مذہب شیعہ کا امت مسلمہ کے ساتھ ایمانیات میں اختلاف (توقیر احمد)

💐ایمانیات(تعارف و تناسب ایمانیاتِ سنی شیعہ وقرآنی 💐

👈فہرست 

👈مذہب شیعہ کا امت مسلمہ کے ساتھ ایمانیات میں اختلاف 

👈۔ ۔۔۔اصول یعنی ایمانیات 

👈۔۔۔فروغ یعنی اعمال صالحہ

💐ایمانیات

👈تعرف ایمانیات 

👈نوٹ۔

👈اللہ تعالی نے ایمان میں جن چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے 

👈رسول اللہ ؐ کی سکھائی ہوئی ایمانیات

👈نوٹ۔

👈شیعہ مزہب میں ایمانیات 

👈دین کا مفہوم

👈نوٹ۔

1۔۔۔دین کی نسبت اگر اللہ تعالی کی طرف ہو

٢👈۔ ۔اگر دین کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو

۴👈۔ ۔اگر دین کی نسبت خلفاء راشدین کی طرف ہو

کا دین ایمان اور اعمال ہیں 

۵👈۔ ۔اواگردین کی نسبت کافروں کے طرف ہو

👈امت مسلمہ اور مزھب شیعه

👈قران مجید میں ایمانیات

👈شیعہ مذہب میں ایمانیات

👈تناسب شیعہ ایمانیات و قرآنی ایمانیات   

👈سوال۔ ۔۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ جب یہ ایمانیات قرآنی نہیں تو ان کا وجود کہاں سے آیا 

👈مذہب شیعہ کا امت مسلمہ کے ساتھ ایمانیات میں اختلاف 

جس طرح تمام فروعات یعنی اعمال میں مذہب شیعہ کا امت مسلمہ کے ساتھ اختلاف ہے تو اسی طرح شیعہ مذہب کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصول یعنی ایمانیات میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اختلاف موجود ہے 

اس سے صاف ظاہر ہے کہ شیعہ مذہب کا دین جدا اور امت مسلمہ کا دین جدا ہے 

اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے👈 اللہ تعالی کےدین یعنی اسلام کو سمجھنا چاہیے اور اس کے بعد امت مسلمہ کے پاس جو👈 دین ہے اس کو اللہ تعالی کے بتائے ہوئے دین کے سامنے پیش کرکے دیکھا جائے اور پھر شیعہ مذہب کے اصول اور فروع کی کتابوں میں جو👈 دین ہے اس کو دین اسلام کے سامنے پیش کرکے دیکھا جائے پھر فیصلہ کیا جائے کہ امت مسلمہ اور مذہب شیعہ کے بتائے ہوئے دین میں سے جو دین اسلام کے موافق ہے وہ برحق ہے اور جو دین اسلام کے موافق نہیں وہ باطل ہے 

دین اسلام میں دو چیزوں کو ذکر کیا جاتا ہے 

👈👈۔ ۔۔۔اصول یعنی ایمانیات 

👈👈۔۔۔فروغ یعنی اعمال صالحہ

اور اعمال صالحہ کا دار مدار  ایمان پر ہے اس لئے سب سے پہلے ہم اللہ تعالی کے بتائے ہوئے ایمانیات کو ذکر کریں گے اس کے بعد امت مسلمہ اور مذہب شیعہ کے ایمانیات کو اس کے سامنے پیش کریں گے پھر جو اس کے موافق ہوگا وہی حق اور جو موافق نہ ہوا اس کو باطل سمجھا جائے گا 

💐💐ایمانیات ۔۔۔۔۔

👈👈تعرف ایمانیات 

الحمد للہ رب العالمین ۔۔۔

Surat No 18 : Ayat No 107 

👈اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ  جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقیناً ان کے لئے الفردوس  کے باغات کی مہمانی ہے ۔

اس آیت کریمہ میں مومنین صالحین کو جنتی کہاگیا ہے اور اعمال صالحہ کا دارومدار بھی صحیح ایمان لانے پر ہے اگر ایمان صحیح نہیں تو اعمال بظاہر کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں لیکن وہ قابل قبول نہیں بلکہ ان کا وزن ہی نہیں کیا جائے گا 

Surat No 18 : Ayat No 103 

👈قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ  بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕ

 کہہ دیجئے کہ اگر  ( تم کہو تو ) میں تمہیں بتادوں کہ با اعتبار اعمال سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ 

Surat No 18 : Ayat No104  

👈اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ  الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾

وہ ہیں کہ جن کی دنیاوی زندگی کی تمام تر کوششیں بے کار ہو گئیں اور وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں ۔  

Surat No 18 : Ayat No 105 

👈اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  وَزۡنًا ﴿۱۰۵﴾

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا  اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے  ۔  

👈👈نوٹ۔ ۔۔اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان کا سیکھنا ضروری ہے اور ایمان سکھانے کے لئے اللہ رب العزت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالمین کے لئے اور تمام انسانوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہادی اور رہبر بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کو قرآن مجید پڑھ کر ایمانیات اور صالح اعمال  سکھائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقصدبعثت کا حق ادا کر دیا ہزارہا رکاوٹوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان سکھا کر ہزارہا لوگوں کی جو تقریبا سوا لاکھ سے بھی زیادہ تھے ایسی تربیت فرمائی کہ وہ ایمان سیکھ کر اس منزل تک پہنچے کہ اللہ تعالی نے فرمایا 

👌اولئک حزب اللہ 

المجادلہ آیت 22 

👈یعنی یہ اللہ کا لشکر ہے 

اللہ تعالی نے ایمان میں جن چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے 

١۔ ۔اللہ پر ایمان 

٢۔ ۔فرشتوں پر ایمان 

٣۔ ۔اس کی کتابوں پر ایمان 

۴۔ ۔۔اس کے رسولوں پر ایمان 

۵۔ ۔۔آخرت پر ایمان 

٦۔ ۔اللہ تعالی نے ہر چیز کی تقدیر مقدر فرمائی ہے اس پر ایمان

👈آیت۔   Surat No 2 : Ayat No 177 

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ  وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

 ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں  بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں 

   Surat No 2 : Ayat No 285 

👈اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ  اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾

رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالٰی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ،  اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔

  Surat No 4 : Ayat No 78 

👈اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾

 تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی  ، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے  انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں ۔  

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اچھائی یا برائی یعنی نفع یا نقصان اللہ کی طرف سے ہے 

Surat No 4 : Ayat No 136 

👈یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ  ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۳۶﴾

 اے ایمان والو! اللہ تعالٰی پر اس کے رسول (  صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول  ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی گئی ہیں ،  ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالٰی سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔  

Surat No 25 : Ayat No 2 

👈 ۣالَّذِیۡ لَہٗ  مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَمۡ  یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا ﴿۲﴾

 اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی  اور وہ کوئی اولاد نہیں رکھتا نہ اس کی سلطنت میں کوئی  اس کا ساجھی ہے اور ہرچیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازہ ٹھہرادیا  ہے ۔  

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ہر ایک چیز پیدا کرکے اللہ تعالی نے اس کی تقدیر مقررفرمائی ہے اس لیے تقدیر کو ماننا ثابت ہے۔

👈رسول اللہ ؐ کی سکھائی ہوئی ایمانیات

 👈 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنی امت کو ایمان سکھایا اس میں بھی انہی چیزوں کو دوہرایا بالآخر خود اللہ رب العزت نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آپ کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ ایمانیات کی تفصیل کی ایسی وضاحت ہوجائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی تفصیل خود بیان فرمائی اور حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ وسلام اس کی تصدیق کرکے اس بات کو ثابت کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں ان چیزوں کو ایمان میں ذکر کرنا لازمی ہے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کااجابت  میں داخل ہونے کے لیے ان چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے 

👈حدیث نمبر: 93

👈قال ابو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري رحمه الله: بعون الله نبتدئ وإياه نستكفي، وما توفيقنا إلا بالله جل جلاله. ¤ حدثني ابو خيثمة زهير بن حرب ، حدثنا وكيع ، عن كهمس ، عن عبد الله بن بريدة ، عن يحيى بن يعمر . ح وحدثنا وهذا حديثه، عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا كهمس ، عن ابن بريدة ، عن يحيى بن يعمر ، قال: كان اول من قال في القدر بالبصرة: معبد الجهني، فانطلقت انا وحميد بن عبد الرحمن الحميري، حاجين او معتمرين، فقلنا: لو لقينا احدا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسالناه عما يقول هؤلاء في القدر، فوفق لنا عبد الله بن عمر بن الخطاب داخلا المسجد، فاكتنفته انا، وصاحبي، احدنا عن يمينه والآخر عن شماله، فظننت ان صاحبي سيكل الكلام إلي، فقلت: ابا عبد الرحمن، إنه قد ظهر قبلنا ناس يقرءون القرآن، ويتقفرون العلم، وذكر من شانهم، وانهم يزعمون ان لا قدر، وان الامر انف، قال: فإذا لقيت اولئك، فاخبرهم اني بريء منهم، وانهم برآء مني، والذي يحلف به عبد الله بن عمر، لو ان لاحدهم، مثل احد ذهبا، فانفقه ما قبل الله منه، حتى يؤمن بالقدر، ثم قال: حدثني ابي عمر بن الخطاب ، قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، إذ طلع علينا رجل شديد، بياض الثياب، شديد، سواد الشعر، لا يرى عليه اثر السفر، ولا يعرفه منا احد، حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فاسند ركبتيه إلى ركبتيه، ووضع كفيه على فخذيه، وقال: يا محمد، اخبرني عن الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” الإسلام ان تشهد ان لا إله إلا الله، وان محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا “، قال: صدقت، قال: فعجبنا له يساله، ويصدقه، قال: فاخبرني عن الإيمان، قال: ” ان تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر خيره وشره “، قال: صدقت، قال: فاخبرني عن الإحسان، قال: ” ان تعبد الله كانك تراه، فإن لم تكن تراه، فإنه يراك “، قال: فاخبرني عن الساعة، قال: ما المسئول عنها باعلم من السائل، قال: فاخبرني عن امارتها، قال: ” ان تلد الامة ربتها، وان ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء، يتطاولون في البنيان “، قال: ثم انطلق فلبثت مليا، ثم قال لي: يا عمر اتدري من السائل؟ قلت: الله ورسوله اعلم، قال: فإنه جبريل، اتاكم يعلمكم دينكم.

