مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

🔴 مکالمہ فدک (پہلی قسط)

علی عباس جعفری اور میں عثمان صدیقی بچپن سے گہرے دوست ہیں، ہم دونوں کا مزاج ، عادات، پسند، ناپسند تقریباً ایک جیسے ہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ دوستی قائم و دائم ہے۔

ہم ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں، دونوں کے گھرانوں میں دینی ماحول ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کو دین کی بھی اچھی خاصی معلومات ہے۔

علی عباس جعفری کے والدین شیعہ اثنا عشریہ تھے جبکہ میرے والدین اہل سنت فقہ حنفی سے منسلک تھے۔

علی عباس ایران کے شہر قُم کے ایک مدرسہ سے دس سال دینی تعلیم حاصل کر کے گذشتہ دنوں واپس لوٹے تو اتنے سالوں کے بعد اس کی واپسی پر مجھے بے حد خوشی ہوئی ، آج میں نے اسی خوشی میں اپنے گھر پر اس کی دعوت کی تھی ۔

کھانے کے دوران ہم پرانی باتیں کر کے ماضی کو یاد کرتے رہے ، پھر میں نے اس سے قُم میں پڑھائی کے متعلق پوچھا

تو اس نے کہا : یار ہم شیعوں کے لئے دینی تعلیم ایران سے حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔

تم ایسے سمجھو کہ جیسے دنیا میں مغربی تعلیم کے لئے آکسفورڈ اور کیمبرج کو جتنی اہمیت حاصل ہے ، اتنی ہی اہمیت شیعہ فقہ کے تعلیمی مراکز کے طور پر عراق کے شہر نجف اور ایران کے شہر قم کی ہے۔

کوئی دوست کافی دنوں بعد ملتا ہے تو اس سے ملکر دل کو بے حد خوشی ہوتی ہے۔ جعفری سے بہت سی باتیں کیں اور واقعی دل مسرت سے بھر گیا۔

دوران گفتگو جعفری نے گفتگو کو ان اہم شیعہ اعتراضات کی طرف موڑ دیا جن کی بازگزشت اکثر و بیشتر مختلف جگہوں پر اور سوشل میڈیا پر سنتے رہتے ہیں۔ مجھے بڑا دکھ اور افسوس ہوا کہ میرا اتنا قریبی دوست ایران سے عالم کا کورس کر کے اتنی ساری خرافات ذہن میں بٹھا کر آیا ہے۔

میں نے جعفری کو راضی کرلیا کہ وہ دن بھر کے معاملات نپٹا کر روز رات کو کھانا کھا کر میرے گھر آجایا کرے ، ہم لائبریری میں بیٹھ کر دو سے تین گھنٹے سکون سے ان اعتراضات پر علمی گفتگو کیا کریں گے اور تحقیق طلب اعتراضات کو معتبر کتب سے چیک کر کے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش بھی کریں گے۔

ہم دونوں یہ جاننا چاہتے تھے کہ امت مسلمہ کے اندر دو اہم مسالک کے درمیان پائے جانے والے بنیادی اختلافات واقعی حقیقت ہیں یا کسی اسلام دشمن سازشوں کا نتیجہ ہیں۔

علی عباس جعفری نے روزانہ کی بنیاد پر میرے گھر آنے اور علمی گفتگو کرنے پر گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میں اہل بیت کے فکر و خیالات سے آشنا نہیں ہوں اور جبتک مسلک اہل بیت کو تسلیم نہیں کروں گا میری نجات ممکن نہیں ہے۔

کھانے سے فراغت پاکر ہم نے یہ طے کیا کہ کل سے ہم علمی نشست کا آغاز کریں گے ، پہلی نشست میں علی عباس جعفری مجھ سے فدک کے متعلق شیعہ کے اہم اعتراضات زیر بحث لائے گا ، جن پر ہم اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے اور ان اعتراضات کے ہر پہلو پر تفصیل سے بات کریں گے۔ دوران گفتگو جو جو روایات زیر بحث آتی جائیں گی ان پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جبتک اصل کتاب میں اس کی موجودگی ثابت نہ ہوجائے۔

رات کے نو بجے میرا جگری دوست علی عباس جعفری میرے گھر آ پہنچا ، علیک سلیک کے بعد ہم نے فدک پر گفتگو شروع کی۔

جعفری : آپ کو نہیں معلوم یہی آپ کے جناب ابوبکر اور عمر ہیں جنہوں نے سیدہ ع کا حق فدک نہ دیا اور دربار میں کھڑے رکھا اور خالی ہاتھ واپس بھیجا۔

صدیقی : فدک پر کئی طرح کے اعتراضات سنتے رہتے ہیں۔ لیکن میں آپ کے اسی اعتراض سے گفتگو شروع کرتا ہوں۔

تمہارے اس اعتراض میں دو اہم نکتے ہیں۔

1⃣ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق نے سیدہ فاطمہ کا حق فدک انہیں نہیں دیا۔

