..حضرت حسنؓ کیا راے رکھتے تھے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟
3..کیا خطبہ نمبر 146 بعضنسخوں۔144
4..نہج البلاغہ میں حضرت عمر ؓ کو خلیفہ صالح نہیں فرمایا ۔۔۔۔؟؟؟؟
5..کیااسی خطبے میں حضرت عمرؓ کے لشکر کو جند اللہ نہیں فرمایا ۔۔۔؟؟؟؟؟
6..حضرت حسنؓ نے معاہدے میں خلفاء راشدین نہیں فرمایا  ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
7…کیا ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوے باغ فدک کو اسی طریق پر نہیں رکھا جس پر خلفاء ثلاثہ نے چھوڑا تھا ۔۔۔؟؟؟؟
8…کیاشہادت کے وقت حضرت علی ؓ نے تمام ملیکیت صدقہ نا کیا تھا سابقون کے راستے پر چلتے ہوے ۔۔۔۔؟؟؟؟؟
9…کیا حضرت علیؓ اور حسن ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ عمر ؓ اور عثمان ؓ کی اتباع ناکی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
10..کیا بیعت اولی تدفین نبی ؐ سے پہلے نہیں ہو گئی تھی بقول اہل تشیع مورخین ۔۔؟؟؟؟؟؟

١١۔ ۔۔کیا بیعت کرنے والے وہی مہاجرین وانصار ؓ نا تھے

 جنہوں نے حضور ؐ کے لیے سب۔۔۔ چھوڑا ۔۔؟؟؟

کیا اہل بیت کے پاس سات باغ اور موجود نہیں تھے بروایت شیعہ۔۔؟؟؟ 

سات باغ موجود ہیں توسیاسی کمزوری کیسی ۔۔۔؟؟؟ 

انبیاءؑ کی وراثت علوم  نبوت یا مال دولت 

محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن

محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن

إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال

رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة

وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من

في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل

القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا

دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر.

الکافی ج1/34

علم وعلماء کی فضیلت میں الکافی  کثیر روایات زکر ہوئ ہیں 

ہم نے الکافی کی اس روایت سےجو ماقبل زکر کی گئی ہے اس سے  استدلال کیا ہے کہ ۔۔

ترجمہ بےشک علماء انبیاءؑ کے وارث ہیں بےشک انبیاء ؑ نہیں بناتے وارث کسی کو درھم ودینار کا اورلیکن ان کی وراثت تو علم ہے 

یہ ہماری دلیل ہے ابنیاءؑ ناکسی کے وارث ہوتے ہیں اور نا کسی کو دنیاوی چیزوں کا وارث بناتے ہیں 

👈تائیدی روایت

محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن خالد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثةالأنبياء وذاك أن الأنبياء

لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت

في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين.

یہ بھی اسی حدیث کی تائیدی ہے اور اس میں انما سے حصر ہے اور اہل زبان جانتے ہیں کہ انما اور لکن دونوں استدراک کے لیے ہوتے ہیں اور شک کو دور کرتے ہیں اور مابعد میں داخل ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کرتے ہیں  

تائیدی روایت ۔ 

جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله۔

ترجمہ: حضرت ابو جعفر اپنے والد سےروایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول ﷺ نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور  ﷺ کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے۔ 

قرب الاسناد الحمیری القمی ص 91,92

 بحوالہ المجلسي في البحار 16: 219 

عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْقَدَّاحِ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ سَلَكَ طَرِيقاً يَطْلُبُ فِيهِ عِلْماً سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقاً إِلَى الْجَنَّةِ وَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِهِ وَ إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ وَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَاراً وَ لَا دِرْهَماً وَ لَكِنْ وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

من لا یحضر الفقیہ ج2/346

بحار الأنوار ، ج‏1، ص: 164

الکافی ج1/

جناب اہل تشیع حضرات اپنی  اس

 روایت پر درجنوں اعتراض کرتے ہیں 

 اعتراض اہلتشیع ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں سونا چاندی درھم دینار کا زکر ہے زمین کا زکر نہیں تو زمین میں وراثت جاری ہو گی 

١جواب۔۔۔۔

آپ کا اعتراض کسی اصول پر نہیں بلکہ قیاس پر مبنی ہے کیونکہ  لکن و انما حصر کے لیے ہیں اورمابعدمیں پیدا ہونے والےشکوک کو دور کرتے ہیں اس جملے کی نحوی ۔صرفی۔و بلاغی ترکیب کریں اصولوں کے مطابق پھر  ترجمہ کریں آپ کا اعتراض ہی نہیں بنے گا۔۔۔۔۔

 ٢۔۔۔جواب ۔۔غیر منقولہ جائیداد میں عورت کی وراثت استدلال کےآخرمیں دیا جائے گا  

اعتراض اہل تشیع۔۔۔جناب آپ نے اس کا ترجمہ غلط کیا ہے اس سے مراد ہے کہ علماء علم کے وارث اور اہل بیت مال کے وارث ہیں

اہل تشیع کا الکافی کی عبارت کے ترجمے پر اعتراض  کاجواب۔۔۔ 

عبارت ان الانبیآء لم یورثوا درھما ودینارا ۔۔

جہالت کی حد ہے جو لوگ عربی قوائد کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کی جو ترجمہ اہل سنت نے کیا وہ درست ہے اور شیعہ ترجمہ کی وجہ سے عوام کودھوکا دینا چاہتا ہے وہ غلط ہے وہ کیسے

مثال۔۔واللہ یدعوا الی دارالسلام 

ان دونوں عبارتوں میں احدا لفظ مفعول ۔محزوف اورعام ہے 

تو جو ترجمہ ہم نے کیا وہ درست اور جناب کا غلط ہے 

تنزیہ الانبیآء ص45 فارسی ترجمہ ملاحظہ کریں حدیث کے اس حصے کا 

البتہ میراث انبیاءدرہم ودینار نبودہ بلکہ علوم واخلاق ومقامات وصفات مرضیہ ایشاں بودہ است

یہ اہل تشیع کی اپنی کتاب کا کیا ہوا ترجمہ ہے کاش کہ اعتراض کرنے والے جانتے کہ اہل تشیع نے بھی وہی ترجمہ کیا جو ہم نے کیا ہے 

تو اعتراض ختم ۔۔۔۔پہلے اس کا جواب دیں جو اہل تشیع علماء نےترجمہ کیا ہے ۔۔

اعتراض اہل تشیع…لم یورثوا۔۔۔معروف ہے آپ مجہول پڑھتے ہیں کیوں  لم یورثوا کو اہل سنت نے فعل مجہول زکر کیا ہے جبکہ اہل تشیع اس کو فعل معروف سمجھتےہیں تو اس صورت میں مفعول معروف العلماء کو مقررکریں تو اہل بیت کی تخصیص نہیں ہوگی کہ یہ صرف علماء کے لیے ہے تمام اہل بیت کے لیے نہیں ہے؟؟؟

 جواب ۔۔۔جناب اہل بیت ہر مردوزن سے بڑھ کر کون عالم ہے اور روایت موجود ہے  

وفي الكافي عنه عليه السلام إنما نحن الذين يعلمون وعدونا الذين لا يعلمون وشيعتنا أولوا الألباب

وعن الصادق عليه السلام لقد ذكرنا الله وشيعتنا وعدونا 

الکافی کی روایت 

تفسیر صافی جلد 4ص216

اس آیت کے بارے امام باقر فرماتے ہیں جو جانتے ہیں وہ ہم ہیں اور جو نہیں جانتے وہ ہمارے دشمن 

اس کے اور ہم معنی اور بہت ساری روایات موجود ہیں

 الأمالي للصدوق

فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع بَعْدَ فَوْتِ النَّبِيِّ ص‏ وَ لَا كَنْزَ أَنْفَعُ مِنَ الْعِلْمِ.

الأمالي للصدوق ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام فِي كَلِمَاتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع بِرِوَايَةِ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْحَسَنِيِ‏قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ.

بحارالانوار (ط . . بیروت)ج1ص165

عَنْ عَلِيٍّ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ عَالِمٍ مُطَاعٍ أَوْ مُسْتَمِعٍ وَاعٍ.

 نَوَادِرُ الرَّاوَنْدِيِّ، 

بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ آبَائِهِ ع عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ: لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ إِلَّا لِمُسْتَمِعٍ وَاعٍ أَوْ عَالِمٍ نَاطِقٍ.

 وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَرْبَعٌ يَلْزَمْنَ كُلَّ ذِي حِجًى وَ عَقْلٍ مِنْ أُمَّتِي قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُنَّ قَالَ اسْتِمَاعُ الْعِلْمِ وَ حِفْظُهُ وَ نَشْرُهُ عِنْدَ أَهْلِهِ وَ الْعَمَلُ بِهِ.

الخصال 

مَاجِيلَوَيْهِ عَنْ عَمِّهِ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَرْفَعُونَهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ:مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومُ عِلْمٍ وَ مَنْهُومُ مَالٍ.

بيان قال الجوهري النهمة بلوغ الهمة في الشي‏ء و قد نهم بكذا فهو منهوم أي مولع به و

فِي الْحَدِيثِ‏ مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ بِالْمَالِ وَ مَنْهُومٌ بِالْعِلْمِ‏

بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏1، ص: 168

یہ تمام روایات مطلقا اہل بیت کے علم کے بارے میں مذکور ہیں 

اعتراض اہل تشیع ۔۔۔یہ حدیث قرانی آیات کے خلاف ہے 

🏵يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (11)

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (33)

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (7)

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ (16)

يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)

١۔۔جواب  ۔۔۔پہلی تین آیات میں وراثت کا زکر ہے لیکن مخاطب امت ہے نبیؑ نہیں اور کوی اشارہ نہیں 

آخری دو آیتوں میں انبیاء ؑکا زکر ہے مالی وراثت کا زکر نہیں ان کی تفصیل آگے ان کے محل پر بیان ہو گی

٢جواب ۔۔۔۔۔یہ روایت اور بخاری کی روایت ان آیات کی تفسیر کرتی ہے   تو یہ حدیث قران کے مخالف نہیں بلکہ شیعہ کی کج عقل کے مخالف ہے اور قرانی آیات کی تفسیر ہے آخری دوآیات سے شیعہ استدلال کرتا ہے اس کی بحث بعد میں کریں گے ۔۔۔۔۔۔

اعتراض اہل تشیع  ۔۔۔۔۔یہ حدیث سنی مزہب کے موافق ہے اور اہل تشیع کے مخالف ہے تو اس پر عمل نہیں کریں گے جو سنیوں کے مخالف ہوگی اس پر عمل کریں گے اسی میں ہدایت وروشنی ہے

الجواب۔ ۔۔جناب کتمان حق آپ کے نزدیک واجب ہے اب جیسے اصلی قرآن کو مہدی رضوان علیہ اپنے ساتھ لے گیے اسی طرح احادیث چھپانا بھی ضروری ہے اس کے لیے ہم آپ کی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں👈

۔محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمدعن ابن محبوب، عن مالك بن عطية، عن أبي حمزة، عن علي بن الحسين (عليهما السلام) قال: وددت والله أني افتديت خصلتين فيالشيعة لنا ببعض لحم ساعدي: النزق وقلة الكتمان

الکافی ج2 /221👈

عنه، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن سنان، عن عمار بن مروان، عن أبي أسامةزيد الشحام قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): أمر الناس بخصلتين فضيعوهما فصاروا منهما على غير شئ: الصبر والكتمان.

الکافی ج2/ 222👈

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن يونس بن عمار، عن سليمان ابن خالد قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): يا سليمان إنكم على دين من كتمه أعزه الله ومن أذاعه أذله الله.

الکافی ج2 /222👈

محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن علي بن الحكم، عن عبد الله بن بكيرعن رجل، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: دخلنا عليه جماعة، فقلنا: يا ابن رسول الله إنا نريدالعراق فأوصنا، فقال أبو جعفر (عليه السلام): ليقو شديدكم ضعيفكم وليعد غنيكم على فقيركم

ولا تبثوا سرنا  ولا تذيعوا أمرنا، وإذا جاءكم عنا حديث فوجدتم عليه شاهدا أوشاهدين من كتاب الله فخذوا به وإلا فقفوا عنده، ثم ردوه إلينا حتى يستبين لكم و

اعلموا أن المنتظر لهذا الامر له مثل أجر الصائم القائم ومن أدرك قائمنا فخرج معه فقتل عدونا كان له مثل أجر عشرين شهيدا ومن قتل مع قائمنا كان له مثل أجر

خمسة وعشرين شهيدا.

