متعہ النساء کی تعریف

🔴 متعہ النساء🔴

🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺
مدت معین تک اجرت مقرر کر کے عورت سے جسمانی تعلق رکھنا اور شہوت پوری کرنا۔
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻

🔹 متعہ کی لغوی معنی ہیں فائدہ اٹھانا ، عرب میں جہالیت کے زمانے میں جب لوگ اپنے شہر سے باہر جاتے تھے تو وہاں اگر ان کا قیام بہت زیادہ ہوتا تھا تو وہ لوگ عورتوں سے اجورے پر مقرر مدت تک شہوت پوری کرتے تھے جسے متعہ کہا جاتا تھا۔

🔹 عرب میں جہالیت کے زمانے میں متعہ کا رواج عام تھا بہت سے ایسے مثال موجود ہیں اور تاریخی اور روایات احادیث سے اس بات میں ذرا سا شک نہیں رہتا کہ متعہ عام تھا اور عام طور پر کیا جاتا تھا، صرف عرب میں نہیں دوسرے علائقوں میں بھی اس قسم کی رسم عام تھی جیسے ہندستان، ایران، روم وغیرہ ۔

🔸 دین اسلام میں زمانہ قدیم سے رائج رسومات کو فورآ ممنوع نہیں کیا گیا تھا، جس طرح شراب کا استعمال بتدریج کم کرتے ہوئے بعد میں مکمل ممنوع کردیا گیا، جس طرح سُود کو بعد میں ممنوع کیا گیا اسی طرح متعہ النساء کو بھی شروع اسلام میں ممنوع نہیں کیا گیا بلکہ وقت ضرورت دوران جہاد نبی کریم کی طرف سے اس کی عارضی اجازت دی جاتی رہی ، لیکن امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ زمانہ آخر میں خود نبی کریم نے متعہ النساء کو قیامت تک حرام قرار دے دیا تھا۔

🔸 صحیح احادیث کے مطابق نبی کریم کی طرف سے شروع اسلام میں متعہ النساء کی عارضی اجازت اور ممانعت ہوتی رہی اور بلآخر متعہ النساء کو ہمیشہ کے لئے مطلقآ حرام قرار دے دیا گیا۔

🔸 اہل تشیع متعہ النساء کو سورت النساء آیت 24  سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جبکہ اس آیت کریمہ میں لفظ متعہ اس معنی و مفہوم میں بیان ہی نہیں کیا گیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مدت معین تک عارضی نکاح کی ممانعت اسی آیت کریمہ سے ثابت ہوتی ہے۔

مدت معین تک صرف شہوت کے لئے عارضی نکاح یعنی “متعہ النساء” کا قرآن پاک میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کی واضح نفی سورت النساء آیت 24 اور دوسری مختلف آیات سے ثابت ہوتی ہے ۔