2⃣ سیدہ فاطمہ کو دربار میں کھڑے رکھا اور خالی ہاتھ واپس بھیجا۔

کیا خیال ہے ۔ ہم باری باری ان پر گفتگو کرلیں؟ اس طرح ایک ایک نکتہ کلیئر ہوتا جائے اور چھوٹی بڑی تمام باتیں ہی زیر بحث آجائیں گی؟

جعفری : جی بھائی۔۔ یہ طریقہ مناسب رہے گا۔ اس طرح تو اصل حقیقت اور بھی واضح ہوجائے گی۔

میرے نزدیک سیدہ کی حق تلفی ہوئی اور فدک کا فیصلہ تاریخ اسلام کا سیاہ ترین فیصلہ ہے۔

صدیقی : اچھا یہ بتاؤ فدک سیدہ کا حق کس دلیل سے تھا؟

جعفری : سنی و شیعہ علمائے کرام اس پر متفق ہیں کہ فدک مال فئے تھا ، کیونکہ فدک جنگ و جدل کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوا اس لئے وہ خاص نبی کی ملکیت تھا، ظاہر ہے نبی کی ملکیت بعد میں اس کی اولاد کی ملکیت ہوگی۔ سیدہ ع نبی کے بعد واحد اولاد تھی، اس لئے فدک انہی کا حق تھا۔

صدیقی : دیکھو۔۔ یہ بات تو متفق علیہ ہے کہ فدک مال فئے تھا۔

لیکن مال فئے خاص نبی کریم کی ملکیت تھا یعنی ان کی ذاتی ملکیت تھا، اس پر ہمیں شیعہ سے اختلاف ہے۔

پہلے ہم یہ کلیئر کرلیتے ہیں کہ فدک نبی کریم کی ذاتی ملکیت تھا کہ نہیں۔ کیونکہ جو چیز ذاتی ملکیت ہی نہ ہو وہ اولاد کا حق کیسے بن سکتی ہے؟

جعفری : جی بالکل۔۔ یہ نکتہ کلیئر ہوجائے تو آگے بات کرتے ہیں۔

ہمارے نزدیک فدک خاص نبی پاک کا تھا۔ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ فدک نبی پاک کی ذاتی ملکیت نہیں تھا؟

صدیقی : دیکھیں دلیل ایک نہیں بلکہ بیشمار دلائل ہیں۔ میں صرف دو کا ذکر کردیتا ہوں۔

اسلامی تاریخ کے مطابق بعض قطعات زمین ایسے تھے جو مسلمانوں کے حملے کے وقت کفار نے مغلوب ہوکر بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے حوالے کردیئے تھے۔ جنہیں مال فئے کہا جاتا ہے۔

اس مال میں سے ایک باغ فدک بھی تھا جو مدینہ منورہ سے تین منزل پر ایک گائوں تھا اس کی نصف زمین یہودیوں نے بطور صلح کے دی تھی۔

اسی طرح سات قطعات زمین اور تھے جو مدینہ سے ملحق تھے۔ جن کو یہود بن نضیر سے حاصل کیا گیا تھا۔

یہ تمام قطعات زمین مع فدک کے رسول پاک نے اپنی حاجتوں کے لئے اپنے قبضہ میں رکھ لئے تھے۔ جن کی آمدنی سے پانچواں حصہ حضور کو ملتا تھا۔

اسی طرح بعض قطعات خیبر کے تھے

جہاد میں جو مال غنیمت آتا تھا اس میں بھی نبی کریم کا حصہ مقرر تھا۔

یہ ملکیتیں نبی کریم کو بحیثیت سربراہ حاصل ہوئی تھیں، یعنی حکومت وقت کی ملکیتیں تھیں۔ اس لئے نبی کریم کے بعد اسلامی حکومت کے سربراہ کی طرف منتقل ہونی تھیں، لیکن ذاتی ملکیت کسی کی بھی نہ تھیں۔

🔴 دلیل # 1

اس بات کی تائید قرآن پاک کی سورت الحشر کی آیات چھ اور سات سے بھی ثابت ہے۔

🌹 وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
🌹 اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے. (سورت الحشر آیت 6)

🌹 مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
🌹 جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا عذاب دینے والا ہے۔ (سورت الحشر آیت 7)

فدک کی ملکیت کے حصیدار

1⃣ اللہ عزوجل

2⃣ نبی کریم

3⃣ نبی کریم کے قرابت دار

4⃣ یتیم

5⃣ حاجتمند

6⃣ مسافر

فدک کی آمدنی قرآن پاک کے مطابق نبی کریم خرچ کرتے رہے۔

ان آیات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال فئے کی ملکیت نبی کریم کی ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتی ، ورنہ اس ملکیت کے اتنے حصیدار کیسے ممکن ہیں؟