👈‏‏‏‏ امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج اس کتاب کے مؤلف فرماتے ہیں ہم شروع کرتے ہیں کتاب کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اسی کو کافی سمجھ کر۔ اور نہیں ہے ہم کو توفیق دینے والا مگر اللہ تعالیٰ بڑا ہے جلال اس کا۔

 یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی بصرے میں (جو ایک شہر ہے دہانہ خلیج فارس پر آباد کیا تھا اس کو عتبہ بن غزوان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں۔ سمعانی نے کہا: بصرہ قبہ ہے اہل اسلام کا اور خزانہ ہے عرب کا۔ اور درحقیقت بصرہ ایک شہر ہے جس سے تجارت اہل ہند اور فارس کے ساتھ بخوبی قائم ہو سکتی ہے اور شاید اسی مصلحت سے اس شہر کی بنا ہوئی ہو گی) وہ معبد جہنی تھا، تو میں اور حمید بن  عبدالرحمٰن حمیری دونوں مل کر چلے حج یا عمرے کے لئے اور ہم نے کہا: کاش! ہم کو کوئی صحابی رسول مل جائے جس سے ہم ذکر کریں اس بات کا جو یہ لوگ کہتے ہیں تقدیر میں تو مل گئے ہم کو اتفاق سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما مسجد کو جاتے ہوئے۔ ہم نے ان کو بیچ میں کر لیا یعنی میں اور میرا ساتھی داہنے اور بائیں بازو ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میرا ساتھی (حمید) مجھ کو بات کرنے دے گا (اس لئے کہ میری گفتگو اچھی تھی) تو میں نے کہا اے ابا عبدالرحمٰن (یہ کنیت ہے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی)  ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور علم کا شوق رکھتے ہیں یا اس کی باریکیاں نکالتے ہیں اور بیان کیا حال ان کا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہاں ہو گئے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو جب ایسے لوگوں سے ملے تو کہہ دے ان سے میں بیزار ہوں اور وہ مجھ سے۔ اور قسم ہے اللہ جل جلالہ کی کہ ایسے لوگوں میں سے (جن کا ذکر تو نے کیا جو تقدیر کے قائل نہیں) اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو پھر وہ اس کو خرچ کرے اللہ کی راہ میں تو اللہ قبول نہ کرے گا جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے پھر کہا کہ حدیث بیان کی مجھ سے میرے باپ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک روز ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آن پہنچا جس کے کپڑے نہایت سفید تھے اور بال نہایت کالے تھے۔ یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے اور کوئی ہم میں سے اس کو پہچانتا نہ تھا، وہ بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم

👈👈نوٹ۔ ۔۔اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایمان کی وہی تفصیل بتائیں جو اللہ کی کتاب قرآن مجید میں تفصیل بیان فرمائی تھی اس حقیقت کے سمجھنے کے بعد اس بات کو سمجھنا آسان ہے کہ جس فرقہ اور مذہب میں مذکورہ ایمانیات کی طرح ایمانیات نہیں ہے وہ فرقہ یا مذہب اسلام نہیں ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان یا مومن کہلائے لیکن جب تک کوئی فرقہ یا مذہب بھی اپنا ایمان کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ایمان کے مطابق نہیں بنائے گا تب تک وہ اسلام کا ماننے والا مومن اور مسلمان نہیں ہو سکتا

شیعہ مزہب میں ایمانیات 

شیعہ مذہب کی چھوٹی بڑی اصولی یافروعی کتابوں میں جن چیزوں کو ایمانیات میں ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے 

١۔ ۔توحید

٢۔ ۔عدل

٣۔ ۔نبوت

۴۔ ۔امامت

۵۔ ۔قیامت 

👈اصل و اصول الشیعة صفحہ 127

👈کلیئدہ مناظر صفحہ 290 

👈تحفۃ العوام مقبول جدید صفحہ-31 

👈توضیح المسائل صفحہ-7 

👈شیعہ نماز صفحہ 3 

👈ان کتابوں میں ان پانچ چیزوں کو اصول دین کہہ کر یعنی ایمانیات میں ذکر کیا گیا ہے اور ان کے علاوہ کو فروغ دین کہہ کر اعمال کا ذکر کیا گیا ہے 

👈شیعہ مصنف برکت علی شاہ گوشہ نشین نے اس کتاب کلید مناظرہ میں شریعت کو ایک مکان سے تشبیہ دی ہے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کرکے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے شریعت کا مکان  معمار کی حیثیت میں بنایا جس کے آٹھ پہلو ہیں جس کی چھت میں پانچ شہتیر رکھے پانچ شہتیروں سے مراد اصول دین ہے جو توحید عدل نبوت امامت اور قیامت ہیں آٹھ پہلو فروع دین ہیں جو نماز روزہ حج زکوۃ خمس جہاد تولی اور تبرا ہیں

👈کلید مناظرہ صفحہ 290 

اس کتاب کے تفسیر شیعوں کے رئیس المناظرین مرزا احمد علی امرتسری الکربلائی نے کی ہے اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مصنف نے ایمانیات کو اصول دین سے اور اعمال کو فروغ دین سے تعبیر کیا ہے

👈اور شیعہ مصنف محمد حسین آل کاشف الغطاء نے اپنی کتاب اصل الشیعہ و اصولہا میں لکھا ہے👈 انا تذکراصول عقائد الشیعة۔ ہم نے ارادہ کیا ہے کہ عقائد شیعہ کے اصول کو ذکر کریں پھر اس نے 👈صفحہ نمبر 61 پر پہلا اصول 👈توحیدھواصل الاول عندالامامیة یعنی امامیہ کے نزدیک پہلا اصل توحید ہے 

👈صفحہ 63 پر لکھا ہے ان النبوة اور حاشیہ پر لکھا ہے👈 الاصل الثانی عند 👈الشیعة الامامیةصفحہ 65 پر لکھتا ہے الامامت اور حاشیہ پر لکھا ہے 👈الاصل الثالث عند الامامیة صفحہ 72 پر لکھا ہے 👈العدل حاشیہ پر لکھا ہے👈 الاصل الرابع من اصول العقائد الامامیةوارکان الایمان👈 صفحہ 75 پر لکھا ہے👈 المعاد اور حاشیہ پر لکھا ہے 👈الاصل الخامس من اصول العقائد الامامیة 

👈اور اس کتاب کا ترجمہ سید ابن حسین نجفی نے کیا ہے جس کو افتخار بک ڈیپو نے اسلام پورہ لاھور نمبر1 سے نشر کیا ہے اس کے 👈صفحہ 69پر ہے شیعہ نقطہ نظر سے مذہب دونوں شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے 

١۔ ۔۔علم

٢۔ ۔عمل 

وہ مسئلہ جن کا علاقہ علم یعنی عقل سے ہے انہیں اصول دین سے موسوم کیا جاتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہے 

١۔ ۔توحید

٢۔ ۔نبوت

٣۔ ۔امامت

۴۔ ۔عدل

۵۔ ۔معاد

👈اصل و اصول شیعہ مترجم اردو صفحہ 69

👈👈دین کا مفہوم

1۔۔۔دین کی نسبت اگر اللہ تعالی کی طرف ہو تو اس کا مطلب ہو گا اللہ تعالی کا بھیجا ہوا قانون جس میں عقیدہ اور ایمان سمجھایا گیا ہوں اور اچھے اعمال کرنے کا حکم کر کے اس پر اجر عظیم کا اعلان کیا گیا ہو اور برے اعمال سے منع کر کے بتایا گیا ہوں کہ اگر کوئی برا عقیدہ یا برا عمل کرے گا تو اس کی سزا بتائی گئی ہو 

قال اللہ تعالی ۔

Surat No 110 : Ayat No 2 

👈وَرَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ  دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾

اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے ۔  

٢👈۔ ۔اگر دین کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو تو اس کا مطلب ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد اور اعمال یعنی اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے دین یعنی قانون کو مانکر اس پر عمل کرنا

قال اللہ تعالی ۔۔

١۔  Surat No 10 : Ayat No 104 

👈قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ  کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ   ۚ ۖ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ

 آپ کہہ دیجئے  کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو  لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں ۔  

٢۔ Surat No 10 : Ayat No 105 

👈وَ اَنۡ اَقِمۡ  وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا  تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾

 اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر  ( اس ) دین کی طرف کر لینا اور کبھی مشرکوں میں سے نہ ہونا ۔  

٣۔ Surat No 10 : Ayat No 106 

👈وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

 اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ،  پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔  

Surat No 10 : Ayat No 107 

👈وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ  اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ  الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۷﴾

 اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں  وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے ۔  

👈👈نوٹ۔ 

ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے لوگوں کے سامنے اپنا دین بیان فرمایا ہے 

٣👈۔ ۔۔۔ اگر دین کی نسبت ایمان والوں کی طرف ہو تو اس وقت بھی اس کا مطلب مومنین کے عقائد اور اعمال ہوں گے 

قال اللہ تعالی۔

١۔  Surat No 5 : Ayat No 3 

👈حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیۡحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ  یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳﴾

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ،   اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو ، اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو  ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو ، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں ، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو ، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو ،   یہ سب بدترین گناہ ہیں ، آج کفار تمھارے دین سے ناآمید ہوگئے ، خبردار تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام   بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قر ار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالٰی معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے

۴👈۔ ۔اگر دین کی نسبت خلفاء راشدین کی طرف ہو 

Surat No 24 : Ayat No 55 

👈وَعَدَ  اللّٰہُ الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ  الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾

 تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ  امن امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں

👈آخری دو آیات کا خلاصہ۔ 

پہلی آیات میں اللہ تعالی نے تمام مومنین یعنی صحابہ کرام کے دینی عقائد و اعمال کا ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں مومنین یعنی صحابہ کرام میں سے جن حضرات کو اللہ تعالی نے اپنے وعدے کے مطابق خلیفہ بنانا تھا ان کے دینی عقائد اور اعمال کو اللہ تعالی نے مضبوط کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اس کا ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مومنین یعنی خلفاء کا دین ایمان اور اعمال ہیں 

۵👈دین کی نسبت کافروں کی طرف ہو تو اس کا مطلب بھی کافروں کے عقائد اور اعمال ہوں گے 

  Surat No 109 : Ayat No 6 

١👈۔ ۔لَکُمۡ  دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ  دِیۡنِ ٪﴿۶﴾ 34

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے ۔ 

٢👈۔ ۔ Surat No 40 : Ayat No 26 

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ  ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَ لۡیَدۡعُ  رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴿۲۶﴾

 اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ ( علیہ السلام )  کو مار ڈالوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکارے مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی  ( بہت بڑا ) فساد برپا نہ کر دے 

👈👈خلاصہ۔ ۔ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ عقیدہ اور اعمال کو دین کہا جاتا ہے دین کا مفہوم سمجھنے کے بعد کہ دین کہ دینا عقائد اور اعمال کو کہا جاتا ہے اور یہ اصول بھی مسلم ہے کہ اعمال کا دارومدار بھی ایمان پر ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ دین میں سب سے اہم چیز ایمان ہے اور اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین والمعصومین بنا کر دین سکھانے کے لئے مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دین سکھانے کا حق ادا کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک قدس کھایا ہوا دن جاری رہے گا اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹانے یا تحریف کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ امت اس کا مقابلہ کرکے اپنے نبی کے دین کو صحیح سلامت رکھنے کے لیے ہزارہا قربانیاں دیتی رہے گی

