مختارثقفی: اصل حقائق

مختیار بن ابی عبیدہ ثقفی 

اس کے بارے میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ صحابی رسول تھا بڑا نیک بندہ تھا اس نے سیدنا حسین کا قصاص لیا وغیرہ وغیرہ

آئیے تاریخ کی اس متنازعہ شخصیت مختیار ثقفی کا کچھ تعارف اہل سنت اور اہل تشیع معتبر کتب سے معلوم کرتے ہیں۔

1️⃣ مختار ثقفی کو شرف صحابیت حاصل نہیں تھا نا رویت نا صحبت۔ 

2️⃣ مختار ثقفی کے حالات ناپسندیدہ تھے جن کو ثقہ لوگوں نے نقل کیا جیسے امام شعبی رحہ نے ۔

3️⃣ سیدنا حسینؓ کے قصاص کا دھوکا دیا اور دنیا کا طلب گار تھا جھوٹ اور جنونی باتیں کرتا تھا ۔

4️⃣ موسی بن اسماعیل عن ابی عوانہ عن مغیرہ بحوالہ ثابت بن ہرمز روایت کرتے ہیں کہ مختیار نے اپنے چچا کے ہاں سے مدائن سے بہت سا مال سیدنا علی کی طرف بھیجا اس نے اس میں ایک تھیلی نکالی اس میں پندرہ درھم تھے کہنا لگا یہ کسبیوں کی کمائی ھے جس پر حضرت علیؓ نے ان سے کہا کہ تیرا ناس ہو میرا کسبیوں سے کیا تعلق ؟ 

5️⃣ حضرت علیؓ  نے اس کو بدعا دی کہ اللہ پاک اس ہلاک کرے اسے کیا ہوگیا ہے اگر ابھی اس کا دل چیر کر دیکھو تو اس کے اندر لات اور عزی کی محبت بھری ہوئی ہوگی۔ 

6️⃣ بعض لوگ کا کہنا ہے کہ مختار ثقفی شروع میں خارجی تھا پھر زیدی ہوا اور بعد میں رافضی ہوگیا تھا۔

7️⃣ مختیار ثقفی نے صحابی رسول عمار بن یاسر کے بیٹے محمد کو ظلما شھید کیا کیونکہ اس نے اس کو کہا کہ تم اپنے والد کے حوالے سے جھوٹی حدیث بیان کرو اور انھوں نے ایسا نہیں کیا تو قتل کردیا۔

8️⃣ اہل بیت کی ایک جماعت نے اس خلاف دعوہ نبوت اور واضح جھوٹ کی گواہیاں دی اس سلسلہ میں امام احمد روایت بھی نقل کی ہے۔

ترجمہ : 

رفاعہ بن شداد فرماتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا تو اس نے مجھے تکیہ دیا اور کہا کہ اگر میرا بھائی جبریل علیہ السلام اس سے نہ اٹھتا تو میں اسے تیرے لیے پھینک دیتا۔ تو میرا ارادہ ہوا کہ اسے قتل کردوں۔ (کیونکہ اس نے حضرت جبریل علیہ السلام سے رفاقت کا جھوٹ بولا) پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو میرے بھائی عمرو بن الحمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کہا: “جس مؤمن نے کسی مؤمن کو اس کے خون کی امان دی اور اسے قتل کردیا تو میں اس کے قتل سے بری ہوں”

9️⃣ اس سے زیادہ قوی وہ روایت ہے جو صحیح مسلم میں بحوالہ اسماء بنت ابوبکرصدیق نے بیان کیا کہ رسول اللہ فرمایا ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ظالم ہوگا۔

اسماء بنت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنھما نے کہا کہ جھوٹا مختار ھے ۔

🔟 مختار ثقفی نے محمد بن حنفیہ کے متعلق یی دعوی بھی کیا کہ جو آخری زمانہ میں مہدی آئے گا وہ محمد بن حنفیہ ہی ہے ۔۔

یہ تفصیل الاصابہ فی تمیز الصحابہ از علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی سے لی گئی ہے۔

1️⃣1️⃣ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں مختار کے حالات میں لکھتے ہیں کہ

َ أَوَّلًا نَاصِبِيًّا يُبْغِضُ عَلِيًّا بُغْضًا شَدِيدًا،

 وہ پہلے ناصبی تھا  سیدنا علی سے شدید بغض رکھتا تھا 

2️⃣1️⃣ مختار ثقفی صحابی رسول عبداللہ بن عمر کا سالا تھا ، اس کے باوجود وہ مختار کو شیطان کا ساتھی قرار دیتے تھے ان کے برے کردار کی وجہ سے 

 تفسیر ابن ابی حاتم 

قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ

7840 – حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لابْنِ عُمَرَ: إِنَّ الْمُخْتَارَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ. قَالَ: صَدَقَ فَتَلا هَذِهِ الآيَةَ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ.

