قبول حق: رابعہ سید

یہ 2007 کی بات ہے جب کالج میں پڑھتا تھا تو رابعہ سید کی کزن میرے ساتھ پڑھتی تھی چونکہ میرا تعلق ایسی جماعت سے تھا جو ایسے حالات میں وجود پذیر ہوئی جب ایران میں خمینی کا انقلاب آیا اور شیعہ لٹریچر پوری دنیا میں مفت تقسیم ہونے لگا جو انتہائی اسلام مخالف نظریات پر مبنی تھا تو اس وقت تین علماء حق نے اس لٹریچر(کتب) کے خلاف آواز اٹھائی انڈیا میں مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ نے پاکستان میں مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ نے اور مصر کے مفتی اعظم نے میں ان دنوں ابھی شامل ہوا تھا تو میں صحابہ کرام کے فضائل و واقعات، ان کے حالات رسول اللہ سے عشق صحابہ کے باتیں سناتا تھا تو میری باتیں رُباب فاطمہ اپنی کزن رابعہ سید کو بتاتی

نام و نسب:

رابعہ سید اصل نام “فاطمہ” تھا اور فیس بک پر وہ خادمہ اہلسنّت والجماعت رابعہ سید کہ نام سے مشہور تھیں،
رابعہ سید کا نام رابعہ نہیں تھا رابعہ اس کی والدہ کا نام تھا سیدہ رابعہ عباس وہ یہ نام لکھا کرتی تھی اس کا اپنا نام سیدہ فاطمہ تھا بعد میں اس نے “سیدہ” کے لفظ کو کاٹ دیا اور سید لکھنا شروع کر دیا یعنی رابعہ سید اس پر لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ یہ سید کیوں لکھتی ھے سیدہ لکھا کرو تو رابعہ نے اس کی ایک وجہ بتائی تھی رابعہ سیدہ کی جگہ رابعہ سید کیوں لکھتی تھیں کہ اگر سیدہ ساتھ لکھو تو سیدہ کا معنی ھوتا ھے سردار یعنی سردارنی عورت تو سردارنی ہو نہیں سکتی تو سید میں ساتھ اس لیئے لکھتی ھوں کہ میری زات(کاسٹ) ظاہر ھوتی رھے لیکن وہ جو اصل معنی ہیں مجھ سے ہٹ جائیں میں سردارنی نہیں ھوں سید کاسٹ سے ہوں اس طرح کی وجہ بتایا کرتی تھی تو رابعہ نے رابعہ سید اپنا نام رکھا پہلے اس نے فاطمہ کے نام سے آئی ڈی بنائی تھی جب اہل تشیع سے مناظرہ ہوا کرتا تھا تو بعض لوگوں نے اس کا بھروسہ جیت کر نمبر لیا اور اس کے گھر شکایت کی تو ایسے بھی بیچ میں مسئلے بنتے رہے،
رابعہ سید لاہور “صدائے حسین” نامی شیعہ مرکز کے متولی زاکر عباس کی بیٹی تھی جو بےحد والدین کی لاڈلی تھی رابعہ سید کی پیدائش کے بعد 11 سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تو رابعہ سید بہت پیار لاڈ سے پل بھر رہی تھی، لاڈ کا یہ عالم تھا ایک بار ائیر پورٹ پر جہاز دیکھا تو والد کو کہا میں نے اس میں بیٹھنا ہے تو والد لاہور سے کراچی تک صرف بیٹی رابعہ سید کے پیار اور لاڈ میں سفر کروایا-