الکافی ج2 /222👈

عنه، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن سنان، عن عبد الاعلى قال: سمعت أبا عبد الله (عليه السلام) يقول: إنه ليس من احتمال أمرنا التصديق له والقبول فقط، من احتمالأمرنا ستره وصيانته من غير أهله فاقرئهم السلام وقل لهم: رحم الله عبدا اجتر مودةالناس إلى نفسه ، حدثوهم بما يعرفون واستروا عنهم ما ينكرون، ثم قال: والله ماالناصب لنا حربا بأشد علينا مؤونة من الناطق علينا بما نكره، فإذا عرفتم من عبد إذاعة

فامشوا إليه وردوه عنها، فإن قبل منكم وإلا فتحملوا عليه بمن يثقل عليه ويسمع

منه، فان الرجل منكم يطلب الحاجة فيلطف فيها حتى تقضى له، فالطفوا في حاجتي

كما تلطفون في حوائجكم فإن هو قبل منكم وإلا فادفنوا كلامه تحت أقدامكم ولا

تقولوا: إنه يقول ويقول، فإن ذلك يحمل علي وعليكم، أما والله لو كنتم تقولون

ما أقول لأقررت أنكم أصحابي، هذا أبو حنيفة له أصحاب، وهذا الحسن البصري له

أصحاب، وأنا امرؤ من قريش، قد ولدني رسول الله (صلى الله عليه وآله) وعلمت كتاب الله وفيه

تبيان كل شئ بدؤ الخلق وأمر السماء وأمر الأرض وأمر الأولين وأمر الآخرين

وأمر ما كان وأمر ما يكون، كأني أنظر إلى ذلك نصب عيني.

الکافی ج2 /223👈

اس باب میں سولہ احادیث زکر کی گئی ہیں الکافی میں ہم ایک حدیث کے متعلقہ جملے کا ترجمہ کرتے ہیں 

حضرت جعفر رح۔ نے فرمایا ای سیلمان تم ایسے دین پر ہو جس کو جو شخص چھپا رکھے کا اس کو اللہ عزت دے گا اور جو شہرت دے گا اللہ اس کو ذلیل کرے گا۔۔۔

 تو ثابت ہوا کہ ائمہ کا مشہور مزہب کیا ہے اور غیر مشہور مزہب کیا ہے شیعہ کا مشہور مزہب میراث مال انبیاءؑ ہے اور غیر مشہور میراث علم انبیاءؑ ہے

اعتراض اہل تشیع۔۔۔  بخاری کی حدیث قران کے منافی ہے 

جواب ۔۔،۔۔۔جناب ہم پہلے جواب دے چکے کہ ہم نے امام جعفر رح ۔کی  الکافی کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور وہ قران کے منافی نہی ہے بلکہ تفسیر قران ہے اور اسی طرح ابوبکرؓ کی حدیث لانورث بھی قران کی تفسیر ہے

اعتراض اہلتشیع۔۔۔۔جناب یہ حدیث خبر واحد ہے اور وراثت انبیاء میں اور بہت ساری روایات ہیں جیسے ۔

عن ابی عنداللہ قال حمزة بن حمران قلت لی ابی عبداللہ من ورث رسول اللہؐ قال فاطمة ؑفی روایة ابی جعفرورث علی علم رسول اللہ ورثت فاطمة ترکتة 

البرہان ج1 /214

الکافی ج3 /45

روضہ کافی 114

من لا یحضرہالفقیہ ج2 /297

التہزیب ج2 /356

اس کے ہم معنی اور روایات موجودہیں 

 الجواب ۔۔۔۔جناب یہ روایت قران کے منافی ہے

 وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم 

اور فرائض کی دوسری آیات جن میں مورثین کی وراثت کا بیان ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اہل تشیع حضرات کو صرف حضرت فاطمة الزہرا کی وراثت قابل قبول ہے اور کسی کی نہیں توآپ کی پیش کردہ حدیث پکار کر کہ رہی ہے کہ میں قران کی مخالف ہوں اور آپ پہلے کہ چکے وہ حدیث جو قران کے منافی ہووہ قابل قبول نہیں ہوتی اب شیعہ حضرات کی مرضی ہے کہ حدیث کو درست مانے یا قران کوکیوںکہ یہ حدیث احکام فرائض کی مخالف ہے 

رہی بات خبر واحد کی توحضرت جعفر نے اگر حضرت علیؓ سے روایت نقل کی تو احاد ختم اگر ابوبکر ؓسے نقل کی تو اعتمادِ ابوبکر ؓ دونوں صورتوں میں اعتراض ختم 

اور کئی صحابہ ؓ سے یہ روایت مختلف کتب میں مروی ہے 

سنن ابوداود2976 

بخاری 6729

مسلم 1761

مسند احمد6350.11072.26490

اور روایات موجود ہیں 

اعتراض اہل تشیع ۔۔۔۔من لا یحضر الفقیہ کی روایت قران سے تعارض نہیں ہے کیوں کہ اس آیت کے خطاب میں امت کے مرد ہے ناکہ نبیؐ مخاطب 

جواب۔۔۔ جناب آپ کا آیت یوصیکم اللہ اور دوسری آیات بارے کہ ان آیات میں حضورؐ کو شامل خطاب مانا اور جب بات نابن پائی تو دوسری روایت میں نظریہ ہی بدل گیا ۔۔۔ اب کیسے بدل گیا اب اگر آپ حضورؐ کو شامل خطاب مانتے ہیں تو بھی ہم جیتے من لایحضرالفقیہ کی روایت ختم اور اگر شامل خطاب نہیں تو جھگڑا ختم وہی ہمارا اہل سنت والا نظریہ وراثت انبیاء کے بارے میں ۔کیوں کہ اگر حضور ؐ کو شامل خطاب کریں تو دوسرے رشتے داروں کا حصہ بنتا ہے وراثت میں۔اوروہ بھی آپ کو قابل قبول

اعتراض اہل تشیع۔۔۔۔وراثت انبیاء کا مسلہ صرف ابوبکر ؓ ہی کو کیوں پتہ تھا 

 الجواب۔ ۔۔۔جناب ہم نے استدلال اصول کافی کی روایت سے کیا ہے ناکہ بخاری کی روایت سے اور امام جعفر صادق رح۔نے ظاہر بات ہے اگر یہ روایت علی ؓ سے نقل کی ہے تو احاد ختم اور اگر ابوبکر ؓسے کی ہے تو وہ آخر ابوبکرؓ کو اپنا امام وپیشوا مانتے تھے اور ثقہ مانتے تھے تو نقل کی تو دونوں صورتوں میں اعتراض ختم ہوجاتا ہے

تضادات اہل تشیع 

1۔۔آیت یوصیکم ۔۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اہل تشیع شامل خطاب مانتے ہیں ۔۔

2…جب دوسرے وارثین کی وراثت کا مسلہ آتا ہے تو شامل خطاب نہیں مانتے ۔۔۔

 7

ناراضگی حضرت فاطمةالزہرا 

اہل تشیع کااعتراض روایت توریث

اہل سنت کی کتابوں میں کثرت سے ناراضگی کی روایات ہیں 

الجواب ۔۔۔

جناب آپ صحیحین کی روایت کی سند دیکھیں آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ احاد میں سے ہے آپ ناراضگی والی روایات کی سندوں میں غور کریں سب سندیں امام زہری  پر جا کر جمع ہو جاتی ہے تو تواتر کیسا اور لفظ قال سے روای کی زیادتی ثابت ہو رہی ہے ۔اور یہ راوی کا گمان تھا 

صحیحین میں چودہ روایات فدک کے بارے درج ہیں جن میں سے چار میں ناراضگی کا لفظ ہے اور دس میں نہیں ہے وہ چارروایات بھی زہری سے ہیں تو یہ خبر واحد ہے 

دوسری بات حضرت ؓ فاطمہ ؓ کا آپ کی کتابوں سے راضی ہونا ثابت ہے اسی طرح ہماری کتابوں سے بھی ثابت ہے کیوں نا ہم آپ کی کتابوں کی روایت پیش کریں 

ایک روایت بطورمثال

کیونکہ کتب اہل سنت اور اہل تشیع میں سیدہؓ کی رضامندی کے روایات اور واقعات بھی ثابت ہیں۔ بہیقی، شروح بخاری و شروح مشکوۃٰ ۔ نبراس شرح شرح عقائد صہ ۵۵۰ البدایہ والنہایہ ۔ طبقات ابن سعد وغیرہ کتب اہل سنت میں سیدہؓ کی رضامندی ثابت ہے۔

حضورﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرصدیقؓ جناب سیدہؓ کی خدمت میں حضرت علیؓ کی موجودگی میں گئے اور کہا۔

۔والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ، ومرضاة رسوله ، ومرضاتكم أهل البيت . ثم ترضاها حتى رضيت . وهذا إسناد جيد قوي (البدایہ والنہایۃ ج۵ ص ۲۸۹ عمادالدین بن کثیر)

ترجمہ ۔اللہ کی قسم ! میں اپنا گھر بار مال اور اہل و عیال، قوم برادری، سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کی رضاجوئی اور تم اہلبیت نبوت کی رضاجوئی کے لئے چھوڑ چھاڑ آیا تھا جس سے سیدہؓ کو خوش کیا تو سیدہؓ نہایت راضی خوش ہوگئیں اس روایت کی سند نہایت عمدہ، صحیح اور معتبر و مضبوط ہے۔

اہلتشیع ابن میثم نہج البلاغہ کی شرح میں یہ روایت لکھتا ہے 

قال إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك فوتکم ویقسم الباقي و یحمل منه في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أضع بها کما کان یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه

کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کہاجو آپ کے والد محترم کا تھاوہ آپ کا ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کیلئے کچھ رکھ لیا کرتے تھےباقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم !میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گاجیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھےیہ سُن کر فاطمہ رضی اللہ عنہ خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہدلے لیا۔

شرح نہج البلاغ،جلد 5،صفحہ 7،از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران

اسی جیسی ایک روایت شیعہ دنبلی نے اپنی شرح ’

الدرۃ النجفیہ صفحہ 331،332 مطبوعہ ایران‘‘ میں بیان کی ہے۔

 شرح نہج البلاغۃ جلدد5 ،صفحہ 331،332ایران

وذلك إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك قوتکم ویقسم الباقي ویحمل من في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أصنع بها کما کانا یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه به

کتاب درہ تحفیہ شرح نہج البلاغۃ :ص331 ، 332 ؛

 الشیعہ وا ہل البیت :ص75 ؛

ورحمآء بینهم :ص153

إن أبابکر لما رأی أن فاطمة انقبضت عنه وهجرته ولم تتکلم بعد ذلك في أمر فدك کَبُر ذلك عنده فأراد استرضاءها فأتاها فقال لها: صدقت یا ابنة رسو ل الله ﷺ فیما ادعیت ولکنی رأیت رسول الله ﷺ یقسمها فیعطی الفقراء والمساکین وابن السبیل بعد أن یعطی منها قوتکم والصانعین فقالت: افعل فیها کما کان أبي رسول الله ﷺ یفعل فیها. قال أشهد الله علي أن أفعل فیها ما کان یفعل أبوك فقالت: والله لتفعلن فقال والله لأفعلن فقالت اللهم اشهد اللهم اشهد فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه وکان أبوبکر یعطیهم منها قوتهم فیعطی الفقرآء والمسکین

آفتابِ ہدایت:ص251

8

انبیاء ؑ کی وراثت مال نا ہونے کی حکمت

 اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ ﴾ 

’’اللہ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے او رجس کی چاہتا ،گھٹا دیتا ہے۔‘‘

﴿كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ﴾ 

’’اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ او راس کا شکر ادا کرو۔‘

۔﴿اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَا اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ﴾ 

’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُنہیں دے رکھا ہے۔‘

﴿وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ﴾ 

’’اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر رزق میں زیادتی دے رکھی ہے۔‘

۔﴿فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ ﴾ 

’’جو کچھ حلال او رپاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کاشکر اداکرو۔