👈امت مسلمہ اور مزھب شیعه

جس طرح شیعہ مذہب کا امت مسلمہ کے ساتھ کلمہ وضو اذان نماز روزہ زکوۃ وغیرہ میں واضح طور پر اختلاف نظر آتا ہے اسی طرح شیعہ مذہب کا امت مسلمہ کے ساتھ ایمانیات میں بھی اختلاف ہے 

اور جس طرح تمام اختلافی چیزوں میں ہر فریق اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتا ہے اسی طرح ایمانیات میں بھی ہر فریق اپنے ایمان کو صحیح اور دوسرے فریق کے ایمان کو غلط سمجھتا ہے اور ایمان کا اختلاف اتنا اہم ہے کہ جو فریق اپنے ایمان کو صحیح کہہ رہا ہے تو یقیناً وہ اپنے آپ کو مومن سمجھ رہا ہے اور دوسرے فریق کے ایمان کو جب وہ غلط کہہ رہا ہے تو یقینا اس کو کافر کہہ رہا ہے کیونکہ کسی کے ایمان کو غلط کہنا اس کے ایمان کو باطل کہنا ہے اور کسی کے ایمان کو باطل کہنا یا سمجھنا اس کو کافر سمجھنا ہے اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اگر کوئی شیعہ مذہب کو سمجھنا چاہتا ہے کہ ان کا دین اسلام ہے یا نہیں تو سب سے پہلے وہ خود کسی بڑے شیعہ عالم سے سوال کرے کہ ان کے مذہب میں ایمان کیا ہے

یعنی ان کے نزدیک شیعہ بننے کے لئے کن چیزوں پر ایمان لانے کا ذکر کرنا یا اقرار کرنا لازمی ہے وہ ایمانیات کی تمام چیزیں تحریر کرے جن پر ایمان لانے کا اقرار کرنا ان کے نزدیک لازمی ہے اور وہ ان میں سے کسی ایک چیز کے عدم ذکر کرنے والے کو اپنا شیعہ تصور نہ کریں 

جب وہ اس طرح اپنا ایمان تحریر کردیں تو پھر اس سے سوال کیا جائے کہ وہ اس اپنے ایمان کو اپنے( کسی اصولی کتاب سے حوالہ بتائے) ہی اصول کے مطابق اپنے ہی معتبر کتابوں میں سے کسی صحیح صریح غیر معارض حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے اس کو ثابت کرے تاکہ یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ شیعہ مذہب میں جن چیزوں پر ایمان لانا لازمی ہے وہ ایمانیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس نے سیکھائی ہیں 

اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمانیات کی وہی چیز یں

سمجھآئی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالی نے نازل فرمائی ہیں اس لیے اس ایمانیات کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے گا اگر وہ کتاب اللہ میں بتائے ہوئے ایمانیات کے مطابق ہے تو اس بات پر یقین ہوجائے گا کہ شیعہ مذہب میں جو ایمانیات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہیں اور اگر شیعہ مذہب کی بتائی ہوئی ایمانیات جو کسی روایت سے انہوں نے ثابت کی تھی کتاب اللہ کے بتائے ہوئے ایمانیات کے خلاف ہیں تو اس روایت کو قبول نہیں کیا جائے گا باقی کسی روایت میں کتاب اللہ کی بتائی ہوئی ایمانیات کو مکمل طور پر ذکر کیا گیا ہو اور اس کے بعد اگر کوئی زائد چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایمانیات میں ذکر کی گئی ہو تو اس کو قبول کیا جائے گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کے شارح ہیں  اور آپ کی شرح وحی الہی سمجھی جائے گی 

👈👈خلاصہ۔ 

خلاصہ کلام یہ کہ ایمان سیکھانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہے اس لیے صحیح صریح غیر معارض سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے ایمان کا ثابت کرنا لازم ہوگا 

ایمان کے بارے میں کوئی ضعیف روایت یا کوئی تاریخی حوالہ یا بغیر سند کے روایت یا کسی غیر نبی کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اسی طرح جو روایات کتاب اللہ کے خلاف ہوگی وہ بھی ناقابل قبول ہوگی

👈👈قران مجید میں ایمانیات

اللہ تعالی نے ایمان کی تفصیل میں جن چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں 

١۔ ۔اللہ پر ایمان لانا

٢۔ ۔فرشتوں پر ایمان لانا

٣۔ ۔کتابوں پر ایمان لانا 

۴۔ ۔رسولوں پر ایمان لانا 

۵۔ ۔آخرت پر ایمان لانا 

٦۔ ۔چیز کی تقدیر پر ایمان لانا 

Surat No 2 : Ayat No 177 

١👈۔ ۔لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ  وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں  بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔

٢👈۔ ۔Surat No 2 : Ayat No 285 

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ  اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾

 رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالٰی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ،  اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔  

٣👈۔ ۔Surat No 4 : Ayat No 136 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ  ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۳۶﴾

 اے ایمان والو! اللہ تعالٰی پر اس کے رسول (  صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول  ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی گئی ہیں ،  ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالٰی سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔  

۴👈۔ ۔Surat No 4 : Ayat No 78 

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾

تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی  ، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے  انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں 

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خیر و شر یعنی نفع و نقصان سب اللہ کی طرف سے ہے

خلق کل شیئ فقدرہ تقدیرا

ترجمہ۔ اللہ تعالی نے ہر چیز پیدا فرمایا اور اس کی تقدیر مقدر فرمائیں 

١👈۔ ۔الفرقان آیت نمبر 2  

٢👈۔ ۔الطلاق  آیت نمبر 3 

٣👈۔ ۔الفاطر آیت نمبر 11 

۴👈۔ ۔الحدید آیت نمبر 22 

۵👈۔ ۔التوبہ آیت نمبر 51 

٦👈۔ ۔آلعمران آیت نمبر 154 

٧👈۔ ۔الاعراف آیت نمبر 34 

٨👈۔ ۔الواقعہ آیت نمبر 7 

ان تمام آیات مبارکہ میں تقدیر کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے

👈👈شیعہ مذہب میں ایمانیات 

جبکہ قرآن ایک اور نبی بھی ایک لیکن باوجود اس کے مذہب شیعہ کا امت مسلمہ کے ساتھ ہرچیز میں اختلاف واضح طور پر موجود ہے وہ آخر کیوں ہے اس کا سبب یہ ہے کہ شیعہ مصنفین نے امت مسلمہ سے ہٹ کر اپنا جدا اصول بنا لیا اس اصول سے و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین لینے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو ماننے کے دعویدار ہیں اور وہ اصول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے نزدیک 12 حضرات منصوص من اللہ مفترض الطاعات معصوم عن الخطاءاعلم الناس اشجع الناس افضل الناس اور راسخین فی العلم ہیں اور پیدائشی مسلمان ہیں اس لئے ان کے نزدیک دین کی ہر بات جو ان حضرات میں سے کسی ایک سے ملے وہیں برحق ہے  اور ان حضرات کے برخلاف دین کی کوئی بات بھی کسی بھی اعلی سے اعلی صحابی تابعی تبع تابعی سے قبول نہیں کی جائے گی اور ان بارہ آئمہ معصومین کے بعد وہی راوی معتبر ہوگا جو ان بارہ حضرات کو منصوص من اللہ مفترض الطاعة معصوم عن الخطامانتا ہو اور ان کے علاوہ کسی دوسرے سے شریعت کا کوئی مسئلہ اخذ کرنا جائز نہ سمجھتا ہو اس مصنوعی اصول کی بنیاد پر مذہب شیعہ کی روایات جدا تفاسیر جدا اسماءالرجال جدا تاریخ جدا اور ان چیزوں کی وجہ سے ایمانیات جداکلمہ اذان وضو روزہ نماز زکوۃ وغیرہ امت مسلمہ سے جدا ہوگئے اور شیعہ مذہب کے ماننے والے اس اصول پر بہت نازاں ہے اور فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے لیا ہے اور منصوص من اللہ اور معصوم عن الخطا حضرات سے ان تک دین پہنچا ہے یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے ہم اس کے در پہ نہیں پڑتے ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے اس اصول کے مطابق ان کے مذہب میں ایمانیات کیا ہیں     

شیعہ مذہب میں ایمانیات کو اصول سے اور اعمال کو فروغ سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی شیعہ عقائد اور ایمان کی تفصیل کو اصول دین اور اعمال کی تفصیل کو فروع دین کہتے ہیں ہم اصول دین کے متعلق ان کی اصولی اور فروعی کتابوں سے عبارت نقل کرتے ہیں 

١👈۔۔ ۔المقصد الثاني)

وهو بيان عقائد الشيعة (اصولاً وفروعاً) ونحن نورد امهات القضايا، ورؤوس المسائل، على الشرط الذي أشرنا إليه آنفاً من الاقتصار على المجتمع عليه، الذي يصح أن يقال: أنه مذهب الشيعة، دون ما هو رأي الفرد والأفراد منهم.

فنقول: إن الدين ينحصر في قضايا خمس:

1👈 ـ معرفة الخالق.

2👈 ـ معرفة المبلغ.

3👈 ـ معرفة ما تعبد به، والعمل به.

4👈 ـ الأخذ بالفضيلة ورفض الرذيلة.

5👈 ـ الاعتقاد بالمعاد والدينونة.

فالدين علم وعمل (وأن الدين عند الله الإسلام) والإسلام 

والإيمان مترادفان، ويطلقان على معنى أعم يعتمد على ثلاثة أركان:

التوحيد، والنبوة، والمعاد..

فلو أنكر الرجل واحدا منها فليس بمسلم ولا مؤمن، وإذا دان بتوحيد الله، ونبوة سيد الانبياء محمد (صلى الله عليه وآله)، واعتقد بيوم الجزاء ـ من آمن بالله ورسوله واليوم الآخر ـ فهو مسلم حقاً، له ما للمسلمين وعليه ما عليهم، دمه وماله وعرضه حرام.

ويطلقان أيضاً على معنى أخص يعتمد على تلك الأركان الثلاثة وركن رابع وهو العمل بالدعائم التي بني الإسلام عليها وهي خمس:    

الصلاة، والصوم، والزكاة، والحج، والجهاد.

وبالنظر إلى هذا قالوا: الإيمان إعتقاد بالجنان، وإقرار باللسان، وعمل بالإركان، (من آمن بالله ورسوله وعمل صالحا).