میری باتیں جب رُباب فاطمہ رابعہ کو بتاتی تو رابعہ سید سے میرا رابطہ ہوا میرے ساتھ بحث و مباحثہ شروع ہوا وہ انتہائی سخت صحابہ کرام کی شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ کہتی خاص کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کیوں کے شیعہ مذہب میں صحابہ کرام پر تبرا (گالی گلوچ) کرنا شیعہ عقیدہ ہے جو رابعہ سید کرتی تھی اور میں دل پر پتھر رکھ کر سہتا برداشت کرتا وہ جو اعتراض کرتی میں نہایت تحمل حوصلہ سے ہر اعتراض کا جواب دیتا مکمّل دلاٸل سے، رابعہ سید ایسی زہین فطین اور حاظر دماغ لڑکی تھی کہ کسی بات پر کسی کو آنے نہیں دیتی تھی ہر بات فوراً جواب دیتی

اسلام قبول:

بالآخر ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے اس کی زندگی پلٹ کر رکھ دی کفر سے ایمان کی روشنی نصیب ہوئی اور جس بات نے رابعہ سید کو شیعیت کہ بارے میں سوچنے مجبور کر دیا وہ بات یہ تھی کہ میں نے رابعہ سید سے سوال کیا کہ
اگر آپ کے دادا آپ کو اور آپ کے بھائی کو وصیت لکھنے کا کہیں اور آپ تو دوسرے دن ہی وصیت لکھ لیں لیکن آپ کا بھائی ایک ماہ بعد وصیت لکھے تو آپ بتائیں کہ کس کی وصیت من وعن ٹھیک ہوگی اور قابلِ قبول ھوگی؟؟؟
اس پر رابعہ سید نے کہا کہ ظاہر ہے میری قابل قبول ہوگی کیونکہ میں نے دوسرے دن ہی دادا کی وصیت لکھی اور بلکل سو فیصد اسی طرح لکھی بھول چوک کا خدشہ بھی نہیں بنسبت میرے بھائی کہ کیونکہ ایک ماہ بعد لکھنے میں کچھ بھولنے کا بھی اندیشہ ممکن ہے، تو میں نے میں نے کہا جس طرح وصیت میں آپ اس وصیت کو تسلیم کر رہی ہیں جو کہ دوسرے ہی دن لکھی گٸ بے اور بھائی کی وصیت کو اس وجہ سے رد (قبول نہیں) کر رہی ہیں کہ ایک مہینہ بعد بھول کا بھی خدشہ ہے ۔۔۔بلکل اسی طرح ہماری جو مسلمانوں کی حدیث کی کتاب صحیح البخاری شریف لکھی گٸ وہ کچھ عرصے بعد لکھی گئی اور آپ کی جو شیعہ مذہب کی حدیث کی کتاب الجامع الکافی لکھی گٸ وہ 330ھ ہجری کہ بعد لکھی گٸ اتنے سال لکھی جانے والی حدیث کی کتب کو تو آپ مان رہی جس میں کوتاہی کا اندیشہ انتہائی زیادہ بے اور بے بھی۔
یہ کہا کا انصاف ہے تو اس کہ بعد رابعہ سید پر بہت اثر ہوا اور اس نے تحقیق کا فیصلہ کیا اپنے رویہ میں بھی لچک لے آئی گالی گلوچ کو چھوڑ دیا اور اچھے انداز سے اعتراض کرتی اور مجھ سے جواب لیتی آخرکار حق اس پر واضح ہوا اور رابعہ سید دین حق مذہب اسلام قبول کرنے میں مجبور ہوئی اور اسلام قبول کیا مجھ سے مشورہ کرتی اور دین سیکھتی رہی میں اسے اسلامی کتب کہ لنک سینڈ کرتا رہتا اور وہ پڑھتی سیکھتی رہی-

مشکلات مصائب، ظلم تشدد:

رابعہ سید گھر میں اپنے مسلمان ھونے کا اعلان کیا اعلان کیا ہی تھا کہ جس کے بعد اس کہ باپ زاکر عباس کی طرف سے ظلم کے پہاڑ توڑے جانے لگے باوجود اس کہ کے وہ انتہای لاڈلی تھی اور کافی سال تک اکلوتی بیٹی رہی لیکن درندہ صفت باپ شقی القلب نے کچھ پرواہ نہ کی اور اس کی کالج کی تمام کتب کو آگ لگا دی، اس کا کمپیوٹر توڑ ڈالا، اس کے بال انتہائی لمبے تھے جس