قرآن کریم اور عقیدہ امامت

قرآن کریم اور عقیدہ امامت

🔴 یہ کیسا عقیدہ امامت ہے جس کی تائید کے بجائے اس عقیدہ کی واضح نفی قرآن کریم میں موجود ہے!!

👈کچھ امام جہنم کی طرف بھی بلاتے ہیں۔

♦️ اللہ عزوجل نے کچھ امام ایسے بھی بیان فرمائے ہیں جو دوزخ کی دعوت دیتے ہیں۔
🌷 وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ لَا یُنۡصَرُوۡنَ
🌸 اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی۔
(سورت القصص 41)

♦️ ایک اور مقام پر مؤمنین کو امام بننے کی دعا تعلیم کی گئی ہے۔

🌷 وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا
اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔
(سورت الفرقان 74)

اگر امامت واقعی کوئی منصوص من اللہ منصب ہوتا تو قرآن میں یہ دعا کیوں بیان کی گئی ہے؟؟

📣 یہ کیسا عقیدہ امامت ہے!!

♦️ قرآن کریم میں جہنم کی طرف بلانے والے اماموں کا بھی ذکر ہے!!! (سورت القصص 41)
👈 مطلب ضروری نہیں کہ امام معصوم بھی ہو!!

♦️ قرآن کریم میں امام بننے کی دعا بھی موجود ہے۔ !! (سورت الفرقان 74)
👈 مطلب امام منصوص من اللہ بھی نہیں ہے ورنہ ایسی دعا مانگنا تو گناہ ہے، جس طرح ہم نبی بننے کی دعا نہیں مانگ سکتے۔

اگر نبی و غیر نبی سب کے لئے ایک خاص منصب “امامت” تسلیم کیا جائے تو پھر پہلے امام سیدنا علی کیسے ہوگئے؟؟
کیا اس سے پہلے جو امام آئے ان کا انکار کردیا جائے؟ جیسے حضرت ابراہیمؑ کو خود شیعہ امام تسلیم کرتے ہیں۔
یا نبیوں کا “سلسلہ امامت” شیعوں کے غیر نبیوں کے “سلسلہ امامت” سے مختلف ہے؟

اگر “سلسلہ امامت” ایک ہی ہے اور نبی و غیر نبی امام بنائے گئے تو پھر سیدنا علی کو پہلا امام کہنا درست کیسے ہوا؟ اور پھر بارہ اماموں کا عقیدہ کیسے تسلیم کیا جائے؟
اور اگر غیر نبیوں کا “سلسلہ امامت” مختلف ہے تو پھر نبیوں کے “سلسلہ امامت” کے دلائل سے غیر نبیوں کا “سلسلہ امامت” کیسے تسلیم کیا جائے؟؟

اگر بعد از نبی ایک نیا “سلسلہ امامت” شروع ہوا جو صرف غیر نبیوں کے لئے تھا تو اس سے پہلے نبیوں کے درمیان کئی سو سالوں کا وقفہ رہا، اس مدت میں سلسلہ امامت جاری و ساری تھا یا نہیں؟

حضرت آدمؑ سے سلسلہ نبوت شروع ہوا اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام دنیا میں آئے اور سلسلہ نبوت نبی کریم ﷺ تک جاری و ساری رہا بیشک نبی کریمﷺ خاتم الانبیاء ہیں ۔ یہ تفصیل قرآن کریم سے ثابت ہے۔

اسی طرح اگر “سلسلہ امامت” بھی ایک خاص منصب ہے اور بقول شیعہ گذشتہ نبی امام بھی تھے تو پھر “سلسلہ امامت” کی شروعات، مشہور اماموں کا قرآن میں تذکرہ ، پھر بعد از نبی آنے والے امام جو غیر نبی اور معصوم، منصوص من اللہ امام ہوں گے، ان کا تذکرہ بھی قرآن کریم میں ہونا چاہئے تھا!

“سلسلہ امامت” جو بقول اہل تشیع “سلسلہ نبوت“ سے افضل ہے ، اس کا ذکر تو قرآن میں کہیں نہیں کیا گیا، کسی نبی کو امام یعنی پیشوا بنانے سے “سلسلہ امامت” کی تائید کیسے ہو جاتی ہے!!
اس سے پہلے اور اس کے بعد بلکہ بعد از نبی کریمﷺ اس سلسلہ امامت کے بارے میں واضح آیات کا ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ رحلت نبی کے بعد امت مسلمہ کو ان اماموں کی تابعداری کرنی تھی۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ

🔴 شیعہ کا “عقیدہ امامت” قرآن کریم کے صریح خلاف ایک غیر اسلامی تصور ہے اور یہ عقیدہ کسی یہودی ذہن سے ہی نکلا ہے۔