فكل مورد في القرآن اقتصر على ذكر الإيمان بالله ورسوله واليوم الآخر، يراد به الإسلام والإيمان بالمعنى الأول، وكل مورد اضيف إليه ذكر العمل الصالح يراد به المعنى الثاني.

والأصل في هذا التقسيم قوله تعالى: (قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا ولما يدخل الإيمان في قلوبكم).

وزاده تعالى إيضاحاً بقوله بعدها: (إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا باموالهم وأنفسهم في سبيل الله اولئك هم الصادقون يعني: أن الايمان قول ويقين وعمل.

فهذه الأركان الأربعة هي اصول الإسلام والإيمان بالمعنى الأخص عند جمهور المسلمين.

👈اصل الشیعة واصولھا ص75

مقصدالثانی اصول اور فروع کے اعتبار سے عقائد شیعہ کے بیان میں

ہم بنیادی باتیں اور بنیادی مسائل اختصار سے اس شرط کے مطابق ذکر کریں گے جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا 

(کی صرف کلیات پیش کریں گے جو شیعت کا محور ہیں اور وہ اجماعی باتیں ہیں جن کے لیے کہا جائے گا کہ واقعتا یہی شیعہ مذہب ہے نہ کہ کوئی اور چیز جو کسی ایک فرد یا چند افراد کی رائے ہو   )

اگلی عبارت کا ترجمہ شیعوں کے مولانا سید ابن حسن نجفی یوں کیا ہےاس لحاظ سے کہ دین کے دوشعبے ہیں 

١👈۔ ۔نظری

٢👈۔ ۔عملی

 اعتبار سے اسلام اور ایمان مراد ہیں 

توحید نبوت اسلام کے تین بنیادی رکن ہیں اگر کوئی شخص ان ارکان میں سے کسی رکن کا منکر ہے تو نہ وہ مسلم ہے نہ وہ مومن اور اگر ان ارکان پر ایمان لے آئے تو حسب ارشاد باری   (من آمن بالله ورسوله وعمل صالحا).اس کا شمار مسلمانوں میں ہوگا اور اسے مسلمانوں کے جملہ حقوق حاصل ہوں گے لیکن بمعنی آیة (من آمن بالله ورسوله وعمل صالحا)حسب تصریح بالایمان اعتقادبالجنان واقرارباللسان وعمل بالارکان لفظ اسلام کا ایمان سے ایک خاص مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور اسی کے ساتھ مزید ایک رکن کا اضافہ ہوتا ہے یعنی ان فرائض کی تعمیل جن پر اسلامی نظام کا دارومدار ہے وہ فرائض کی پانچ قسمیں ہیں 

١👈۔ ۔نماز

٢👈۔ ۔روزہ

٣👈۔۔زکاة

۴👈۔ ۔حج

۵👈جہاد

اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دراصل قول یقین اور عمل کے مجموعے کا نام ہے ایمان

یہ تو تھا جمہور اسلام کے نظریات کا خلاصہ 

👈اصل الشیعة واصولھا ص62 

👈👈نوٹ۔ 

شیعہ مصنف نےجمہور مسلمین کا اجماعی الایمان ذکر کیا کیوں کہ جمہور مسلمین کا تفصیلی ایمان وہی ہے جو حدیث جبرائیل میں مذکور ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے جس میں 👈اللہ پر 👈فرشتوں پر اس کے👈 رسولوں پر اس کی 👈کتابوں پر اور👈 آخرت پر اور👈 تقدیر پر ایمان کا ذکر ہے 

اس کے بعد شیعہ مصنف نے اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ کرنے کا جو نقطہ ذکر کیا ہے وہ ہے عقیدہ امامت 

آگے لکھتا ہے 

👈ولكن الشيعة الإمامية زادوا (ركناً خامساً) وهو: الإعتقاد بالإمامة. يعني أن يعتقد: أن الإمامة منصب إلهي كالنبوة، فكما أن الله سبحانه يختار من يشاء من عباده للنبوة والرسالة، ويؤيده بالمعجزة التي هي كنص من الله عليه (وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرةفكذلك يختار

للإمامة من يشاء، ويأمر نبيه بالنص عليه، وأن ينصبه إماماً للناس من بعده للقيام بالوضائف التي كان على النبي أن يقوم بها، سوى أن الإمام لا يوحى إليه كالنبي وإنما يتلقى الأحكام منه مع تسديد إلهي. فالنبي مبلغ عن الله والإمام مبلغ عن النبي.

والإمامة متسلسلة في اثني عشر، كل سابق ينص على اللاحق. ويشترطون أن يكون معصوماً كالنبي عن الخطأ والخطيئة، والإ لزالت الثقة به، وكريمة قوله تعالى: (إني جاعلك للناس إماماً قال ومن ذريتي قال لا ينال عهدي الظالمين) صريحة في لزوم العصمة في الإمام لمن 

تدبرها جيداً.

وأن يكون أفضل أهل زمانه في كل فضيلة، وأعلمهم بكل علم، لأن الغرض منه تكميل البشر، وتزكية النفوس وتهذيبها بالعلم والعمل الصالح

فمن اعتقد بالإمامة بالمعنى الذي ذكرناه فهو عندهم مؤمن بالمعنى الأخص،

والغرض: إن أهم ما امتازت به الشيعة عن سائر فرق المسلمين هو: القول بإمامة الأئمة الأثني عشر، وبه سميت هذه الطائفة (إمامية)

فقد تتجاوز 

طوائف الشيعة المائة أو أكثر، ببعض الاعتبارات والفوارق، ولكن يختص 

اسم الشيعة اليوم ـ على إطلاقه ـ بالإمامية التي تمثل أكبر طائفة في المسلمين بعد طائفة السنة.

👈اصل الشیعة واصولھا ص62۔63۔64۔65

👈ترجمہ۔ ۔لیکن شیعہ امامیہ نے ایک رکن بڑھا کر پانچ رکن بنا دیے اور وہ عقیدہ امامت ہے یعنی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت نبوت کی طرح منصب الٰہی ہے جس طرح اللہ تعالی نبوت اور رسالت کے لیے کسی کو منتخب کرکے اس کی معجزات سے تائید کرتا ہے اسی طرح امامت کے لئے کسی کو منتخب کرکے نبی کو حکم کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر اس کو امام مقرر کریں 

فرق صرف یہ ہے کہ نبی اللہ کی طرف سے مبلغ ہوتا ہے اور امام نبی کی طرف سے مبلغ ہوتا ہے (پیغام پہنچاتا ہے )

اور شیعوں نے امام کے لیے یہ بھی شرط لگائی ہے کہ وہ نبی کی طرح معصوم عن الخطا ہو ۔۔بس جو شخص اس طرح امامت کا عقیدہ رکھے جس طرح ہم نے ذکر کیا (امام منصوص من اللہ اور معصوم عن الخطا ہو )تو وہ شیعوں کے نزدیک خاص مومن ہے

الغرض عام مسلمانوں میں شیعوں کو جو امتیازی حیثیت حاصل ہے وہ اس وجہ سے کہ وہ ائمہ اثنا عشریہ کی امامت کے معتقد ہیں اور اسی بنا پر اس فرقہ کو امامیہ کہتے ہیں خیال رہے کہ تمام شیعہ امامیہ نہیں ہیں کیونکہ لفظ شیعہ کا اطلاق زیدیہ و اسماعیلیہ وغیرہ پر بھی ہوتا ہے اس طرح ایک 100بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ شیعہ فرقوں کی فہرست تیار ہو جائے گی لیکن موجودہ زمانے میں شیعہ کا نام امامیہ فرقہ کے ساتھ مختص ہو چکا ہے جو سنیوں کے بعد سب سے بڑی تنظیم ہے 

👈اصل الشیعہ واصولھا اردو ص62۔63۔64۔65۔عربی ۔58۔59۔60

👈👈تبصرہ۔ ۔شیعہ مصنف نے واضح طور پر اس حقیقت کا اقرار کیا ہے کہ شیعوں نے عقیدہ امامت کو ایمانیات میں خودبخود داخل کیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ انہوں نے امامت کو نبوت کی طرح 

منصب الہی کا عقیدہ اور اس کے لئے نبی کی طرح معصوم ہونے کی شرط بھی خود ہی لگائی ہے اور اس من گھڑت امامت کا عقیدہ رکھنے والے کو پکا مومن سمجھتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس من گھڑت امامت کے عقیدے کی وجہ سے ہی امت مسلمہ سے خارج ہوئے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ پہلے زمانے میں شیعوں کہ اگرچہ100 سے زیادہ فرق ہے لیکن اس زمانے میں شیعہ مذہب نام صرف شیعہ اثناعشریہ امامیہ کے ساتھ ہی مختص ہے اس کے بعد شیعہ مصنف نے لکھا ہے کہ فروعات کی بحث کو چھوڑ کر ہم صرف شیعہ عقائد کا ذکر کرتے ہیں جن عقائد پر شیعوں کا اجماع ہے اور ان پر احکام کا دارومدار ہے 

ولكن القصد أن نذكر اصول عقائد الشيعة ورؤوس أحكامها المجمع عليها عندهم، والعهدة في إثباتها على موسوعات مؤلفاتهم.

وهنا نعود فنقول: الدين علم وعمل، وظائف للعقل ووظائف للجسد، فهاهنا منهجان:

الأول: في وظائف العقل.

👈ترجمہ۔ ۔ہم اصول عقائد شیعہ کے ذکر کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو شیعوں کے نزدیک اجماعی عقائد ہیں اور ان عقائد پر احکام کا مدار ہے شیعی نقطہ نظر سے مذہب دو شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے

١👈۔ ۔علم ۔۔٢👈۔ ۔عمل

یعنی کچھ مسائل کا تعلق عقل سے ہے اور کچھ مسائل جسم سے متعلق ہیں 

 وہ مسائل جن کا علاقہ علم یعنی عقل سے ہے انہیں اصول دین سے موسوم کیا جاتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہے 

توحید ۔نبوت۔ امامت ۔عدل۔ معاد

اصل الشیعة واصولھا عربی ص60۔70

مصنف نے ایک اصل کو لکھ کر اس کی تفصیل ذکر کی ہے 

اورتیسرے اصول کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ 

قد أنباناك أن هذا هو الأصل الذي امتازت به الإمامية وافترقت عن سائر فرق المسلمين، وهو فرق جوهري أصلي، وما عداه من الفروق فرعية عرضية كالفروق التي تقع بين أئمة الاجتهاد عندهم كالحنفي والشافعي وغيرهما.

