قبول حق: سید سہیل

جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دراصل یہ بھی پہلے شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے ان کا تعارف اس لیے نہیں لکھا جا رہا کہ ان کا کہنا ہے جب سے شیعہ مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہیں شیعہ ان کو بہت دھمکیاں دیتے ہیں،

آ ئیے آپ ان بھائی کی زبانی ساری بات سنیں۔

ہمارا تعلق اثنا عشریہ (جس شیعہ فرقہ کی آج کل اکثریت ہے) سے تھا اور ہم بھی دوسرے شیعوں کی طرح صحابہ کرام اور ام المؤمنین پر گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے کو عبادت سمجھتے تھے کیونکہ شیعہ مذہب اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک صحابہ کرام کو برا بھلا نا کہا جائے خاص طور پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نازیبا الفاظ سے یاد کرنا شیعت کا لازمی جز ، عقیدہ اور میں شامل ہے
استغفرُللہ

یہ 2012 کی بات ہے کہ میرے والد صاحب کے قریبی دوست جن کا نام غلام علی تھا وہ بہت بیمار تھے اور ہسپتال داخل تھے میں اور میرے والد صاحب ان کی مزاج پرسی کے لئیے ہسپتال گئے ابھی ہم وارڈ میں داخل ہی ہوئے تھے کہ غلام علی کا بڑا بیٹا بھاگتا ہوا باہر آیا اور ڈاکٹرز کو آوازیں دینے لگ گیا جب ہم نے کمرے کے اندر جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ غلام علی کو بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی دل کا دورہ پڑا ہے اتنی دیر میں ڈاکٹر بھی آ گئے اور مریض کو چیک کرنا شروع کیا لیکن اس لمحے غلام علی کا رنگ کالا پڑ چکا تھا یوں لگ رہا تھا کہ یہ اس کی زندگی کے آ خری لمحات ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا کیونکہ ڈاکٹر سے بھی اس کی کنڈیشن کنٹرول نہیں ہو رہی تھی لیکن ہم نے وہاں ایک عجیب منظر یہ دیکھا کہ غلام علی کے منہ سے غلاظت نکل رہی تھی اور پوری وارڈ میں انتہائی گندی بدبو پھیل چکی تھی کہ وہاں سب لوگوں کا ٹھہرنا محال ہو گیا پھر اس کے حلق سے کتے کے غرانے جیسی آوازیں نکلنا شروع ہوئی ایک دم سے وہاں کا منظر بہت ہی خوفناک قسم کا ہو گیا کہ بتانا مشکل ہے اور اس واقعے کے بعد میری حالت بہت خراب رہی
خیر اس واقعے سے میرے والد صاحب بہت پریشان رہنے لگ گئے نا کسی سے زیادہ بات کرتے تھے اور نا ملتے تھے
اس واقعے کے بعد ابو جان کو بہت عجیب و غریب خواب نظر آتے تھے جس کا زکر وہ اکثر ہم سے کرتے تھے کہ خواب میں کچھ لوگ ملتے ہیں جن کے چہرے خوفناک ہوتے ہیں اور وہ مجھے ڈراتے ہیں حالانکہ ہم شیعہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود میرے والد صاحب تبلیغی جماعت کے مولانا سے ملنے لگ گئے ان کے پاس جاتے تھے تو ان سے اپنے ان خوابوں کا تذکرہ کیا جس پر مولانا صاحب نے میرے ابو کو مخاطب کر کے کہا کہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو یہ اس کا نتیجہ ہے اس وقت میرے ابو نے مولانا صاحب کی بات کا کچھ زیادہ اثر نا لیا اور اسے ایک معمولی بات سمجھی لیکن یہ معمول بن گیا تھا کہ ابو کو اس قسم کے خواب تنگ کرتے تھے

پھر ایک دن اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت کے لئیے چن لیا اور ہمیں سیدھی راہ پر ڈال دیا
ہوا واقعہ کچھ یوں کہ میرے والد صاحب نے خواب میں خود کو مولا علی رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک میں موجود پایا اور والد صاحب نے بتایا کہ وہ زمین پر بیٹھے ہیں اور اپنا سر گھٹنوں کے درمیان رکھ کر رورہے ہیں اور اتنے میں ایک آ واز آتی ہے کہ اٹھو اور سامنے دیکھو کہ کون ہے میرے ساتھ جب والد صاحب نے سر اٹھایا تو ان کے سامنے نہایت ہی دو خوبصورت شخصیات کھڑی تھیں انہوں نے لمبے لمبے جبے پہنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
تو جس ہستی نے میرے ابو کو مخاطب کیا تھا انہوں نے کہا ادھر آؤ میرے بچے میرے بیٹے یہ دیکھو یہ میرا بھائی معاویہ (رضی اللہ عنہ) ہیں اور میں علی (رضی اللہ عنہ ) ہوں
سبحان اللّٰہ
والد صاحب نے بتایا کہ میں اٹھ کر مولا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ مولا ہمیں تو زاکروں نے یہی بتایا تھا کہ حضرت معاویہ آپ کا دشمن تھا اور ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ معاویہ آپ کو منبر سے گالیاں دیتا تھا اور آپ سے جنگ بھی کی تھی جس پر مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