کہ ساتھ اسے چارپائی سے باندھ دیا جاتا کمرے میں اور بجلی کی تار سے اس پر سخت تشدد کیا جاتا اور ہر کسی سے ملنے پر پابندی لگا دی گٸ، اور خاندان میں مشہور کر دیا گیا کہ اس پر جنات اور اسیب کا سایہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے کسی کے سامنے نہیں لائی جا سکتی سخت سردیو میں اس کے درندہ صفت باپ اسے بالو سے باندھ کر تارو سے اس وجہ سے پیٹتا کیونکہ اس سے تکلیف زیادہ دیر تک رہتی ہے،
لیکن رابعہ سید کی والدہ بہت روتی رہتی نرم گوشہ اپنی بیٹی کے لیے برقرار رکھا ان کی والدہ اسکول میں پڑھایا کرتی تھیں اور رابعہ سید نے ماں پر تبلیغ جاری رکھی جس کی محنت سے وہ بھی مشرف بااسلام ھوگٸ اور انہوں نے اپنے پیسوں سے رابعہ کو ایک موبائل لے کر دیا جسے وہ والد سے چھپ کر استعمال کرتی اور اسلام کی تعلیم حاصل کرتی رہی روزانہ رابعہ سید پر ایسے واقعات گزرتے کہ انسان سن نہیں سکتا اور انتہائی دکھ ہوتا کہ کیسے کیسے مصاٸب جھیلے ہیں اس معصوم نے صحابیہ کی یاد تازہ کر دی جس طرح ان پر ظلم ہوتا-
رابعہ دینِ حق مذہب اسلام جس کی تلاش میں تھی اللہ نے نصیب کر دیا مسلمان ہو گئی تو فیس بُک پر ان کا رابطہ ایک فرقان نامی لڑکے ہوا جس نے انہیں فرقہ اہل حدیث(غیرمقلد) کی کتب بھجوائیں اب وہ فرقہ غیرمقلد کا مطالعہ کرتی اور ان کے گروپ بھی جوائن کر لیے اور ان کے فرقہ میں شامل ہوگی میں بہت پریشان ہوا اور دعا کی یا اللہ اگر کفر سے نکلی ہے تو جو حق کا راستہ اسی میں داخل کر اگر یہی حق ہے تو میں بھی اہل حدیث ہو جاوں گا،
کیوں کہ اب ان کی مثال ایسی تھی آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا پس ہوا یوں کہ اسی فرقان نامی غیرمقلد سے میرا مناظرہ طے پایا مسلہ خلف الامام پر جب رابعہ نے مناظرہ میں اس فرقان نامی غیرمقلد کی شکست اور حقیقت جانی اور میں نے تو رابعہ کو مکمّل دلائل سے قاٸل کیا بہت سوال و جواب کے بعد وہ متاثر ہو کر اہلسنّت والجماعت میں شامل ہوگئی رابعہ کہا کرتی تھی کہ اہل تشیع سے بھی ذیادہ خطرہ فرقہ اہل حدیث ہے یہ اسلام کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں قرآن و حدیث کے نام پر، جب رابعہ پر والد کی طرف سے ظلم و ستم تکالیف حد سے بڑھ گئی تو والدہ جو کہ سکول ٹیچر تھیں ریڑیمنٹ لے لی اس کے ساتھ رہنے لگی وہ اب جو سکھتی یا کوئی بھی مناظرہ ہوتا تو اپنی والدہ محترمہ کو بتاتی اسی محنت سے والا بھی شیعہ سے مسلمان ہوئی اور رابعہ کو موبائل ان کی والدہ نے لا کر دیا وہ والد جب کبھی باہر ہوتے تو وہ مناظرہ کرتی، جب رابعہ کے والد کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ یہ پکی اہلسنّت مسلمان ہو گئی ہے تو اس نے اس مظلوم پر ظلم کی انتہاء کر دی کچھ عرصہ کے لئے رابعہ نے ایڈی بند کر دی اور اب تکالیف میں اضافہ ہوگیا