ابو اسحاق نے کہا کہ ابن عمر سے ایک بندے نے کہا 

کہ مختار  غلط فہمی میں ھے کہ اس پر وحی آتی ھے تو ابن عمر نے کہا سچ کہہ رہا ھے اور ساتھ یہ آیت بھی پڑھی کہ شیاطین اپنے ساتھیون پر وحی کرتے ھیں

3️⃣1️⃣  میزان اعتدال میں امام ذھبی رحہ نے مختار کے بارے میں لکھا ہے یہ کذاب ھے ایسے شخص کی روایت نقل کرنا ناجائز ھے کیونکہ یہ گمراہ شخص تھا اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتا تھا یہ کہتا ہے حضرت جبرائیل ان پر نازل ہوئے تھے یہ حجاج سے بھی برا ہے۔

4️⃣1️⃣  طبقات ابن سعد حصہ تابعین تبع التابعین میں عیسیٰ بن دینار موذن سے مروی ہے کہ میں نے ابوجعفر (والد حضرت جعفر رحمہ اللہ، حضرت باقر رحمہ اللہ، حضرت زین العابدین کے بیٹے) سے مختار کو دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ علی بن الحسین رحمہ اللہ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے مختار پر لعنت کررہے تھے، ان سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، آپ اس پر لعنت کرتے ہیں حالانکہ وہ شخص آپ ہی لوگوں کے بارے میں ذبح کیا گیا۔ انہوں نے کہ کہ وہ بڑا جھوٹا تھا، اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر جھوٹ بولا کرتا تھا۔

مختار الثقفی کذاب!!!

Sahih Muslim – 6496 

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب

باب:قبیلہ ثقیف کا کذاب اور سفاک:۔

ARABIC:

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ، وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللهِ إِنْ كُنْتَ، مَا عَلِمْتُ، صَوَّامًا، قَوَّامًا، وَصُولًا لِلرَّحِمِ، أَمَا وَاللهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لَأُمَّةٌ خَيْرٌ، ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللهِ وَقَوْلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ، فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ: لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ، قَالَ: فَأَبَتْ وَقَالَتْ: وَاللهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا، وَاللهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ، أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا، «أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ، قَالَ: فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا

TRANSLATION:

ہمیں اسود بن شیبان نے ابو نوافل سے خبردی ، کہا :  میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ( کے جسد خاکی )  کو شہر کی گھاٹی میں  ( کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا )  دیکھا ، کہا : تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وہاں سے گزرے تو وہ ان  ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  کے پاس کھڑے ہوگئے ، اور  ( انھیں مخاطب کرتے ہوئے )  کہا : ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام!اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے  روکتا تھا ،  اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے  روکتا تھا ،  اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے  روکتا تھا ، اللہ کی قسم!آپ ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے  ، بہت قیام کرنے والے  ، بہت صلہ رحمی کرنے و الے تھے ۔ اللہ کی قسم!وہ  امت جس میں آپ سب سے بُرے ( قرار دیے گئے ) ہوں ، وہ امت تو  پوری کی پوری بہترین ہوگی ( جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم ، قاتل اور مجرم موجود ہیں ۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے ۔  ) 

پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وہاں سے چلے گئے ۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے ، ان ( کے جسدخاکی )  کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انھیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا ، پھر اس نے ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی والدہ )  حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے پاس کارندہ بھیجا ۔ انھوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا ۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمھارے پاس ان لوگوں کو بھیجو ں گا جو تمھیں تمھارے بالوں سے  پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے ۔ حضرت اسماء  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے  پھر انکار کردیا اورفرمایا : میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لےجائے ۔ کہا : توحجاج کہنے لگا : مجھے میرے جوتے دکھاؤ ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں  پہنچا اور کہا : تم نے مجھے دیکھا کہ  میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟انھوں نے جواب دیا : میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کردی جبکہ اس نے تمھاری آخرت برباد کردی ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا ( ابن ذات النطاقین )  کہتا ہے ۔ 