۔﴿وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ 

’’تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں۔‘‘

ان چھ آیات اور اس مفہوم کی دوسری بیسیوں آیاتِ مقدسہ کے مطابق اس دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ ثروت و دولت، مال اور زندگی کا دوسرا ساز و سامان ہے۔ اس کا حقیقی مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو خالق کائنات ہے۔ انسان کے پاس یہ مال و متاع محض چند روز کے لیےبطورِ امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و احسان سے رفع حاجات اور روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ چیزیں مستعار عطا فرما رکھی ہیں جن پر ہمارا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے 

۔﴿وَ مَا اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ 

’’میں تمہیں جو تبلیغ کررہا ہوں، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا بلکہ اس کا اجر ربّ العالمین ہی کے ذمہ ہے جوقیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔‘

﴿قُلْ لَّا اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى﴾ 

’’آپ کہہ دیجئے میں اس (تبلیغ)پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری

والفرق بین الأنبیآء وغیرهم إن الله تعالىٰ صان الأنبیاء عن أن یورثوا الدنیا لئلا یکون ذلك شبهة لمن یقدح في نبوتهم بأنهم طلبوا الدنیا وورثوها لورثتهم 

’’اگر انبیاؑکے ترکہ میں عام قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو دشمنانِ نبوت کو یہ اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا کہ اُنہوں نے اپنے او راپنے وارثوں کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے نبوت کو آڑ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے «لا نورث ماترکنا صدقة» کا قانون جاری کروا کر اپنے انبیاؑ کو اس بھونڈے اعتراض سے ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔‘

‘منہاج السنۃ :2 ؍157

انبیاؑاپنی اپنی اُمت کے روحانی باپ ہوتے ہیں۔ نبی کا یہ روحانی رشتہ ہرفرد بشر سے ہوتا ہے۔ ہر کالے گورے اور سرخ و سپید پربرابر کی شفقت ہوتی ہے۔ اس لیےنبی کاترکہ تمام اُمت پرصدقہ ہوتاہے جو بلا کسی امتیاز کے آقا و غلام، مرد و زن، بُرے بھلے، صالح وفاسق، قریب و بعیداور ہر خاص و عام تمام مسلمانوں کے مشترکہ مصالح پر صرف کیا جاتا ہے۔ پس اگر نبی کا ترکہ صرف اُس کے اُصول و فروع پر ہی تقسیم کیا جاتا تو اس کے اقربا کے ساتھ تعلق و شفقت کا خاص ظہور ہوتا جو اُمت کے دوسرے افراد سے بے رخی اور ان کی دل شکنی کامظہر ہوتا جو کہ شفقت عام کے سراسر منافی ہے۔ فافهم ولا تکن من القاصرین

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ عالی ہے:

«إن هذا الصدقات إنما هي أوساخ الناس لا تَحل لمحمد ولا لآل محمد ﷺ» 

’’صدقات لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل ہے جو میرے لیے اور آلِ محمدﷺ کے لیے حلال نہیں۔‘‘

صحیح مسلم :1 ؍345

اور مذکورہ بالا احادیث میں فرمایا :«ماترکنا فهو صدقة» ان دونوں احادیثِ صحیحہ کو باہم ملانے سے ثابت ہواکہ انبیاء ؑکا ترکہ اُن کے ورثا پر حرام ہے کیونکہ وہ صدقہ ہے۔

شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:

وفي هذا الحکم سر آخر و هو أنه ﷺ إن أخذها لنفسه وجوز أخذها لخاصته والذین یکون نفعهم بمنزلة نفعه کان مظنة أن یظن الظانون ویقول القائلون في حقه ما لیس بحق 

’’ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل پر صدقہ کے حرام ہونے میں دوسرا راز یہ ہے کہ اگر رسول اللہﷺ اپنے مال کو اپنی ذات کے لیے یا اپنے خاص افراد کے لیے جن کانفع آپ کا اپنا نفع ہے، کے لیےجائز قرار دیتے تو آپ کے خلاف بدگمانی کرنے والوں او رناحق اعتراض کرنے والوں کو موقع ہاتھ آجاتا کہ یہ نبی دنیا کا کتنا حریص کہ غربا و مساکین کا حق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔‘‘

حجۃ اللہ البالغہ: 2؍46

اگر انبیا ؑکے ترکہ میں عام رائج قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو ممکن تھا کہ بشری تقاضوں اور دنیا کی حرص کی وجہ سے ان کے ورثا اُن کی موت کا انتظار کرنے لگے جاتے جو ان کے حق میں وَبال ثابت ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے نبی کے ورثا کی بہتری کے پیش نظر ان کو ترکہ سے محروم کرکے دنیا کا عارضی نقصان برداشت کروا کر آخرت کے وبالِ عظیم اور ہمیشہ کی ہلاکت سے بچالیا۔ میرے علم کے مطابق یہ وہ حکمتیں ہیں جن کی وجہ سے رسول اللہﷺ کے ترکہ میں قانونِ وراثت جاری نہیں فرمایا گیا۔

 یہ ہمارا اہل سنت کا  استدلال تھا انبیاء کی وراثت مال نا ہونے میں اب آگے ہم شروع کریں گے شیعہ کا استدلال وراثت انبیاء ؑ کے مال ہونے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈۔۔۔۔۔غیرمنقولہ وراثت میں عورت کا حصہ نہیں ہوتا بقول اہل تشیع محدثین ومحققین

عدة من أصحابنا، عن سهل بن زياد، عن علي بن الحكم، عن أبان الأحمر قال:

لا أعلمه إلا عن ميسر بياع الزطي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سألته عن النساء ما لهن

من الميراث؟ قال: لهن قمية الطوب والبناء والخشب والقصب، وأما الأرض والعقارات

فلا ميراث لهن فيها، قال: قلت: فالثياب؟ قال: الثياب لهن نصيبهن قال: قلت: كيف

صار ذا ولهذه الثمن ولهذه الربع مسمى؟ قال: لأن المرأة ليس لها نسب ترث به وإنما

هي دخيل عليهم وإنما صار هذا كذا كيلا يتزوج المرأة فيجئ زوجها أو ولدها من قوم

آخرين فيزاحم قوما في عقارهم

باب

* (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) *

الکافی جلد7ص127۔ 130

الکافی میں 11روایات موجودہیں 

اسی طرح اصول اربعہ میں اور بہت ساری روایات موجود ہیں

👈نتیجہ۔۔۔۔۔۔

ان روایات کی روشنی میں حضرت فاطمہؓ کے لیے فدک کا دعوی کرنا ہی باطل ہے   

 🏵استدلات اہل تشیع ۔۔۔۔
🏵پہلی آیت ۔۔۔۔۔
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (11)
اللہ حکم کرتا ہے تمہیں تمہاری اولاد کے بارے کہ ایک لڑکے کا
حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ۔
جناب اہلتشیع حضرات اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضور ؑ  امت کے لوگوں کی طرح خطاب میں شامل ہیں اور انبیاءکی دنیاوی وراثت ہوتی ہے ۔۔۔
اعتراض اہل سنت ۔۔۔۔۔
جناب حضرت جعفر اور ابوبکر ؓ  ان الانبیاء لم یورثوا۔۔۔ اور لانورث ۔۔۔۔ کے دلائل میں آپ نے کہا کہ امت کے مردوں کے ساتھ حضور ؑ خطاب میں شامل نہیں ہیں اب قاعدہ کیسے بدلا ۔۔۔۔۔۔۔تو
تو اس آیت سے استدلال  باطل ہے ۔۔۔۔۔
اعتراض اہل سنت ۔۔۔۔۔
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا
اس آیت میں تخصیص کیوں ہے حضورؑ خطاب میں شامل کیوں نہیں ۔اور اگر شامل ہیں تو دلیل ۔۔۔۔
اعتراض اہل سنت۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح امہات المومینین کی وراثت کیوں کہ شامل خطاب ہیں تو وراثت زوج قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے ۔۔۔۔۔
اگر حضور ؐ خطاب میں شامل ہیں تو ۔۔۔۔۔
اسی طرح۔دوسری بیٹیوں کی وراثت اگر حضور ؑ خطاب میں شامل ہیں تو ۔۔
دوسرے رشتے داروں کی وراثت یعنی عصبہ ہونی کی صورت میں اگر حضورؑ خطاب میں شامل ہیں تو۔۔۔۔۔؟؟؟؟
احکام فرائض کی دوسری آیات ان میں بھی شامل خطاب ہوں گے یا نہیں اگر ہوں گے تو کیوں اگر شامل نہیں تو کیوں نہیں  ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اہل تشیع کا اعتراض ۔۔۔۔
آپ حدیث احاد کے زریعے تخصیص کس نظریے سے کر رہے
ہیں کہ حضور ؐ خطاب میں شامل نہیں
جواب۔۔۔۔۔
اس کا جواب ہم ماقبل دے چکے ہیں کہ یہ خبر واحد نہیں بخاری میں حضرت ابوبکر ؓ سے اور کئی صحابہؓ سے مروی ہے اور الکافی میں حضرت جعفر رح۔سے 
دوسراجواب
شرح آیت ۔۔۔
مانع ارث ۔۔آپ کی  کتابوں میں 37 ہیں اپنی کتاب
تحریر احکام ج 5ص55سے 80 تک دیکھیں
موانع ارث  زکر ہیں
اور اکثر کی تخصیص خبر واحد سے کی گئی  ہے
جیسے
کافر اور مسلمان
غلام وآزاد
قاتل ومقتول
لعان والی کا بیٹا
دیکھیں الکافی جلد7
اب آپ کا اہل سنت پر اعتراض کہ حدیث سے تخصیص تو جناب یہ تخصیص نہیں بلکہ وہ دونوں احادیث جو آپ کی اور ہماری کتب میں موجود ہیں وہ تفسیر ہیں آیت کی اور من لایحضر الفقیہ کی حدیث کو ترک لازم ہے۔۔۔۔
اب اگر اہلتشیع حضرات اپنی عقل کو حاضر رکھتے تو وہ اس آیت سے استدلال ہی نا کرتے

تضادات اہل تشیع
ایک ہی آیت میں کبھی حضور ؑ کی زات کو شامل خطاب کرنا اور کبھی ناکرنا کیا یہ تضاد بیانی نہیں ۔۔۔۔؟؟؟؟
کیاجب آپ حضرت فاطمہؓ کے لیے وراثت ثابت کرتے ہیں تو اس سے  حضور ؑکی دوسری بیٹیوں کو کس نظریے اور دلیل سے محروم کرتے ہیں ۔۔۔؟؟؟
جب آپ حضورؐ  کی وراثت مال ثابت کرتے ہو تو امہات المومنیین کوکس دلیل اور نظریے  سے محروم کرتے ہو ۔۔؟؟؟
جب آپ انبیاء کی وراثت مال ثابت کرتے ہو  تو آیات فرائض۔۔۔۔۔۔۔کا کیا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا فرائض کی تمام آیات سے تعارض لازم نہیں آتا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