اب اس کو چارپائی کے ساتھ باندھ کر مارتے جب کبھی گھر والے باہر جاتے اسے کمرے میں بند کر جاتے اور کسی رشتہ دار کو نہ ملنے دیتے اور سب کو یہ بتایا گیا کہ اس پر جنات کا سایہ ھے اور باہر کی چیزوں نے اس پر حملہ کیا ہوا ھے اس کو کوئی نہیں مل سکتا اور تعلیم بھی بند کروادی وہ اس وقت کالج میں بی اے کر کر رہی تھی
ایک بار والد نے زور دار پانی والا جگ مارا جس سے رابعہ کی انگلی ٹوٹ گی، رابعہ ابھی اپنی اذیتیں تکلیفیں لوگوں کو نہیں بتاتی تھی کہا کرتی تھیں کہ ایک بات کا تجربہ ہوا ہے تکلیفیں بتانے سے کم نہیں بڑھتی ہیں میرے بتانے سے آپ لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی ہیں، والدہ مسلمان ہوگیں ان کے بھای چھوٹے تھے رابعہ پر ظلم ہوتا دیکھ کر اس کی تکالیف کو دیکھ کر بھای بھی دکھی ہوتے کچھ دن بعد پتا چلا کہ بجلی کا کرنٹ لگا لگا کر اس کے خبیث والد نے اپنی لاڈلی، لخت جگر کو شیھد کردیا
شہادت سے تین چار دن پہلے اس نے ایک پوسٹ لگائی تھی ان اہل تشیع کا کوئی عباس نامی ذاکر تھا اس کے والد کا نام بھی عباس ھے لیکن عباس نامی ذاکر کو بڑی بھیانک موت آئی تھی اس کی شکل بگڑ گئ تھی ان دنوں اس کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی۔
رابعہ سید نے وہی تصویر فیس بک پر لگائی تو اس دن رابعہ سید نے آگے سے نعرہ نہیں لگایا اور وہ جو موبائل اتنے عرصے سے چھپا کر رکھا ھوا تھا اپنے والد سے تو اس کو اٹھایا اور والد کے سامنے وہ تصویر کی اس نے کہا کہ تیرا حشر بھی اسی طرح ہو گا جو عباس ذاکر کا ہوا ہے جب یہ بات ھوئی تو والد کو پتہ چل گیا کہ اس نے تو موبائل رکھا ہوا ہے تو اس نے اس کی والدہ کو بھی مارا پیٹا۔
خیر کیا مسلہ ہوا کیا معاملہ بنا وہ کسی کو بتاتی بھی نہیں تھی اپنا دکھ کسی کو نہ سناتی۔
وہ تصویر شاید ایک دن لگی ھے دوسرے دن وہ ڈلیٹ کر دی گئ۔
اس پیج پر جو رابعہ سید کے نام سے پیج بے جس دن اس نے وہ تصویر لگائی اسی دن اس کا اپنے والد سے مباحثہ ہوا۔
اس کی والدہ کے ذریعے مجھے معلوم ھوا جب اس کا والد آتا تو صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دیتا تو رابعہ سید برملا کہتی““
”مصطفٰی کے ہم سفر ابوبکر ابوبکر“
یہ نعرہ لگایا کرتی تھی اور اسی وجہ سے اسے زیادہ مار پڑتی تھی۔ میں نے اس کی والدہ سے رابطہ کیا کیوں کہ وہ اسی دن شہید ھوئی تھی لیکن کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
تو رابعہ سید کی دوست اور ایک اور فاطمہ نامی دوست کی آئی ڈی تھی جو ملتان کی رہنے والی تھی اس نے مجھے بتایا کہ یہ معاملہ بنا بے، اور ان کو رابعہ سید کی والدہ نے بتایا کہ یہ یہ مسئلے بنے ہیں۔