🔴 دلیل # 2

رسول پاک کو ان قطعات زمین سے جو آمدنی ہوتی تھی وہ مختلف امور پر خرچ فرماتے تھے۔

1⃣ اپنی ذات مبارک پر اپنے اہل و عیال، ازواج مطہرات پر اور تمام بنی ہاشم کو اس آمدنی سے کچھ عطا فرماتے تھے۔

2⃣ مہمان اور بادشاہوں کے جو سفیر آتے تھے، ان کی مہمان نوازی بھی اسی آمدنی سے ہوتی تھی۔

3⃣ حاجت مندوں اور غریبوں کی امداد بھی اسی سے فرماتے تھے۔

4⃣ جہاد کے لئے اسلحہ بھی اسی آمدنی سے خرید فرماتے تھے۔

5⃣ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی آمدنی سے مجاہدین کی امداد بھی فرماتے تھے۔ جس کو تلوار کی ضرورت ہوتی اس کو تلوار اور جس کو گھوڑے یا اونٹ کی حاجت ہوتی، اسے عطا فرماتے۔

6⃣ اصحاب صفہ کی خبر گیری اور ان کے مصارف بھی نبی کریم اسی سے پورا فرماتے تھے۔

صدقہ کا جو مال آتا تھا، نبی کریم اس سے کچھ نہیں لیتے تھے، آتے ہی فورا غریبوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔

اب ظاہر ہے کہ یہ آمدنی ان تمام مصارف کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ ازواج مطہرات کو شکایت رہتی تھی۔ آپ نے بنی ہاشم کا جو وظیفہ مقرر کیا تھا، وہ بھی مناسب تھا۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا آپ کو حد سے زیادہ عزیز تھیں۔ مگر ان کی بھی پوری کفالت نہیں فرماتے تھے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قطعات زمین کی آمدنی حضور مخصوص مدوں میں خرچ فرماتے تھے اور ان کو آپ نے اپنے ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ اﷲ تعالیٰ کا مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ فرما دیتے تھے۔

جعفری : بیشک نبی پاک فدک اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ آمدنی کو مختلف جگہ خرچ کرتے تھے، لیکن اس سے یہ تھوڑی ثابت ہوتا کے کہ فدک نبی کی ذاتی ملکیت نہیں تھا؟

صدیقی : تم نے سورت الحشر کی آیات پر غور نہیں کیا۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ کسی ذاتی ملکیت کے متعلق اللہ عزوجل یہ فرمائے کہ وہ اس کی بھی ملکیت ہے اور نبی کریم سمیت قرابتداروں، یتیموں، حاجتمندوں اور مسافروں کی بھی ملکیت ہے؟

جعفری : یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ اس آیت سے مراد باغ فدک ہی ہے؟

صدیقی : قرآن میں دو قسم کے اموال کا ذکر آیا ہے۔

1⃣ مال انفال: وہ مال جو جنگ کے نتیجہ میں حاصل ہو یعنی مال غنیمت۔

2⃣ مال فئے: وہ مال جو بغیر جنگ کے حاصل ہو۔

باغ فدک بغیر جنگ کے نبی کریم کو یہودیوں نے دیا تھا۔ سورت الحشر آیت 7 میں اسی مال فئے کا ذکر اور اس کے حصیداروں کا بتایا گیا ہے جبکہ مال انفال کے بارے میں تو الگ سے واضح مصارف بیان کردئے گئے ہیں۔

مال انفال کا حکم سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے پانچ حصے کیے جائیں چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کر دیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں داخل کر کے ان مصارف میں صرف کیا جائے جو اس آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔

واعلموا : سورۃ الانفال : آیت 41

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۱﴾

ترجمہ عرفان القرآن :
اور جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور (رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(سورت الانفال 41)

غور طلب بات یہ ہے کہ مال انفال کا پانچواں حصہ بھی نبی کریم کی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس میں بھی قرابت دار، یتیم، محتاج اور مسافر حصیدار ہیں۔

اور مال فئے کا حکم یہ ہے کہ اسے فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ وہ ملکیت یا اس سے حاصل شدہ آمدنی پوری کی پوری ان مصارف کے لیے مخصوص کر دی جائے جو سورت الحشر کی آیت 7 میں بیان کیے گئے ہیں۔

جعفری : اس کے باوجود تمہاری یہ بات کیسے تسلیم کی جائے کہ مال فئے نبی پاک کو بحیثیت سربراہ دیا گیا تھا؟

صدیقی : اگر شیعہ کے جیّد مفسر سے یہ ثابت ہوجائے ، بلکہ اس نے تو ایک امام سے روایت کر کے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مال فئے کے چھ حصیدار ہیں اور نتیجہ نکالا ہے کہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریم کی ملکیت تھا تو پھر تمہارہ مؤقف کیا ہوگا؟

جعفری : نہیں یہ کیسے ممکن ہے۔ ہم فدک کو مال فئے تو تسلیم کرتے ہیں لیکن مال فئے کو حکومت کی ملکیت ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔

ہمارے تمام علماء فدک کو نبی کریم کی ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں اور سیدہ ع بھی فدک کو ذاتی ملکیت تصور کرتی تھیں، اگر مال فئے حکومت کی ملکیت ہوتا تو سیدہ فدک کا مطالبہ کیوں کرتیں؟

ہمارے کسی امام سے ایسا قول موجود نہیں ہوسکتا کہ مال فئے حکومت وقت کی ملکیت ہے!!