  اہل تشیع کا دوسرا استدلال
وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)
اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور میرے پروردگار! اسے (اپنا) پسندیدہ بنا۔
استدلال ۔۔۔اس آیت سے مال کی وراثت مراد ہے ۔۔۔
اپنے رشتے داروں سے مجھے خوف لاحق ہے۔ یہ خوف اپنے بعد کا ہے: مِنۡ وَّرَآءِیۡ
تواس سے مراد مالی وراثت ہے
انبیاء ؑ کو اپنے بعد کس چیز کا خوف لاحق ہوتا تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
انبیاءؑ کو اپنے بعد کس چیز کا خوف ہوتا تھا تو جناب اس کے لیے بھی ہم قران سے ہی پوچھتے ہیں
انبیاء کہ وہ  علیہم السلام کو ہمیشہ اپنے بعد کا خوف لاحق رہا ہے۔
اس کی کچھ تفصیل
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی موت کے موقع پر اپنی اولاد سے فرمایا:
اِذۡ قَالَ لِبَنِیۡہِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۔۔۔۔
بقرہ
اس وقت انہوں نے اپنے بچوں سے کہا: میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟
سورہ مریم:  میں متعدد انبیاء علیہم السلام کے ذکر کے بعد فرمایا:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ  ۔۔۔۔
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔
وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ۔۔۔۔
آل عمران
اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بس رسول ہی ہیں، ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں، بھلا اگر یہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
ان مضامین سے ایک بات سمجھ آئ کہ تمام انبیاءؑ  نے اپنے وصال کے وقت ایک ہی بات سوچی کہ اپنی امت یا اپنے اولاد کی اللہ کی فرمابرداری  کے بارے میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچا یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ انبیاءکا وصال کے وقت کیا نظریہ ہوتا تھا ۔۔۔
لیکن یہاں شیعہ حضرات کو موقع ملا کہ یہاں  لفظ الورث سے لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں اور اس سے لوگوں کو دھوکا دیا جا سکتا ہےابنیاء کی وراثت مال ثابت کرنے میں ۔۔۔
جناب کسی ایک نبی ؑ نے بھی اپنے بعد مال کی فکر کی کہ مرے مال کا کیا بنے گا ۔۔۔؟؟؟
تو جناب اس سے وراثتِ علومِ نبوت مراد ہیں ناکہ وراثتِ مال ۔۔۔اس کے لیے ہم آپ کی خدمت میں مزید قرینے پیش کرتے ہیں 
قرینہ۔۔۔
وَ اجۡعَلۡہُ رَبِّ رَضِیًّا﴿۶﴾
میرے پروردگار! اسے (اپنا) پسندیدہ بنا۔
قرینہ ۔۔
ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا
فاطر:۔۔
(ترجمہ) پھر ہم نے اس کتاب کا وارث انہیں بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا ہے) میں لفظ کتاب قرینہ بنتا ہے کہ غیر مالی وراثت مراد ہے۔
قرینہ۔۔۔۔يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ
اے
یہاں قواعد کیسے بدل گئے کیازکریا ؑ کو مال کی زیادہ فکر تھی ؟؟؟؟جب کہ سارے قرینے آپ کے استدلال کے خلاف ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اعتراض اہل تشیع ۔۔۔
جناب ورث لفظ مالی وراثت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مجازا علوم نبوت کے لیے تو آپ اس کو حقیقی کے بجاے مجاز کے لیے استعمال کر رہے ہو بغیر دلیل کے  ۔۔۔
جواب ۔۔۔
جناب ۔ہم پہلے  آیات میں جواب دے چکے کہ انبیاءؑ کو ہمیشہ کیا فکر لاحق ہوتی تھی اور وصال کے وقت بھی ۔وہی فکر جس کا زکر ہم ماقبل میں کر آے ہیں ۔
۔۔ہر نبیؑ کے واقعات میں سے یہ ہے کہ ان کے پاس مال آتا تو گھر جب جاتے جب سارا صدقہ کر دیتے اپنے گھر دو دو مہینے چولہا نہیں جلتا اور کیا اگر انبیاء کے نزدیک کوی وقت مال ہوتی تو وہ اللہ سے دعا نا کرتے کیا اللہ احد پہاڑ کو سونا نا بنا دیتے
اس آیت کے ماقبل اور مابعد کو دیکھ لیا جاے تو انداز کلام سے پتہ چل جاے گا بشرط کہ شان ِ انبیاء ؑ کے انداز میں  سوچا جاے ناکہ اہل تشیع کے انداز میں کہ پہلے نظریے کا گھڑنا پھر اس کے لیے دلائل تلاش کرنے اور دلائل تلاش کرتے کرتے بیچارے یہ تک نہیں سمجھ سکے کہ ایک آیت سے استدلال کرنے سے کتنی آیات کا انکارتعارض لازم آتا ہے  تو سیاق و سباق خود مراد کا پتہ دیتا ہے کہ کون سی وراثت مراد ہے
اعتراض اہلتشیع ۔۔۔۔۔۔
جناب ان کو یہ ڈر ہے کہ
وَ اِنِّیۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِیَ مِنۡ وَّرَآءِیۡ۔۔۔
اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں کہ وہ مال کے وارث ہو جائیں
جناب جو مال وراثت ہے وہ رشتے داروں کے ہاتھ لگ جاے گا اور وہ اس کو فسق فجور میں استعمال کریں گے
جواب ۔۔۔
جناب ۔۔۔۔اس کا آسان حل ہے تمام مال صدقہ کر دیتے اور یہ خوف ختم ہو جا تا
توجناب ایسا نہیں یہاں وراثت سے علوم نبوت ہی مراد ہے اور مناسب بھی ہے
قرینہ ۔۔۔۔۔
ییحی خذ الکتاب بقوة سے بھی یہی ثابت ہے کہ یہاں کون سی وراثت مراد ہے اور اس کی مزید آیات بھی اس پر دال ہیں ۔۔۔۔۔
تضادات اہل تشیع

1..یہاں قواعد کیسے بدل گئے کیازکریا ؑ کو مال کی زیادہ فکر تھی ؟؟؟؟جب کہ سارے قرینے آپ کے استدلال کے خلاف ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

2..جناب کیانبی ؑ کواللہ کا حکم پتہ نہیں تھا کہ رشتے دار وارث ہوتے ہیں ۔۔۔۔؟؟؟؟
3…اگر اولاد نا ہو تو اور زکریا ؑ کو اللہ کے  اس حکم کا پتہ نہیں تھا یا اس حکم پر پچھتاوا محسوس کر رہیے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

کیاآپ کے استدلال سے یہ ثابت 4 نہیں ہوتا کہ تمام انبیاء ؑ توامت کی بھلائ کی فکر کریں اور آپ کے استدلال کے مطابق حضرت زکریاؑ مال کی فکر کریں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
کیا من ورآء کا جو مفہوم آپ نے لیا وہ قران کی دوسری آیات سے متصادم نہیں ۔۔۔جو انبیاء ؑ کی امت کی فکر میں بیان کی گئی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

فرائض کی دوسری آیات جن کا  ماقبل ذکر کیا گیا ہے
کیا تمام قرینے علوم بنوت پر دلالت نہیں کرتے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
اہلتشیع کا تیسرا استدلال

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ 

اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے۔

استدلال شیعہ ۔۔۔۔اس آیت سے شیعہ حضرات نے انبیاء کی وراثت مال ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے 

داود ؑکے وارث سلیمان ؑ ہوے ۔۔۔۔

اعتراض اہل سنت۔۔۔۔۔جناب حضرت دادو ؑ کے سلیمان ؑ کے علاوہ بھی اولاد تھی ۔۔۔

اولادداودؑ ۔۔۔

(1) یہ داؤُد کے بیٹے ہیں جو حبرُو ن میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔پہلوٹھا امنو ن یزرعیلی اخِینُو عم کے بطن سے

دُوسرا دانی ایل کرمِلی ابِیجیل کے بطن سے۔ 

  تِیسرا ابی سلوم جو جسُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہ کا بَیٹا تھا ۔ 

چَوتھا ادُونیاہ جو حجِیّت کا بَیٹا تھا

پانچواں سفطیاہ ابی طال کے بطن سے 

 چھٹا اِترعام اُس کی بِیوی عِجلہ سے۔

کتاب سموئیل آیت ۔۔۔1:3

اس کے علاوہ داؤد کی دیگراولادیں تواریخ کی روشنی میں مندرجہ ذیل ہیں:

 اور یہ یروشلیِم میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔ 

سِمعا اور سُوباب اور ناتن اور سُلیمان ۔ یہ چاروں عمّی ایل کی بیٹی بت سُوع کے بطن سے تھے۔ 

 اِبحار اور الِیسمع اور الِیفلط۔ 

 نُجہ اور نفج اور یفِیعہ۔  اور الِیسمع اور الِیدع اور الِیفلط ۔  یہ سب حرموں سے اور تمر اِن کی بہن تھی۔

تواریخ اول باب سوم ۔آیت ۔۔5۔9

حضرت داود ؑ کی ننیانویں بیویاں تھیں 

تو کیا وراثت میں یہ حصے دار نہیں ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

تو جناب اکیلے سلیمان ؑ کے لیے آپ آیت سے مال کی وراثت کیسے ثابت کر سکتے ہیں ۔۔۔؟؟؟

تو جناب آپ کا استدلال تو یہیں

باطل ہو جاتا ہے کہ آپ اس سے اکیلے سلیمان ؑ کی وراثت ثابت کرتے ہیں تو اس سے ہمارے وہ سارے اعتراضات لازم آے جو پہلی آیت میں ہوے 

دوسرے بیٹوں بیٹیوں اور بیویوں  کو کیا ملا ۔۔۔؟؟؟؟

اعتراض شیعہ کی طرف سے ۔۔۔

لفظ کو مجاز کے بجاے اصل معنی میں کیوں مراد نہیں لیتے اور مجاز میں استعمال کی دلیل کیا ہے 

پہلاجواب   ۔۔۔۔۔۔ 

جناب وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ (15)

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا، اور کہنے لگے اللہ کا 

شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی۔

ولقد آتينا داود وسليمان علما طائفة من العلم أو علما اي علم وقالا

الحمد لله فعلا شكرا له ما فعلا وقال الحمد لله الذي فضلنا على كثير من عباده

المؤمنين يعم من لم يؤت علما أو مثل علمهما وفيه دليل على فضل العلم وشرف

أهله حيث شكراه على العلم وجعلاه أساس الفضل ولم يعتبرا دونه وما أوتيا من الملك

الذي لم يؤت غيرهما وتحريض للعالم على أن يحمد الله على ما اتاه من فضله وان

يتواضع ويعتقد انه وان فضل على كثير فقد فضل عليه كثير

تفسیر صافی کی آیت کی تفسیر 

کہیں کوی اشارہ نہیں ہے مال کے وراثت ہونے کا 

تفسیر صافی ج4۔ ص59

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ (16)

اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔

وورث سليمان داود الملك والنبوة

في الكافي عن الجواد عليه السلام انه قيل له انهم يقولون في حداثة سنك فقال إن

الله أوحى إلى داود ان يستخلف سليمان عليه السلام وهو صبي يرعى الغنم

فأنكر ذلك عباد بني إسرائيل وعلماؤهم فأوحى الله إلى داود ان خذ عصا المتكلمين

وعصا سليمان واجعلهما في بيت واختم عليها بخواتيم القوم فإذا كان من الغد فمن

كانت عصاه أورقت وأثمرت فهو الخليفة فأخبرهم داود (عليه السلام) فقالوا قد رضينا وسلمنا وقال

يا أيها الناس علمنا منطق الطير وأوتينا من كل شئ تشهيرا لنعمة الله وتنويها بها

ودعاء للناس إلى التصديق بذكر المعجزة

في البصائر عن الصادق عليه السلام انه تلا رجل عنده هذه الآية فقال (عليه السلام) ليس

فيها من وإنما هي وأوتينا كل شئ ان هذا لهو الفضل المبين الذي لا يخفى على

حد

في الجوامع عن الصادق عليه السلام يعني

🌹 الملك والنبوة🌹

والقمي عنه عليه السلام أعطي سليمان بن داود مع علمه معرفة المنطق بكللسان ومعرفة اللغات ومنطق الطير والبهائم والسباع وكان إذا شاهد الحروب تكلم

بالفارسية وإذا قعد لعماله وجنوده وأهل مملكته تكلم بالرومية وإذا خلا بنسائه تكلم

بالسريانية والنبطية وإذا قام في محرابه لمناجاة ربه تكلم بالعربية وإذا جلس للوفود

والخصماء تكلم بالعبرانية

وفي المجمع عنه عن أبيه عليهما السلام قال أعطي سليمان بن داود ملك

مشارق الأرض ومغاربها فملك سبعمأة سنة وستة اشهر ملك أهل الدنيا كلهم من

الجن والإنس والشياطين والدواب والطير والسباع وأعطي علم كل شئ ومنطق كل

شئ وفي زمانه صنعت للصنايع العجيبة التي سمع بها الناس وذلك قوله علمنا منطق

الطير

وفي البصائر عنه عليه السلام قال قال أمير المؤمنين عليه السلام لابن عباس ان

الله علمنا منطق الطير كما علم سليمان بن داود عليه السلام ومنطق كل دابة في بر

وبحر وعنه عليه السلام ان سليمان بن داود (عليه السلام) قال علمنا منطق الطير وأوتينا من كل

شئ وقد والله علمنا منطق الطير وعلم كل شئ

وفي الكافي عن الكاظم عليه السلام قال إن الإمام لا يخفى عليه كلام أحد من

الناس ولا طير ولا بهيمة ولا شئ فيه الروح ومن لم تكن هذه الخصال فيه فليس هو

بإمام

وعن الباقر عليه السلام انه وقع عنده زوج ورشان على الحايط فهدلا هديلهما

فرد عليهما كلامهما فمكثا ساعة ثم نهضا فلما طارا على الحايط هدل الذكر على

الأنثى ساعة ثم نهضا فسئل (عليه السلام) ما هذا الطير فقال كل شئ خلقه الله من طير وبهيمة

