فتنوں کا زمانہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا زمانہ فتنوں اور فسادوں سے بھرا تھا ۔اس کے باوجود آپ نے اپنی حکمت اور دانشوری سے امت کو سنبھالے رکھا ۔

اپنی صفوں میں مخلصوں کی کمی تھی اور اختلاف رکھنے والوں کی زیادتی ۔

اس کے باوجود آپ نے نظام سلطنت بخوبی نبھایا ۔اسی وجہ سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کہنا پڑا:

فتنے کے زمانے میں لوگوں کے حالات دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں تمنا کرنے لگی اللہ میری عمر بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کو لگا دے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، وَهِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا زَالَ بِي مَا رَأَيْتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ فِي الْفِتْنَةِ، حَتَّى إِنِّي لَأَتَمَنَّى أَنْ يَزِيدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُعَاوِيَةَ مِنْ عُمْرِي فِي عُمْرِهِ»

المنتقى من كتاب الطبقات صفحہ 41

أبو عروبة الحسين بن محمد بن أبي معشر مودود السُّلَمي الجَزَري الحرَّاني (المتوفى: 318هـ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں امام ذہبی لکھتے ہیں :

أَفْقَهُ نِسَاءِ الأُمَّةِ عَلَى الإِطْلاَقِ.

مطلق طور پر امت کی تمام عورتوں سے بڑھ کر فقیہ ۔

فَرَوَتْ عَنْهُ: عِلْماً كَثِيْراً، طَيِّباً، مُبَارَكاً فِيْهِ.

آپ سے پاک ،طیب ،مبارک علم وافر مقدار میں روایت کیا گیا ۔

(مُسْنَدُ عَائِشَةَ) : يَبْلُغُ أَلْفَيْنِ وَمائَتَيْنِ وَعَشْرَةِ أَحَادِيْثَ.

اتَّفَقَ لَهَا البُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَلَى: مائَةٍ وَأَرْبَعَةٍ وَسَبْعِيْنَ حَدِيْثاً.

وَانْفَرَدَ البُخَارِيُّ بِأَرْبَعَةٍ وَخَمْسِيْنَ.

وَانْفَرَدَ مُسْلِمٌ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّيْنَ.

سیر اعلام النبلاء جلد 2 صفحہ 135

دو ہزار دو سو دس احادیث آپ نے روایت کیں۔ جن میں سے174 متفق علیہ ہیں ۔

منفرد طور پر امام بخاری نے 54 اور اما م مسلم نے 69 احادیث روایت کی ہیں ۔

اپنے آپ کو سنی کہنے والوں کی مرضی ہے ۔مجتہدہ ،فقیہ ،محدثہ اور محبوبہ محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ و سلم کا صحیح فرمان چھوڑ کر جھوٹے ڈھکوسلوں سے جہنم خریدیں یا ام المومنین رضی اللہ عنہا کے فرمان کو سمجھ کر شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سر تسلیم خم کردیں ۔

نوٹ: یہ قول صحیح سند سے ثابت ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ملاحظہ کیجیے ۔

مصنف کتاب:

الحُسين بْن محمد بْن مودود۔۔۔۔۔۔۔وكان ثقة نبيلًا،

حسین ثقہ اور فاضل اور صاحب رائے شخص تھا۔

تاریخ اسلام لذہبی جلد 7 صفحہ 339

8115 – محمد بن المثنى الحافظ ، أبو موسى العزى البصري الزمن.

وثقه ابن معين، وغيره.وقال الذهلي: حجة.وقال صالح جزرة: صدوق اللهجة، في عقله شئ.وقال أبو حاتم: صدوق، صالح الحديث.وقال أبو عروبة: ما رأيت بالبصرة أثبت منه ومن يحيى بن حكيم.وقال النسائي: لا بأس به.كان يغير في كتابه.وقال ابن خراش: كان من الاثبات.وقال ابن حبان: كان لا يقرأ إلا من كتابه.وقال الخطيب : ثقة ثبت، احتج به سائر الأئمة