صدیقی : سیدہ کا مطالبہ فدک کس وجہ سے تھا ، اس نکتہ پر بھی بات کرتے ہیں۔ابھی صرف مال فئے کی حیثیت کو کلیئر کرتے ہیں۔

نکتہ بہ نکتہ بات کرتے رہیں گے تو مسئلہ سمجھ میں آتا جائے گا۔

جعفری : درست فرمایا۔ تم شیعہ کتب سے دلیل دو کہ مال فئے نبی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ حکومت وقت کی ملکیت ہوتا ہے۔

 صدیقی : ٹھیک ہے میں اس  کے متعلق کچھ اہم دلائل پیش کرتا ہوں۔

پہلی دلیل # 1

مال فئے کے متعلق اہل تشیع کی کتاب تفسیر صافی صفحہ 210 پر ہے کہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے انفال فئی کے متعلق فرمایا

فئے  اللہ تعالی اور اس کے رسول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے اور اس کا حق ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کا قائم مقام خلیفہ بنے ۔

“و فی الجوامع عن الصادق علیه السلام:

اَلْأَنْفٰالِ

کل ما أخذ من دار الحرب بغیر قتال و کل أرض انجلی أهلها عنها بغیر قتال و سماها الفقهاء فیئاً و الأرضون الموات و الآجام و بطون الأودیه و قطایع الملوک و میراث من لا وارث له و هی للّٰه و للرسول و لمن قام مقامه بعده.”

(تفسیر الصافی (ملا محسن فیض کاشانی

حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ “انفال اور فئے میں وہ مال داخل ہیں جو بغیر لڑائی کے دارالحرب سے حاصل ہوں اور جس کے رہنے والے نکال دئے گئے ہوں اور بغیر جنگ کے ہاتھ آئے ہوں اور زمین اور جنگل اور بادشاہوں کی جاگیریں اور لاوارث کا مال سب فئے میں داخل ہیں، اور وہ خدا اور اس کے رسول کا ہے اور اس کے بعد جو اس کا قائم مقام ہو اس کا ہے۔”

اس سے ثابت ہوا کہ فئی کسی کی شخصی ملکیت اور وراثت نہیں ہے ۔

دوسری دلیل # 2

اہل تشیع کی تفسیر نمونہ میں سورت الحشر کی ان آیات کے تحت شیعہ مفسر کی چند عبارات پیش کرتا ہوں۔

 جو کچھ خدا نے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پلٹایا ہے وہ خدا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی زوی القربیٰ یتیموں ، مسکینوں اور راستوں میں در ماندہ لوگوں کے لیے ہے۔ یعنی مسلح جنگ کے اموال غنیمت کی مانند نہیں جن کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے۔ باقی چار حصہ جنگجو افراد کے لیے ہیں۔ نیز اگر گزشتہ آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام کا تمام رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ  سارے کا سارا اپنے شخصی اور ذاتی مصارف میں صرف کریں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اور خصوصاٌ حاجت مندوں کے حقوق کے محافظ ہیں لہاذا اس کا زیادہ حصہ ان پر خرچ کریں گے۔

اور ایک جگہ بیان کیا ہے کہ

“فئے کا مصرف وہ اموال غنیمت جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں ان کا مصرف

وہ اموال جو فئے کے عنوان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبضہ میں سربراہ حکومت اسلامی کی حیثیت سے آتے تھے وہ ان تمام اموال پر مشتمل ہوتے تھے جو بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگتے تھے۔”

مزید یہ بھی بیان کیا ہے کہ

“ان تمام اموال کو اپنی ذات کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ حکومت اسلامی کے سربراہ و امیر کی حیثیت سے جس شعبہ میں ضرورت محسوس کرتے ہیں صرف فرماتے ہیں”

ان عبارات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے بشمول باغ فدک کسی کی شخصی ملکیت اور وراثت نہیں ہے ۔

اب خود انصاف سے بتاؤ کہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریم کے زیر قبضہ میں آیا اور حکومت وقت کی ملکیت تھا اور اس کے واضح مصارف کا قرآن کریم میں ذکر بھی موجود ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی کریم باغ فدک کو سیدہ فاطمہ کی ملکیت بنادیں۔۔؟؟ نبی کریم قرآن کریم کی مخالفت کس طرح کر سکتے ہیں۔