أو شئ فيه روح فهو اسمع لنا وأطوع من ابن آدم ان هذا الورشان ظن بامرأته فحلفت

له ما فعلت فقالت ترضى بمحمد بن علي (عليه السلام) فرضيا بي فأخبرته انه لها ظالم

فصدقها

والاخبار في هذا المعنى عنهم عليهم السلام كثيرة

یہ اشارات ہیں  علوم نبوت کے وراثت ہونے کا اور تفسیر صافی میں جب وراثت داود ؑکےبارے امام جعفر صادق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی ملک اور نبوت ہی وراثت فرمائ 

صافی ج4ص۔59۔60

ان الانبیاء لم یورثوا ۔۔۔کی بھی تصدیق ہو گئی 

دوسرا اشارہ ۔۔۔

الکافی کی روایت ۔۔۔

قال ابو عبداللہ ۔ان سلیمان ورث داود وان محمد ورث سلیمان ۔۔۔

الکافی ص53 طبع۔تہران 

اس روایت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمدؐ سلیماں ؑ کے کس چیز میں وارث ہو ے ؟؟؟؟؟؟

مرے خیال میں اتنا کافی ہے 

اپنی ہی کتابوں کی تضاد بیانیوں کا اگر شیعہ ایمانداری سے جواب دے دیں تو ہدایت پا جائیں

اور کبھی بھی خلفاء راشدین ؓاور صحابہؓ کی توہین نا کریں  اور انبیاء ؑ کی وراثت مال ہونے سے توبہ کر لیں ۔۔۔۔۔۔

ہبہ باغ فدک
یہاں سے ہم شروع کرتے ہیں باغ فدک کے ہبہ کرنے کے بیان میں جب اہل تشیع حضرات انبیاء ؑ کی وراثت مال ثابت کرنے میں عاجز ہو جاتے ہیں تو ہبہِ باغ فدک کا دعوی کرتے ہیں اور عجیب منطقی انداز اپناتے ہیں
سب سے پہلے ہبہِ فدک میں بحث شافی سنہ 432ھ میں کی گئی
اس کی اصل وجہ پہلے وہ نظریہ گھڑتے ہیں پھر اس کے لیے دلائل تلاش کرتے ہیں
یہاں ان کے دعوے کا دارومدار
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ  الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴿24﴾
رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا﴿25﴾
وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا﴿26
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔ (24)
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وه تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے واﻻ ہے۔ (25)
اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو۔ (26)
🏵 تاریخ نزول۔۔۔۔۔
بلاتفاق شیعہ اورسنی مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورت اور اسکی تمام آیت مکی ہیں جیسے کہ سورہ کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ سورہ واقع معراج کو بیان کرتی ہے اور واقعہ معراج نبوت کے دسویں سال پیش آیا ہجرت سے ایک سال پہلے ۔۔۔
اور باغ فدک اور خیبر  کا واقع 7ھجری کو پیش آیا محرم 7ھ (مئی 628ء)
🏵 مغازی جلد 2 صفحہ 637
🏵المغازی واقدی جلد 2 صفحہ 700
🏵 تاریخ ابنِ کثیر جلد 3
🏵انسائکلوپیڈیا آف اسلام
اب سوالات پیدا ہوتے ہیں
🏵کیا ایک چیز کا نام و نشان ہی موجود نہیں تو ہبہ کیسے ۔۔؟؟؟؟
🏵فقہی مسلہ کیافقہ جعفریہ میں کسی بھی چیز کو اپنی ملکیت میں لینے سے  پہلے ہبہ کیا جا سکتا ہے۔۔؟؟؟؟؟؟
🏵محمد بن أحمد بن يحيى عن موسى بن عمر عن العباس بن عامر عن ابان
عن أبي بصير عن أبي عبد الله عليه السلام قال: الهبة لا تكون ابدا هبة حتى يقبضها،
والصدقة جائزة عليه.
🏵الاستبصار۔۔۔۔ج4۔ص۔۔108
اس باب میں سترہ احادیث زکر ہیں ۔۔۔
🏵اعتراض شیعہ ۔۔۔۔۔اگرچہ یہ سورة مکی ہے لیکن یہ آیت مدنی ۔۔۔. 
🏵جواب ۔۔۔۔۔
🏵ان اللہ عز۔جل۔انزل علیہ فی سورة بنی اسرائیل ببکة
🏵الکافی کتاب الکفر والایمان طبع۔4۔ج۔3ص52
اس آیت کے زریعے سے وہ لوگوں کو ہبہِ باغ فدک کا دھوکا دیتے ہیں
کیوں نا ہم پہلے اس آیت کو حل کریں تاکہ سارے دعوے کی ہوا ۔نکل جائے اور جب بنیاد کی اینٹ ٹیڑھی ہو تو امارت کیسے سیدھی بن سکتی ہے تو جناب شیعہ حضرات نے بنیاد ہی ٹیڑھی رکھی ہے تو سب سے پہلے آیت کو حل کرتے ہیں
اس کو ہم حل اس طرح کرتے ہیں سب سے پہلے ہم اس کی
صرفی نحوی ترکیب کرتے ہیں
اور قواعد نحو کے زریعے اس کو جملہ بناتے ہیں
🏵الواو استئنافيّة (آت) فعل أمر مبنيّ على حذف حرف العلّة، والفاعل أنت (ذا) مفعول به أوّل منصوب وعلامة النصب الألف (القربى) مضاف إليه مجرور وعلامة الجرّ الكسرة المقدّرة على الألف (حقّه) مفعول به ثان منصوب.. والهاء مضاف إليه الواو عاطفة في المواضع الثلاثة (المسكين، ابن) اسمان معطوفان على (ذا) منصوبان، (السبيل) مضاف إليه مجرور (لا) ناهية جازمة (تبذّر) مضارع مجزوم، والفاعل أنت (تبذيرا) مفعول مطلق منصوب.
جملة: (آت…) لا محلّ لها استئنافيّة.
وجملة: (لا تبذّر…) لا محلّ لها. معطوفة على الاستئنافيّة.
اس آیت کی یہ ترکیب ہےاب کوی بڑے سے بڑا ماہر بھی ہماری اس ترکیب کو غلط ثابت کر کے دکھاے ۔۔۔۔
سیدھے الفاظ میں
جو حکم ذاالقربی حقہ پر وہی المسکین اور ابن السبیل کے لیے ہے
جبکہ اہل تشیع کہتے ہیں اس سے مراد حضرت فاطمہ ؓ حسن ؓوحسین ؓ  ہیں ۔۔
اب فیصلہ آپ کا ۔۔۔۔۔اگر اس آیت کے تحت باغ فدک ہبہ یا وقف ۔۔۔۔؟؟؟
مال فئی
سات قطعات زمین اور تھے جو مدینہ سے ملحق تھے۔ جن کو یہود بن نضیر سے حاصل کیا گیا تھا۔
یہ تمام قطعات زمین مع فدک کے رسول پاک نے اپنی حاجتوں کے لئے اپنے قبضہ میں رکھ لئے تھے۔ جن کی آمدنی سے پانچواں حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا تھا۔
اسی طرح بعض قطعات خیبر کے تھے
جہاد میں جو مال غنیمت آتا تھا اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ مقرر تھا۔
یہ ملکیتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت سربراہ حاصل ہوئی تھیں، یعنی حکومت وقت کی ملکیتیں تھیں۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی حکومت کے سربراہ کی طرف منتقل ہونی تھیں، لیکن ذاتی ملکیت کسی کی بھی نہ تھیں۔
اس بات کی تائید قرآن پاک کی سورت الحشر کی آیات چھ اور سات سے بھی ثابت ہے۔
🌹 وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  ﴿٦﴾
🌹 اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
(سورت الحشر آیت 6)
🌹 مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  ﴿٧﴾
🌹 جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔
(سورت الحشر آیت 7)
فدک کی ملکیت کے حصہ دار
1⃣ اللہ عزوجل
2⃣ نبی ﷺ
3⃣ نبی ﷺ کے قرابت دار
4⃣ یتیم
5⃣ حاجتمند
6⃣ مسافر
فدک کی آمدنی قرآن پاک کے مطابق نبیﷺ خرچ کرتے رہے۔
ان آیات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال فئے کی ملکیت نبی کریم کی ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتی ، ورنہ اس ملکیت کے اتنے حصہ دار کیسے ممکن ہیں؟
رسولﷺ کو ان قطعات زمین سے جو آمدنی ہوتی تھی وہ مختلف امور پر خرچ فرماتے تھے۔
1 اپنی ذات مبارک پر اپنے اہل و عیال، ازواج مطہرات پر اور تمام بنی ہاشم کو اس آمدنی سے کچھ عطا فرماتے تھے۔
2 مہمان اور بادشاہوں کے جو سفیر آتے تھے، ان کی مہمان نوازی بھی اسی آمدنی سے ہوتی تھی۔
3 حاجت مندوں اور غریبوں کی امداد بھی اسی سے فرماتے تھے۔
4 جہاد کے لئے اسلحہ بھی اسی آمدنی سے خرید فرماتے تھے۔
5 آپﷺ اسی آمدنی سے مجاہدین کی امداد بھی فرماتے تھے۔ جس کو تلوار کی ضرورت ہوتی اس کو تلوار اور جس کو گھوڑے یا اونٹ کی حاجت ہوتی، اسے عطا فرماتے۔
6 اصحاب صفہ کی خبر گیری اور ان کے مصارف بھی نبی ﷺ اسی سے پورا فرماتے تھے۔
صدقہ کا جو مال آتا تھا، نبی ﷺ اس سے کچھ نہیں لیتے تھے، آتے ہی فورا غریبوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ آمدنی ان تمام مصارف کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ ازواج مطہرات کو شکایت رہتی تھی۔ آپ نے بنی ہاشم کا جو وظیفہ مقرر کیا تھا، وہ بھی مناسب تھا۔
سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا آپ کو حد سے زیادہ عزیز تھیں۔ مگر ان کی بھی پوری کفالت نہیں فرماتے تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قطعات زمین کی آمدنی حضور ﷺ مخصوص مدوں میں خرچ فرماتے تھے اور ان کو آپ نے اپنے ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ اﷲ تعالیٰ کا مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ فرما دیتے تھے۔
قرآن میں دو قسم کے اموال کا ذکر آیا ہے۔
1 مال انفال: وہ مال جو جنگ کے نتیجہ میں حاصل ہو یعنی مال غنیمت۔
2 مال فئے: وہ مال جو بغیر جنگ کے حاصل ہو۔

