قبول حق: سیدہ ام مناہل

السلام و عليكم ورحمۃ اللہ

میری عزیز بہنوں بھائیو اور بزرگان دین حضرات میری کہانی میری زبانی بہت سے لوگ سوالات پر سوالات کرتے ہیں اور کمینٹس پر کمینٹس کرتے ہیں اور کمینٹس میں کئی بار برا بھلا بھی کہتے ہیں اور بہت سے لوگ میری تحریروں کو اچھی داد بھی دیتے ہیں۔
پر میں سب کی مشکور ہوں جو مجھے برا بھلا کہتے ہیں ان لوگوں سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کوئی تو کمی ہے جو لوگ ہمیں برا بھلا کہتے ہیں یا گالیاں دیتے ہیں برحال سب کی احسان مند ہوں۔

اور اپنی ذاتی زندگی کی کہانی آپ لوگوں کے سامنے رکہتی ہوں۔

“سید” ہوں مگر شیعہ کیوں نہیں ہوں #جیلانی_سید،
ہوں میری بہنو، بھائیو، میرے عزیز بزرگوں حضرات آپ لوگ اپنی جگہ سہی ہیں مگر سید ہونا لازمی نہیں کے شیعہ ہو سنی ہو یا دیوبندی ہو یا رافضی ملعون ہو یا کوئی اور فرقہ ہو۔

میں بتاتی چلوں کے میں ایک شیعہ گھرانے سے تعلق رکہتی ہوں میں پیدا بھی اور پرورش بھی ایک شیعہ گھرانے میں ہوئی۔

بچپن سے یہ تعلیم دی گئی کے علی رضی اللہ عنہ ہی ہمارے ولی ہیں وہی سب کچھ ہیں وہی مشکل کشاہ ہیں جس بچے کو جو سکھایا جاتا ہے بچپن میں آگے چل کر بچے کا ایمان مذہب بھی ویسا ہی ہوتا ہے جو وراثت سے ملتا ہے کیوں کے اس کو اپنے گھر میں تربیت ہی ایسی دی جاتی ہے کے جس مذہب سے آپ کے بڑے بوڑھے ہوں اور آپ کے ماں ، باپ جس مذہب جس فرقے پر ہوں۔

مجھے شعور آیا تو میرا دماغ دل سب بنے ہوئے تھے 16 سال کی عمر تک میں شیعہ ہی رہی پڑھ لکھ کر اچھا شعور آیا مگر پھر بھی اصل راہ پر نہ تھی۔ قرآن کی حافظہ بنی 18 سال کی عمر میں گھر کا ماحول تو ویسے ہی بنا ہوا تھا شیعہ اور جو جو دماغ میں بھرا گیا تھا وہی ہمارے دل اور دماغ میں چھایا ہوا تھا۔
(یاد رہے شیعہ مذہب میں کوئی حافظ قرآن نہیں ہوتا چودہ سو سال کی تاریخ پڑھ لیں، میں حافظہ اس لیے بن گئی کہ والدہ عربی النسل سنی تھی تو والد نے دھوکہ دے کر رشتہ کیا اور والدہ ہو شیعہ بنایا اور والدہ کی خواہش سے میں حافظہ بنی)
پھر شیعہ عالمہ بنی اور کئی مجلسیں پڑھی اب یہ میری زندگی کی شروعات ہے شیعہ مذہب مکمل ڈھل کر آیا تھا لوگوں کے اندر آہستہ آہستہ ایک نام کمایا بڑی عزت مل گئی۔ بڑے بڑے خطاب بڑے بڑے جھوٹوں کے داستان گھڑی (شیعہ قوم کو سنائی) اللہ معاف کرے۔

اس دوران میرا میڈیکل یونیورسٹی میں بھی داخلہ ہوگیا ساتھ پڑھنا اور یہ اپنی شیعہ مجلسوں میں آنے جانے کا زور و شور ہونے لگا۔
میں قرآن کی حافظہ تو بنی اور عالمہ پھر شیعہ مذہب کی کتب پڑھ کر بنی جو ساری جھوٹ دھوکے اور کفر پر مبنی ہیں۔

قرآن پڑھ تو لیا مگر یہ نہیں جانا کے اس میں لکھا کیا ہے۔ اس کی حقیقت تک نہ جانی کے اس میں کس کس چیز کا ذکر ہے ہمیں تو بس بتایا گیا کے یے قرآن مکمل تھوڑی ہے بس یے ہماری ضرورت ہے سمجھہ سکتے ہیں آپ لوگ کے ضرورت کسے کہتے ہیں یعنی مجبوری کی حالت میں خنزیر کا گوشت بہی کھایا جا کا سکتا یعنی مجھے قرآن حافظ مجبوری میں کرایا گیا کیوں کے ہماری ماں عرب عورت تھیں ان اسرار تھا کے میں قرآن کی حافظہ بنوں مگر اہل تشیع میں کوئی قرآن حافظ نہیں ہے میں نے 6 چھ سال اپنی بد زبانی بد کلامی سے کھایا وہ بھی اپنی واہ واہ کے لیے اللہ معاف کرے مجھے گناہ گار کو عیب دار کو۔ برحال آگے چلتے ہیں میرے مذہب شیعہ میں رہتے ہوئے ایک کتب شیعہ پڑھی اب دماغ میں ایک ہی چیز تھی کے حسین کائینات کے مظلوم تریں شہید ہیں اور سب امام حق پر شہید ہوئے دین کی راہ میں ہمارا ایمان تھا کے کل کائنات بس آ کر علی رضی اللہ عنہ پر آ کر ختم ہوتی ہے۔