تم بتاؤ! ان تمام عبارات سے تمہیں کیا سمجھ آ رہا ہے؟

جعفری: اگر مال فئے حکومت وقت کی ملکیت تھا تو پھر سارہ جھگڑا ہی ختم ہوجاتا!!! تم مجھے تفسیر نمونہ کے اصل نسخہ سے یہی عبارات دکھاؤ ، اس کے بعد اپنا مؤقف بتاتا ہوں۔

صدیقی: ایک منٹ ۔۔ میں شیعہ کی تفسیر نمونہ نکال لوں، سامنے کے شیلف میں ہی پڑی ہے۔

یہ دیکھو۔۔ سورت الحشر کی انہی آیات کے تحت شیعہ مفسر کی پہلی عبارت کی تصدیق کرلو۔۔

یہ دوسری عبارت کا عکس بھی غور سے پڑھنا۔

شیعہ مفسر نے مال فئے کے متعلق دو باتوں کا واضح اقرار کیا ہے۔

1⃣ مال فئے وہ اموال ہیں جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں۔

2⃣ مال فئے وہ اموال ہیں جو نبی کریم کو بحیثیت سربراہ قبضہ میں آئے تھے۔

یہ دیکھ لو۔۔ تیسری عبارت بھی غور طلب ہے۔

شیعہ مفسر نے اقرار کیا ہے کہ مال فئے کہ چھ مصارف قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں، پھر یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریم کے زیر قبضہ میں آیا ہے۔

آگے اس نے شیعہ عقائد کو زبردستی داخل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مال فئے نبی کے بعد ائمہ معصومین کا حق ہے اور ان کے بعد نائبین کو یعنی مجتھدین کو جامع الشرائط کو پہنچتا ہے۔

بحرحال یہاں تک یہ نکتہ تو کلیئر ہوگیا کہ مال فئے کسی کی شخصی ملکیت ہرگز نہیں ہے۔ نبی کریم کے بعد جو بھی سربراہ ہوگا اسی کی زیر اثر رہے گا ، لیکن وہ بھی اس مال فئے کو ذاتی ملکیت قرار دینے کا مجاز نہیں ہے، بلکہ سورت الحشر کی آیات پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔

اب یہ ایک اور بحث ہے کہ نبی کریم کے بعد سربراہ بننے کا حق کسے تھا۔ پھر کبھی اس پر بھی تفصیل سے بات کریں گے۔

جعفری: تم نے شیعہ مفسر کی رائے تو پیش کردی، لیکن کسی امام معصوم کا قول تو دکھایا نہیں۔

ہمارے نزدیک امام معصوم کا قول حجت ہے۔

صدیقی: جی بالکل۔۔ میں تمہیں اسی تفسیر سے حضرت امام باقر کا واضح قول بھی دکھا رہا ہوں، جو انہی آیات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

یہ غور سے تفسیر نمونہ میں دیکھو۔ شیعہ مفسر نے مال فئے کے چھ مصارف تفصیل سے بیان کئے ہیں۔

آگے اپنے امام معصوم سے ایک قول بھی نقل کیا ہے ، حوالے بھی نیچے دئے ہیں،

تفسیر نمونہ میں حضرت امام باقر کا اقرار کہ ہم اس مال کے حصہ داروں میں شامل ہیں، یعنی اس مال کو کسی ایک کی ذاتی ملکیت قرار دینا صریح قرآن کریم کی خلاف ورزی ہے۔

اس قول سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے کسی ایک کی شخصی ملکیت نہیں ہے، کیونکہ امام خود کو بھی اس مال کا حصیدار فرما رہے ہیں، اگر مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو امام خود کو ان حصیداروں میں شامل کیوں فرماتے؟ بلکہ صاف کہہ دیتے کہ مال فئے صرف ہمارہ حق ہے۔

جعفری: ہمارے بیچ طے ہوا تھا کہ اصل کتب سے تصدیق کئے بغیر روایات قبول نہیں کریں گے۔

صدیقی: جی بالکل۔۔ میں اپنی بات پر قائم ہوں، اسی لئے تو تفسیر نمونہ نکال کر دکھائی ہے۔

جعفری: لیکن بھائی۔۔ تفسیر نمونہ میں غلطی ممکن ہے ، اس نے امام معصوم کی روایت جہاں سے لی ہے، اس میں یہ روایات دیکھنا ضروری ہے، ہوسکتا ہے ان کتب میں یہ قول امام موجود ہی نہ ہو۔

صدیقی: میں نے تفصیر الصافی سے امام جعٖفر صادق کا قول دکھادیا ہے اور خوش قسمتی سے میرے پاس وسائل الشیعہ اور مجمع البیان کے تمام جلد بھی موجود ہیں۔ ابھی نکال کرحضرت امام باقر کا قول بھی چیک کرلیتے ہیں۔