“کہ اللّٰہ نے معاویہ کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرمادیا ہے اور اب جنت میں میرا اور معاویہ کا محل ساتھ ساتھ ہے جن لوگوں(زاکروں) نے تمہیں گمراہ کیا اور تم لوگوں کے دلوں میں میرے بھائی معاویہ کی نفرت ڈالی یاد رکھو ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے”

والد صاحب بتاتے تھے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا چہرہ سرخ و سفید اور بہت روشن تھا حالانکہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت بلند ہیں لیکن اس وقت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ خوبصورت لگ رہے تھے

والد صاحب نے یہ خواب مولانا احمد لدھیانوی کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے ہو لیکن دیکھ لو خدا کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ کتنا عظیم ہے اسی لیے ان کا چہرہ روشن اور خوبصورت لگ رہا تھا
بس اسی خواب نے ہماری سوچوں کو تبدیل کر دیا کہاں ہم معاویہ پر لعنت طعن اور تبرا کرتے تھے اور آج ہم ان کا ذکر نہایت عزت اور احترام کے ساتھ کرتے ہیں والد صاحب نے سب گھر والوں کو جمع کیا اور خود زارو قطار رو رہے تھے یہاں تک کہ ان کی سفید داڑھی آ نسووں سے تر ہو گئی ہمارے والد صاحب چونکہ گھر کے سربراہ تھے اور انہی کا حکم چلتا تھا انہوں نے کہا کہ جس نے اس گھر میں رہنا ہے اسے میری بات ماننا ہوگی ان کا ارادہ تھا کہ میں نے حق کو بہت قریب سے سمجھ لیا ہے لہذا اب ہمیں شیعہ جیسے گندے مذہب سے نکلنا ہوگا میرے بڑے بھائی نے اور خاندان کے باقی لوگوں نے اس بات کی مخالفت کی لیکن میں اپنے والد سے بہت محبت کرتا ہوں لہذا میں نے اپنے ابو سے کہا کہ جو آپ کہیں گے میں وہی کروں گا اور میں آپ کے ساتھ ہوں اور اب ہمارا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے اور اب ہمارے دیکھا دیکھی خاندان کے اور لوگ بھی شیعت کو چھوڑ کر مسلمان ہو رہے ہیں الحمدلله ایک دن میں نے اپنے والد سے غلام علی کی خوفناک موت کا سبب پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا تو میرے والد نے بتایا کہ غلام علی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت گالیاں اور بکواس کیا کرتا تھا جس کا انجام خدا نے دکھا دیا
میرا تعلق اب سپاہ صحابہ والوں سے ہے اب میں صحابہ کرام کا دفاع کر کے ان تمام غلطیوں اور گناہوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو میں نے ان پر لعنت طعن اور گالی گلوچ کی تھی درپردہ ہمارے آس پاس بہت سے لڑکے شیعت چھوڑ کر مسلمان ہو چکے ہیں لیکن شیعوں کی دھمکیوں کی وجہ سے وہ کسی کو بتاتے نہیں اب مجھے عبادت کرنے کا بھی بہت مزا آ تا ہے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں گمراہی سے نکال کر سیدھی راہ پر ڈال دیا ہے

میں نے آج خود اس بھائی سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھےاپنے مسلمان ہونے کا واقعہ بتایا میرے اس بھائی نے کہا کہ جب سے شیعت چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہیں ہمارے چہرے بھی صاف شفاف ہو گئے ہیں اور ہم پہلے کی نسبت خود کو بہت اچھا محسوس کرتے ہیں

اللّٰہ پاک سے میری دعا ہے کہ تمام شیعہ رافضیوں کو مولا علی رضی اللہ عنہ کے درشن کروا دے تاکہ وہ بھی حق اور سچ کو سمجھ سکیں
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس بھائی کی فیملی کے لئیے دعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کو حق سچ سمجھنے پر اجر عظیم عطا فرمائے
آمین