باغ فدک بغیر جنگ کے نبی کریم کو یہودیوں نے دیا تھا۔ سورت الحشر آیت 7 میں اسی مال فئے کا ذکر اور اس کے حصہ داروں کا بتایا گیا ہے جبکہ مال انفال کے بارے میں تو الگ سے واضح مصارف بیان کردئے گئے ہیں۔
مال انفال کا حکم سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے پانچ حصے کیے جائیں چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کر دیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں داخل کر کے ان مصارف میں صرف کیا جائے جو اس آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمد) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
(سورت الانفال 41)
غور طلب بات یہ ہے کہ مال انفال کا پانچواں حصہ بھی نبی کریم کی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس میں بھی قرابت دار، یتیم، محتاج اور مسافر حصہ دار ہیں۔
اور مال فئے کا حکم یہ ہے کہ اسے فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ وہ ملکیت یا اس سے حاصل شدہ آمدنی پوری کی پوری ان مصارف کے لیے مخصوص کر دی جائے جو سورت الحشر کی آیت 7 میں بیان کیے گئے ہیں۔
اہل تشیع کے جیّد مفسر سے یہ ثابت ہوجائے ، بلکہ اس نے تو ایک امام سے روایت کر کے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مال فئے کے چھ حصہ دار ہیں اور نتیجہ نکلا ہے کہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی ﷺ کی ملکیت تھا : مال فئے کے متعلق اہل تشیع کی تفسیر نمونہ میں سورت الحشر کی ان آیات کے تحت شیعہ مفسر کی چند عبارات پیش کرتا ہوں۔
جو کچھ خدا نے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول(ﷺ) کی طرف پلٹایا ہے وہ خدا رسول (ﷺ) اس کی زوی القربیٰ یتیموں ، مسکینوں اور راستوں میں در ماندہ لوگوں کے لیے ہے۔ یعنی مسلح جنگ کے اموال غنیمت کی مانند نہیں جن کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر (ﷺ) اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے۔ باقی چار حصہ جنگجو افراد کے لیے ہیں۔ نیز اگر گزشتہ آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام کا تمام رسول خدا (ﷺ) سے متعلق ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سارے کا سارا اپنے شخصی اور ذاتی مصارف میں صرف کریں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اور خصوصاٌ حاجت مندوں کے حقوق کے محافظ”
اور ایک جگہ بیان کیا ہے کہ
“فئے کا مصرف وہ اموال غنیمت جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں ان کا مصرف
وہ اموال جو فئے کے عنوان سے رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں سربراہ حکومت اسلامی کی حیثیت سے آتے تھے وہ ان تمام اموال پر مشتمل ہوتے تھے جو بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگتے تھے۔”
مزید یہ بھی بیان کیا ہے کہ
“ان تمام اموال کو اپنی ذات کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ حکومت اسلامی کے سربراہ و امیر کی حیثیت سے جس شعبہ میں ضرورت محسوس کرتے ہیں صرف فرماتے ہیں”
ان عبارات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے بشمول باغ فدک کسی کی شخصی ملکیت اور وراثت نہیں ہے ۔
دلائل:
1⃣ تفسیر نمونہ کی یہ روایت سورت الحشر کی آیت 7 کی تائید میں ہے۔ مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو قرآن کریم میں فدک کے اتنے مصارف بیان نہ کئے جاتے۔
حضرت امام باقر رحمہ الله نے عین قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق مال فئے کے چھ حصیدار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے ہم بھی ان حصہ داروں میں شامل ہیں۔
اگر مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو امام فرماتے کہ مال فئے نبی کریم کے بعد ان کی اولاد کا حق ہے اور ہم ہی اس مال کے اکیلے مالک ہیں۔
مطلب قرآن کریم کی روشنی میں تفسیر نمونہ کی روایت بالکل درست ہے۔
2⃣  تم نے اس روایت کے رد میں کہا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ فدک ایک مضبوط حقیقت ہے، جس سے فدک کا ذاتی ملکیت ہونا ثابت ہوتا ہے، یعنی تفسیر نمونہ میں امام کا قول تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
تمہاری یہ بات بھی درست نہیں ہے۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مطالبہ فدک اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کے خیال میں نبی کریم کی زندگی میں فدک کی آمدنی اہل بیت کے اخراجات کے لئے استعمال ہوتی تھی تو نبی ﷺ کے بعد فدک بطور ورثہ انہیں ملنا چاہئے تاکہ اس کی آمدنی اسی طرح انہیں ملتی رہے جس طرح نبی ﷺ سے وصول ہوتی تھی تاکہ اہل بیت اپنا خرچہ حاصل کرتے رہیں۔
جب یہ مطالبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری ملکیت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کر دی اور کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے
“لَا نُورِث مَا تَركنا فهُو صَدقة”
ترجمہ: ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔
مطلب انبیاء کرام کی وراثت مال ملکیت نہیں ہوتی۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ فدک کی آمدنی سے نبی ﷺ اہل بیت کو جو خرچہ دیتے تھے وہ ان کے بعد بھی اسی طرح باقائدگی سے دیا جاتا رہے گا۔
سنی و شیعہ معتبر کتب کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ یقین دہانی کرائی کہ فدک کی آمدنی من و عن اسی طرح خرچ ہوتی رہے گی جس طرح خود نبی ﷺ خرچ کرتے تھے۔

اس آیت کو ہبہ باغ فدک مراد لینے سے

تضادات اہل تشیع
🏵کیا حکم ہے مساکین کا ۔۔۔۔؟؟؟
🏵کیا حکم ہے ۔۔۔ابن السبیل کا ۔۔۔۔؟؟؟؟
🏵کیا نبی ؐ نعوذباللہ پر ہبہِ فدک سے نا انصافی ثابت نہی آتی ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
🏵کیا یہ اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ نہیں ہے کہ یہ مساکین اور ابن السبیل کا بھی حق تھا  ۔۔۔۔؟؟؟
🏵کیااس آیت کی تخصیص سے حضور نبیؐ کریم کے معصوم ہونے پر سوال کھڑا نہیں ہوتا کہ اس میں تبذیرسے منع کیا گیا  ۔۔۔؟؟؟
🏵کیا یہ نبی ؐ کی شان ہے کہ  ان سے فضول خرچی کا گمان کیا جاے ۔۔۔۔؟؟؟؟؟
🏵سیاق کلام کو دیکھیں تو پہلی آیت میں والدین کا زکر ہے تو حضورؐ کے والدین اس وقت تک وفات پا چکے تھے تو نبیؐ  خطاب میں شامل نہیں اب آپ کا دعوی کیسے ثابت ہو سکتا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
🏵جب نبی ؐ خطاب میں شامل نہیں تو فدک وقف کے حکم میں ہے اور یہی اہلسنت کا موقف بھی اور ثابت بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب سنی کتابوں میں کثرت سے ہبہِ باغِ فدک میں روایات موجود ہیں ۔؟؟؟؟؟
🏵جواب ۔۔۔۔
جناب ہم سنی اور شیعہ روایات کو دھاگہ ڈالتے ہیں اور ان روایات کی اسانید کو یکجا کرتے ہیں ۔
🏵شافی میں کوئ روایت سنیوں کی طرف سے نقل نہیں کی گئی ۔۔
🏵تلخیص شافی میں بھی کوئ روایت سنیوں کی طرف سے پیش نہیں کی گئ
🏵کشف الحق ونہج الصدق
میں بھی کوی روایت زکر نہیں کی گئی
🏵طرائف میں ایک روایت مقطوع سند ۔واقدی بشر ابن غیاص اور بشر ابن الولید سے زکر کی ہے
🏵طرائف میں ابن مردویہ ابوسعید سے منقول کرتے ہیں۔
🏵بحار الانوار میں باب نزول الآیات فی امر فدک
کہتے ہیں کہ اس آیت کے نزول بہت زیادہ شیعہ اور سنی روایات منقول ہیں لیکن خود صرف ابو سعید کی روایت نقل کرتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں
🏵علامہ طبرسی نے بھی جہاں زکر کیا ہے ابو سعید سے زکر کیا ہے
🏵منہج الصادقین نے دو روایوں کے اضافے سے ابو سعید کی روایت نقل کی ہے
🏵سعدالسعود میں بھی ابو سعید سے نقل کی گئی ہے
🏵سعدالسعود میں بیس اسناد زکر ہیں لیکن تمام ابی سعید کی ہیں ۔
🏵احقاق الحق میں بھی واقدی  کی مقطوع سند روایت نقل ہے
🏵عماد الاسلام میں ایک ابن مردویہ والی روایت ابی سعید سے طرائف کے حوالے کی نقل ہے
🏵عماد الاسلام میں مقطوع سند کنزالعمال کے حوالے سے روایت مزکور ہے
🏵عماد الاسلام میں در منثور سے مقطوع سند روایت نقل ہے
🏵عمادالاسلام میں معارج النبوت کے حوالے سے ابی سعید کی روایت نقل ہے
🏵شافی اور عماد الاسلام دونوں نے کئی کئی روایات پیش کی اور دعوی کیا کہ یہ روایت کئی طرق سے منقول ہے لیکن کوئی ایک بھی سند ابو سعید سے ہٹ کر پیش نا کر سکے
🏵روضةالصفاد معارج نے بھی یہی ابو سعیدوالی سند زکر کی ہے
🏵تشئید المطاعن نے بھی وہی ابو سعید والی روایت نقل کی ہے