تحقیق ہم آپ کو بتاتے ہیں کا عقیدہ امامت یہی وہ امتیازی مسئلہ ہے جس کی بنا پر شیعہ فرقہ امت مسلمہ کے تمام فرقوں سے الگ تھلگ نظر آتا ہے جو اس مکتب خیال کو عام مکاتب سے علیحدہ کرتا ہے اس کے علاوہ جو اختلافات ہیں ان کی  حیثیت اصولی نہیں بلکہ فروعی ہے اس قسم کے ذیلی اختلافات خود سواد اعظم کے ائمہ اجتہاد مثلا حنفی شافعی وغیرہم میں پائے جاتے ہیں 

👈اصل الشیعة واصولھا عربی ص 65

👈اصل واصول شیعہ اردو 71۔72

👈👈تبصرہ ۔۔شیعہ مصنف نے اس

👈👈تبصرہ ۔۔شیعہ مصنف نے اس عبارت میں یہ بتایا کہ ہم شیعہ عقائد کی بنیادی چیزوں کو ذکر کرتے ہیں جن پر تمام احکام کا مدار ہے اور جن پر شیعوں کے نزدیک اجماع ہے اس کے بعد مصنف نے دین کو دو چیزوں میں تقسیم کیا

١👈۔ ۔ علم یعنی اصول دین 

٢👈۔ ۔عامل یعنی فروع دین 

اور لکھا کہ اصول دین کا تعلق اگر سے ہے اور فروردین کا تعلق جسم سے ہے اور پھر اپنے عقائد یعنی ایمان کو اس طرح ذکر کیا 

١👈۔ ۔التوحید۔ اصل الاول عندالشیعة

ص 61

٢👈۔ ۔النبوت۔ ۔اصل الثانی عندالشیعة

ص۔ 63

٣👈۔ الامامت۔ ۔اصل الثالث عندالشیعة

ص 65

۴👈۔ ۔العدل۔ ۔اصل الرابعة عندالشیعة

صص72

۵👈۔ ۔المعاد۔ ۔اصل الخامس عندالشیعة

ص۔ 75

👈👈تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنف نےایمانیات میں پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے اور ان چیزوں کو ایمان اور عقیدہ کہہ کر بیان کیا اور پہلے اس نے خود بتا دیا کہ ہم ان عقائد کو بیان کریں گے جن پر شیعوں کا اجماع ہے اور ان عقائد کے بعد ہی کہا جاتا ہے کہ یہ شیعہ مذہب ہے 

اور اس کے بعد مصنف نے عقیدہ امامت کی تفصیلات کو کچھ یوں ذکر کیا ہے 

👈وعرفت أن مرادهم بالإمامة: كونها منصبا إلهياً يختاره الله بسابق علمه بعباده، كما يختار النبي، ويأمر النبي بان يدل الأمة عليه، ويأمرهم باتباعه.

ويعتقدون: أن الله سبحانه أمر نبيه بأن ينص على علي عليه السلام وينصبه علماً للناس من بعده، وكان النبي يعلم أن ذلك سوف يثقل على الناس، وقد يحملونه على المحاباة والمحبة لابن عمه وصهره، ومن المعلوم أن الناس ذلك اليوم، وإلى اليوم، ليسوا في مستوى واحد من الإيمان واليقين بنزاهة النبي وعصمته عن الهوى والغرض، ولكن الله سبحانه لم يعذره في ذلك فاوحى اليه: (يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته)، فلم يجد بداً من الإمتثال بعد هذا الإنذار الشديد، 

فخطب الناس عند منصرفه من حجة الوداع في غدير خم، فنادى ـ وجلهم يسمعون ـ: «ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم» ؟.

فقالوا: اللهم نعم.

فقال: «من كنت مولاه فهذا علي مولاه»… الى آخر ما قال

ثم أكد ذلك في مواطن اخرى تلويحاً وتصريحاً، إشارة ونصاً، حتى أدى الوظيفة، وبلغ عند الله المعذرة.

ولكن كبار المسلمين بعد النبي صلى الله عليه وآله تأولوا تلك النصوص، نظراً منهم لصالح الإسلام ـ حسب اجتهادهم ـ فقدموا وأخروا، وقالوا: الامر يحدث بعده الأمر.

وامتنع علي وجماعة من عظماء الصحابة عن البيعة أولاً، 

👈اصل الشیعة واصولھا ص ،72۔73

امامیہ فرقہ کے نزدیک امامت وہ منصب الٰہی ہے جو نبوت کی طرح پروردگار عالم کی جانب سے ہدایت خلق کے لئے عطا ہوتا ہے اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ جناب باری عزاسمہٗ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ علی ابن ابی طالب کو اپنا جانشین مقرر کریں تاکہ ختم نبوت کے بعد کار تبلیغ جاری رہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ یہ عہدہ لوگوں کو کھٹکے گا اکثر اسے بھائی کی چاہت اور داماد نوازی پر محمول کریں گے لیکن قدرت نے اس کی بھی پرواہ نہیں کی اور بالکل صاف صاف لفظوں میں حکم دیا 👈یاایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔۔۔الآیہ

اے رسول اللہ علیہ وسلم تمہیں ہو جو حکم دیا گیا ہے اس کا فورا اعلان کردو اور اگر مفوضہ کام کی انجام دہی میں ذرا بھی سستی کی  تو یہ سمجھا جائے گا کہ تم نے کار رسالت انجام ہی نہیں دیا 

اس صورت میں سوائے تعمیل حکم کے اور کیا چاہتا تھا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کےبعدلوگوں کو غدیرخم میں جمع کرکے 👈من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ ۔۔

فرما کر حکم خدا کی تعمیل کر دی لیکن ختم المرسلین کی آنکھ بند ہوتے ہیں بعض دیدہ دلیر مسلمان حقیقت پر پردہ ڈالنے کے درپے ہوگئے نص صریح کی تاویل کی اور اپنےاجتہاد سے احکام میں تغیر و تبدل کرنے لگے 

بہرحال علی اور ان کا گروہ جو بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ  پر مشتمل تھا اس خودساختہ روش سے علیحدہ رہے اور پہلے بیعت سے انکار کر دیا 

👈وامتنع علي وجماعة من عظماء الصحابة عن البيعة أولاً، ثم رأى [ أن ] امتناعه من الموافقة والمسالمة ضرر كبير على الإسلام، بل ربما ينهار عن أساسه، وهو بعد في أول نشوئه وترعرعه، وأنت تعلم أن للاسلام عند أمير المؤمنين عليه السلام من العزة والكرامة، والحرص عليه والغيرة، بالمقام الذي يضحي له بنفسه وأنفس مالديه، وكم قذف بنفسه في لهوات المنايا تضحية للاسلام. وزد على ذلك أنه رأى الرجل الذي تخلف على المسلمين قد نصح للاسلام، وصار يبذل جهده في قوته وإعزازه، وبسط رايته على البسيطة، وهذا أقصى ما يتوخاه أمير المؤمنين من الخلافة والإمرة، فمن ذلك كله تابع وبايع ، حيث رأى أن بذلك مصلحة الإسلام

👈اصل الشیعة واصولھا ص 66

پھر جب علی  رضی اللہ تعالی عنہ نے 

دیکھا کہ موافقت اور مسالمت سے دور رہنے میں اسلام کا بڑا نقصان ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ امیرالمومنین کو اسلام کی عزت اور وقار اور اسلام کاحرص اور اسلام پر غیرت اپنی جان سے بھی زیادہ تھی اس لیے انہوں نے اس خلیفہ کا اتباع کیا اور بیعت کی 

جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ بیعت کرنے میں ہی اسلام کی مصلحت ہے توآپ نے خلیفہ کی بیعت کرلی 

👈👈تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنف نے اس بات کو واضح کر دیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے بیعت کرنے سے اپنے آپ کو دور رکھا لیکن جب دیکھا کہ مسلمانوں کی جماعت سے جدا رہنے میں نقصان ہے اور خلیفہ کی بیعت کرکے اس کی اتباع کرنے میں اسلام کا فائدہ ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کی بیعت کرکے اس کا اتباع کیااس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلافت اسلام کے فائدے میں چل رہی تھی اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی بیعت کرلی 👈لیکن تعصب کا بیڑہ غرق ہو اس پوری عبارت کاشیعوں کے مولانا سید ابن حسن صاحب قبلہ نجفی نے ترجمہ ہی نہیں کیا شیعوں کے حجۃالاسلام آل کاشف الغطاء نے مذہب شیعہ کا وہ عقیدہ اور ایمان ذکر کیا جس پر شیعہ مذہب کا اجماع ہے جس میں اس نے پانچ چیزوں کو اپنے ایمانیات میں ذکر کیا 

توحید ۔نبوت ۔ امامت۔ عدل۔ معاد

اسکے بعد انہوں نے فروع دین یعنی اعمال کا ذکر کیا ہے 

٢👈۔ ۔   شعیوں کا خاتم المحدثین ملا باقر مجلسی اپنی کتاب حق الیقین میں لکھتا ہے کہ👈 در ابتدا تکلیف مکلف واجب تحصیل ایمان است

ترجمہ۔ ۔یعنی سب سے پہلے ہر مکلف پر ایمان کا حاصل کرنا واجب ہے 

👈۔۔۔چون ایمان عبارت است از تصدیق باوجود حضرت علی و صفات کمالہ۔ ۔۔۔تنزیھہ 

واقرار بحقیقت انبیاء کے از جانب حق تعالی برائے تکمیل خلائق برایشاں مبعوث گردیدہ اند خصوصاپیغمبر آخر الزمان محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اقرار بحقیقت جمیع اوصیان پیغمبران خصوصا دوازدہ امام کے اوصیا پیغمبر آخر الزمان اند

و اقرار بعدالت حق تعالی 

 وہ اقرار بحشر و معاد 

👈ترجمہ۔ ۔ جبکہ ایمان حق تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرنے اور انبیاء علیہ الصلاۃ و السلام کی نبوت خصوصا آخری پیغمبر محمد ابن عبداللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اقرار کرنے اور تمام پیغمبروں کے اوصیاء خصوصاً بارہ اماموں جو آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں ان کے وصی ہونے کا اقرار کرنے اور اللہ تعالی کی عدالت کا اقرار کرنے اور حشر اورمعاد کے اقرار کرنے کا نام ہے

👈حق الیقین فارسی صفحہ 3 بازار شیرازی ایران

٣👈۔ ۔ہر مکلف پر شرعاً واجب و لازم ہے کہ وہ اپنے عقائدے دینی کو صحیح اور درست کرےیعنی اصول دین کا صحیح علم واقفیت حاصل ہو اور فروع دین یعنی نماز روزہ زکوۃ وغیرہ کے ضروری مسائل و احکام سے پوری طرح واقفیت واداء ہو

👈پہلا باب اصول دین 

توحید۔ عدل ۔نبوت۔ امامت۔ قیامت  

👈تحفۃ العوام مقبول صفحہ 31 ۔30

تیسرا باب فروع دین 

اصول دین یعنی دین کی جڑوں کا بیان ہو چکا ہے اب فروع دین یعنی دین کی شاخوں کا ذکر کیا جاتا ہے جس طرح درخت کی بنیاد کا استحکام اور اسکے سرسبزی اور شادابی اس کی جڑوں کی مضبوطی اور شاخوں کے سرسبز اور ہرے بھرے رہنے پر منحصر ہے بعینہ دین اسلام کی بقاء اور استقرار و استحکام کا انحصار اس کے اصول کے صحیح اعتقاد اور فروع احکام کے کماحقہٗ آگئہی اور اعمال کے مطابق شریعت تعمیل وبجا آوری پر ہے