محمد بن مثنی اس کو ابن معین اور ان کے علاوہ ائمہ نے ثقہ کہا ۔ذہلی کہتے ہیں یہ حجت ہے ۔صالح جزرہ کہتے ہیں لہجے کا سچا تھا اس کی عقل میں کوئی شی تھی۔ابو حاتم کہتے ہیں صدوق اور صالح الحدیث ہے ۔ابوعروبہ(مصنف) کہتے ہیں:بصرہ میں اس سے اور یحیی بن حکیم سے زیادہ ثابت کسی کوئی نہیں دیکھا۔امام نسائی فرماتے ہیں :اس میں کوئی حرج نہیں ۔اپنی کتاب میں تبدیلی کرتا تھا ۔ابن حراش کہتے ہیں ۔اثبات رجال میں سے تھا ۔ابن حبان کہتے ہیں اپنی کتاب سے ہی پڑھتا تھا ۔خطیب کہتے ہیں:ثقہ ،ثابت ہے اور تمام ائمہ نے اس سے حجت لی ہے ۔

میزان اعتدال جلد ۴ صفحہ ۲۴

هھلال بن بشر بن محبوب

قال النَّسَائي : ثقة.

وذكره ابنُ حِبَّان فِي كتاب “الثقات” ، وَقَال: متقن للحديث.

امام نسائی کہتے ہیں ثقہ تھا ۔اور امام ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا اور فرمایا : حدیث کے معاملے میں متقن(مضبوط) تھا ۔

تھذیب الکمال جز 30 صفحہ 225

محمد بن خالد ابن عثمة الحنفى البصرى ، مولى محمد بن سليمان ( و عثمة أمه )

قال عبد الله بن أحمد عن أبيه ما أرى بحديثه بأسا وقال أبو زرعة لا بأس به وقال أبو حاتم صالح الحديث وذكره أبي حبان في الثقات وقال ربما أخطأ

امام احمد : میں اس کی حدیث میں حرج نہیں دیکھتا۔ابو زرعہ:میں اس میں حرج نھیں سمجتھا۔ابو حاتم :صالح الحدیث ہے ۔ابن حبا ن نے ثقات میں ذکر کیا اور فرمایا کبھی کبھار خطا کر جاتا ہے۔

تھذیب التھذیب جلد9 صفحہ 143

سليمان بن بلال القرشى التيمى مولاهم ، أبو محمد ، و يقال أبو أيوب ، المدنى ( و هو والد أيوب بن سليمان بن بلال )

وَثَّقَهُ: أَحْمَدُ، وَابْنُ مَعِيْنٍ، وَالنَّسَائِيُّ.

قَالَ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: لاَ بَأْسَ بِهِ، ثِقَةٌ.

وَقَالَ مُحَمَّدُ بنُ سَعْدٍ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، وَكَانَ ثِقَةً، كَثِيْرَ الحَدِيْثِ.

امام احمد ،ابن معین اور نسائی نے اس کو ثقہ قرار دیا ۔امام احمد نے فرمایا ثقہ ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔محمد بن سعد کہتے ہیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثقہ تھا اور کثیر احادیث بیان کرنے والا تھا ۔

سیر اعلام النبلاء جلد 7 صفحہ 426

علقمة بن أبى علقمة : بلال المدنى ،

كَانَ ثِقَةً يُعَلِّمُ الْعَرَبِيَّةَ. روى عن أُمِّهِ مُرْجَانَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَالأَعْرَجِ.وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

ثقہ تھا عربی سکھاتا تھا ۔اپنی والدہ مرجانہ ،انس بن مالک اور الاعرج سے احادیث لی ابن معین کہتے ہیں یہ ثقہ تھا ۔

تاریخ اسلام جلد 3 صفحہ 706

7928 – مرجانة، والدة علقمة بن أَبي علقمة.

روت عَن: معاوية بن أَبي سفيان، وعائشة زوج النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم

روى عنها: ابنها علقمة بن أَبي علقمة ذكرها ابن حبان في كتاب “الثقات” .

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت لی ۔ان سے ان کے بیٹے علقممہ بن ابی علقمہ نے روایت لی ۔ان (مرجانہ) کو ابن حبان نے اپنی کتاب ثقات میں ذکر کیا ہے ۔(جس سے معلوم ہو ایہ ثقہ تھیں)

تھذیب الکمال جز 35 صفحہ 305