کہ “رابعہ سید کو مارا پیٹا گیا ہے اس کو بجلی کے کرنٹ لگاۓ گئے ہیں اور تب تک نہیں چھوڑا گیا جب تک اس کی آخری سانس پرواز نہیں کر گئ ۔ رابعہ سید کا اتنا میسج ملادیا۔ کہ دعاٶں میں یاد رکھنا میں دو تین دن کے لیئے فیس بک پر نہیں آ سکوں گی اس طرح کی آخری پوسٹ جو آپ لوگوں نے پڑھی ہو۔
اس کے تین دن بعد پتہ چلا کہ شہید کر دی گئ ہے مجھے یہ سب رابعہ سید کی دوست کے ذریعے پتہ چلا۔
یہ تھی ساری کہانی رابعہ سید کی تفصیلانا تو ایسی کہانی ھے کہ بچپن میں میں اتنا اپنی ماں کے دودھ کے لیئے نہیں رویا ہوں گا کہ جیسے چھوٹا بچہ جب اسے بھوک لگتی ھے تو وہ بول نہیں سکتا تو اس کے پاس بس ایک ہی ہتھیار ہے رونا تو وہ روتا ھے تو اس کی والدہ اسے دودھ دیتی ھے۔
تو میں اتنا اپنی والدہ کے دودھ کے لیئے نہیں رویا جتنا رابعہ سید کی باتیں سن کر روتا تھا تو کچھ تو واقعات بھول گئے کچھ سنا نہیں سکتا کچھ سنانے کے قابل نہیں مختصرا یہ جو میں نے آپ کو بتا دیا۔
رابعہ سید کہا کرتی تھی میرے اگر سو بیٹے ہوں تو سب کے نام ابوبکر رکھوں گی، اتنا پیار ہوا پھر صحابہ کرام سے اور اسی پر تو شیعہ سنی لڑائی ہے شیعہ ان کو کافر، مرتد، جھوٹا جہنمی کہتے ہیں اور قرآن ان کو سچا، مسلمان، جنتی کہتا ہے، یہی تو ہم تک دین پہنچانے کا زریعہ بنے شیعہ ان ہر طرح طرح کے الزامات لگا کر ان دین اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں، کیا رسول اللہ کی تربیت یافتہ ایسے ہو سکتے ہیں جیسا شیعہ کہتے ہیں؟؟

جب رابعہ سید کو شہید کر دیا گیا تو ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ اس کے والد پر ایف آئی آر کرواتے ہیں تا کہ مکمل انکوائری ھو کیونکہ ہمارے ایک ساتھی ہیں ان کے والد پولیس میں بڑے افسر ہیں وہ کہتا تھا کہ میں اس کے والد پر کیس کرواتا ھوں اور ساری انکوائری کرواتے ہیں۔
لیکن رابعہ سید شاید اسی لیئے اپنے حالات پیج ایڈمنز اور مجھے نہیں بتاتی تھی کہ کہیں اس کے گھر والوں پر کیس نہ ہو جاۓ اور اس کی والدہ در بدر ٹھوکریں نہ کھاۓ۔ یہی رابعہ سید کا آخری پیغام تھا اور میرے ساتھ جو آخری باتیں کی یہی بتایا کہ میں نہیں چاہتی کہ میں اگر گھر سے بھاگ گئ (کیونکہ والد اتنا مارتا تھا تو والدہ بھی یہی چاہتی تھی رابعہ کہیں چلی جائے تاکہ ظالم باپ کے ظلم سے تو بچ جائے، آپ خود اندازہ لگائیں کتنا ظلم کرتا ہوگا اس کا والد رابعہ سید پر) تو میری والدہ پر سارا اٹیک آۓ گا اور میں نہیں چاہتی کہ میرے بعد میری والدہ میری طرح تکلیفیں برداشت کرے اسی وجہ سے وہ بھاگی بھی نہیں۔
پھر یہی مشورہ ہوا کہ اس کی والدہ کو تکلیف نہ ھو اسی وجہ سے ایف آئی آر نہیں کروائی۔
دوسری بات یہ کہ رابعہ سید کی انکوائری کے لیئے اس کی قبر کشائی کی جاتی تو تبھی ساری چیزیں سامنے آ سکتی تھیں ہم اس کی تذلیل نہیں چاھتے تھے۔۔۔