🏵کفایة الموسوم الولایہ میں بھی فدک پرتفصیلی بحث کی گئی لیکن روایت وہی ابو سعید والی پیش کی گئی ہیں
🏵کفایة الموسوم الولایہ میں ثعلنی کی روایت جو سدی ودیلمی سے نقل کی ہے لیکن اس صاحب نے ہبہ ِ فدک اور دعوے فدک کو خلط ملط کیا ہے اور کوی نئ سند زکر نہی کی
🏵غایت المرام میں بھی بڑے زور شور سے روایت نقل کی  لیکن صرف ثعلبی کی ہی ایک روایت کو نقل کیا ہے باقی گیارہ روایات شیعہ کی نقل کی ہیں
🏵یہ تمام وہ کتابیں ہیں جو ہبہ ِ فدک میں سنہ 400ہجری سے اب تک شیعہ کی طرف سے لکھی گئی اور بھی کتابیں ہیں اب جن روایات کو وہ سنیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کی اسنانید کو ملایا جاے تو کل
نو روایات بنتی ہیں ان میں چار کی سند مکمل زکر کی گئی ہیں اور پانچ کی سندیں مکمل نہیں ہیں
بعض ابو سعید خدری ؓ کی طرف منسوب کی ہیں 
اب آگے ہم چار مکمل اسانید بیان کرتے ہیں ۔۔۔۔
🏵۔۔۔پہلی سند۔۔۔۔۔۔۔
پانچ محذوف السندیں 
شیعہ ان کی نسبت سنیوں کی طرف کرتے ہیں
پہلی۔
💐کنزل الاعمال عماد الاسلام الحاکم وغیرہ میں زکر ہے
ابراہیم ابن محمد ابن میمون۔۔علی ابن عابس ابن النجار۔۔۔ابوسعید
💐دوسری جو عمادالاسلام درمنثوراور طعن الرماح وغیرہ میں محذوف السند زکر ہے
ابو یعلی ۔۔۔ابن حاتم۔۔۔۔ابن مردویہ۔۔۔۔۔۔ابو سعید
💐تیسری روایت۔۔بحار الانوار میں سنی کتب کی نسبت زکر ہے
مامون نے عبیداللہ ابن موسی سے فدک کا حال تحریرا دریافت کیا تو اس نے اس محذوف سند کو زکر کیا
فضل ابن مرزوق۔۔۔۔عطیہ عوفی اور۔۔۔۔۔۔ابوسعید
💐چوتھی روایت جس کی نسبت سنیوں کی طرف نسبت ہے محذوف السند
واقدی ۔۔۔۔۔بشر ابن ولید۔۔۔۔بشرابن غیاث
اس کو شوستری نے احقاق الحق میں زکر کیا ہے ۔۔
💐معارج النبوت اور مقصد اقصی میں عماد الاسلام کی محزوف السند زکر ہے
یہ وہ کل سرمایہ ہے شیعہ کا جس کی نسبت وہ سنیوں کی طرف کرتے ہیں
اور اس کا اصل پودہ ابو سعید اور عطیہ عوفی ہے جس کے یہ پھل پھول ہیں
🏵ایک بات تو یہ ثابت ہوئ کہ یہ خبر واحد ہے جس کو نقل در نقل کی صورت میں لوگ متواتر سمجھتے ہیں ۔۔
اب ہم بحث کریں گے
🏵ابو سعید ۔۔۔🏵عطیہ عوفی
یہ کون ہیں تاکہ پتہ چلے
یہ جھوٹ کا ٹوکرا کس کا ہے
🏵ابو سعید محمد ابن سائب الکلبی۔
اول درجے کی جھوٹے ، حدیثیں گھڑنے والے ، اور شیعہ تھے۔
علامہ سخاوی نے
🏵رسالہ منظومہ جزری میں لکھا ہے،
🏵 ان من امثلة ( ای من له اسماء مختلفة ونعوت متعددة ) محمد بن سائب کلبی المفسر ھو ابو النضر الذی روی عنه ابن اسحاق وھو حماد بن سائب روی عنه ابو اسامه وھو ابو سعید الذی روی عنه عطیة الکوفی موھما انه الخدری وھو ابو ھشام روی عنه القاسم بن الولید۔
ترجمہ؛ کہ ان لوگوں میں سے جن کے مختلف نام ، اور متعدد کنیتیں اور لقب ہیں ، ایک محمد بن سائب کلبی مفسر ہیں ، انہی کی کنیت ابو نضر ہے، اور اس کنیت سے ابن اسحاق ان سے روایت کرتے ہیں ، اور انہی کا نام حماد بن سائب بھی ہے، اور ابواسامہ اسی نام سے ان سے روایت کرتے ہیں ، اور انہی کی کنیت ابو سعید ہے ، اور اسی کنیت سے عطیه عوفی ان سے روایت کرتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈالیں ، کہ یہ ابوسعید الخدریؓ ہیں ، اور انہی کی کُنیت ابو ھشام بھی ہے، اور اس کنیت سے قاسم بن الولید ان سے روایت کرتے ہیں۔
🏵تقریب التھذیب میں ان حضرت کے بارہ میں یوں لکھا ہے،
🏵 محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابو نضرالکوفی النسابه المفسر متھم باالکذب ورمی باالرفض من السادسه مات سنة ماة وست اربعین۔
ترجمہ؛ محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابوالنضر الکوفی نسبت جاننے والے اور تفسیر لکھنے والے جھوٹ اور رفض سے متھم ہیں ، اس کی وفات سن 146 ھجری میں ہوئی۔
🏵میزان الاعتدال میں ان صاحب کے متعلق عربی کی لمبی عبارت لکھی ہوئی ہے اس لئے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
محمد بن سائب کلبی جن کی کنیت ابو النضر ہے ، وہ کوفی ہیں ، اور مفسر اور نسب جاننے والے اخباری ہیں ،
🏵امام ثوری ان کی نسبت کہتے ہیں ، کہ کلبی سے بچنا چاہئے ، اس پر کسی نے ان کو کہا ، کہ آپ تو خود ان سے روایت کرتے ہیں ، تو انہوں نے جواب دیا ، میں اس کے جھوٹ کو اس کے سچ سے جدا کرنا جانتا ہوں
🏵 امام بخاری نے کہاہے ، کہ یحیٰی اور ابن مھدی نے اس کی روایت قابل ترک بتلائی ہے، اور امام بخاری نے یہ بھی کہا ہے، کہ علی نے یحیٰی سے اور انہوں نے سفیان سے بیان کیا ہے، کہ ابو صالح سے جو میں تم سے بیان کروں ، وہ جھوٹی ہے، اور یزید بن زریع نے کلبی سے روایت کی ہے، کہ وہ عبدالله بن سبا کے فرقہ کا تھا
🏵 ابو معاویه کہتے ہیں ، کہ اعمش نے کہا ہے، کہ اس سبائیہ فرقہ سے بچنا چاہئے ، کیونکہ وہ کذاب ہوتے ہیں
🏵ابن حبان نے کہا ، کہ کلبی سبائی تھا، یعنی ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ، کہ علی رضی الله عنه مرے نہیں ، اور پھر وہ دنیا کی طرف رجعت کریں گے، اور اسے انصاف سے اس طرح بھر دیں گے ، جیسے کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی ، اور جب بھی وہ بادل کو دیکھتے ، تو کہتے ، کہ امیرالمؤمنین ( علی رضی الله عنه ) اسی میں ہیں  🏵ابو عوانه سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں ، کہ میں نے خود کلبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ، کہ جبرائیل علیہ السلام رسول الله صلٰی الله علیه وسلم پر وحی بیان کرتے ، اور ایسا اتفاق ہوتا ، کہ آپ رفع حاجت کے لئے بیت الخلاء تشریف لے جاتے ، تو جبرائیل علیہ السلام ، علی رضی الله عنه پہ اس وحی کو املا کرواتے ( یعنی وحی حضرت علی پہ نازل کی جاتی ) احمد بن زہیر کہتے ہیں ، میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا ، کہ کلبی کی تفسیر دیکھنا درست ہے؟ انہوں نے کہا نہیں ،
🏵 جوزجانی وغیرہ نے کہا ، کہ کلبی بڑا جھوٹا ہے، اور دارقطنی اور ایک جماعت نے کہا، کہ وہ متروک ہے ، یعنی اس کی روایت لینے کے لائق نہیں ہے،
🏵ابن حبان کہتے ہیں ، اس کا جھوٹ ایسا ظاھر ہے، کہ بیان کرنے کی حاجت نہیں ، اور ان حضرت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے، کہ وہ تفسیر کو ابو صالح سے اور ابو صالح کی روایت ابن عباس سے بیان کرتےہیں ، حالانکہ نہ ابو صالح نے ابن عباس کو دیکھا ، اور نہ ہی کلبی نے ایک حرف بھی ابو صالح سے سنا ہے، مگر جب بھی ان کو تفسیر میں کچھ بیان کرنے کی حاجت ہوتی ، تو اپنے دل سے نکال لیتے ، ایسے کا ذکر کرنا بھی کتاب میں جائز نہیں ، کجا یہ کہ اس کی سند ( کوئی روایت ) لینا۔
🏵تذکرة الحفاظ ( حفاظ الحدیث کا تذکرہ ) میں امام ذہبی نے ان کے فرزند ارجمند ھشام بن کلبی کا جہاں تذکرہ کیا ہے، وہاں ان کے پدر بزرگوار ” محمد بن سائب کلبی ” کو رافضی لکھا ہے، اور ان کے فرزند ارجمند کو حفاظ الحدیث میں داخل بھی نہیں کیا۔
🏵معجم الادبا میں یاقوت حموی نے جہاں محمد بن جریر طبری کی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے، وہاں لکھا ہے، کہ طبری نے غیر معتبر تفسیر اپنی تفسیر کی کتاب میں بیان نہیں کی ، اسی لئے کتاب میں کچھ بھی ” محمد بن سائب کلبی ، مقاتل بن سلیمان ، اور محمد بن عمر واقدی کی کتابوں میں سے نہیں لیا، کیونکہ یہ لوگ اس کے نزدیک مشکوکین میں سے ہیں۔
🏵امام محمد طاھر نے ” تذکرة الموضوعات ” میں کلبی صاحب کے بارہ میں فرمایا ہے،
🏵قد قال احمد فی تفسیر الکلبی من اوله الی آخره کذب لایجعل النظر فیه
ترجمہ؛ امام احمد نے تفسیر کلبی کے بارہ میں کہا ہے، کہ تفسیر کلبی اول تا آخر جھوٹ ہے، اس کی طرف نظر بھی نہیں کرنی چاہئے۔
یہ حالت ہے جناب ” ابو سعید ” کی جن کو ابو سعید الخدری ( صحابی رسولؐ کہہ کے پیش کیا جارہا ہے،
عقیدہ کے اعتبار سے پکے سبائی اور رافضی ، اور صداقت ایسی ، کہ جن جن کو زندگی میں کبھی نہ دیکھا ، نہ سنا ، ان سے روایات کرتے ہیں ، اور اپنے آپ کو ان کا شاگرد بنا کے پیش کرتے ہیں ، ان کے اعتبار کی یہ کیفیت ہے، کہ طبری جیسا شخص بھی اپنی تفسیر میں ان سے روایت لینا جائز نہیں سمجھتا ، اور یہی صاحب ہیں ” ہبۂ فدک کی حدیث ” کے گھڑنے والے ، اور اسے پیش کرنے والے ، جسے ان کے شاگرد رشید ” عطیه عوفی الکوفی ” صاحب جو خود بھی شیعہ اور مدلس ہیں ، اپنے مذہبی عقائد کی حمایت میں ان سے روایت کرتے ہیں ، اور ان کے دیگر نام اور کنیتیں چھوڑ کے ” حدثنا ابو سعید ” یا قال ابو سعید ” کہ کے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں ، کہ ابو سعید سے مراد ابو سعید الخدری ہیں۔
🏵عطیہ۔۔عوفی الکوفی۔۔۔۔. .