جعفری: یہ تو بہت آسانی ہوگئی۔ تمہاری لائبریری تو بڑے کام کی ہے۔

اچھا دکھاؤ۔۔ وسائل الشیعہ کا جلد 15 ، مذکورہ روایت میں خود ڈھونڈتا ہوں۔

جعفری : روایات قبول کرنے کے لئے ہمارہ اصول ہے کہ ہم ہر روایت کو قرآن، احادیث اور دوسرے مضبوط حقائق کی روشنی میں چیک کرتے ہیں ، اگر روایت صحیح بھی ہو لیکن قرآن اور کسی متواتر حقیقت کے خلاف ہو تو اس روایت کو دیوار پر مارتے ہیں۔

یہ تمام روایات اگر صحیح بھی ہوں  تب بھی سیدہ ع کے مطالبہ فدک کی روشنی میں ناقابل قبول ہے۔

صدیقی : یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تمام روایات قرآن پاک اور دیگر حقائق کی روشنی میں چیک کرتے ہیں۔

ویسے تفسیر نمونہ میں شیعہ محدث علامہ صفدر حسین نجفی نے امام کی یہ روایات اپنی طرف سے نہیں لکھی، میں تمہیں دونوں حوالوں کی تصدیق اصل کتب سے بھی کرا چکا ہوں۔

وسائل الشیعہ کے مصنف جیّد شیعہ عالم محدث اور محقق علامہ الشیخ محمد بن الحسن الحر العاملی ہیں، وہ کوئی معمولی عالم نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ مجمع البیان بھی اہل تشیع کی مشہور تفسیر ہے جس کے مؤلف کو شیعہ علمی حلقوں میں امین الاسلام ابی علی الفضل بن الحسن الطبرسی کہا جاتا ہے۔

اس کے باوجود میں تمہارے اسی اصول کے مطابق تفسیر نمونہ کی یہ روایت قرآن کریم کی روشنی میں بھی قابل قبول ثابت کرتا ہوں۔

دلائل:

1⃣ تفسیر الصافی اور تفسیر نمونہ کی یہ روایات سورت الحشر کی آیت 7 کی تائید میں ہیں۔ مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو قرآن کریم میں فدک کے اتنے مصارف بیان نہ کئے جاتے۔

حضرت امام باقر نے عین قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق مال فئے کے چھ حصیدار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے ہم بھی ان حصیداروں میں شامل ہیں۔

اگر مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو امام فرماتے کہ مال فئے نبی کریم کے بعد ان کی اولاد کا حق ہے اور ہم ہی اس مال کے اکیلے مالک ہیں۔

مطلب قرآن کریم کی روشنی میں تفسیر نمونہ کی روایت بالکل درست ہے۔

2⃣ تم نے اس روایت کے رد میں کہا ہے کہ سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک ایک مضبوط حقیقت ہے، جس سے فدک کا ذاتی ملکیت ہونا ثابت ہوتا ہے، یعنی تفسیر نمونہ میں امام کا قول تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

تمہاری یہ بات بھی درست نہیں ہے۔

سیدہ فاطمہ نے مطالبہ فدک اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کے خیال میں نبی کریم کی زندگی میں فدک کی آمدنی اہل بیت کے اخراجات کے لئے استعمال ہوتی تھی تو نبی کریم کے بعد فدک بطور ورثہ انہیں ملنا چاہئے تاکہ اس کی آمدنی اسی طرح انہیں ملتی رہے جس طرح نبی کریم سے وصول ہوتی تھی تاکہ اہل بیت اپنا خرچہ حاصل کرتے رہیں۔

جب یہ مطالبہ حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے آیا تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی پوری ملکیت سیدہ کی خدمت میں پیش کردی اور کہا کہ نبی کریم نے فرمایا ہے

لا نورث ما تركنا فهو صدقة

ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔

مطلب انبیائے کرام کی وراثت مال ملکیت نہیں ہوتی۔

حضرت ابوبکر صدیق نے یہ بھی فرمایا کہ فدک کی آمدنی سے نبی کریم اہل بیت کو جو خرچہ دیتے تھے وہ ان کے بعد بھی اسی طرح باقائدگی سے دیا جاتا رہے گا۔

سنی و شیعہ معتبر کتب کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ فاطمہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ فدک کی آمدنی من و عن اسی طرح خرچ ہوتی رہے گی جس طرح خود نبی کریم خرچ کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق کے اس مؤقف کے بعد سیدہ فاطمہ نے خاموشی اختیار کی ، سیدہ فاطمہ کی خاموشی ان کی رضامندی ظاہر کرتی ہے ، لیکن اس واقعہ کو بیان کرنے والے کئی راویوں میں سے صرف ایک راوی ابن شہاب الزہری نے اس صورتحال سے دو گمان کئے۔

1⃣ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوگئی ہیں۔

2⃣ سیدہ فاطمہ نے اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سے وفات تک بات نہیں کی۔