👈تحفۃ العوام مقبول جدید صفحہ 39 40 افتخار بک ڈپولاہور

مؤلف جناب (شیعوں کا)تقدس مآب سید منظور حسین صاحب نقوی 

۴👈۔ ۔   شیعہ مصنف سید محمد شیرازی قم نے اپنی کتاب توضیح المسائل میں لکھا ہے کہ اصول دین پانچ ہیں

تو حید۔  عدل ۔نبوت۔ امامت ۔قیامت 

👈توضیح المسائل صفحہ-7 

مسلہ ۔۔

اصول دین پر مسلمان کا عقیدہ دلیل کے ساتھ ہونا چاہیے تقلید کے ساتھ نہیں یعنی اصول دین میں بغیر دلیل کے کسی کی بات کو قبول نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔البتہ احکام دین یعنی فروع دین میں انسان یا تو مجتہد ہو یا کسی مجتہد کی تقلید کرے

👈توضیح المسائل صفحہ 68

۵👈۔ ۔اصول دین پانچ ہیں

 توحید ۔عدل۔ نبوت۔ امامت۔ قیامت        

👈نماز جعفریہ صفحہ-17 

👈نماز سیکھ صفحہ 16 

👈نماز آل محمدؐ صفحہ 8 

👈کتاب نماز وطہارت منجانب بزم حیدری خیرپور میرس صفحہ 10 

مصنف طالب حسین کرپالوی 

 ٦👈۔ ۔شیعہ نقطہ نظر کے موجب مذہب دو شاخوں میں منقسم ہے 

👈علم ۔۔۔👈 عمل 

یعنی بعض مسائل کا تعلق عقل سے ہے انہیں شرعی اصطلاح میں اصول دین کا نام دیا گیا ہے اور اصول دین سے مراد ایسے بنیادی اصول ہیں جن پر مذہب کی عمارت کا دارومدار ہے اور اصول دین پانچ ہیں

 توحید۔ عدل۔ نبوت۔ امامت۔ قیامت

👈شیعہ کا تعارف مصنف محمد بخش مگسی صفحہ 238 اور 240 

👈توضیح المسائل ابوالقاسم خوئی صفحہ-16 

👈کلید مناظرہ مصنف سید برکت علی شاہ گوشہ نشین وزیر آبادی صفحہ 290 

👈مفتاح الجنان صفحہ 8 

👈یاد الہی مصنف سید احمد سہریانی فرخانی صفحہ 85 

👈👈تبصرہ ۔۔

شیعہ مصنفین نے جس انداز اور مثالوں سے اصول دین کا ذکر کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب میں یہی اصول دین اور یہی ایمانیات اور یہی عقائد ہیں جن پر فروع دین یعنی اعمال کا دارومدارہے

اب ہم شیعہ مذہب کے ماننے والوں سے سوال کرتے ہیں 

سوال ۔۔وہ اپنی اس ایمانیات کو جس پر ان کا اجماع بھی ہے اور جس پر ان کے اعمال کا دارومدار بھی ہے اپنے اصول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارکہ سے ثابت کریں۔یعنی جن اصول سے شیعہ مذہب میں راویوں کی تحقیق کی جاتی ہے اس تحقیق کے مطابق ثقہ راویوں سے صحیح صریح غیر معارض مرفوع حدیث سے آپنے اس ایمان کو اپنی ہی کتابوں سے ثابت کردیں  اگر اس طرح انہوں نے اپنے ایمانیات کو قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کیا تو اس حدیث کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے گا اگر کتاب اللہ میں بھی انہی چیزوں کو ایمانیات میں ذکر کیا گیا ہے تو شیعوں کی ایمانیات کو صحیح سمجھا جائے گا اور شیعہ مذہب کو دین اسلام تصور کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی شیعہ اپنے مذہب کی بتائی ہوئی ایمانیات کو مذکورہ اصول کے مطابق قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کر سکتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے کسی غیر نبی یا غیر رسول کے اقوال سے اپنے ایمانیات کو ثابت کرتا ہے تو اس کی اس قسم کی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایمانیات کا سکھانا اللہ کے رسول کا کام ہے اور اللہ کے رسول نے اپنی امت کو ایمان سکھا کر اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی احسن طریقے سے سرانجام دیا ہے اس لیے کوئی شیخ محقق اپنے مذہب کی بتائی ہوئی ایمانیات کو اگر اللہ کے رسول سے ثابت نہیں کر سکتا تو شیعہ مذہب کو دین اسلام نہیں سمجھا جائے گابلکہ اسلام کے مقابل ایک سازش تصور کی جائے گی اور اسی طرح اگر کسی مرفوع روایت سے ایمان ثابت ہو جائے تو اس کے بعد اس کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے گا وہ روایت کتاب اللہ کے مطابق ہوگی تو وہ قابل قبول ہوگی ورنہ کتاب اللہ کے مقابلے میں کوئی روایت قابل قبول نہیں ہوگی تو ایسی صورت میں بھی شیعہ مذہب کو اسلام تصور نہیں کیا جائے گا اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کہ شیعہ مذہب اسلام ہے یا نہیں ہم شیعہ مذہب کے بتائے ہوئے ایمانیات کو قرآن مقدس کے بتائے ہوئے ایمانیات کے آمنے سامنے تحریر کرتے ہیں تاکہ ہر ذی شعور اس بات کو آسانی سے سمجھ سکے۔

👈👈تناسب شیعہ ایمانیات و قرآنی ایمانیات   

 قرآنی ایمانیات

١👈۔ ۔ اللہ پر ایمان 

٢👈۔ ۔تمام انبیاء پر ایمان 

٣👈۔ ۔اللہ کی  بھیجی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان 

۴👈۔ ۔فرشتوں پر ایمان 

۵👈۔ ۔قیامت پر ایمان 

٦👈۔ ۔تقدیر پر ایمان 

👈👈شیعہ ایمانیات

١👈۔ ۔توحید

٢👈۔ ۔نبوت 

٣👈۔ ۔۔۔۔۔۔۔

۴👈۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 

۵👈۔ ۔قیامت 

١👈۔ ۔عدل

٢👈۔ ۔امامت

👈👈تبصرہ ۔۔۔

مذکورہ بالا ایمانیات کے موازنے سے ہرایک ذی شعور کے سامنے شیعہ مذہب کے ایمانیات کی حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ اسلام میں جو ایمانیات نص قطعی یعنی قرآن مجید کی محکم آیات سے ثابت ہے شیعہ مذہب میں ان میں سے تین چیزیں یعنی کتابوں پر ایمان فرشتوں پر ایمان تقدیر پر ایمان کو عقائد کی بنیادی حیثیت یعنی ایمانیات سے خارج کردیا گیا ہے باقی تین چیزوں یعنی توحید نبوت اور قیامت کو انہوں نے اپنے مذہب کی ایمانیات میں جگہ دی ہے اور شیعہ مصنفین نے کتابوں پر ایمان اور فرشتوں پر ایمان کو اپنی ایمانیات سے خارج کر کے اس کی جگہ دوسری دو چیزوں یعنی عدل پر ایمان اور اور نبوت کی طرح منصوص من اللہ امامت پر ایمان اپنے بنیادی عقائد یعنی ایمانیات میں داخل کیا ہے جبکہ پورے قرآن مجید میں عدل پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی طرح منصوص من اللہ امامت پر ایمان لانے کا نام واضح طور پر گم ہے اور نہ ہی کسی قرینے سے ان دو چیزوں پر ایمان لانے کا کوئی ذکر ہے جبکہ ایمان کے متعلق اصول یہ ہے کہ نص قطعی سے ثابت شدہ چیز پر ایمان لانا لازمی ہوگا ایمانیات میں کسی چیز کو صرف تقلیدی طور پر ماننا قابل قبول نہیں ہے جیسا کہ شیعہ کے 👈آیت اللہ العظمٰی المجاہد السید محمد شیرازی قم ایران نےلکھا ہے اصول دین پر مسلمان کا عقیدہ دلیل کے ساتھ ہونا چاہیے تقلید کے ساتھ نہیں یعنی بغیر دلیل کے کسی کی بات کو قبول نہیں کیا جاسکتا

👈 توضیح المسائل بعنوان احکام تبلیغ صفحہ 60 

ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ کسی بھی شیعہ مصنف سے شیعہ مذہب کا عقیدہ اور ایمان تحریر کرایا جائے اس کے بعد وہ اپنا ایمان اپنے ہی اصول کے مطابق اپنی معتبر کتابوں سے صحیح صریح مرفوع روایت سے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اقدس سے اپنا ایمان ثابت کرے اگر ان کے پاس اس طرح کی کوئی معتبر روایت ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان سکھایا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل پر ایمان اور نبوت کی طرح رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بعد منصوص من اللہ امامت

پر ایمان لانے کو بھی ذکر کیا ہے تب ھی ان دونوں چیزوں پر ایمان لانے کو تسلیم کیا جائے گا  لیکن اس میں بھی یہ شرط ضرور ہوگی کہ جن چیزوں کو اللہ تعالی نے قرآن مقدس میں ایمان کے متعلق بیان فرمایا ہے ان چیزوں پر بھی شیعہ مذہب میں ایمان لانا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہو اوکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان سکھایا ہے اس میں کتاب اللہ کا بتایا ہوا ایمانیات متن کی حثیت رکھتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا ایمانیات شرح کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ امت مسلمہ کے پاس جو ایمانیات موجود ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے فرمان اقدس سے کتاب اللہ کی بتائی ہوئی ایمانیات کی ترجمانی ہے جیسا کہ حدیث جبرائیل میں موجود ہے کہ جبرائیل کے سوال پر کہ ایمان کیا ہے 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا   

قال: ” ان تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر خيره وشره “

متفق علیہ 

اس میں صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایمانیات میں کتاب الہی کی بتائی ہوئی ایمانیات کو دھو رہا ہے جس پر جبرائیل امین نے 