 🏵چار اسناد جو مکمل مزکور ہیں ۔
💐عبدوس ابن عبداللہ ہمدانی ۔۔قاضی ابو نصر شعیب ابن علی ۔۔۔موسی ابن سعید۔۔۔ ۔ولید ابن علی  ۔۔۔۔۔عباد ابن یعقوب۔۔۔ ۔۔۔ ۔علی ابن عباس۔۔۔۔ ۔فضل ۔۔۔۔۔۔۔۔عطیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو سعید
یہ پہلی سند ہے
💐ابوحمید مہدی ابن نزار۔۔حاکم ابن ابو قاسم ابن ابو الحسکانی ۔۔۔حاکم الوالد ابومحمد۔۔۔۔عمر ابن احمد ابن عثمان۔۔۔۔۔۔عمر ابن حسین ابن علی ابن مالک۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر ابن محمد احمصی۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن ابن حسین۔۔۔۔۔۔۔۔ابو معمرابن سعید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو علی ابن قاسم کندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یحی ابن یعلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی ابن مسہر۔۔۔۔۔۔۔۔فضل ابن مرزوق۔۔۔۔۔عطیہ عوفی ۔۔۔۔۔ابو سعید
یہ تھی دوسری سند
تیسری سند ۔۔۔
💐محمد ابن سلیمان اعبدی۔ہیثم ابن خلف دوری۔۔۔عبداللہ ابن سلیمان ابن اشعث۔۔۔۔محمد ابن قاسم زکریا۔۔۔۔۔عباد ابن یعقوب۔۔۔۔۔۔۔علی ابن عابس(علی ابن عباس)۔۔۔۔۔۔۔جعفر ابن محمد حسینی۔۔۔۔۔۔۔۔علی ابن منظر طریفی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضل ابن مرزوق۔۔۔۔۔۔عطیہ عوفی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو سعید۔۔۔۔۔یہ تھی تیسری سند
چوتھی سند ۔۔۔۔۔۔
💐محمد ابن عباس۔۔علی ابن عباس مقالعی ۔۔۔۔ابو کریب۔۔۔۔۔معاویہ۔۔۔۔۔۔۔فضل ابن مرزوق۔۔۔۔۔۔۔۔عطیہ عوفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوسعید۔۔
یہ وہ چار اسناد ہیں جو سنیوں کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور ساری کی ساری روایات جو نقل در نقل چلی آ رہی ہیں وہ یہ روایات ہیں
اب ہم وہ اسناد زکر کرتے ہیں جن کو سنیوں کی طرف منسوب کیا گیا لیکن ان کی اسناد مکمل زکر نہیں کرتے
پہلی روایت۔
💐۔۔۔۔۔
: 🦀عطیہ عوفی۔۔
جھوٹے مدلس مکار کا حال۔
عطیہ عوفی کو  جمہور محدثینِ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔
🏵تھذیب الأسماء واللغات للنوي:48/1،
🏵طرح التثریب لابن العراقي: 42/3،
🏵مجمع الزوائد للھیثمي: 412/1،
🏵البدرالمنیر لابن الملقن: 463/7،
🏵 عمدۃ القاري للعیني: 250/6
اس کو امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور علامہ جوزجانی رحمہم اللہ وغیرہ نے “ضعیف” قرار دیا ہے۔
اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہوگیا تھا، جیساکہ :
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “عطیہ عوفی کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام نے اتفاق کرلیا ہے۔
🏵 الموضوعات: 386/1
٭نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: “اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اجماع ہے 🏵المغنی في الضعفاء: 62/2
حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “یہ باتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔
🏵البدر المنیر: 313/5
عطیہ عوفی تدلیس کی بُری قِسم میں بُری طرح ملوث تھا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “یہ کمزور حافظے والا تھا اور بُری تدلیس کے ساتھ مشہور تھا۔”
🏵طبقات المدلّسین، ص: 50
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ زیر بحث روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: “یہ روایت باطل ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس چیز کا مطالبہ کرنے نہ آتیں جو پہلے سے ان کے پاس موجود اور ان کی ملکیت میں تھی۔”
🏵میزان الاعتدال: 135/3
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اگر اس روایت کی سند صحیح بھی ہو تو اس میں اشکال ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور فدک تو سات ہجری میں خیبر کے ساتھ فتح ہوا۔ کیسے اس آیت کو اس واقعہ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔”
🏵 تفسیر ابن کثیر:69/5
عطیہ عوفی اپنے استاذ ابو سعید محمد بن السائب الکلبی (کذاب) سے روایت کرتے ہوئے “عن  أبي سعید” یا “حدثني أبو سعید” کہہ کر روایت کرتے ہوئے یہ دھوکا دیتا تھا کہ وہ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے  یہ روایت بیان کررہا ہے۔ یہ(والی) تدلیس حرام اور بہت بڑا فراڈ ہے۔ یاد رہے کہ عطیہ عوفی اگر عن ابی سعید کے ساتھ الخدری کی صراحت بھی کردے تو اس سے الکلبی ہی مراد ہے، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں۔
🏵تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب المجروحین لابن حبان (176/2)
جناب یہ ان دونوں راویوں کا حال ہے جو جو ان روایات وضع کرنے والے ہیں اور جب انبیاء کی وراثت مال ثابت نا کر سکے تو یہ روایات گھڑی گئی
🏵جواب ۔۔۔۔۔۔سنیوں کی کتب میں جو روایات زکر ہیں علامہ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ
ج2ص299
میں اقرار کیا ہے ان روایات کے موضوع ہونے کا
🏵جواب۔۔۔۔
محققین اہل سنت نے محدثین کے چار درجے زکر کیے ہیں
🏵اولی
🏵ثانیہ
🏵ثالثہ
🏵رابع
یہ روایات اولی اور ثانیہ طبقے کی روایات نہیں ہیں بلکہ طبقہ ثالث ورابع کی ہیں تو ان کو اولی اور ثانیہ کے مقابل حجت نہیں مانا جا سکتا
دیکھیں
🏵حجةاللہ بالغہ
🏵عجالة النافعہ
🏵تحفة الاحوزی
🏵فتح الملہم
🏵شیعہ  کی اپنی  روایات میں  تضاد اور تناقص  مختصر ۔۔.۔۔۔
اہل تشیع کی اپنی روایات میں تضاد اور تناقص
🏵پہلی روایت ۔۔
کتاب فتن باب نزولآیات فی امرفدک۔۔
🏵 فِيمَا احْتَجَّ الرِّضَا عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي فَضْلِ الْعِتْرَةِ الطَّاهِرَةِ.
قَالَ: وَ الْآيَةُ الْخَامِسَةُ: قَالَ‏ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ: وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ‏ خُصُوصِيَةٌ خَصَّهُمُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ بِهَا، وَ اصْطَفَاهُمْ عَلَى الْأُمَّةِ.
فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: ادْعُوا إِلَيَّ فَاطِمَةَ.
فَدُعِيَتْ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ! قَالَتْ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: فَدَكُ هِيَ مِمَّالَمْ يُوجَفْ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ‏ وَ لَا رِكَابٍ، وَ هِيَ لِي خَاصَّةً دُونَ الْمُسْلِمِينَ، وَ قَدْ جَعَلْتُهَا لَكِ، لِمَا أَمَرَنِي اللَّهُ‏ بِهِ، فَخُذِيهَا لَكِ وَ لِوُلْدِكِ.
🏵بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏29، ص: 106
🏵راجع: تفسير فرات الكوفيّ: 118- 119
🏵رواه بأربعة طرق، تفسير التبيان 6- 467 و 8- 253،
🏵 شواهد التنزيل 1- 338- 341 حديث 467- 473
🏵 نقلا عن البزاز و أبي يعلى و ابن أبي حاتم و ابن مردويه، مجمع البيان 4- 306،
🏵 تفسير العيّاشي 2- 287 حديث 46- 50.
🏵 الأخبار من طرق الخاصّة وردت هاهنا في ضمن هذا الباب، و أمّا من طرق العامّة، فمنها:
🏵مجمع الزوائد 7- 49
🏵 انظر عن فدك و شكوى فاطمة سلام اللّه عليها، غير ما ألّفته الخاصّة و العامّة من كتب مستقلّة في الباب- عدّ منها شيخنا الطهرانيّ في الذريعة 16- 129 عشرة كتب-: تاريخ الطبريّ 3 198،
تاريخ أبي الفداء 1- 165
شرح ابن أبي الحديد 2- 19، أعلام النساء 3- 1205،
إرشاد الساري 2- 390.
كتاب الإمام عليّ لعبد الفتّاح عبد المقصود 1- 225:
و قد خرجت عن خدرها و هي تبكي و تنادي بأعلى صوتها: يا أبت يا رسول اللّه، ما ذا لقينا بعدك من ابن الخطّاب و ابن أبي قحافة؟!!.
🏵و عدّ العلّامة الأميني رحمه اللّه عشرات المصادر في موسوعته الغدير 3- 104 و 5- 147 و 7 77، و غيرها.
🏵 انظر إحقاق الحقّ 1- 296، 3- 549، 10- 296- 305 و 433، 14- 575 577 و 618، 19- 119 و 162، و غيرها.
🏵دوسری روایت
🏵 رُوِيَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَ‏ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ خَرَجَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَاجِعاً نَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَبَيْنَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَطْعَمُ وَ النَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُ جَبْرَئِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُمْ فَارْكَبْ.
فَقَامَ النَّبِيُّ فَرَكِبَ وَ جَبْرَئِيلُ مَعَهُ، فَطُوِيَتْ لَهُ الْأَرْضُ كَطَيِّ الثَّوْبِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى فَدَكَ.
فَلَمَّا سَمِعَ أَهْلُ فَدَكَ وَقْعَ الْخَيْلِ ظَنُّوا أَنَّ عَدُوَّهُمْ قَدْ جَاءَهُمْ، فَغَلَّقُوا أَبْوَابَ الْمَدِينَةِ وَ دَفَعُوا الْمَفَاتِيحَ إِلَى عَجُوزٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ لَهُمْ خَارِجٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَ لَحِقُوا بِرُءُوسِ الْجِبَالِ.
فَأَتَى جَبْرَئِيلُ الْعَجُوزَ حَتَّى أَخَذَ الْمَفَاتِيحَ، ثُمَّ فَتَحَ أَبْوَابَ الْمَدِينَةِ، وَ دَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي بُيُوتِهَا وَ قُرَاهَا.
فَقَالَ جَبْرَئِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! هَذَا مَا خَصَّكَ اللَّهُ بِهِ وَ أَعْطَاكَهُ‏ دُونَ النَّاسِ، وَ هُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى‏ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى‏ فَلِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي‏
بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَطْعَمُ وَ النَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُ جَبْرَئِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُمْ فَارْكَبْ.
فَقَامَ النَّبِيُّ فَرَكِبَ وَ جَبْرَئِيلُ مَعَهُ، فَطُوِيَتْ لَهُ الْأَرْضُ كَطَيِّ الثَّوْبِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى فَدَكَ.
فَلَمَّا سَمِعَ أَهْلُ فَدَكَ وَقْعَ الْخَيْلِ ظَنُّوا أَنَّ عَدُوَّهُمْ قَدْ جَاءَهُمْ، فَغَلَّقُوا أَبْوَابَ الْمَدِينَةِ وَ دَفَعُوا الْمَفَاتِيحَ إِلَى عَجُوزٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ لَهُمْ خَارِجٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَ لَحِقُوا بِرُءُوسِ الْجِبَالِ.
فَأَتَى جَبْرَئِيلُ الْعَجُوزَ حَتَّى أَخَذَ الْمَفَاتِيحَ، ثُمَّ فَتَحَ أَبْوَابَ الْمَدِينَةِ، وَ دَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي بُيُوتِهَا وَ قُرَاهَا.
فَقَالَ جَبْرَئِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! هَذَا مَا خَصَّكَ اللَّهُ بِهِ وَ أَعْطَاكَهُ‏ دُونَ النَّاسِ، وَ هُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى‏ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى‏ فَلِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي‏ الْقُرْبى‏ قَوْلُهُ: فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَ لا رِكابٍ وَ لكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى‏ مَنْ يَشاءُ، وَ لَمْ يَعْرِفِ الْمُسْلِمُونَ وَ لَمْ يَطَئُوهَا، وَ لَكِنَّ اللَّهَ أَفَاءَهَا عَلَى رَسُولِهِ، وَ طَوَّفَ بِهِ جَبْرَئِيلُ فِي دُورِهَا وَ حِيطَانِهَا، وَ غَلَّقَ الْبَابَ وَ دَفَعَ الْمَفَاتِيحَ إِلَيْهِ.
فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي غِلَافِ سَيْفِهِ- وَ هُوَ مُعَلَّقٌ بِالرَّحْلِ ثُمَّ رَكِبَ، وَ طُوِيَتْ لَهُ الْأَرْضُ كَطَيِّ الثَّوْبِ، ثُمَّ أَتَاهُمْ‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ هُمْ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَ لَمْ يَتَفَرَّقُوا وَ لَمْ يَبْرَحُوا.
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: قَدِانْتَهَيْتُ إِلَى فَدَكَ، وَ إِنِّي قَدْ أَفَاءَهَا اللَّهُ عَلَيَّ.
فَغَمَزَ الْمُنَافِقُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً.
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: هَذِهِ مَفَاتِيحُ فَدَكَ، ثُمَّ أَخْرَجَ‏ مِنْ غِلَافِ سَيْفِهِ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ رَكِبَ مَعَهُ النَّاسُ.
فَلَمَّا دَخَلَ الْمَدِينَةَ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ‏ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةِ! إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَفَاءَ عَلَى أَبِيكِ بِفَدَكَ وَ اخْتَصَّهُ بِهَا، فَهِيَ لَهُ خَاصَّةً دُونَ الْمُسْلِمِينَ‏ أَفْعَلُ بِهَا مَا أَشَاءُ، وَ إِنَّهُ قَدْ كَانَ لِأُمِّكِ خَدِيجَةَ عَلَى أَبِيكِ مَهْرٌ، وَ إِنَّ أَبَاكِ قَدْ جَعَلَهَا لَكِ‏  بِذَلِكِ، وَ أَنْحَلْتُكِهَا لَكِ‏ وَ لِوُلْدِكِ بَعْدَكِ.
قَالَ‏: فَدَعَا بِأَدِيمٍ‏ وَ دَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِفَدَكَ نِحْلَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، فَشَهِدَعَلَى ذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ وَ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ أَيْمَنَ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
وَ جَاءَ أَهْلُ فَدَكَ إِلَى النَّبِيِّ، فَقَاطَعَهُمْ عَلَى أَرْبَعَةٍ وَ عِشْرِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ.
🏵: مجمع البحرين 5- 127،
🏵لسان العرب 9- 352.
🏵بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏29، ص: 117
🏵تیسری روایت
فَنَزَلَ: وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ‏.
قَالَ: وَ مَا هُوَ؟
قَالَ: أَعْطِ فَاطِمَةَ فَدَكاً، وَ هِيَ مِنْ مِيرَاثِهَا مِنْ أُمِّهَا خَدِيجَةَ، وَ مِنْ أُخْتِهَا هِنْدٍ بِنْتِ أَبِي هَالَةَ، فَحَمَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَا أَخَذَ مِنْهُ، وَ أَخْبَرَهَا بِالْآيَةِ.
فَقَالَتْ: لَسْتُ أُحْدِثُ فِيهَا حَدَثاً وَ أَنْتَ حَيٌّ، أَنْتَ أَوْلَى بِي مِنْ نَفْسِي وَ مَالِي لَكَ.
فَقَالَ: أَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عَلَيْكِ سُبَّةً فَيَمْنَعُوكِ إِيَّاهَا مِنْ بَعْدِي.
فَقَالَتْ: أَنْفِذْ فِيهَا أَمْرَكَ، فَجَمَعَ النَّاسَ إِلَى مَنْزِلِهَا وَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ هَذَا الْمَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، فَفَرَّقَهُ فِيهِمْ، وَ كَانَ كُلُّ سَنَةٍ كَذَلِكَ، وَ يَأْخُذُ مِنْهُ قُوتَهَا، فَلَمَّا دَنَا وَفَاتُهُ دَفَعَهُ إِلَيْهَاهُ قُوتَهَا، فَلَمَّا دَنَا وَفَاتُهُ دَفَعَهُ إِلَيْهَا
🏵بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏29، ص: 118
🏵چوتھی روایات۔
🏵لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: فَآتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ وَ الْمِسْكِينَ‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: يَا جَبْرَئِيلُ! قَدْ عَرَفْتُ الْمِسْكِينَ، فَمَنْ ذَوُو الْقُرْبَى‏
قَالَ: هُمْ أَقَارِبُكَ.
فَدَعَى حَسَناً وَ حُسَيْناً وَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَكُمْ مَا أَفَاءَ عَلَيَّ، قَالَ: أَعْطَيْتُكُمْ فَدَكَ.
🏵بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏29، ص: 119

خلاصہ روایات 

👈۔۔۔۔ان روایات میں مختلف تضادات ہیں کبھی ہبہ میں صرف حضرت فاطمہ ؓ کا زکر ہے کبھی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ حسن ؓوحسینؓ کا زکر ہے کبھی حضرت خدیجہ ؓ کا حق مہر کہا جاتا ہے۔

واللہ اعلم تمت