ہاں ، اللہ کی قسم!میں دو پیٹیوں والی ہوں ۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کھانا  سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی  نہیں ہوسکتی ( سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔  ) اور سنو!رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہوگا اور ایک بہت بڑا سفاک ہوگا ۔ کذاب ( مختار ثقفی )  کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اورہوگا  ، کہا : تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انھیں کوئی جواب نہ دے سکا ۔

امام احمد بن حنبل (المتوفیٰ: ۲۴۱ھ) نے بسندِ حسن روایت کیا:

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ. قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ “

ترجمہ:

رفاعہ بن شداد فرماتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا تو اس نے مجھے تکیہ دیا اور کہا کہ اگر میرا بھائی جبریل علیہ السلام اس سے نہ اٹھتا تو میں اسے تیرے لیے پھینک دیتا۔ تو میں نے کہا: میرا ارادہ ہوا کہ اسے قتل کردوں۔ (کیونکہ اس نے حضرت جبریل علیہ السلام سے رفاقت کا جھوٹ بولا) پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو میرے بھائی عمرو بن الحمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کہا: “جس مؤمن نے کسی مؤمن کو اس کے خون کی امان دی اور اسے قتل کردیا تو میں اس کے قتل سے بری ہوں”

[مسند أحمد ط الرسالة، جلد ۳۶، صفحہ نمبر ۲۷۸-۲۷۹، رقم: ۲۱۹۴۷، مسند الانصار]

شعیب الارناؤط نے اسے مسند احمد کی تحقیق میں حسن کہا اور البدایہ والنہایہ کی تحقیق میں صحیح کہا۔ (البدایہ والنہایہ، جلد ۹، صفحہ نمبر ۴۵، حاشیہ نمبر ۵)

Jam e Tirmazi – 2220 

کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا

ARABIC:

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏    فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ  ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‌‌‌‏ يُقَالُ الْكَذَّابُ:‌‌‌‏ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ‌‌‌‌‌‏وَالْمُبِيرُ:‌‌‌‏ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ،‌‌‌‏

TRANSLATION:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا“۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎۔

Sunnan e Ibn e Maja – 2688 

کتاب:دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل

باب:کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟۔

ARABIC:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، ‌‌‌‌‌‏سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏  مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، ‌‌‌‌‌‏فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

TRANSLATION:

اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔

Musnad Ahmed – 11080 

کتاب:سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

باب:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے ترکہ اور میراث کا بیان

ARABIC:

۔ (۱۱۰۸۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ رُفَیْعٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَرَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم    إِلَّا مَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ اللَّوْحَیْنِ، وَدَخَلْنَا عَلٰی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ فَقَالَ: مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: وَکَانَ الْمُخْتَارُ یَقُولُ: الْوَحْیُ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹)

TRANSLATION:

عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ ( یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔

اسکین 1

اسکین 2

مختار بن عبید ثقفی شیعوں کے ملحد فرقے کیسانیہ کا بانی تھا جن کا ماننا تھا کہ امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے ۔ اس فرقے کے لوگ برخلاف اثنا عشریہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد جناب محمد بن علی الحنفیہ رضی اللہ عنہ کو امام معصوم مانتے تھے اور ان کے متعلق رجعت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ اس فرقے کے بنیادی عقائد میں بداء کا عقیدہ بھی شامل ہے یعنی اللہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور نئے حالات کے پیش نظر قضائے الہٰی بدلتی رہتی ہے ۔

علامہ شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مختار بن عبید ثقفی نے بداء کا عقیدہ اس لئے اختیار کیا تھا کہ وہ خود پر نازل ہونے والی وحی کے زیر اثر یا امام کے پیغام کی وجہ سے اپنے متبعین کے سامنے ہونے والے واقعات کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر وہ واقعات اسی طور سے ظہور پذیر ہوجاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے دعویٰ کی دلیل قرار دیتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کہتا تھا کہ اللہ نے اپنا ارادہ بدل لیا ۔ (المحلل و النحل) ۔