قدصدقت کہ کرتصدیق فرمائی ۔

اس سے معلوم ہوا کہ ایمانیات کا سوال اور اس کا جواب دونوں ہی اللہ کی طرف سے تھے 

اگر شیعہ مذہب میں بھی اس طرح عدل اور امامت پر ایمان لانے کا اللہ اور اس کے رسول سے یا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کا ثبوت مل جائے تب بھی سمجھا جائے گا کہ شیعہ مذہب اسلام ہے جبکہ آج تک ہماری معلومات میں یہ بات نہیں آئی کیا شیعہ مذہب کی ایمانیات میں جو عدل اور امامت بتائے جاتے ہیں اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد شیعہ مذہب کی کسی معتبر کتاب میں موجود ہو اور نہ ہی قرآن مجید میں اس قسم کا کوئی ذکر ہے بلکہ اس کے برعکس شیعہ مصنفین نے اپنی اصول کتابوں میں یہ انکشاف ضرور کیا ہے کہ عقیدہ امامت شیعہ اماموں نے شیعہ مذہب کی ایمانیات یعنی اصول دین میں خود بڑھا دیا ہے اور پھر امام کے معصوم ہونے کی شرط بھی انہوں نے خود لگائی ہے جیسا کہ شیعوں کے امام الاکبر محمد حسین آل کاشف الغطاء نے صاف لکھا ہے 

ترجمہ۔ ۔لیکن شیعہ اماموں نے پانچواں رکن یعنی امامت کا عقیدہ اصول یعنی معنیات میں خود بڑھا دیا ہے اور انہوں نے امام کے نبی کی طرح معصوم ہونے کی شرط بھی خود لگائی ہے

👈 اصل الشیعة و اصولھا ۔عربی صفحہ 58 

👈اصل واصول شیعہ اردو صفحہ 62 

شیعہ محققین نے قرار دیا ہے کہ اصول یعنی ایمانیات میں امامت کا عقیدہ انہوں نے خود داخل کیا ہے اگر شیعہ مذہب کے کسی بھی اصول یہ کتاب میں عقیدہ امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے ایمانیات میں سکھایا ہوا موجود ہوتا تو شیعہ مصنف اس کو یعنی عقیدہ امامت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا اور کبھی بھی یہ نہ لکھتاکہ عقیدہ امامت کارکن شیعہ اصول یعنی معنیات میں خود زیادہ کیا ہے اور یہ بھی اقرار کیا کہ امام کا نبی کی طرح معصوم ہونا لازمی ہے یہ شرط بھی شیعوں نے خود لگائی ہے

  👈سوال۔ ۔۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ جب یہ ایمانیات قرآنی نہیں تو ان کا وجود کہاں سے آیا 

👈👈جواب۔ ۔۔

تو اس کا جواب امت مسلمہ کے محققین حضرات اور خود شیعہ محققین اور مورخین نے بتایا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کا نام عبداللہ بن سبا تھااس نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور سب سے پہلے اس قسم کی امامت کا عقیدہ اس نے مشہور کیا ہم صرف شیعہ محققین کے حوالے ادھر نقل کرتے ہیں  

 👈١۔۔وذكر بعض أهل العلم أن عبد الله بن سبا كان يهوديا فأسلم ووالى عليا عليه السلام وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون وصي موسى بالغلو فقال في إسلامه بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله في علي عليه السلام مثل ذلك. وكان أول من أشهر بالقول بفرض إمامة علي عليه السلام وأظهر البراءة من أعدائه وكاشف مخالفيه وأكفرهم

بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ  ابن سبا یہودی تھا اسلام لے آیا اور پھر حضرت علی کی ولایت کا قائل ہوا۔ اس پہلے جب یہ یہودی تھا تو حضرت یوشع کے بارے میں غلو کرتا تھا کہ وہ موسی کے وصی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد اس قسم کی بات حضرت علی کے بارے میں کی۔ یہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی کی امامت کا قائل ہونا فرض ہے اور ان کی دشمنوں پر اعلانیہ تبرا کیا۔اور مخالفوں کو کافر کہا

👈 بحارالنوار صفحہ 287 جلد 25

٢👈۔۔عبداللہ بن سبا سے پہلے کے لوگ تقیہ سے کام لیتے تھے اور ان امور کو (وصایت ، امامت ، افضلیت علی رضہ ) کو اعلانیہ نہیں کہتے تھے لیکن اس نے تقیہ چھوڑ دیا اور ان باتوں کو اعلانیہ ذکر کرنا شروع کر دیا۔ مخالفین امامت کو کافر کہنا بھی پہلے اس نے شروع کیا۔ 

 بحار النوار ص 287  جلد 25 حاشیہ

٣👈۔۔حضرت صادق رح اس کے بارے میں فرماتے ہیں رجال الكشي: محمد بن قولويه عن سعد عن ابن يزيد ومحمد بن عيسى عن علي بن مهزيار عن فضالة بن أيوب الأزدي عن أبان بن عثمان قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول: لعن الله عبد الله بن سبا إنه ادعى الربوبية في أمير المؤمنين،

عبداللہ بن سبا پر اللہ کی لعنت ہو اس نے امیر المومنین کے بارے میں ربوبیت کا دعوی کیا۔ 

👈بحارالانوار جلد 25 ص 287

ان روایات سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ شیعوں کے تینوں ہی فرقوں کی بنیاد اسی ایک شخص کے عقائد پر ہےتفضلیوں نے اس کی افضلیت علی رضہ کا عقیدہ اپنایا ، امامی شیعوں نے افضلیت علی رضہ، امامت،تبرہ بازی کے عقائد کو مل کر اپنایا پھر غالیوں نے اس کے الہویت علی کے عقیدہ کو اپنایا چناچہ مجموعی طور سب شیعہ عقائد کا موجد یہی ہے

۴👈۔۔اللہ! عبد اللہ بن سباء پر لعنت کرے، اس نے امیرالمؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ربوبیت کا دعویٰ کیا، جبکہ اللہ کی قسم! امیر المؤمین تو اللہ کے مطیع اور فرماں بردار بندے تھے۔ ہلاکت ہو اس کے لئے جس نے ہم پر جھوٹ باندھا۔ ایک قوم ہے جو ہمارے بارے میں وہ باتیں کہتی ہے جو ہم نے اپنے بارے میں نہیں کہیں ہیں، ہم اللہ کے سامنے ان باتوں سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، ہم اللہ کے سامنے ان باتوں سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ 👈معرفۃ اخبار الرجال، للکشی، صفحہ 70, 71

۵👈۔۔عبد اللہ بن سباء کفر کی طرف پلٹ گیا تھا اور اس نے غلو کیا تھا۔

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

وہ بہت زیادہ غلو کرنے والا اور لعنتی تھا، اسے امیر المؤمنین نے آگ میں جلا دیا تھا اور وہ علی رضی اللہ عنہ کی ربوبیت اور اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا تھا۔

👈(تنقیح المقال فی علم الرجال،جلد2 ،صفحہ 183,184)

٦👈۔۔سبائیوں نے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی امامت اللہ کی طرف سے فرض ہے۔

اور یہ سبائی عبد اللہ بن سباء کے پیروکار ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم پر طعن کیا اور ان پر تبرا کیا اور یہ کہا کہ انہیں ایسا کرنے کا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے۔ تو علی  رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کروا لیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے اس کا اقرار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا جسے سن کر یہ لوگ چیخنے لگے کہ: کیا آپ ایسے آدمی کے قتل کا حکم دیتے ہو جو آپ اہل بیت کی محبت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے؟ تمہارے ساتھ دوستی رکھتا اور تمہارے دشمنوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے؟ توعلی رضی اللہ عنہ نے اسے مدائن بھجوا دیا۔

اور اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ:

عبد اللہ بن سبا یہودی تھا، پھر یہ اسلا م لے آیا اور علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ اختیار کر لیا، ان کا معتقد ہو گیا۔ یہ شخص اسلام لانے سے قبل یہودیت میں موسیٰ علیہ السلام کے وصی یوشع بن نون علیہ السلام کے متعلق جو عقائد رکھتا تھا، اسلام لانے کے بعد اسی قسم کے عقائد کا اظہار علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا۔ یہی پہلا شخص ہے جس نے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے فرض ہونے کی بات کی اور ان کے دشمنوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اسی بنا پر شیعوں کے مخالفین نے یہ کہا کہ : شیعیت کی اصل یہودیت سے ماخوذ ہے، یعنی شیعت کی بنیاد یہودیت پر رکھی گئی ہے۔

👈(فِرق الشیعۃ،خلاصہ صفحہ32تا44 )

٧👈۔۔سبائی عبد اللہ بن سباء جو کہ عبداللہ بن وہب الراسبی الہمدانی ہے ، کے پیروکار ہیں۔ اس کے ساتھ (اس کے نظریات کی) تائید عبد اللہ بن خرسی اور ابن اسود نے کی تھی اور یہی دونوں اس کے بڑے ساتھی تھے۔ اور ابن سباء ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے ابو بکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم پر طعن کی اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر تبرا کیا۔ 

👈المقالات والفرق،صفحہ 30

٨👈۔۔عبداللہ بن سباء علی رضی اللہ عنہ کے  سامنے کھڑا ہو کر تقریر کرنے لگا اور تو ہی تو کی تکرار شروع کردی تو علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ : اللہ تعالیٰ  تجھے ہلاک کرے ! میں کون ہوں؟ تو کہنے لگا کہ: تو اللہ ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے اور اس کے ساتھ اس کے پیروکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

👈شرح نہج البلاغہ، جلد5صفحہ 5

٩👈۔۔سید نعمت اللہ الجزائری کہتے ہیں :

عبد اللہ بن سباء علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ: تو ہی الٰہ برحق ہے۔ تو علی  رضی اللہ عنہ نے اسے مدائن میں جلا وطن کر دیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل یہودی تھا، پھر اسلام لے آیا، یہودیت میں یہ یہی بات یوشع بن نون علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتا تھا جو بعد میں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی۔

👈الانوار النعمانیہ،جلد 2 ،صفحہ234

👈👈تبصرہ ۔۔شیعہ مصنفین کے معتمد علیہم محبت حسین نے اس حقیقت کا واضح طور پر اقرار کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی کی امامت کی فرضیت کا عقیدہ اور اس کے وصی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا عقیدہ سب سے اول عبداللہ ابن سبا نے من گھڑت بناکر مشہور کیا اور اس عقیدے کے مخالف کو یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سیاسی مخالفین کو اس نے کافر کہا اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بعد نبوت کی طرح منصوص من اللہ امامت کا عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نہیں سکھایا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی امامت کا ایمانیات میں ذکر تک نہیں کیایہ مثنوی عقیدہ ابن سبا کی تخلیق تھی اور اس سے لیکر شیعہ مصنفین نے اپنی ایمانیات میں رکن بنا کر داخل کردیا اور بعد میں اس عقیدے کی نسبت شیعہ راویوں نے اپنے اماموں کی طرف کرکے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی انتہائی کوشش کی تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ شیعہ مذہب آئمہ معصومین کا بتایا ہوا ہے جیسا کہ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی مایہ ناز کتاب الکافی میں امام جعفر صادق سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے 

  👈علي بن إبراهيم، عن صالح بن السندي، عن جعفر بن بشير، عن أبي سلمة

عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: نحن الذين فرض الله طاعتنا، لا يسع الناس

إلا معرفتنا ولا يعذر الناس بجهالتنا، من عرفنا كان مؤمنا، ومن أنكرنا كان كافرا،

ومن لم يعرفنا ولم ينكرنا كان ضالا حتى يرجع إلى الهدى الذي افترض الله عليه

من طاعتنا الواجبة فإن يمت على ضلالته يفعل الله به ما يشاء.