اگر تحقیق کی جائے تو راوی کے دونوں گمان اس کی ذاتی رائے ہیں اور دونوں ہی غلط ہیں۔

کیونکہ سیدہ فاطمہ نے فدک کے معاملہ میں واقعی کوئی بات نہیں کی لیکن اس کی وجہ ناراضگی نہیں تھی، بلکہ صدیقی فیصلے پر وہ راضی تھیں۔

اس کے علاوہ فدک والے معاملے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی سیدہ فاطمہ سے ملاقات بھی سنی و شیعہ معتبر کتب کے مطابق ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔

جعفری: یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ سیدہ ع فدک نہ ملنے پر خلیفہ اوّل پر غضب ناک ہوئی تھیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں واضح الفاظ لکھے ہیں۔ آپ اس حدیث کی تاویل کر ہی نہیں سکتے۔

صدیقی : ابھی ہم صحیح بخاری کی حدیث پر بات نہیں کر رہے۔ اس حدیث کے ہر ایک نکتہ پر ہم تفصیل سے بات کریں گے۔

ابھی جو نکتہ زیر بحث ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ فدک نبی کریم کی ذاتی ملکیت تھا کہ نہیں۔

میں نے تمہیں قرآن کریم اور شیعہ تفسیر سے اسی آیت کی تائید میں امام کا قول بھی دکھا کر ثابت کیا ہے کہ باغ فدک مال فئے تھا، بلکہ اس تفسیر کے حوالوں کو تم نے اصل کتب سے خود چیک بھی کر لیا ہے ، اس تمام تفصیل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ مال فئے بشمول باغ فدک کے کئی حصیدار تھے اور یہ حکومت وقت کی ذمیداری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق مال فئے کی آمدنی خرچ کرے۔

اگر تمہیں فدک کی ذاتی ملکیت پر مزید کوئی ابہام ہو تو بتاؤ۔

جعفری: نہیں دوست۔۔۔ تم نے قرآن کریم اور تفسیر نمونہ سے جو قول امام معصوم دکھایا ہے اس کی تاویل مجھ سے نہیں ہو پا رہی ، کیونکہ قرآن کریم میں اس قول کی تائید بھی موجود ہے۔

لیکن سیدہ ع کا مطالبہ فدک کرنا اور سیدہ ع کا خلیفہ اوّل پر غضب ناک ہونا تو صحیح بخاری سے ثابت ہے۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فدک کے معاملے میں حق تلفی ضرور ہوئی ہے۔

صدیقی: اچھا۔۔ اگر حق تلفی ہوئی ہے تو فدک کی آمدنی سے اہل بیت کو خرچہ حکومت وقت کس قانون کے تحت دیتی رہی؟ اور اہل بیت شریعت کے کس قانون کے تحت وہ خرچہ وصول بھی کرتے رہے ؟

حکومت وقت آپ کے نزدیک غاضب تھی تو اسے فدک کی آمدنی پر مکمل کنٹرول کرنا چاہئے تھا اور اپنی مرضی کے مطابق استعمال میں بھی لانا چاہئے تھا، لیکن یہ کیسی غاضب حکومت ہے کہ فدک کی آمدنی من وعن قرآن و رسول کی ہدایات کے مطابق خرچ کر رہی ہے؟

کیا تاریخ میں کوئی ایک ضعیف روایت موجود ہے کہ فدک کی آمدنی سے حضرت ابوبکر صدیق یا خلفائے ثلاثہ میں سے کسی ایک خلیفہ نے ذاتی ملکیت بنائی ہو؟

یا مال فئے کو ذاتی ملکیت قرار دیا ہو اور ان کے بعد مال فئے یا فدک بطور وراثت ان کی اولاد کو ملا ہو؟

جعفری: نہیں میرے علم میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔

لیکن فدک اہل بیت کا ہی حق تھا، اس لئے اس کی آمدنی بھی اہل بیت کے لئے جائز تھی۔

صدیقی: اوّل تو فدک کسی کی بھی ذاتی ملکیت نہیں تھا، میں قرآن کریم اور حضرت امام باقر کے قول سے ثابت کرچکا ہوں، اور تم ان دلائل سے عاجز بھی ہوچکے ہو۔

جو ملکیت حکومت وقت کی ہو ، وہ کسی کا حق کیسے ہوسکتی ہے؟

اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ فدک اگر ناجائز حکومت وقت کے پاس تھا تو اس کی آمدنی بھی ناجائز ہوجاتی ہے، اور ناجائز آمدنی کو اہل بیت کی طرف سے وصول کرنا اور استعمال کرنا بذات خود شان اہل بیت کے خلاف ہے۔

جعفری: تمہاری بات درست ہے، لیکن ہمارے لئے سیدہ ع کا قول و عمل حجت ہے، معصومہ کبھی بھی غلط دعوی نہیں کر سکتیں۔ غضب خدا کا ! تم لوگ خلیفہ اوّل کو بچانے کے لئے سیدہ ع کو معاذاللہ جھوٹا کہنے میں بھی دیر نہیں کرتے!!

