متعہ النساء: قرآن میں متعہ کا ذکر نہیں ہے۔

 

شیعہ کے ہاں متعہ کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور وہ آج تک متعہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی اور نبی کریم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

سورت نساء آیت 24 میں کہیں بھی مقرر مدت تک نکاح ( یعنی متعہ) کا ذکر نہیں ہے۔

غور فرمائیں۔۔

شیعہ کے مؤقف کو درست تسلیم کیا جائے اور سورت نساء آیت 24 سے نکاح صحیح کے بدلے متعہ سمجھا جائے تو پھر سورت نساء کی تینوں آیات یعنی 23,24 اور 25 میں کہیں بھی نکاح صحیح کا ذکر نہیں ہے۔ کیا نکاح صحیح کا ذکر کئے بغیر یہ موضوع مکمل ہوسکتا ہے۔؟

🌷ان آیات کا موضوع “کن عورتوں سے تعلق حلال اور حرام ہے”🌷

🔴 کیا سورت نساء 24 میں لفظ “استمتعتم” سے مراد “متعہ” ہے؟

قرآن میں لفظ “استمتعتم” کئی جگہ استعمال ہوا ہے ، اور ہر جگہ اس سے مراد فائیدہ اٹھانا ہے۔

صحیح احادیث میں بھی لفظ “استمتعتم” استعمال ہوا ہے اور وہاں پر بھی اس سے مراد “فائیدہ اٹھانا” ہے۔

سورت نساء آیت 24 میں عورت سے مستقل نکاح اور اس سے فائیدہ اٹھا کر پورا مہر دینے کی بات کی گئی ہے۔