رابعہ کے مناظرے:

ان کا سب سے مشہور مناظرہ “ایک اسلام” نامی شیعہ سے ہوا وہ پہلے تو مان نہیں رہا تھا کہ شیعہ سے سنی کیسے ہوگیں اور ان کو کہتا رہا تمہارا فیصلہ غلط ھے تم مرتد ہوگیں رابعہ نے مناظرہ کا وقت دیا مناظرہ تحریری تھا فیس بُک پر اور رابعہ نے شرائط یہ رکھی اگر میں نے تمہیں دو منٹ میں کافر ثابت کر دیا تم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاو گے کیا تم اس بات پر متفق ہو؟؟ اس شیعہ زاکر نے کہا دو منٹ کیا مجھے تم سارا دن اور اپنی باقی پوری زندگی اگر کافر ثابت کر دو میں حق قبول کر لوں گا اور دوبارہ کبھی تمہیں مذھب میں لوٹنے کا نہ کہوں گا بہت مشہور مناظرہ تھا ابھی یہ ایگریمنٹ ہوا رابعہ نے کہا مبارک ہو سبھی کو اس نے دو منٹ کا ٹاٸم دیا ابھی تیس سیکنٹ ہوئے ہیں وہ خود تسلیم کر رہا ہے توں مجھے کافر ثابت کر دے گی میں مسلمان ہو جاوں گا مطلب پہلے مسلمان نہیں ہے اس نے خود تسلیم کیا گروپ ایڈمن نے کہا رابعہ اپنے موقف میں ٹھیک ھیں اور اپنے دلائل سے ثابت کر چکی ھیں وہ خوب مناظرے کرتی اور لوگوں کو دلائل سے قاٸل کرتی اب شیعہ ان کو انبوکس میں فحاش تصاویر بھیجتے آج بھی شیعہ کا یہی حال ہے کسی سے علمی بات نہیں کرتے نہ کر سکتے جب باطل ہیں تو حق کے سامنے کیا بات کریں گے شیعہ مذہب ہی عبداللہ ابن سباء سے چلا، رابعہ کو مجبوراً ان شیعہ کو بلاک کرنا پڑا اور شیعوں سے مناظرہ چھوڑ دیا اس کے بعد کچھ اہلسنّت بھائی بھی ان پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے اور کچھ یہ کہنے لگے وہ مسلمان نہیں شیعہ ہی ہیں اور ان سے کہا جاتا اپنے والدین کو لعنت کریں وہ کہتی میں مانتی ہوں میرے والد مسلمان نہیں کافر ہیں لیکن میرے والدین ہیں ہیں میں لعن طعن نہیں کرتی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رابعہ کوئی پاگل یا دماغ خراب نہیں تھا جو شیعہ سے مسلمان ہوئی بلکہ پورے ہوش اور سمجھ سے اسلام قبول کیا، رابعہ سید نے اپنے نام پر پیج بنایا ہوا تھا جو آج بھی موجود ہے فیس بُک پر اور اس میں دیے ہوے مواد سے لوگ بہت مستفید ہو رہے ہیں ہاں گروپ کے لوگ ہیں اشفاق اللہ بے عباس خان ہے ان دونوں پر وہ بہت زیادہ بھروسہ کیا کرتی تھی اشفاق اللہ یوسف زئی پٹھان تھا اس نے اپنے گروپ میں زیادہ تر پٹھان لوگوں کو رکھا تھا۔
اسکی وجہ یہ بتایا کرتی تھی کہ جتنا مجھے ان پٹھان بھائیوں سے غیرت اور حیاء ملی ہے اتنی پنجابیوں سے نہیں ملی پنجابی بہن تو کہے گا لیکن اس کی باتوں سے کہیں نہ کہیں ایسی چیز محسوس ھو گی کہ یہ مجھ سے فائدہ اٹھانے والے ہیں تو اس طرح وہ پٹھانوں پر بھروسہ کیا کرتی تھی،
اللہ تعالیٰ شہیدہ فاطمہ سید کے درجات بلند کرئے اور شیعہ کے لیے یہ تحریر ہدایت کا پیغام رہے آمین