👈ترجمہ۔ ۔راوی نے کہا میں نے امام جعفر سے سنا فرمایا کہ ہم وہ ہیں جن کی اللہ تعالی نے ان کی اطاعت فرض بھی ہے لوگوں کو ہماری معرفت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور ہم سے جاھل رہنا قابل قبول نہ ہوگا جس نے ہم کو پہچانا وہ مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے ہم کو نہ پہچانا اور نہ ہی انکار کیا تو وہ گمراہ ہے ۔۔۔۔۔پس اگر وہ اس گمراہی کی حالت میں مر گیا تو اللہ سزا اسے چاہے گا دے گا 

راوی نے کہا کہ میں نے امام محمد باقر سے کہا کہ میں اپنا عقیدہ جس پر خدا بدلہ دے گا آپ کے سامنے پیش کر دو تو فرمایا بیان کرو میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وعدہ و لاشریک ہے اور محمد اس کےعبد اور رسول ہیں اور اقرار ان تمام باتوں کا جو خدا کی طرف سے لے کر آئے اور یہ کہ 

👈ان علیا فرض اللہ طاعتہ فقال ھذا دین اللہ ودین ملئکتہ۔۔

علی امام ہے اللہ نے ان کی اطاعت فرض کی ہے تو امام نے فرمایا کہ یا اللہ اور اس کے ملائکہ کا دین ہے 

👈الکافی ۔۔کتاب الحجہ ج 1/187

👈مترجم ج1/215۔سید ظفر حسن 

تبصرہ ۔۔۔

ان روایات میں بتایا گیا ہے کہ امام جعفر صادق اور امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور اس کی اطاعت اور دوسرے ائمہ حضرات کی امامت اور اطاعت کو اللہ تعالی نے فرض کیا تھا جو شخص ان حضرات کی امامت کو پہچانے وہ مومن ہے اور جو انکار کرے وہ کافر ہے اور جو جاہل ہےوہ گمراہ ہے اور اس گمراہ کو اللہ تعالی جو چاہے گا سزادے گا حالانکہ اس عقیدے کا پہلا موجدعبداللہ بن سبا تھا 

👈👈نوٹ۔ ۔۔

شیعہ مصنفین نے جب یہ دیکھا کہ موجودہ قرآن مجید میں کسی قسم منصوص من اللہ امام امت کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے تو انھوں نے موجودہ قرآن مجید کو نامکمل تحریف شدہ کہہ کر اپنی ایمانیات سے خارج کردیا اور اپنے ماننے والوں کو سمجھاتے رہے کہ اگر موجودہ قرآن مجید تحریف شدہ نہ ہوتا تو اس میں ضرور بالضرور اس قسم کی امامت کا صرف عقیدہ نہیں بلکہ باقاعدہ ہمارے اماموں کے نام بھی ہوتے یہ صرف زبان سے نہیں بلکہ یہ بات بھی انہوں نے اپنے اماموں کی طرف منسوب کرکے اپنے اصولی کتابوں اور اپنی بڑی بڑی تفاسیر میں لکھی ہے

مثلا۔ ۔

👈تفسیر صافی میں لکھا ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا 

١👈۔ ۔لوقری القران کما انزل لا۔۔۔۔سمینا

یعنی جس طرح قرآن مجید نازل کیا گیا تھا اگر اسے طرح پڑھایا جاتا تو ضرور بالضرور آپ اس میں ہمیں ہمارے ناموں سے موجود پاتے 

تفسیر صافی ص١٠

٢👈۔۔ان اللہ اصطفی ۔۔۔۔۔آل عمران 33

شیعہ مصنفین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں لفظ آل محمد بھی تھا لیکن اس کو مٹایا جیسا کہ مقبول احمد شیعہ مصنف دہلوی نے لکھا ہے کہ امام کی طرف منسوب کرکے کہ تفسیر قمی اور تفسیر عیاشی میں امام نے فرمایا ان اصطفی ۔۔۔۔۔آل عمران وال محمد وعلی العالمین اس طرح آیت تھی تو لوگوں نے اصل کتاب سے لفظ عالم محمد گرادیا ترجمہ مقبول صفحہ 105 

٣👈۔ ۔۔ولقدعہدنا۔ ۔۔۔طہ 115

شیعہ مصنفین نے اپنے اماموں کی طرف منسوب کرکے لکھا کہ اس آیت میں بھی ہمارے اماموں کے نام تھے جواب نہیں ہیں 

مثلا۔ ۔۔👈الکافی ۔ترجمہ مقبول میں ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ یہ آیت اللہ کی قسم یوں نازل ہوئی تھی ولقد عہدنا الی ادم من قبل کلمات فی محمد وعلی وفاطمة والحسن والحسین والائمة من ذریتھم فنسی 

اصول الکافی ۔۔کتاب الحجه باب ولایت

ترجمہ مقبول ص637

۴👈۔ ۔۔انانحن نزلنا۔ ۔۔لحافظون۔ ۔الحجر۔ 8

👈ترجمہ۔فرمان علی  الحجر 8

 بے شک ہم ہی نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی تو اس کے نگہبان ہیں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے شیعوں کے فاضل سید فرمان علی نے لکھا ہے کہ ذکر سے ایک توقرآن مراد ہے جس کو میں نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے اب اس کی نگہبانی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کو ضائع و برباد نہ ہونے دیں گےپس اگر تمام دنیا میں ایک نسخہ بھی قرآن مجید کا (مثلا امام مہدی کے پاس غار میں )اپنی اصلی حالت میں باقی ہوں تب بھی یہ کہناصحیح ہوگا کہ وہ محفوظ ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی تغیر تبدل نہیں کر سکتا یہ ظاہر ہے اس زمانے تک قرآن مجید میں کیا کیا تغیرات ہوگئے 

👈تبصرہ۔ ۔۔۔۔ان روایات میں شیعہ مصنفین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اصل قرآن مجید میں ہمارے ائمہ معصومین کے نام اور لفظ آل محمد وغیرہ تھا اور اس وقت موجودہ قرآن مجید میں اماموں کے نام تو کیا منصوص من اللہ نبوت کی طرح امامت کا ذکر تک نہیں ہے اور ان کی سوچ میں موجودہ قرآن مجید نامکمل محرف بیان تحریف شدہ ہے اس لیے انہوں نے اپنی ایمانیات میں کتابوں پر ایمان جن میں قرآن مجید پر بھی ایمان ہوتا ہے شامل نہیں کیا اور صاف کہا کہ ہمارے ائمہ معصومین کے علاوہ کسی نے پورا قرآن مجید جمع نہیں کیا جیسا کہ شیعوں کے ثقة الاسلام علامہ مولانا شیخ محمد بن یعقوب کلینی نے اصول کافی میں واضح طور پر لکھا ہے کہ امام باقر نے فرمایا 

👈ترجمہ۔ لوگوں میں سے جو کہہ کے اس نے جس طرح قرآن نازل ہوا تھا اس نے پورے کا پورا جمع کیا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ علی ابن ابی طالب اور اس کے بعد اماموں کے علاوہ نہ کسی نے جس طرح اللہ نے نازل کیا تھا قرآن کو جمع کیا ہے نہ حفظ کیا ہے 

👈اصول کافی مترجم اردو کتاب الحجاب باب نمبر 34 صفحہ 261 جلد 1 

ظاہر ہے کہ جو قوم موجودہ قرآن مجید کو تحریف شدہ اور نہ مکمل سمجھتی ہے تو وہ اپنی ایمانیات میں اس کو کیسے شامل کر سکتی ہے شیعہ قوم نے اسی وجہ سے ہی کتابوں کو اپنی معنیات میں شامل نہیں کیا اور اس کے مقابلے میں انہوں نے عبداللہ بن سبا یہودی کا ایجاد کیا ہوا عقیدہ امامت کو اپنی ایمانیات یعنی اصول عقائد میں شامل کرکے اقرار کیا کہ عقیدہ امامت شیعوں نے بڑھا کرخود شامل کیا ہے 

👈اصل واصول شیعہ اردو ص62

👈سوال۔ ۔۔۔جب شیعہ مذہب میں قرآن مجید تحریف شدہ ہے جس کی وجہ سے ان کے آئمہ حضرات کے نام قرآن مجید سے نکالے گئے ہیں اور انہوں نے اپنی معنیات میں آسمانی کتابوں کو شامل نہیں کیا ہے جن میں قرآن مجید پر ایمان رکھنا شامل تھا تو اب سوال یہ ہے کہ شیعہ مذہب میں جو توحید ہے وہ قرآن کی بتائی ہوئی توحید کے مطابق اور شیعہ مذہب میں جو مرتبہ نبوت اورختم نبوت پر ایمان ہے وہ قرآن مجید کے بتائے ہوئے مرتبہ نبوت اور ختم نبوت کے مطابق اور شیعہ مذہب میں جو عقیدہ قیامت ہے وہ قرآن مجید کے بتائے ہوئے قیامت کے مطابق کیا شیعہ مذہب میں جو عدل ہے وہ قرآن مجید کے بتائے ہوئے عدل کے مطابق یہ شیعہ مذہب میں عقیدہ امامت ہے وہ قرآن مجید کی بتائی ہوئی کسی امامت کے مطابق ہو سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

یہ سوال ہی خارج از بحث ہے کیونکہ جب شیعہ مذہب کی ایمانیات یعنی اصول عقائد میں کتابوں کو ہیں جس میں قرآن مجید پر بھی تھا شامل ہی نہیں کیا گیا تو قرآن مجید کی بتائی ہوئی توحید اور شان نبوت اور اسی طرح قیامت عدل اور امامت کو وہ اسی طرح کیسے مان سکتے ہیں 

بہرحال ہم مختصر ہی سہی شیعہ مذہب کے اصول اور فروع کتابوں سے نمونے کے طور پر چند عبارتیں باحوالہ نقل کرتے ہیں جن سے بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ واقعتاشیعہ مذہب کا موجودہ قرآن مجید کے بتائے ہوئے ایمانیات  یعنی اصول عقائد اور ان کے ماننے کے طریقے میں اتفاق نہیں بلکہ اختلاف ہے

👈👈شیعہ اصول دین 

👈تو حید۔ 

👈 عدل ۔

👈نبوت۔ 

👈امامت ۔

👈قیامت ۔۔۔

👈👈شیعہ کا پہلا اصول دین توحید۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