مگر پھر میرے دماغ اور دل کو وہ سکوں وہ راحت نہ تھی ایسی بے چینی کے دل کسی کو ڈھونڈ رہا ہو میرے اندر میں ہزاروں فطوروں نے جنم لیا کے ابھی بھی کچھ باقی ہے جو مجھے معلوم نہیں اور میں نماز تو پڑھتی تھی قرآن کی تلاوت تو کرتی تھی مگر پھر بھی سکوں، راحت، چین، نہیں میری آنکھوں کو میری نیند میں وہ راحت نہیں آخر ہے کیا جو ہمیں سکوں نہیں کرنے دیتا اور میں نے تہجد نماز شروع کئی اور اللہ کے حضور رو رو کر اللہ سے سوال کیئے کے میرے اللہ پاک مجھے سکوں دے، وہ راحت عطا کر جیسی حسین کو سجدے میں عطا کئی تھی میرے اللہ مجھ پر اپنا رحم و کرم کر میرے راستے کھول دے۔

اللہ تو اللہ ہے نا وہ تو پوری انسانیت کا اللہ ہے نا ایک روز میری دعا اللہ نے قبول کئ شائد مجھ غریب پر اللہ کو رحم آ گیا یا کوئی اچھائی کی وجہ سے کسی غریب مریض کی دعا لگ گئی اور وہ دن میری زندگی کا دن تھا۔

میں یونیورسٹی میں حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کا خطاب تھا ان کا نام تو بہت سنا تھا مگر کبھی ان کی تقریر نہیں سنی لوگ ان کو برا بھلا کہتے تھے تو میں بھی ان کو برا انسان ہی سمجھتی تھی دلی طور پر

مولانا حضرت طارق جمیل صاحب کے خطاب کے باد میرا بھی تھوڑا سا بیان تھا وہ بھی کچھ شیعہ گرلز دوستوں کے کہنے پر میں نے ہاں کردی کے میں تھوڑا سا خطاب میں بھی کروں گی کیوں میں شیعہ عالمہ زاکرہ تھی مگر مولانا صاحب پہلے کریں ان کے بعد میں 15 منٹ بات کرنی ہے بس ۔

جب حضرت مولانا طارق جمیل صاحب نے خطاب کیا میری آنکھوں سے آنسو ایسے جارے ہوئے کے رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے دل ہی دل سوچ رہی تھی کہ زندگی کے 6 سال کفر پر گزار دیئے اب کیا ہوگا میں روتی ہی جاتی جیسے انسان بے حال ہو جاتا ہے ایسی کیفیت تھی اور یے منظر مولانا صاحب بھی دیکھ رہے تھے میرے رونے کا
اور جو ہمارے دل پر پتھر تھا ایک بڑا بوج تھا میرے دل پر جیسے وہ موم بن ہوگیا ہو جیسے میری زندگی میں بہار آ گئی ہو سارے لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے مگر رونا اور آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے آج جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو میرے
(مناہلمہرینبنتفاطمہ_بلال پر)

مولانا کا خطاب پورا ہوا اب میری باری تھی دوست گرلز میرے پاس جمع ہوگئیں کے چلو اب آپ اپنا خطاب کرو مگر میری کیا مجال کے اللہ والا بات کر کے جائے اور اس منبر پر میں بیٹھ کر جھوٹ کا خطاب کروں جس میں سچائی ایک رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں میں نے اپنی دوستوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کے میری طبیعت خراب ہے میں بات نہیں کرسکتی تو وہاں مولانا نے کچھ لوگوں سے پوچھا کے یہ بچی کون ہے میرے بیان کے شروع سے لے کر بیان ختم ہونے تک روئے جا رہی اور اب بھی چُپ نہیں کر رہی تو وہاں کسی نے ان سے کہا یہ شاگردہ ڈاکٹر ہے اور شیعہ عالمہ زاکرہ بھی ہے یہ اور حافظ القرآن بھی ہے

تو مولانا صاحب میرے پاس چل کر آئے اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا بیٹی آج تیری دعا اللہ پاک نے قبول کر لی جیسے ہی یے الفاظ میرے کانوں پر پڑے تو میرے سنتے ہی میرا دل پھٹ سا گیا اور چینخ نکل گئی۔
اور میں بے ہوش ہو گئی جب آنکھیں کھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا وہ دن میری زندگی کا دن تھا جیسے آج دنیا میں آئی ہوں اور میرے سر پر ہاتھ کسی اللہ والے کے ہاتھ تھے جس نے میرے کفر کو ایمان میں تبدیل کر دیا ہو میری سب شیعہ بہنوں بھائیوں بزرگوں سے گذارش ہے خدارا نکلو اس کفر کے راستے سے محشر کے دن بہت برا حشر ہوگا

الحمداللہ میں آج مسلمان ہوں اور ایسا سکون سے ہوں پہلے ایسا سکون نہیں پایا ۔

(یہ مختصر سا واقعہ لکھا تفصیل تو بہت لمبی ہے)

ڈاکٹر سیدہ ام مناہل مہرین جیلانی