صدیقی: نہیں دوست۔۔۔ تم نے بھی وہی عام لوگوں جیسی بات کہہ دی ہے۔

میں نے یہ نہیں کہ معاذاللہ سیدہ فاطمہ نے جھوٹا دعوی کیا تھا اور مطالبہ فدک غلط تھا۔

میں عرض کرچکا ہوں کہ سیدہ فاطمہ کا مقصد یہ تھا کہ فدک کی آمدنی نبی کریم کے دور میں جس طرح ملتی تھی اسی طرح ہمیں ملتی رہے ، اس لئے فدک کو بطور میراث طلب کیا تاکہ اس کا خرچہ باقائدگی سے ملتا رہے۔

کسی اہل سنت عالم نے کبھی بھی سیدہ فاطمہ کے مطالبہ کو غلط نہیں کہا بلکہ خود حضرت ابوبکر صدیق نے بھی ایسے الفاظ نہیں کہے۔

سیدہ کا مؤقف حق پر مبنی تھا، اور حضرت ابوبکر صدیق نے اکڑ کر ، غصہ ہوکر یا ناراض ہوکر سیدہ کا مطالبہ رد نہیں کیا بلکہ نہایت عاجزی سے اپنی مجبوری بتائی، اپنا سارہ مال تک پیش کردیا اور قول نبی جو براہ راست نبی کریم سے خود اپنے کانوں سے سنا تھا، اسے سنا کر فدک کی آمدنی کو بطور وراثت دینے سے معذرت کی۔

تم بتاؤ۔ فدک کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیق نے خود کیا تھا؟ یا وہ فیصلہ نبی کریم خود فرما گئے تھے۔

جو فیصلہ نبی کریم سے ثابت ہوجائے ، اس کا الزام حضرت ابوبکر صدیق کو دینا ناانصافی نہیں ہے؟

کیا کوئی مسلمان نبی کریم کی مرضی کے خلاف کچھ کر سکتا ہے؟

جعفری: دوست۔۔ تمہاری منطق تو نرالی ہے۔ مجھے آج تک اس طرح کسی نے نہیں بتایا۔

اچھا یہ کیسے ممکن ہے کہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر نے نبی پاک سے سن لی ، کسی اور صحابی نے کیوں نہیں سنی؟ سیدہ ع کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی !!

یہ کیسے ممکن ہے؟

صدیقی: زبردست۔۔۔ یہ تم نے اہم اعتراض وارد کیا ہے۔

اگر یہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر صدیق نے سنی تھی اور کسی دوسرے صحابی سے مروی نہیں ہے تو واقعی تمہاری بات درست ہے۔

اس کے علاوہ سیدہ فاطمہ کو اس حدیث کا علم تھا کہ نہیں، یہ نکتہ بھی اہم ہے۔

جعفری: یہی تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی یہ قول نبی پاک صرف حضرت ابوبکر کو کیسے سنا سکتے ہیں؟ کیا انہیں کان میں سنایا تھا تاکہ کوئی کسی اور کو معلوم نہ ہوسکے!!! کم از کم گھر والوں کو ہی بتادیتے کہ میرے بعد وراثت نہیں ہوتی !!

صدیقی: اچھا آج ہم گفتگو کو اسی اعتراض کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ ٹائیم بھی کافی ہوگیا ہے۔ کل میں تمہیں اس اعتراض کا تفصیل سے جواب دوں گا۔

جعفری: ہا ہا ہا۔۔ دوست۔۔ پھنس گئے نہ ۔۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ مسلک اہل بیت کو تسلیم کرلو۔۔۔ جوانان جنت کے سردار کو راضی کرلو۔۔ ان کے بغیر جنت نہیں ملے گی۔

صدیقی: پیارے۔۔۔ اہل سنت کا مسلک ہی اصل میں مسلک اہل بیت ہے۔ تمام اہل بیت اور تمام صحابہ کرام ایک ہی مسلک پر تھے۔ ہم کبھی اس موضوع پر بھی گفتگو کریں گے۔

فی الوقت اتنا سن لو کہ میں تمہیں حدیث لانورث دیگر صحابہ کرام کی روایات سے بھی دکھاؤں گا، اور شیعہ کی معتبر کتب سے اماموں کی روایات سے بھی ثابت کروں گا کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی۔ ان شاء اللہ

جعفری: اچھا کل کوشش کرلینا۔۔۔ میں بھی دیکھوں کہ حدیث لانورث سنی و شیعہ کتب میں کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے ہو۔

ابھی تو میں نے قرآن سے ثابت کرنا ہے کہ نبیوں کی میراث ہوتی ہے۔

صدیقی: ٹھیک ہے دوست ۔ پھر کل رات کو ملتے ہیں۔ اللہ حافظ۔

جعفری: اللہ حافظ۔